جمعرات، 10 ستمبر، 2015

بگلہ بھگت


بگلہ بھگت ! پنجابی میں اس بندے کو کہا جاتا تھا جو دھرم بھاشن زیادہ دے اور داء پر رہے ہندو دھرم میں بھگت لوگ صبح پانی میں ایک ٹانگ یا دونوں ٹانگوں پر کھڑے ہو کر انکھیں بند کر کے اشلوک پڑھا کرتے تھے ۔
وہیں پانی میں بگلے بھی ایک ٹانگ پر کھڑے ہوتے تھے  ، بڑے خاموش اور لگتا تھا کہ دل سے عبادت کر رہے ہیں ۔
لیکن جیسے ہی کوئی مچھلی “رینج “ میں آتی تھی اس کو ہڑپ کر کے ایسے بن جاتے تھے کہ کچھ ہوا ہی نہیں ۔ اور اگلی مچھلی کے انتظار میں عبادت میں مشغول ہو جاتے تھے ۔
پاکستان بننے کے بعد نہ ہندو رہے  نہ ہندؤں کے بھگت ۔ بگلے وہیں کے وہیں ہیں لیکن نہ کسی نے بھگت دیکھے ہوئے اور نہ کسی کو یہ مثال یاد ہے ۔
لیکن بگلہ بھگت اج بھی اپکے اردگرد موجود ہیں ،۔
ہر وقت دا۴ پر بیٹھے ہوئے وہ لوگ  جو کسی مچھلی کے انتظار میں ہوتے ہیں ۔
جب اپ کو بھاشن دیتے ہیں ۔
اللہ رسول کے احکامات ماننے میں ہی دل کا سکون ہے ۔
اچھے کام کرنا ہمارا مذہب سیکھاتا ہے ۔
ہم نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے اس لئے ذلیل ہو رہے ہیں ۔
اور اگر
کوئی بندہ پوچھ بیٹھے کہ
اللہ رسول کے احکامات ہیں کیا؟
تو کہتے ہیں “ تینوں نئیں پتہ “۔
بندہ کہے کہ نئیں تو ؟
بونگیاں مارنے لگتے ہیں اور دو تین سوال کے بعد یہ ضرور کہتے ہیں ۔
میں کو عالم نہیں ہوں ، تم کسی عالم سے بات کرو!!!۔
اگر ت عالم نہیں ہو تو؟
علم کی بغل میں انگل  کیا آمبھ لینے کو دی تھی ؟؟؟

1 تبصرہ:

Muhammad Ahsan کہا...

اے بگلا بھگت تے ماڑے کی تبلیغی بھراواں جیجے لگدے نیں

Popular Posts