جمعہ، 19 دسمبر، 2008

لتّر !ـ تبدلی کی نوید

آپنے بش صاحب کو لتر پڑنے پر هر بندے کا اپنا اپنا انداز ہے جی
تبصرے کرنے کا ـ
سوچنے والے بھی بڑی دور کی سوچتے هیں جی
ایک لاله جی کہیں توند نکالے سو رہے تھے که
ایک چوھا ان کی عظیم توند پر سے گزر گیا
جس سے لاله جی کی انکھ کھل گئی
اپنی توند کو چوھے کی گزرگاھ بنتے دیکھ کر
لاله جی کرنے لگے واویلا ، وه شور مچایا که خدا کی پناھ
کسی نے کہا که لاله جی چوھا هی گزر گیا ہے ناں جی کون سی قیامت آ گئی ہے؟
تو لاله جی کہنے لگے که جی اج چوھا گزرا ہے راسته تو بن گیا ناں جی کل کلاں کو ھاتھی هی گزر جائے تو؟؟
بس جی کچھ اسی طرح کی دور اندیشی کا خیال پیش کرهے تھے جی اپنے ایک دوست
که
جس طرح شوشلیزم ختم هوئی اسی طرح ایک دن یه سرمایه دارانه نظام بھی ختم تو هونا ہی ہے
تو جی پھر اسلامی نظام هی آئے گا
اب اپ دیکھ هی لیں گے که کانفرنسوں میں لوگ ایسے جوتے اتار کر جائیں کے جیسے مسجد میں جاتے هیں
اسی طرح اہهسته آهسته ماحول اسلامی بنتا جائے گا ـ
میں تو جی اس بات سے متفق نہیں هوں
میرے خیالات کیا هیں ؟؟
اگر میں نے بتائے تو هو سکتا ہے که همارے یه دوست اپنی انسلٹ سمجھیں
اور
دوسری بات یه ہے که اسلام کے ٹھیکیدار کہیں مجھے قتل هی ناں کر دیں !ـ
پہلے هی کتنے لوگ مجھے کہـ چکے هیں که جی اپ کے خیالات کافرانه هیں
کسی دن کوئی آپ کو قتل کردے گا !!
ثواب کے لیے!!ـ
قصور میرا یه ہے که میں قرآن کی '' باتاں '' کرتا هوں !!ـ
آپ کا کیا خیال ہے جی بیچ اس بات کے؟؟؟

2 تبصرے:

طفل کہا...

ہا ہا ہا وا بھئ وا :d

ڈفر کہا...

جناب۔ چوہے کو کڑکی میں پھسا کر ہاتھی کے لیے اسی واسطے موقع پر سبق پیدا کر دیا گیا ہے

Popular Posts