ہفتہ، 19 نومبر، 2011

ایوارڈ لینا ہے

یارو اج کل ایک ایوارڈ کا بڑا ذکر چل رها هے
اردو کی بلاگنگ کی دنیا میں
اچھے خاصے معقول اور سمجھ دار لوگ بھی اس دوڑ میں شامل هیں
کچھ تو هو گا هی اس ميں
لیکن میں نے یهاں اپنا بلاگ رجسٹر نهیں کروایا
کیوں؟؟
اس لیے که یقین جانیں ميں اس سائیٹ کو نهیں جانتا که
یه لوگ هیں کون
اور کیا بیچتے هیں
اس لیے
خود ایوارڈ دینے والے کی کوالٹی کیا ہے
بڑے پرانے ٹرانسپوٹر هیں جی کمہار لوگ
خچروں اور گدھوں پر صدیوں سے سامان کی ٹرانسپورٹ کرتے هیں
لیکن کیا اپ کسی کمہار سے اج کی ٹرانسپورٹ "ٹرک "پر سیر حاصل گفتگو کرسکتے هیں ؟؟
هاں!!!ـ
اگر کمہار ٹرکوں کا مکینک بن گیا هو تو
ورنه نهیں
تو جی ایک سائیٹ هے هی انگریزی میں
اور اپ اس سے اردو کے لیے دادا مانگ رهے هیں ؟
هے ناں پاک سوچ!!ـ
هر دیسی چیز کی دادا انگریزوں سے

هاں اکر اردو کے سب رنگ یا سیاره کی لسٹ ميں شامل کوئی لکھاری ، متذکره سائیٹ کے متظمین میں شامل هے تو دوسری بات هے
لیکن میں ایسے کسی کو نهیں جانتا

قدوس صاحب نے ورڈپریس ڈاٹ پی کے شروع کیا
اور ختم هو گیا
علی عمران نے اردو ٹیک شروع کیا ور ختم هو گیا
مجھے علم هے که معاملات ميں مشکلات بن جاتی هیں
زندگی میں کئی کام ایسے هوئے هیں که باوجود کوشش کے ناکام هو گئے
سب سے بڑی مشکل
فنڈ کی بن جاتی هے
اور دوسری بڑی مشکل هوتی هے
بندے کی انا !!ـ
که کسی سے مدد نهیں مانگنی هے
میں بھی بڑا خود دار هوں
کسی سے اپنے لیے مانگتے هوئے مر هی جاتا هوں
لیکن کسی کے لیے کسی سے مدد مانگ هی لیا کرتا هوں که
معاشرے کی تعمیر کا سلسله چلے
اب جو کام قدوس صاحب یا علی عمران نے شروع کیا تھا
وه شروع تو انفرادی طور پر کیا هے لیکن
کام ایک اجتماعی تھا
هر دو صاحبان کو میں هلکے پھلے اندازميں کها بھی تھا که
اگر کنگ سے کچھ هو سکے تو؟؟
لیکن جی پته نئیں که مجبوریوں کا کیا تسلسل تھا
ان صاحبان کے ساتھ
که یه ایک بہت بڑی حقیقت هے کائینات کی که
جس کے ساتھ بیت رهی هوتی هے
وهی اس کی کیفیت کو جاتنا هے
اب بھی اگر
اپ دونوں ميں سے کوئی ایک
یا دونوں مل کر
یا پھر وهی دومیں مجھے دے دیں
میں کر لیتا هوں که
اپ کے لیے ایک ان لیمٹ سپیس والا هوسٹ لے لیتا هوں
جس پر صرف ایک هی دومین چلے
اور اردو کے بلاگ بنانے والوں کی حوصله افزائی کی جائے اور انگریزی والوں کو بھی
روکا ناں جائے
میں کسی ایک کا نام لکھ کر دوسروں کی حوصله شکنی نهیں کرنا چاهتا
لیکن میں جانتا هوں که جوان بلاگروں ميں بهت سے اس بات کی کوالٹی رکھتے هیں که ان کے ایک گروپ کو سائیٹ کی ذمه داریان دے دی جائیں
ادائیگیوں والے معاملے کو میں سنبھال لیتا هوں
اور تکنیکی معاملات کو اردو کے باصلاحیت بلاگروں پر چھوڑ دیا جائے
جیسا که اپ لوگوں کو علم هی هے که
اگر ورڈ پریس پر سائیٹ بنائی جائے تو ایک وقت ميں کئی ایڈمن بنائے جاسکتے هیں
ایڈمن کا ایک گروپ هو جو معاملات کو باہمی مشورے سے چلائے
میرے نزدیک بلاگر وه هیں جو
انفرادی طور پر لکھتے هیں ،ناں که کسی ادارے کی تنخواه پر
بی بی سی والے یا جنگ والے اپنی کسی سائیٹ کا نام بلاگ رکھ بھی لیں تو کیا هے
که پیسے کے زور پر رکھ سکتے هیں
لیکن کیا وهاں لکھے هوئے پر عام لوگ ایسے هی تبصرے کر سکتے هیں جیسا که اردو کے سب رنگ کی لسٹ والے بلاگ پر کیے جاسکتے هیں
نهیں ناں ؟؟
تو یه بلاگنگ تو ناں هوئی ناں جی
یه تو کالم نگاری کے کوئے کو چونا لگا کر سفید کی جانے کی کوشش هے ناں جی
اس لیے
اپ لوگ جو
اصلی والے اردو گے بلاگر هیں
اگے آئیں
اور جب اپ لوگ کسی کو ایوارڈ دیں گے تو
یه هو گا اصل والا ایوارڈ
اردو کے سبھی بلاگرون کو میرا ای میل ایڈریس معلوم هے
اب بھی اکر خود داری اڑے ائے تو مجھے میل کر لیں
ميں اپ کی شرم رکھتے هوئے
مدد مانگنے والی ذمه داریان اپنے اپ پر لے لوں گا

8 تبصرے:

عثمان کہا...


تو جی ایک سائیٹ هے هی انگریزی میں
اور اپ اس سے اردو کے لیے دادا مانگ رهے هیں ؟
از خاور کھوکھر

ایوارڈ ہی لوٹ لیا جی!

احمد عرفان شفقت کہا...

زبردست خیال پیش کیا ہے آپ نے یہ۔

گمنام کہا...

khawar ji ! we love you

میرا پاکستان کہا...

آپ کی بات میں وزن ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ہم نے اپنے بلاگ کو وہاں اس لیے رجسٹر کیا تا کہ ہمارے بلاگ کو مزید لوگ پڑھیں ناں کہ ایوارڈ کیلیے۔
ہمارے خیال میں ہم لوگ ادھورے کام زیادہ تر اپنی مصروفیات کی وجہ سے چھوڑ دیتے ہیں ناں کہ فنڈز کی وجہ سے۔ بعض اوقات ہم لوگ اپنے کام کا صلہ اسی وقت مانگتے ہیں اور جب نہیں ملتا تو اسے راستے میں چھوڑ کر کمائی میں لگ جاتے ہیں۔

م بلال م کہا...

خاورکھوکھر بھائی میں آپ کی باتوں سے کسی حد تک اتفاق کرتا ہوں اور آپ میرے لئے محترم ہیں لیکن بات یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی تقریب شاید ہی کوئی اور کرواتا ہو، اس لئے بلاگران اس میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ میں اکثر جگہ یہ کہتا پھر رہا ہوں کہ ہر اردو بلاگر اپنا بلاگ بھیجے، پھر جو بھی جیتے لیکن باقیوں کو یہ تو پتہ چلے گا کہ اردو بلاگران کی کافی تعداد اس دنیا میں موجود ہے۔ فی الحال ہمیں انگریزی زدہ معاشرے کو اپنی موجودگی اور اپنی ہمت کا احساس دلوانا ہے۔ یوں ہم اردو کا پیغام اور آگے تک پہنچائیں گے۔ اللہ کرے ایسے اردو بلاگران جو خاص اردو کے زمرہ کے علاوہ دوسری جگہوں پر ہیں وہ جیتیں تو سوچو کتنا مزہ آئے گا کہ ایک اردو بلاگر سب کو پیچھے چھوڑ گیا۔
ہو سکتا ہے اردو والوں میں کوئی اور بھی میرے جتنا بلاگ ایوارڈ والوں پر نظر رکھ رہا ہو، خیر میں نے ان پر اور ان کی حرکتوں پر کافی نظر رکھی ہے، ایک دم بکواس قسم کا سسٹم ہے۔ ایک طرف ووٹنگ کے لئے ورڈپریس کا ایک عام سا پلگ ان استعمال کر رہے ہیں، دوسری طرف کہتے ہیں کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ ان کے تو سسٹم کی تاریخ تک درست نہیں، آپ آج تبصرہ کرو لیکن تاریخ پتہ نہیں کب کی دکھاتا ہے، اور تو اور ان کے بلاگ بھیجنے والے فارم میں کئی ایک تکنیکی غلطیاں ہیں۔ روز کہتے ہیں بلکہ کہتا ہے کیونکہ مجھے تو ان کی آؤٹ پٹ دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ایک بندہ کام کر رہا ہے، خیر روز کہتے ہیں کہ آج ہم نے بڑا کام کیا، بہت زیادہ لوگ نے بلاگ بھیجے ہیں، آج ہم نے دیکھ بھال کر کے مزید پچاس شائع کیے وغیرہ وغیرہ، اگر ان کی بلاگ دیکھنے والی ”دیکھ بھال“ دیکھو تو خود اندازہ ہو جائے گا کہ سرکار کتنے پانی میں ہیں، فورمز کے صفحہ اول اور پورٹل وغیرہ اور بلاگ کی تمیز کے بغیر سب کچھ شائع کر رہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک دم بکواس سسٹم والوں کو گوگل، نوکیا، انٹل، ڈل، ٹیلی نار، ایکسپریس میڈیا وغیرہ کا تعاون حاصل ہے، اگر تعاون کا بس انہوں نے ایک ڈراما رچایا ہوا ہے تو پھر بھی اس سارے کام میں کافی اخراجات ہونے ہیں اور ویسے بھی وہ اردو والوں سے کہیں زیادہ میڈیا میں رسائی رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں مشکل سے اردو کی ایک خبر اخبار میں دو چار لائنوں کی صورت میں شائع ہوتی ہے، پھر ہم وہ ایک اخبار کا ٹکڑا لے کر سب کو دکھاتے پھرتے ہیں کہ دیکھو جناب ہم اردو والوں کا نام آیا ہے۔ میں ذاتی طور پر بلاگ ایوارڈ والوں کے نظام اور سوچ کو پسند نہیں کرتا لیکن بائیکاٹ یا دھرنے کے حق میں بھی نہیں، میں صرف اس لئے دوستوں کو کہہ رہا ہوں حصہ لو کہ چلو کسی بہانے سہی مگر اردو کی تھوڑی بہت ترویج تو ہو۔ بائیکاٹ کرنے اور دھرنا دینے کا مزہ تب آئے گا جب ہم اس قابل ہوں کہ ہم اثر انداز ہو سکتے ہوں۔ اس وقت ہمارے پاس طاقت نہیں، جب طاقت پاس نہ ہو تو بہتر حل یہی ہوتا ہے کہ مدِ مقابل کی طاقت کو اسی کے خلاف استعمال کرو اور میں بھی اس وقت کچھ ایسا ہی سوچ رہا ہوں اور ہو سکتا ہے کہ میری سوچ غلط ہو۔ میرے اس مراسلے سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ میں گھٹنے ٹیک چکا ہوا۔ ان شاء اللہ جہاں تک ہو سکا بڑھ چڑھ کر اردو کی ترویج میں حصہ لوں گا، لیکن فی الحال حالات ایسے ہیں کہ معاہدہ کرنا ہماری ضرورت ہے۔

درویش خُراسانی کہا...

بات تو آپکی وزنی ہے

نورمحمد ابن بشیر کہا...

بہت عمہد ۔ ۔ ۔

عنیقہ ناز کہا...

اردو بلاگنگ کے فروغ کے لئے ایک ایسی سائیٹ چاہئیے جہاں ایک انجان شخص پہنچے اور بلاگسپاٹ کی طرح پانچ منٹ میں آسان ہدایات کو کرتے ہوئے اپنا بلاگ بنا لے۔ صرف پانچ منٹ میں۔ میں نے جب بلاگ بنایا تو جہانزیب والے ٹیٹوریئل سے مدد لی وہ بھی مکمل طور پہ درست نہیں ہے اسکی مشکلات پہ قابو پانے کے لئے ایک اور دوست سے مدد لی کی بورڈ کرلپ والوں کا استعمال کیا اور اب بھی میرے بلاگ پہ اگر کسی شخص کے پاس اردو کی بورڈ نیہں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنا ممکن نہیں۔
تو آسان زبان میں اردو بلاگنگ کے لئے بلاگسپاٹ کی طرز پہ کوئ سائیٹ ہونی چاہئیے۔
اس میں ہوسٹنگ وغیرہ کے ہی اخرجات نہیں ہوتے بلکہ جو لوگ اس پہ کام کرتے ہیں وہ عام طور پہ مڈل کلاس نوجوان ہی ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عملی زندگی صحیح سے شروع بھی نہیں کی۔ لاز،اً انہیں پیسوں کی فکر تو کرنا پڑتی ہے۔ ایک وقت میں کام کر کے وہ ہزاروں کما سکتا ہے اسی وقت کو مفت کے کام کے لئے وقف کر دے۔ ،جھے تو یہ زیادتی لگتی ہے۔ اس سب کے بعد اسے ایک ایوارڈ مل جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ جو لوگ کسی فنڈر کو پکڑ سکتے ہیں انہیں کوشش ضرور کرنی چاہئیے۔ اسے اس بات پہ قائل کرنے کی کہ اردو بلاگنگ کو سپورٹ کتنی انقلابی چیز بن سکتی ہے۔اٹھارہ کروڑ میں سے سترہ کروڑ سے زائد افراد اسکے انتظار میں ہیں۔
جو فنڈ حاصل کرے گا وہ زیادہ ذرائع استعمال کر سکتا ہے۔ وہ زیادہ آسانیاں فراہم کر سکتا ہلے۔

Popular Posts