ہفتہ, دسمبر 18, 2010

احساس جرم

کیا آپ نے کبھی وه تصویر دیکھی هے جس ميں سزائے موت کے مجرم کو فائرنگ سکوارڈ گولی مار رها هوتا ہے؟؟
ایک بنده جس کو گولی بھی ایک هی مارنی ہے لیکن نشانے بازوں کی ٹولی قطار بنائے کھڑی هوتی ہے
سزائے موت کے اچھے برے هونے سے قطع نظر
سکوارڈ کے سارے سپاہی اچھے نشنہ باز هوتے هیں ، ان کے نشانے کے چوکنے کے امکانات نه هونے کے برابر هوتے هیں که مجرم اور نشانے باز کے درمیان فاصله بھی تو کم هوتا ہے
سب نشانے بازوں کو ایک ایک گولی دی جاتی ہے
ان سب گولیوں میں صرف ایک اصلی هوتی ہے باقی سب نقلی هوتی هیں
ان نشانے بازوں کو کسی کو معلوم نهین هوتا ہے که کس کے پاس اصلی گولی هے
سب گولیوں کے چلنے کا بارود ایک جیسا هوتا هے چلانے والے کو احساس هی نهیں هوتا که اس نے اصلی گولی چلائی که نقلی
گولی چلانے کا حکم هوتا هے رائفلیں دھاڑتی هیں
لیکن سپاهی کو اس بات کا احساس رہتا ہے که میرے والی گولی نقلی تھی
اصلی والی کسی اور نے چلائی تھی
یه بندھ میں نے نهیں مارا ہے
یه جان میں نے نهیں لی هے
میں نے صرف ڈیوٹی پوری کی ہے
مجرم کو گولی مارنے کا یه طریقه کار اس بات کو مدنظر رکھ کر بنایا کیا هے که زندگی کے کسی بھی موڑ پر سپاہی احساس جرم کا شکار نه هو جائے
سپاهی کی نفسیات کی کجی اس کی اولاد پر نه اثر کرئے
لیکن
پاکستان
اور پاک فوج کیا کسی بھی احساس سے فارغ ہے که
بندے غائب
مشرقی پاکستان میں کیا کیا جھوٹ بولا گیا
اور حقائق کیا تھے؟؟
بندے مارے
زنانیاں ٠٠٠٠٠٠
جھوٹ بولا
قوم کو گمراھ کیا
هتھیار ڈالے
کسی کو احساس هی نهیں هوا که کتنا بڑا جرم کردیا گیا هے
پاکستان کی حمایت کرنے والے بہاریوں کا کسی نے سوچا هے ، کیا کبھی ؟؟
خاور بھی کھسکا هوا هے
بہاری؟؟
یہان پاکستان میں ، پاکستانیوں کا کوئی نهیں سوچتا ، اس کو بہاریوں کی پڑی ہے
پجھلے دنوں فیس بک پر ایک ویڈیو تھی ، جس میں وردی والے شلوار قمیضوں والوں کو گولی مارتے هیں
جن کو گولی نهیں لگتی ان کو دوبارھ مارتے هیں
جو مرتے نهیں هیں ان کو فرداً فرداً مارتے هیں
یه گولی مارنے والے کون تھے؟؟
کیا ان کو قتل کرتے هوئے احساس جرم نے نهیں مارا
کچھ لوگوں کا طریقه کار هوتا ہےکه
واردات کا ذکر هی گم کردو
خبر بنے گی تو وارادت بنے گی ناں جی
خبر هی گم کردو
بندے مارے گئے
وردی والوں نے مارے
کسی نے اتفاقاً ویڈیوں بنا لی ورنه
خبر گم ، واردات گم،
اور اگر ویڈیو لگ بھی گئی هے تو کیاهوا؟
تردید
اور پور ی قوم گم سم
کسی نے حساس ادارے کو بد نام کرنے کے لیے وردیوںمیں واردات کی تھی!!!!!!ـ
تو ؟؟؟؟
اس واردات کے ذمہ داروں کو پکڑنا کسی کا کام هے؟؟؟
مرنے والوں کے وارثوں کا کیا حال هوا هو گا؟؟
کیا یه مرنے والے درختوں پر لگتے هیں ؟؟
جن ناں کوئی رونے والا هے اور ناں کوئی رونے والی، جناب والی؟؟؟؟

14 تبصرے:

گمنام کہا...

Dear khawar, you are right but wrong place.. Uniform itself not wrong but mindset is wrong, racism is wrong. Actually i have doubt about history as we read how come pakistan is differ from history. There was some thing wrong so now building not strengthen,
God bless

Saad کہا...

جب سیاستدان ہر ممکن طریقے سے حکومت میں تا حیات رہنا چاہتے ہوں، جب ان کو اور فوج کو گھر آتے ہوئے امریکی ڈالر نظر آ رہے ہوں تو پھر ان کو انسان مارنا اور کیڑے مکوڑے مارنا ایک جیسا ہی لگتا ہے

گمنام کہا...

ہتھ ہولا رکھو

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

فائرنگ اسکواڈ کے سبھی ممبران کو اصلی گولیاں مہیاء کی جاتی ہیں۔ یعنی سبھی یعنی اسکواڈ کے ممبران کا فائر اصلی اسلحے سے کیا جاتا ہے۔ تانکہ کسی ایک کے ضمیر پہ یہ بوجھ نا رہے کہ وہ واحد اور اکیلا ایسے سانحے کا ذمہ دار ہے یا حالات کے پلٹا کھا جانے پہ کسی ایک سپاہی کو مستقبل میں موردِ الزام ٹہرایا جاسکے اور یہ ڈسپلنری ضابطہ کم و بیش ساری دنیا میں ایک ہی طرح رائج رہا ہے ۔ جہاں کورٹ مارشل وغیرہ کے ذریعے غدارروں کو ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے موت کی
سزا سنائی جاتی رہی ہے۔

ایک مبہم سی ویڈیو جسکی تحقیقات کرنے کا حکم خود پاکستانی فوج نے دیا ہے۔ اسے بنیاد بناء کر آپ نے نہائت جذباتی اور قدرے بے بنیاد تحریر لکھی ہے جس پا فوج پہ لعنت و ملامت کے سوا کوئی خاص مقصد نظر نہیں آتا۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں انگلیوں پہ گنے جاسکنے والی تعداد میں سے ایک ایسا ادارہ افواج پاکستان جسے بلا شبہ پاکستان کا منظم ترین ادارہ کہا جاسکتا ہے۔ جس کے بارے میں دشمنانان پاکستان کی ازلی خواہش ہے کہ کسی طور اسے قوم کے سامنے بھیانک ترین طور پہ پیش کر کے قوم کی نظروں میں اس کی عزت اور تقدس کے پُرخچے اڑا دئیے جائیں ایسے میں اپ کی اس تحریر کو لائق تحسین قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اسمیں کوئی شک نہیں کہ افواج پاکستان نے ماضی میں پاکستان کے اقتدار اعلٰی کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے اپنے حلف کے برعکس فرائض سر انجام دئیے۔ مگر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چھاہئیے کہ افواج بھی میرے آپ اور دیگر افراد کے معاشرے سے بنائی جاتی ہیں۔ جس کی روز مرہ کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔

جب سیاستدان کرپٹ ہوں ۔ ملک کے اچھے خاصے اداروں کو بیچ کھناے کی فکر میں ہوں ۔ ملکی مفادات پہ ذاتی او سیاسی مفادات کو ترجیج دیں تو ایسے میں ہر کسی کا دل کرتا ہے کہ انھیں کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا جائے اور اقتدار کی دیوی کو اپنی لونڈی بنا لیا جائے۔ مگر اس کے باوجود ہم ماضی میں ملک کے اندرونی معاملات میں فوج کے ملوث ہونے کی مذمت کرتے ہیں ۔ مگر آپ یہ بھی یاد رکھیں آپ کے اندرونی معمالات میں تو امریکن کلرک تک ملوث ہیں تو فوج تو اسی ملک کی ہے اور طاقت بھی رکھتی ہے۔

جسطرح اتنے بڑے بڑے اداروں میں اکثریت اچھی ہوتی ہے اسی طرح چبد کالی بھیڑیں بھی ہوتی ہونگی۔ جیسے پاکستان میں سبھی لوگ بُرے نہیں اسی طرح ساری فوج بری نہیں۔ اسلئیے ایسی سنگ باری سے اجتناب برتنا چاہئیے۔

پاکستانی فوج پچھلے کچھ سالوں سے جسطرح کئی قسم کے دباؤ کا احسن طریقے سے مقابلہ کر رہی ہے اس سے کسی ایک جگہ پہ کسی ایک یونٹ کا حالات کے دباؤ یا اپنے ساتھیوں کی بے جا اور ناگہانی شہادتوں پہ سیخ پا ہوجانا سمجھ میں آتا ہے اور اس وجہ سے سول شہریوں کے ساتھ زیادتی بھی ممکن ہے جو بہر حال نہیں ہونی چاہئیے مگر جیسے آپ نے بیان فرمایا ہے ویسے پاکستانی شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دینا بہر حال پاکستانی افواج کے شایان شان نہیں اور ایسے مشکوک ویڈیوز کو ہر مخلص پاکستانی جعلی سمجھنے میں حق بجانب ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

فائرنگ اسکواڈ کے سبھی ممبران کو اصلی گولیاں مہیاء کی جاتی ہیں۔ یعنی سبھی یعنی اسکواڈ کے ممبران کا فائر اصلی اسلحے سے کیا جاتا ہے۔ تانکہ کسی ایک کے ضمیر پہ یہ بوجھ نا رہے کہ وہ واحد اور اکیلا ایسے سانحے کا ذمہ دار ہے یا حالات کے پلٹا کھا جانے پہ کسی ایک سپاہی کو مستقبل میں موردِ الزام ٹہرایا جاسکے اور یہ ڈسپلنری ضابطہ کم و بیش ساری دنیا میں ایک ہی طرح رائج رہا ہے ۔ جہاں کورٹ مارشل وغیرہ کے ذریعے غدارروں کو ڈیتھ اسکواڈ کے ذریعے موت کی
سزا سنائی جاتی رہی ہے۔

ایک مبہم سی ویڈیو جسکی تحقیقات کرنے کا حکم خود پاکستانی فوج نے دیا ہے۔ اسے بنیاد بناء کر آپ نے نہائت جذباتی اور قدرے بے بنیاد تحریر لکھی ہے جس پا فوج پہ لعنت و ملامت کے سوا کوئی خاص مقصد نظر نہیں آتا۔

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں انگلیوں پہ گنے جاسکنے والی تعداد میں سے ایک ایسا ادارہ افواج پاکستان جسے بلا شبہ پاکستان کا منظم ترین ادارہ کہا جاسکتا ہے۔ جس کے بارے میں دشمنانان پاکستان کی ازلی خواہش ہے کہ کسی طور اسے قوم کے سامنے بھیانک ترین طور پہ پیش کر کے قوم کی نظروں میں اس کی عزت اور تقدس کے پُرخچے اڑا دئیے جائیں ایسے میں اپ کی اس تحریر کو لائق تحسین قرار نہیں دیا جاسکتا۔

عنیقہ ناز کہا...

ایک مبہم سی ویڈیو کا تذکرہ کیا گیا اور مشرقی پاکستان میں فوج کے مظالم گول ہو گئے۔
جس زمانے میں کراچی میں آپریشن کلین اپ چل رہا تھا، فوج کے تعاون سے تو عام آدمی فوج کے لپیٹ میں آنے سے گھبراتا تھا۔ اس وقت گنہاگار اور بے گناہ کی تو کوئ تخصیص نہ تھی۔ لوگ گھبراتے تھے کہ پولیس نے پکڑا تو مک مکا پانچ ہزار میں ہو جائے گا۔ فوج نے پکڑا تو مک مکا پچاس ہزار سے کم میں نہیں ہوگا۔
فوج کا کرپشن نہیں بیان کرنا چاہئیے۔ گناہ ہوتا ہے۔
لیکن چھوٹے صوبوں میں پنجاب سے نفرت کی وجہ فوج ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

بی بی!

اگر ویڈیو مبہم نہیں تو آپ اس کے بارے حتمی میں ثبوت لائیں ورنہ خاموش ہوجائیں۔

کراچی کے میں فوج سے مبینہ مُک مکا ۔ پنجاب سے نفرت اور اسطرح کی موضوع سے ہٹ کر دیگر آپ کے پسندیدہ موضوعات جن کا پوسٹ سے تعلق نہ ہو اور محض اپنی نفرت کا اظہار ہو جسے پورے پاکستان اور کسی پاکستانی کو بخشیش نہیں ۔۔ اب ایسی بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ جس سے کسی کو حیرانگی ہو۔ اب کوئی نیا شوشہ تشکیل کریں/ آپ کی ان پرانی باتوں میں اب کسی کو دلچسپی نیں رہی۔

عنیقہ ناز کہا...

جوید گوندل صاحب،آپ نے پھر بنگلپ دہش کی تشکیل میں پاک فوج کا کردار نکال دیا۔ اگر موضوعات آپکی مرضی کے مطابق پرانے ہونے لگیں تو سولپ دسمبر کو اخبارات اور بلاگ سقوط پاکستان کی داستان دوہراتے نظر نہ آئیں۔ آپکی مرضی ہو تو کوئ چیز ہر وقت نئ رہے اور آُ اس پہ جزاک اللہ کہتے رہیں اور اگر آپکو پسند نہ ہو تو وہ شوشہ بن جائے۔ اور پھر اسکے بعد یہ آپ ہی ہونگے جو پاکستان کی حالت پہ افسوس ظاہر کر رہے ہونگے۔
معامالت کی درستگی آپکے مطابق نہیں ہو سکتی۔ یہ نہیں ہو کستا کہ جسے آپ خرابی سمجھیں وہ خرابی سمجھی جائے اور جسے آپ اپنی جانب داری میں خرابی نہ سمجھیں اسے نظر انداز کیا جائے اور اسے سوشہ قرار دیا جائے۔
یعنی یہ سمجھآ جائے کہ پاک فوج اس خرابی کا حصہ دار نہیں۔ جبکہ پاکستان مے کرپشن اور طاقت کے شو آف کے ستونوں میں دو چیزیں اہم ہیں اور وہ ہیں فوج اور بیوروکریسی۔
در حقیقت آپ نے پرانا ڈائیلاگ دوہرایا۔ یعنی یہ کہ پنجاب کا نام اگر کسی مسئلے میں گھسیٹا گیا تو وہ تعصب ہے۔ شاید آپکو اسپین میں رہتے ہوئے یہ نہیں معلوم کہ اس وقت بلوچستان میں جن لوگوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ ہیں اہل پنجاب۔
بنگالی بھی جنہیں بہت برا سمجھتے تھے وہ تھے اہل پنجاب۔ اہل پنجاب کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے۔ اسکی وجہ پاکستانی فوج کا اسٹائل ہے۔ آپ کیوں نہیں اس تعلق کو معلوم کرنا چاہتے جو پنجاب اور پاکستانی فوج میں ہے۔ اور اسے کیوں تعصب سمجھتے ہیں۔
کوڑے کے ڈھیر پہ ہرا آسٹرٹرف لگا دینے سے وہ باغیچہ نہیں بن جاتا۔ اگر کچرے کی بد بو دور کرنی ہو تو کچرے کی موجودگی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
مگر یہ تیری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو۔

جاوید کہا...

بریگیڈیئر اے آر صدیقی، جو پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار اور صحافی ہیں، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اور اس کے پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بننے کے زمانے میں حکومت کا حصہ تھے اور اب انہوں نے اپنے چشم دید واقعات کو تینتیس سال بعد بالآخر ’ایسٹ پاکستان۔ دی اینڈ گیم: این اونلُکرز جرنل‘ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔
بریگیڈیئر صدیقی کی کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس سے مشرقی پاکستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ فوج کی سیاست میں ملوث ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی سوچ بھی واقعات کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کس طرح یحیی خان اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ پہلے ہی ایوب خان کو ہٹا کر مارشل لا لگانا چاہتے تھے اور وہ سیاستدانوں کو بھیڑیے اور جوکرز قرار دیا کرتے تھے۔
بریگیڈیئر صدیقی نے بہت تفصیل سے نو ماہ تک ہونے والے فوجی کارروائی اور قتل و غارت کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح فوج کے بعض افسر بنگالیوں کو سبق سکھانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔
اس ضمن میں انہوں نے اس وقت ڈھاکہ میں تعینات میجر جنرل محمد حسین انصاری کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں پر نالاں تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہمیں ہر عورت سے ہونے والے زنا بالجبر اور ہر قتل کا حساب دینا پڑے گا۔
اس کے برعکس مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر جنرل اے کے نیازی کے بارے میں صدیقی لکھتے ہیں کہ وہ جوانوں کے غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا کل رات تیرا اسکور کتنا رہا۔‘ یہاں اسکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد سے ہوتی تھی۔
بریگیڈیئر صدیقی لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی فوجیوں کی عورتوں کو بےحرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے ، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جاکر کرے۔‘

جاوید کہا...

بریگیڈیئر اے آر صدیقی، جو پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار اور صحافی ہیں، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اور اس کے پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بننے کے زمانے میں حکومت کا حصہ تھے اور اب انہوں نے اپنے چشم دید واقعات کو تینتیس سال بعد بالآخر ’ایسٹ پاکستان۔ دی اینڈ گیم: این اونلُکرز جرنل‘ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔
بریگیڈیئر صدیقی کی کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس سے مشرقی پاکستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ فوج کی سیاست میں ملوث ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی سوچ بھی واقعات کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کس طرح یحیی خان اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ پہلے ہی ایوب خان کو ہٹا کر مارشل لا لگانا چاہتے تھے اور وہ سیاستدانوں کو بھیڑیے اور جوکرز قرار دیا کرتے تھے۔
بریگیڈیئر صدیقی نے بہت تفصیل سے نو ماہ تک ہونے والے فوجی کارروائی اور قتل و غارت کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح فوج کے بعض افسر بنگالیوں کو سبق سکھانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔
اس ضمن میں انہوں نے اس وقت ڈھاکہ میں تعینات میجر جنرل محمد حسین انصاری کی تعریف کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ مشرقی پاکستان میں فوج کی زیادتیوں پر نالاں تھے اور ان سے کہتے تھے کہ ہمیں ہر عورت سے ہونے والے زنا بالجبر اور ہر قتل کا حساب دینا پڑے گا۔
اس کے برعکس مشرقی پاکستان میں فوج کے کمانڈر جنرل اے کے نیازی کے بارے میں صدیقی لکھتے ہیں کہ وہ جوانوں کے غیر انسانی اور بہیمانہ حرکتوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے اور اپنی آنکھوں میں شیطانی چمک کے ساتھ فوجی جوانوں سے پوچھا کرتے تھے کہ ’شیرا کل رات تیرا اسکور کتنا رہا۔‘ یہاں اسکور سے مراد جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے والی عورتوں کی تعداد سے ہوتی تھی۔
بریگیڈیئر صدیقی لکھتے ہیں کہ جنرل نیازی فوجیوں کی عورتوں کو بےحرمت کرنے کا دفاع کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ’آپ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ایک فوجی مشرقی پاکستان میں رہے ، لڑے اور مارا جائے اور جنسی عمل جہلم جاکر کرے۔‘

جاوید کہا...

بریگیڈیئر اے آر صدیقی، جو پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار اور صحافی ہیں، مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اور اس کے پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بننے کے زمانے میں حکومت کا حصہ تھے اور اب انہوں نے اپنے چشم دید واقعات کو تینتیس سال بعد بالآخر ’ایسٹ پاکستان۔ دی اینڈ گیم: این اونلُکرز جرنل‘ کے نام سے کتابی شکل دی ہے۔
بریگیڈیئر صدیقی کی کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس سے مشرقی پاکستان کے واقعات ہی نہیں بلکہ فوج کی سیاست میں ملوث ہونے اور اقتدار اپنے ہاتھوں میں لینے کی سوچ بھی واقعات کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی ہے۔ مصنف بتاتے ہیں کہ کس طرح یحیی خان اقتدار سنبھالنے سے ایک ماہ پہلے ہی ایوب خان کو ہٹا کر مارشل لا لگانا چاہتے تھے اور وہ سیاستدانوں کو بھیڑیے اور جوکرز قرار دیا کرتے تھے۔
بریگیڈیئر صدیقی نے بہت تفصیل سے نو ماہ تک ہونے والے فوجی کارروائی اور قتل و غارت کی کہانی بیان کی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح فوج کے بعض افسر بنگالیوں کو سبق سکھانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔

جاوید کہا...

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرچہ پاکستان فوج کے بجٹ میں قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن اس ادارے کے نجی تجارتی اثاثے ایک اندازے کے مطابق دس ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔
مطابق فوجیوں کے پاس صرف ایک کروڑ ایکٹر اراضی کی ملکیت ہے۔ اعلیٰ فوجی حکام نے تاہم کئی دہائیوں کے دوران حاصل کیے جانے والے ان اثاثوں یا ان سے ملنے والی آمدن کا کوئی ذکر نہیں کیا۔
پاکستانی فوج کے پاس جو گاڑیوں موجود ہیں ان میں پچاس سال سے پرانی گاڑیوں کی تعداد دو فیصد، بیس سال پرانی چونتیس فیصد اور پانچ سال پرانی بیس فیصد ہے۔ اس چھپن فیصد کے علاوہ غالباً چوالیس فیصد پانچ سال سال سے پرانی نہیں ہیں۔
ایک طرف اگر فوجی حکام کی بات تسلیم کریں تو بجٹ کی کمی کا مسئلہ ہے تو دوسری جانب فوجی اہلکاروں پر کاروبار سے منسلک بدعنوانی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے گزشتہ دنوں این ایل سی میں کرپشن کی تحقیقات کا حکم اسی جانب اشارہ کرتی ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

اوہمم۔۔یعنی یہ ساری باتیں خاور کھور کے ویڈیو سے عیاں ہیں؟

بھائی لوگاں۔ اگر فوج کو لعنت ملامت کرنی ہے تو اسکے لئیے ایک الگ سے فورم قائم کرو۔ کیونکہ یہاں تذکرہ بنگلہ دیش میں فوج کا کردار زیر بحث نہیں بلکہ ۔ اس ویڈیو کی بات ہے۔ جسکا تذکرہ خاور کھوکر نے کیا ہے۔

جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین کہا...

عنیقہ بی بی ! آپس کی بات ہے زرا ایک بات تو بتائیں جب بلوچستان میں بقول آپ کے جب پنجابیوں کو چُن چُن کر قتل کیا جارہا ہے تو آپ کے دل کتنا شانت ہوتا ہے؟ ہے نا! ؟
کیونکہ جس انداز میں آپ نے بلوچستان میں پنجابیوں کو چپن چپن کر مارے جانے اور خاص کر "چپن چپن" پہ جو خاص الخاص زور دیا ہے اس سے آپ کا انسباط چھپائے نہیں چھپتا ۔ کہیں بقول شاعر ۔ حسرتیں یوں مل کر برسیں کہ دور تک سماں بند گیا۔ والا معاملہ تو نہیں۔

آپ کے اس اصرار سے تو یہ پتہ چلتا ہے شاید بلوچتسان میں پنجابیوں کو "چُن چُن" کر قتل کرنے والے آپ کو ہر روز اپنا اسکور اپ ڈیت کرتے ہیں۔؟

Popular Posts