اتوار، 7 دسمبر، 2008

اردو رسالے

آج صبح میل چیک کی تو جی میل بکس میں ایک مشکوک سی میل بھی تھی
جس میں سینڈر کا نام لکھا تھا
*~*sMiLiNg DoLL*~*
اورمیل کا عنوان تھا
A humble Request...
پہے تو میں اس ڈلیٹ کرنے جا رها تھا مجھے خیال آيا که دیکھ لیتے هیں بڑی بڑی رقموں کو ترسیل کے لیے میری مدد کے طلب گار کسی افریقی کی هو گی اور اس نے کتنی رقم مجھے ٹرانسپورٹ کروانی هے
میل کھولی تو جی اسلام علیکم سے شروع اس میل کو کھول کر میں نے شکر کیا که اس ڈلیٹ نہیں کیا
یه میل تھی جی اردو رسالے والوں کی
جن کا دومین لنک ہے
http://www.urdurasala.com
اس سائیٹ کو کھول کر بھی ایک خوش گوار احساس هو که اس کا ڈیزائین کسی اچھۓ ڈیزائینر نے بنایا ہے
اور اس پر کگی کتابیں دیکھ کر جی اپنی جوانی میں پڑھی هو ئی کتابیں یاد اگئیں
سوناگھاٹ کا پجاری
ایک کتاب ہے جی بازی
جو که اردو کے ایک ماهانامے سب رنگ میں چھپا کرتی تھی یه ماهنامه پھر سالوں نامه هو گیا که سالوں میں ایک دفعه چھپا کرتا تھا
اس کہانی کو پورا پڑەنے کی خواهش میں جی بوڑہے هو کئے
شوکت صدیقی صاحب کی ایک کہانی تھی جی جانگلوس
اس کہانی کی تیسری قسط کا چربه تھاجی پی ٹی وی کا مشهور زمانه ڈرامه
وارث
اس کہانی کو بھی پرا پڑھنے کے لیے ترستے رهے که پچھلی دفعی پاکستان گیا تو گوجرانواله اسٹیشن کے سامنے والے کتابوں سٹالوں میں سے ایک سٹال پر اس کے کچھ حصے دیکھے لکن اس کا اخری حصه اس کتابوں والے کے پاس نہیں تھا تو اس نے کہا که جی آپ پیسے دے جائیں میں یه کتابیں آپ کے پنڈ(گاؤں)پہنچا دوں گا
لیکن جی اس نے نہیں پہنچائیں
اردو رساله کے نام سے بنی اس سائیٹ کو دیکھ کر میرے اندر ایک خسارے کا سا خفیف احساس گذر گیا
که کاش اج میرے پاس وھ کتابیں هوتی جو میں نے اپنے بچپن میں پڑهی تھیں اور اج وه نایاب هو چکی هیں
آنه لائبریری
کا نام سنا ہے کسی نے ؟؟
پاکستان بننے سے پہلے اس نام سے بچوں کی کتابوں کی اشاعت کا ایک سلسله چلا تھا
ان کتابوں کے بھے صندوق میاں ممتاز خاں صاحب کے مکانوں میں پڑے تھے
میاں ممتاز خان سیکرٹری وزارت خزانه هوا کرتے تھے
عمر کی چالیسویں دەائی کے پاکستانیوں نے ان کا نام ایک روپے والے نوٹ پر ضرور دیکھا هو گا
یه میاں ممتاز خان صاحب همارے گاؤوں کے تھے
ان کے گاؤں چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ان کے مکان خالی پڑے تھے که کسی نے ان کے تالے توھ کر یہاں سو کتابیں چوری کر کے ردی میں بیچ دی تھیں
ان دنوں مجھے کتابیں پڑھنے کا جنون هوا کرتا تھا
همارے ایک کلاس فیلو رزاق درزی نے مجھے ان کتابوں کا بتایا
اور مجھے پوچھا که کیا تم یه کتابیں خرید لیا کروں گے
میں نے کتابیں خریدنے کی حامی بھر لی
اب زراق درزی نے مجھ سے پیسے لے کر ایک ایک کتاب کرکے مجھے لا کر دینے لگا اور جبمین کتاب پڑھ لیتا تھا تو رزاق کہتا تھا که کتاب تو تمهاری هی ہے لیکن یه زرا مجھے بھی
دو که میرے چاجے نے پڑھنی ہے
اس طرح سو وه کتابیں واپس رزاق کے پاس هی چلی جاتی تھیں تھیں
ایک دفعه جاوید درزی نے مجھے بتایا که رزاق کہـ رها تھا که اس نے خاور کو ایک فراڈ لگایا هوا هے جس میں خاور اور اس کوپیسے دیتا رهتا ہے
لیکن وه فراد کی تفصیل نہیں بتا رها تھا
تم هی بتا دو که کس مد میں اس کو پیسے دے رهے هو ؟؟
میں نے جاوید کو تو نہیں بتایا کیوں که همارے ابا جی کو کتابوں سے اللّه واسطے کا بیر تھا
اگران کو معلوم هو جاتا که میں نے کتابوں پر پیسے خرچ کیے هیں تو هو سکتا ہے مجھۓ مار مار کر لہولہان هی کردیتے
اپنے اردو کے بلاگر علوی صاحب کے کتابوں کو اون لائین کرنے کی شروعات کے بعد مجھے کتنی هی دفعه اس بات کا احساس هو ا که کاش وه کتابیں میرےپاس هوتیں
اور اج اردو رساله دیکھ کر تو یه احساس اور بھی بڑھا
کبھی کبھی سوچتا هوں که شائید رزاق نے وه کتابیں سنبھال کر رکهی هوں
چاهے وه اس بات سے مکر بھی جائے که کتابیں خاور کی ملکیت هیں
میں ایک دفعه پھر سے اس کو ادائیگی کر کے بھی وه کتابیں خریدنا چاهتا هوں
بہرحال مجھے
یه سائیٹ پسند ائی ہے
اور میرا خیال ہے که کتابیں پڑھنے والے کسی بھی شخص کو پسند آئے گي

2 تبصرے:

Rizwan کہا...

بھائی جی کتابوں سے محبت کے علاوہ ایک اور بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ لوگ آپ کو بچپن ہی سے ٹھگتے آئے ہیں

گمنام کہا...

Thanks You so much for sharing

Popular Posts