سوموار، 19 نومبر، 2012

نام اور پہچان

ایک دفعہ جاپان کے شہنشاہ ،غالبآ میجی نے حکم جاری کیا کہ ملک کے سب لوگوں کو ایک ایک خاندانی نام چننے دیا جائے
اہلکاروں کی ٹیمیں نکل پڑیں
جس جس گاوں میں گئے ، اس گاؤں کے لوگوں کو ایک ایک خاندانی نام چننے کا کہا
اور یہ نام اسی وقت رجسٹر میں لکھ دیا گیا
لوگوں نے نام چننے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ یہ تھا کہ جس کو جو اچھا لگا یا جس کی جس چیز سے پہچان تھی اس کا وہی خاندانی نام رکھ دیا  گیا
اردو میں یہ نام کچھ اس طرح سے بنتے ہیں
لکڑی کا گاؤن
بڑا کھیت، بڑا دریا ، چھوٹا دریا،پتھر کا پل ، لکڑی کا پل ، چھوٹا جزیرہ ، برا جزیرہ
جس گاؤن کے نزدیک یا جس گاؤں کو جس نام سے جانا جاتا تھا ان کے رہنے والوں کا بھی وہی نام رکھ دیا گیا
چند مکانوں کے گاؤں کا تو یہ حال ہوا تھا
زیادہ گھروں والے دیہاتوں میں
جس گھر کا پتھر کا سٹور روم تھا ان کو  سٹور روم والا اور جس کے پاس بڑا درخت تھا اس نام ہی بڑا درخت ہو گیا
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بس ایسے ہی کچھ دن کی بات ہے بعد میں یہ نام بدل لیں گے یا ہوسکتا ہے کہ یہ سسٹم چلے ہی نہ!!!۔
اس لئے کچھ لوگوں کے پاس جب سرکاری اہلکار پہنچے تو لوگ کھیتوں میں کام کر رہے تھے
کسی نے اپنا نام مولی اور بینگن بتا دیا تو اس کا وہی نام رجسٹر ہو گیا اور وہی نام رائیج بھی ہو گیا
اس لئے اب بھی اپ بہت کم ہی سہی لیکن مولی کے خاندانی نام والے جاپانی بھی دیکھیں گے
یہ تو ہوا کنبے کا نام
باقی جی بندے کا جو نام تھا وہی رہا
جیسے کہ اب جاپانیوں کے نام ہوتے ہیں مشتاقا ، تھارو جیرو ، کینجی، ان ناموں سے اس فرد کو اس کے قریبی بندے ہی جاتے ہوتے ہیں
یا پھر سرکاری معاملات مین یہ کام اتا ہے ورنہ اپ جب بھی کسی جاپانی سے اس کا نام پوچھیں  گے وہ اپ کو صرف کنبے کا نام ہی بتائے گا
ہمارے یہاں جس علاقے کو ان دنوں پاکستان کہتے ہیں ، یہاں اس علاقے کا نام پاکستان ہونے سے پہلے اور ہونے بعد بھی کئی دہائیوں تک عدالتوں میں نام کچھ اس طرح پکارے جاتے تھے
پھتا ، نورے دا ۔ مالا رکھےدا،ان کوسلیس اردو مین کہیں گے
فتح محمد ولد نور دین، محمد مالک ولد اللہ رکھا
لیکن یہ نام اگر کہیں کسی نے لکنے ہوں تو ہی کام اتے تھے ورنہ محمد مالک ، مالا ہی ہوتا تھا اور فتح محمد ، پھتو ہی ہوتا تھا
لیکن کی گاؤں یا علاقے میں ایک سے زیادہ ہھتو اور مالے بھی ہوسکتے تھے اس لئے ان کو ان کے کبے کے نام سے جانا جاتا تھا
کنبے کا نام بھی کچھ اس طرح ہوا کرتا تھا کہ زمین دارلوگوں کے زرعی ڈیرے کا نام ہوا کرتا تھا
مثلآ بیری والا ، کیکر والا ، ککڑاں والا ، پرانی والا، ککھاں والا۔
اس لئے ان کنبوں کو جن کی زرعت ان ڈیروں پر ہوتی تھی ، اس ڈیرے کی نسبت سے پکارا اور پہچانا جاتا تھا
مثلآ پپو بیری والیا، کھالو ککڑاں والیا وغیرہ وغیرہ
اور غیر زمین دار لوگون کو ان کے پیشے سے پکارا جاتا تھا
محمد افضل تیلی کو اپھو تیلی کہا کرپکارا جاتا تھا
لیکن اگر کسی گاؤں میں یا علاقے میں تیلیوں کی ابادی زیادہ ہے تو اپھو تیلی کو اپھو تیلی رکھے دا کہ کر بھی پکاتا جاتا ہوگا
پاکستان بننے کے بعد جب ہم لوگون کو اپنی اہمیت کا احساس پوا تو ہم لوگون نے اپنے ناموں سے اپنی کولٹی کو بڑہانے کی کوشش کی
سب سے پہلے تو اپنے اپنے نام کو مالا اپھو  پھتو سے محمد مالک ، محمد افضل اور فتح محمد کیا
مزے ک بات کہ ایک نسل پہلے کے نام کچھ اور تھے
دوسرا ہم نے اپنے اپنے کنبے کے نام کو ‘‘ وجھکے ‘‘ والا بنانے پر بہت توجہ کہ
گھوڑے گدھوں پر ٹرانسپورٹ کرنے اور مٹی کے برتن بنانے والے تو بہت بعد میں رحمانی بنے
لیکن سیانے آئیل ملوں کے وارث جلدی ہی ،ملک بن گئے تھے
اس کے بعد پھر چل سو چل
کہ جس کو جو نام زیادہ بھایا اس نے وہ ہی اپنا نام بنانے کی تگ دو کی اور بن کے چھوڑا
بخاری کون لوگ تھے؟ قادری کس کنبے کا نام تھا ؟قریشی یا ہاشمیوں کی جڑیں اگر کسی نے انے والی صدیوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی اور یہ کوشش شروع بھی برصغیر سے کی تو بندہ پاگل ہو جائے گا
پر سانوں کی!!!!
اج جو نام پاکستان میں چل رہے ہیں ان میں سے نام کیا ہے اور کنبہ کیا ہے اور عرفیت کیا ہے اور پہچان کیا ہے کے کنفیوژن سے نکلنے کے لئے
میں تو یہ سمجھتا ہون کہ
جن لوگوں میں سے اکثریت کو اپنی تاریخ پیدائش تک کا علم نہیں ان کو اپنے کنبے کا کیا علم ہو گا اور اپنی جڑوں کی کیا پہچان
میں بندے کا نام اس اس کی ولدیت سے پہلے حصے کو سمجھتا ہوں
غلام مصطفے میں غلام اور مصطفے کو علیحدہ کرنے کی بجائے ایک نام غلام مصطفے ہی جانتا ہوں
اب جب کہ میں پاکستان سے باہر ہوں
تو
لیکن اس کے بعد اس کا کنبے کا نام کیا ہے
کی بجائے اس کے پیشے، جو کہ اس نے ان دنوں اپنایا ہوا ہے سے اس کی پہچان کرتا ہوں
اور اپنے گاؤں میں کسی کو بھی اس کے کنبے کی وجہ سے پہچانتا ہوں
لیکن یہ ایک کنفیوژن تو ہے ناں جی
اسی لئے میں کہتا ہون کہ پاکستان بننے کے بعد میرے لوگوں کو مغالطوں اور مبالغوں کی تعلیم دی گئی ہے
کس نے دی ہے؟
برطانوی راج کے دور کے سرکاری ملازموں نے اور جن کی پالیسوں کو جاری رکھا جرنیلوں نے
اس لئے ہماری قوم میں بھی کوئی ایسا ہونا چاہئے کہ سب کو ایک ہی دفعہ جاپانی شہنشاہ کی طرح  ایک ایک کنبہ نام چن لینے دے
کہ سب  کے ناموں کی ایک پہچان تو بنے

2 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

یہ ایسے ہی ہے جیسے مجھے یاسر جاپانی کہا جاتا ہے۔
لیکن میں خوامخواہ جاپانی کہلوانا پسند کرتا ہوں۔
آخر کچھ تو آباءاجداد پر فخر کرنا ہی ہوتا ہے۔
ویسے جاپانی میں نن چاتے جاپانی اسس کا مطلب بنتا ہے۔ یعنی خوامخواہ جاپانی۔
میں نے ابھی بالکل یہی لکھنے کیلئے قلم اٹھا ہی تھا کہ آپ نے قصہ مُکا دیا ؛ڈڈ

Fazal Din کہا...

کیا کہنے جناب۔ اِن شارٹ، بہت اچھا لکھا :)

Popular Posts