جمعرات، 2 مئی، 2013

دارالسلام (تنزانیہ) اور تصاویر

تنزانیہ میں ایمگریشن اور کسٹم والوں کا رویہ پچھلی پوسٹ میں لکھا تھا۔
لیکن ان لوگوں کا پیسہ لینے کا اپنا ہی طریقہ ہے جس میں سے غلط کام کرنے کا خوف جھلکتا ہے۔
پاک افسروں کا تو "چاکا" اتنا کھل چکا ہے کہ
رشوت کے متعلق انگریزی کا لفظ "انڈر دی ٹیبل" اتنا جرآت مند ہو چکا ہے کہ
"اون دی ٹیبل "بن چکا ہے۔
کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہو گا
جہاں رشوت دینے کے باوجود کام ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے

مجھے دوسو ڈالر وصول کرنے کی رسید دی گئی تھی اور اس بات کا بتایا گیا تھا کہ تمہارا ویزہ سٹیٹس بڑھایا گیا ہے ۔
تاکہ تمہاری ایکٹویٹیز پر کوئی اعتراض ناں کر سکے۔
کل تیسرے دن کستم افیسر کا فون وصول ہوا کہ اس کی طبیعت بہت خراب ہے اور اس کو دوائی کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے۔
پیسے بھیجنے کا طریقہ کار یہان تنزانیہ میں بہت اسان ہے۔
جس طرح پاکستان میں فون کا بیلنس بھئجتے ہیں اسی طرح یہان تنزانیہ میں فون بیلنس اور رقم بھی بھیجی جا سکتی ہے۔
اس رقم کو کرنسی میں تبدیل کرنے والی جگہیں ہیں ۔
جہاں سے اسانی کے ساتھ رقم کو کرنسی میں وصول کر لیا جاتا ہے۔

اب کچھ تصاویر اور ان کے متعلق ذکر( یہاں ذکر سے مراد "وہ " والا ذکر نہیں ہے، جس سے مذہبی لوگ محلے والوں کی نیندیں حرام کرتے ہیں)۔

یہاں اس ملک تنزانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن یہان عیسائی لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔
ہندو کاروباری ہیں ،اور اسی طرح دوسرے مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔
یہ تصویر ایک ہندو عورت کی دوکان کے سامنے جلتے ہوئے دئے کی ہے۔


گندے نالے کے قریب کی ابادی جہان بچے کھیل رہے ہیں ۔
اس طرح کی ابادیان چار دہایاں پہلے پاکستان میں بھی نظر اتی تھی ، علیحدہ علیحدہ گھر اور کھلی گزرگاہیں۔
پھر بڑھتی ہوئی شرح پیدائش نے بے ہنگم ابادیاں اور تنگ دل اور تنگ گزرگاہوں کی  بہتات کر دی۔





دارالاسلام کی ایلالا نام کہ ابادی  جس کو بسانے میں ایک ترتیب نظر اتی ہے کہ کھلی گزرگائیں اور پکے مکانات،
لیکن اس گلی کا منظر کچھ اس طرح کا نظر آ رہا ہے کہ جس طرح کسی دریا میں کھڑے ہوں جہاں سے پانی گزر چکا ہو۔
مجھے بتایا گیا کہ اس ریت کے نیچے پکی سڑک ہے کوئی تیس چالیس سنٹی میٹر نیچے،
بارشوں میں بہ کر انے والی ریت کو ہٹانے کا کوئی نظام ناں ہونے کی وجہ سے ابادی کا یہ حال ہے۔






سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے راوی والا منظر بناتی ان گلیوں میں ایک مسجد اور اس کی اوپری منزلوں پر مدرسے بنے ہیں ۔
کارنر کی دوکانیں اور لوگوں کی چہل پہل ۔





پاکستان میں جو پلاٹ کلچر ، غازی مردوں نے دیا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی کوالٹی ہی یہ ہے کہ کئی منزلہ عمارتیں بناے کا رواج ہی ناں ہو 
تاکہ جس صحافی یا غازی بندے کو یا کسی بھی "اپنے "کو جب کارنر پلاٹ دیا جائے یا رقبہ عطا کیا جائے تو اس کو اس فخر کا احساس ہو کہ مجھے کوئی زمین ملی ہے
اگر کئی منزلہ عماتیں کھڑی کر کے "تھرڈپرسن" لوگوں کو مکانات ملنے لگے تو پھر؟
تھرڈ پرسن اور غازی مردوں کی عظمت میں کیا فرق رہے گا؟؟
یہاں تنزانیہ میں  میں نے اس قوم کو پاکستان کی اس تکنیک میں  بلکل بھی کورا پایا  ہے
اور کئی منزلہ رہائیشی عمارتیں بنی ہوئی ہیں 
اور بن رہی ہیں ۔
جس کے ساتھ ساتھ گنجان ابادیان بھی ہیں ۔
یہ تصاویر ایک کثیر منزلہ عمارت کے ایک گھر سے لی ہیں ۔








بائیں سے دائیں 
شریفے ، ایوکاٹ، زیتون اور پاپائے پڑے ہیں ۔
شریفے ایوکاٹ اور پاپایا تو کھایا ہوا ہے 
لیکن یہ درمیان میں پڑےہوئے پھل کو یہان مقامی لوگ زیتون کہتے ہیں ۔
مجھے ناصر سے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ پھر زیتون (اولیو) کو کیا کہتے ہیں ۔
زیتون نامی یہ پھل بڑا لذیز ہے ۔
انتہائی پتلے چھلکے کے ساتھ اس میں ایک ہی بیچ ہوتا ہے۔
پنجابی میں اس قسم کے بیج کے لئے لفظ " گٹک" استعمال ہوتا ہے۔
زیتون کا ذائقہ بس زیتون جیسا ہی ہے۔
چھوٹےآم کے سائز کے اس پھل میں  آم کی طرح ریشہ نہیں ہوتا، بس ایک کریم سی ہی ہے ۔
مختصر کہ اس پھل کے زائقے کے لئے انگریزی کا لفظ " ویری رچ ٹیسٹ" استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس پھل کو اگر چھوٹی چمچی کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کر کے کھایا جائے تو لطف زیادہ آئے گا۔



یہ کچھ تصاویر داراسلام کے سمندر کے کنارے کی۔
پہلی تصویر میں ایک مسائی قبلیلے کا بندہ نظر آرہا ہے
مسائی لوگ اپنے مخصوص لباس میں کمر سے برچھی لگائے عام چلتی پھرتے نظر اتے ہیں ۔مسائی لوگ ہمارے پٹھانوں کی طرح گھروں کی چوکیداری کا کام کرتے ہوئے نظر اتے ہیں ۔






ایک گلی کی عام سی تصویر 
یہان تنزانیہ میں غریبوں کی بستیوں میں بھی 
پاکستان کی طرح پلاسٹک کے لفافے اور دیگر کچرا کہیں نظر نہیں ایا۔
اپ بھی دیکھیں کہ گڑھوں میں کھڑا پانی اور دیگر چزیں ادھر ادھر نطر اتی ہیں لیکن "وہ" والا گند کم ہی نظر آ رہا ہے ۔




ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts