جمعرات، 10 نومبر، 2011

وائرس کی موت

سیانے کہتے هیں که قطب شمالی کے برف زاروں میں بسنے والے لوگوں کا سب سے بڑا سکھ یه ہے که وه بهت سی بیماریوں سے بچے هوئے هیں
اس لیے نهیں که
عام دنیا سے دوری کی وجه هے
بلکه اس لیے که جب سردی مائنس دس سے نیچے جاتی ہے توبهت سے وائیرس کی بقا ممکن نهیں رهتی
سردی کی ایک بیماری فلو جس سے که سرد ممالک ميں پناه گزین پاکستانی بھی واقف هیں
جس سے ناک بند کھانسی اور بخار هو جاتا هے
اس کے وائرس بھی قطب شمالی کی سردی میں پنپ نهیں سکتےـ
سالوں پہلے جب میں جوان تھا اور دنیا کی سیر کے نام پر اواره گردی کیا کرتا تھا
یهاں جاپان میں تھا که فلو هو گيا
یهاں سے کوریا گیا
ایک ماه کے قیام میں مسلسل ناک بند بڑی کوفت سی رهی
اگلی منزل بنکاک تھی میں سے سوچا که گرمی سے ناک کا حال کچھ ٹھیک هو جائے گا
لیکن ناک مسلسل بند
بنکاک سے پاکستان گیا
پاکستان کی پاک مٹی جو که
وه وه خاک اڑائی هے لوگوں نے که قوم کے سروں میں ڈالی هوئی هے اڑا اڑا کر
اس ماحول ميں یه ناک کا بند هونا جس کو زکام کهتے هیں غالباً
بھلا کیسے ٹھیک هوتا؟؟
کچھ میں دوائیاں لینے کا سست هی واقع هوا هوں ، کوشش هوتی هے که بس ایسے هی ٹھیک هو جائےچھوٹی موٹی بیماری

کچھ دن ، ایک یا دو هفتے پاکستان میں گزار کر واپس بنکاک کے راستے جب کوریا اترا تو
جهاز میں بتایا کیا که سیول کا درجه حرارت مائنس گیاره هے
اس وقت تک میں فلو کو ٹھنڈ کی بیماری سمجھا کرتا تھا
اس لیے سنجیدگی سے باهر جاتے هیں دوائی لینے کا فیصله کیا
ایمگریشن ، کسٹم کو پار کرکے
ائر پورٹ کا بیرونی دروازه آٹو میٹک میں کھل کر راسته دیتا هے
باهر قدم رکھتے هیں سردی کے احساس سے زیاده
یه هوا که میرا سانس کھینچنے کا دل چاها
اور سانس کھلتی چلی گئی
ایک جادو تھا که کیا بات تھی
میں اج تک اس احساس کو نهیں بھول سکا که
کتنے ہفتوں سے بند ناک چند سیکنڈ میں ایسی کھلی که فرحت کا ایک احساس سارے جسم مں پھیل گیا

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts