بدھ، 9 جولائی، 2014

کفر

جاپانی لوگ بڑے خود دار ہوتے ہیں ۔
اس لئے نہیں کہ ان کے ملک کے اقتصادی حالات بہتر ہیں ۔
بلکہ اس لئے کہ ان کی خود اداری نے ان کے حالات بھی بہتر کر دئیے ہیں ۔
اپ کسی جاپانی کو کوئی چیز مفت میں دینے کی کوشش کریں تو ، وہ قبول نہیں کرئے گا
یا پھر اس کی قیمت ادا کر کے چھوڑے گا ،
یا ہھر اگر اپ کا نزدیکی دوست ہے تو چیز لے کر اس کے متبادل اپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرئے گا ۔
میں خود بھی ایک خود دار انسان ہوں ۔
اگر کوئی سخی بندہ ایسے ہی مجھے کہیں کھڑا کر کے رقم نکال کر کہے کہ “ رکھ لو” ! تو میرے لئے شرم کا مقام ہے کہ اس نے مجھے سمجھا کیا؟ بھکاری !۔
کیوں ؟ میں کیوں رکھ لوں ؟ ایک ایسی رقم یا چیز جو کہ میری نہیں ہے جو میری کوشش سے یا محنت سے حاصل نہیں ہوئی ہے  ۔
یہ نہیں کہ جاپان میں لوگ مجبور نہیں ہو جاتے ۔ مجبوریاں انسان  کے مقدر میں ہیں ، کوئی بھی انسان مجبور ہو سکتا ہے  ۔
لیکن جاپانی بھیک نہیں مانگتے ۔
کاروبار میں نقصان کر کے گھر سے بے گھر ہوجانے والا ایک ہوم لیس ، بھی کہیں کسی پارک میں پڑ کر سو رہتا ہے اور وقت کے وقت اپنے مخصوص کردہ ریسٹورینٹ کے پچھلے دروازے پر دستک دیتا ہے ۔
ریسٹورینٹ سے کوئی بندہ نکلتا ہے جو کہ اس ہوم لیس سے انکھیں بھی نہیں ملاتا کہ کہیں ہوم لیس کو شرمندی نہ ہو ، اور اس کو کھانے کا پیکٹ پکڑا دیتا ہے  ۔
پاکستان میں بھکاری کلچر کچھ اس طرح کا ہماری رگوں تک میں بس چکا ہے کہ جو جتنا بڑا بھکاری ہے وہ اتنا بڑا لیڈر ہے ۔
بھیک اکٹھی کر کے ایک ہسپتال بنا لیتا ہے  ۔
اور پھر اپنے اس ہسپتال کے سامنے چھوٹے بھکاریوں کی لائینیں لگی دیکھ کر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے  ۔
بھیک مانگ کر لنگر کھول دیتا ہے
اور پھر جھولیاں پھلائے  کھانے کے لئے دھکم پیل کرتے کیڑے مکوڑوں کو دیکھ  نفس  کا حجم بڑھاتا ہے ۔
پھر کیا ہونا چاہئے؟
ہونا یہ چاہئے کہ قوم میں انا اور خود داری کی خو پیدا کرنی چاہئے ۔
ہر بندہ اپنے پیسے سے کھانا کھائے اور اپنے پیسے سے اپنا علاج کروائے ۔
جس کے لئے بیمے ہوتے ہیں انشورنس ہوتی ہیں ۔
لیکن انشورنس اور بیمے کو فراڈ کے طور پر اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر بندے کی یہ سوچ ہے کہ
پاکستان میں یہ نظام چل ہی نہیں سکتا ۔
خرابی در خرابی ، نقص در نقص ، بیماری در بیماری ۔ مغالطےاور مبالغے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ
یقین کریں
میں پاکستان سے مایوس ہو چکا ہوں ۔
اللہ مجھے اس کفر سے بچائے کہ
مایوسی کفر  ہوتی ہے

2 تبصرے:

کاشف کہا...

بیمہ یا انشورنس فراڈ نہیں۔ ان کے پاکستانی معاشرے میں مقبول عام ھونے میں رکاوٹ مذھبی بنیاد پر ہے۔ کہ بیمہ کمپنی کا کاروبار سودی ہے۔

sarwataj کہا...

پاکستان میں بھکاری کلچر کچھ اس طرح کا ہماری رگوں تک میں بس چکا ہے کہ جو جتنا بڑا بھکاری ہے وہ اتنا بڑا لیڈر ہے ۔
گھرون مین لوگ دوسرے کو چکر دے کر ہتھیانا کمال سمجھتے ہین

Popular Posts