جمعہ، 11 جولائی، 2014

کمہار

کمہار کو پنجاب میں اکثر گھمیار بهی کہا جاتا هے ـ
 یه کوزه گر اور اینٹیں پکانے والا هے ـ
 حصار اور سرسا میں اس کی کافی تعداد ملی ـ وهاں اوردامن کوه اور وسطی اضلاح میں وه اکثر کاشتکار هے ـ
زیریں دریائے سنده پر ان کی کچھ تعداد نے آپنا اندراج بطور جٹ کرایا ـ
 کمہار رواجی معاوضه لے کرخدمات سر انجام دینے والا حقیقی خدمت گذار ہے جن کے بدلے میں کمہار گھریلو استعمال کے لئیے مٹی کے تمام برتن اور (جہاں رہٹ استعمال هوتا هے)مٹی کی ٹنڈیں بهی فراہم کرتا ہے ـ
پنجاب کي ذاتوں میں صرف کمہارہی گدهے پالتا ہےاور گاؤں کي حدود میں اناج کی نقل حمل کرنا اور اس کے بدلے میں اپنے موّکلوں سےدیگر اشیاء مثلاَ بیج یا کهانا لے کر آنا اس کا کاروبار هے ـ لیکن کمہار اناج گاؤں کے باہربلا معاوضه لے کر نہیں جاتا ـ گاؤں اور قصبات میں کمہار چهوٹا موٹا حمال هے ـ
 بعد میں وه مٹی کهاد کوئله اور اینٹیں بهی لادنے اور لے کر جانے کا کام کرنے لگا ـ
 اس کا مذہب علاقے کاغالب مذہب هی نظر آتا هے ـ کمہار کی سماجی حثیت بہت پست ہےهی ـ کیونکه گدهے جیسے ناپاک جانور کے ساتھ اس کا موروثی تعلق اس کو بهی آلوده کر دیتا هےـ گدها چیچک کی دیوی سیتلا کا مقدس جانور ہے ـ
اس طرح کهاد اور کوڑا کرکٹ لے جانے پر اس کی آمادگی بهی اس کم حثیت بنانے کا سبب ہے ـ
وه پنجاب کا خشت ساز بهی ہے کیونکه صرف وهی بھٹوں کا کام سمجهتا هے ـ
کوزے اور اینٹیں پکانے کے لئے بطور ایندهن جلانے میں کوڑاکرکٹ استعمال هونے کی وجه سے اس کا تعلق غلاظت سے بهی هو گیا هے ـ  مجهے یقین ہے که کمہار سانچے والی اینٹیں بهی بناتا هے لیکن سوکهی مٹی سے گاؤں میں تیار کی جانے والي عام اینٹیں عموماَقلی یا چمار بناتا ہے ـ
 کوزه گر بهی کہا جاتا هے ـ(Kiln burner)کمہار کو پزاواگر اور موخرالذکر اصطلاح کا استعمال عام طور پر صرف ان کے لئیے ہوتا ہےجو نہایت عمده قسم کے برتن بناتے هیں ـ
 سرحد پر کمہار گلگو نظر آتا هے ـ ہندو اور مسلمان کمہار دونوں پائے جاتے هیں ـ ہندو کمہار کو پرجا پتی یعنی خالق دیوتا بهی کہاجاتا ہے ـ کیونکه کمہار مٹی سے چیزیں تخلیق کرتا هے ـ
 نابها میں کمہار برہما کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے هیں ـ
ہندی کی ایک روایت
 رام ذات کا رانگڑ ، کرشن ایک آهیر ،برہما ایک کمہار اور شیو ایک فقیر ـ
 کہانی یوں هے که
 ایک مرتبی برهما نے آپنے بیٹوں میں کچھ گنے تقسیم کئے ـ
 کمہار کے سوا سب نے آپنے آپنے حصے کا گنّا کها لیا ،لیکن کمہار نے اسے ایک مٹی بهرے برتن میں لگا کر پانی دیا جس نے جڑ پکڑ لی ـ
کچھ ریز بعدبرهما نے بیٹوں سے کنّے بارے پوچها تو صرف کمہار هي اسے گنّا دینے کے قابل هو سکا ـ
 تب برهما نے خوش هو کر کمہار کو پرجا پتی یعنی دنیا کی شان کا لقب دیا ـ
 لیکن برهما کے دیگر ٩ بیٹوں کو بهی خطابات ملے ـ ایک روایت بهگت کُبا کو کمہاروں کا جدامجد بتاتی هے ـ دہلی کے کمہار سبهی دیوتاؤں اور اولیاء کی عبادت کرتے هیں ـ وه شادیوں کے موقع پربهی پیروں کو کچھ نذر کرتے هیں ـ
 ڈیره غازی خان کے کمہار ،جوسب کے سب مسلمان هیں ،تونسه پیر کو مانتے هیں ـ لاہور کے کمہار ہولی کا تہوار دیگر ذاتوں هي کي طرح دهوم دهام سے مناتےهیں ـ مسلمان کمہاروں کے دو علاقائی گروپ بهی هیں جنڈ نابها اور ملیر کوٹله میں دیسي اور ملتانی ـ دیسی عورتیں سیتلا کو مانتی هیں لیکن ملتانی عورتیں نہیں ـ
 گورداس پور میں پنجابی اور کشمیری کمہار ، سیالکوٹ اور گجرات میں کشمیری اور دیسی کمہار هیں ـ مسلمان کمہاروں کے کوئی ذیاده اهم پیشه ورانه گروپ نہیں هیں ، ماسوائے گجرات کے کلالوں کے جو پیشے کے اعتبار سے گانے ناچنے والے هیں اور کمہاروں کي شادیوں پر خدمات انجام دیتے هیں ـ
 آگرچه دیگر کمہار انہیں به نظر حقارت دیکهتے هیں ،مگر انہیں آپني بیٹیوں کے رشتے بهی دے دیتے هیں ـ میانوالی کے کمہار برتن سازی کے ساتھ ساتھ کاشت کاری بهی کرتے هیں،اور چند ایک کوّیے اور زمیندار قبیلوں کے مغنی بهی هیں ـ
 لیّه کے کمہار جلال باقری کی نسل سے هونے کا دعوی کرتے هیں ـ گوجرانواله میں کمہار پیغمبر دانی ایل پر یقین اور کام شروع کرنے سے پہلے اسی کا نام لیتے هیں ـ
لباس کے حوالے سے بهی مختلف علاقوں کے کمہاروں میں فرق پایا جاتا ہے ـ
 کانگڑا میں ہندو دیسی کمہار عورتیں سونے کی نتهلی پہنتی هیں ـ مالیر کوٹله میں مسلمان ملتانی کمہار عورتیں آپنے پاجاموں کے اُوپرایک لمبا چولا زیب تن کرتی هیں جو کمر تک آتا هے ـ ملتان میں همدو اترادهی خواتین ناک میں نتھ پہننے کی عادی هیں ـ مسلمان ذیاده تر ملتانی کمہار عورتیں ساری ذندگی پیراہن یا چولا پہنتی هیں ـ میانوالی تحصیل میں لڑکیاں شادی کے بعد چولا پہنتی هیں ـ
موجودہ دور میں کمیار قوم نے بہت ترقی کی ہیں خاص طور پر پنجاب کے ضلع لاہور میں انکی کافی تعداد پائی جاتی ہے اور کاروباری پیشہ سے منسلک ہیں

3 تبصرے:

رضوان خان کہا...

کافی معلوماتی ہے۔ شکریہ خاور صاحب !
پنجاب کے خطے میں صدیاں گذرجانے کے باوجود آج بھی ذات پات اور کاسٹ پر مشتمل ہندوانہ تہذیب کی چھاپ نظر آتی ہے۔ سماجی برتری یا کمتری کی بنیاد پرانسان کو اچھوت سمجھنا اور حقارت کی نگاہ سے دیکھنا انتہائی انسانیت سوز بات ہے۔

رضوان خان کہا...

اپنے گذشتہ تبصرے میں، میں نے ہندوانہ تہذیب کی بات کی، لیکن اپنی ہی بات پر ایک سوال ذہن میں سر اٹھارہا ہے سوچا پوچھ لوں۔۔۔۔وہ یہ کہ کیا اسلام کو تہذیب کہنا درست ہے اور کیا واقعی کوئی اسلامی تہذیب وجود رکھتی ہے۔ کوئی صاحب اس پر روشنی ڈال کر مجھ جیسے ناقص علم کو سیکھنے کا موقع عنایت فرمائیں۔

گمنام کہا...

بہت اعلی
معلوماتی ہے اور ذات پات کے نظام کے حوالے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمین ہندو تہذیب کے اثر سے آزاد ہونے کی اشد ضرورت ہے ۔ ابھی بھی

Popular Posts