اتوار, دسمبر 14, 2008

عید نامه

محترمه فرحت کیانی صاحبه کی میل وصول هوئی
که مجھے عید نامه لکھنے کے لیے ٹیگ کیا گیا ہے
یه سلسله شروع کیا ہے جی آپنے ساجد اقبال
صاحب نے اور جی حاضر ہے اپ کی خدمت میں ٹیگ لگوا کر خاور کھوکھر عید نامه لے کر ـ
عید سے پہلے
هر سال عید پر نماز کے بعد ایک عجیب سی اداسی طاری هو جاتی ہے
اس لیے میں نے اس سال پہلے هی اپنے مسجد کے ناظم عمران صاحب کو کہنا شروع کردیا تھا که جی کوئی شغل وغیرھ هونا چاهیےـ
کیون که مسجد کے زیادھ تع نمازی اس سال کہیں ناں کہیں چلے گئے هیں
مثلاً ٹوکیو ٹریڈنگ والے راشد صاحب حج کے لیے چلے گئے هیں
هجویری ٹریڈنگ والے فیاض مغل صاحب افریقی ممالک کے دورے پر نکلے هوئے هیں
نجیب خان صاحب بھی برما (مینمار)جانے کا کہـ کر نکل گئے هیں
برما والے سلیم بھائی بنگله دیش چلے گئے هیں ـ
ان دنوں فجر کی نماز میں پاکستانیوں کی نسبت برما اور بنگله دیش والوں کی تعداد زیادھ هو تی هے ـ

یوم عید
عید کی نماز کا ٹائم نو بجے مقرر هوا تھا هر روز کی طرح صبح چار بچے اٹھے
انٹر نیٹ پر براؤزنگ کی سوا پانچ بجے گاڑی کا انجن اسٹارٹ کر کے اندر آکر وضو کیا ، کافی پی ،اور نماز کے لیے مسجد کی طرف نکلے ـ
نماز چھ بجے تھی
هر روز نماز کے بعد گفتگو هوتی ہے لیکن عید کے دن سبھی نمازی جلدی گھروں کو چلے گئے
میں نے بھی گھر آ کر غسل کیا کپڑے استری کیے
اور نماز کے لیے چلے ـ
نماز کے بعد عید ملن '' جپھیاں '' ڈال کر لوکاں کو ملے ـ
تو عمران کہنے لگا که
نماز عید
جی اس کے بعدآپ اپنے حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ میں پہنچ جائں که سبھی دوست وهاں هوں گے
حاجی مشتاق صاحب گیلانی ٹریڈنگ کے پریزیڈنٹ هیں جی ـ
ان کا معاملات کو دیکھنے کا جی اپنا هی انداز ہے ـ
میں حاجی مشتاق صاحب کو کافی جگتیں کیا کرتا هوں
جس کا حاجی صاحب نے گله کیا تھا کہیں میری غیر موجودگی میں جس کا مجھے
اپنے طارق خان صاحب نے بتایا ہے
میں دو دن پہلے کافی کے کینوں کا ایک کارٹن خرید کر گاڑی میں ڈال رکھا ہے که اب جب مجھے حاجی صاحب ملیں گے تو میں ان سے اس بات کی معافی مانگوں گا
کیونکه حاجی صاحب ایک سادھ دل بندے هیں
اور میں ایسے بندوں کا دل نہیں ٹوڑنا چاهتا ـ
تو جی
ان حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ میں تھا
جی
قربانی کا انتظام
اور یہاں پر بکروں کو ذبح کرنے کا بھی انتظام کیا هوا تھا
جاپان میں جانوروں کے ذبح کے قوانین کافی سخت هیں مگر جی
جس طرح برانیه میں پرانے زمانے میں سائیکل کی دو سواریاں غیر قانونی هوتی تھیں مگر کیونکه قانون کی کتاب میں تین سواریوں کچھ نہیں لکھا هوا اس لیے تین سوایوں والے سائیکل پولیس والے نہیں پوچھتے تھے
اسی طرح جی سور گائے بیل کے ذبح کے تو قوانین هیں مگر بکری کے ذبح کا پر کچھ بھی نہیں لکھا هوا اس لیے بکری کا ذبیح کا کام چل هی جاتا ہے
میں نے اس ذبح کے وقت کوئی بھی تصویر نہیں لی تھی کیونکه میں نهیں چاهتا تھا که کہیں کوئی تصویری ثبوت پھر بھی رھ جائے ـ
اس بعد حاجی صاحب کی پارکنگ کے ساتھ هی ایک اور پارکنک بھی ہے

جس میں چولہا وغیرھ بنا هوا ہے
اس لیے گوشت کو اس حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ کے ساتھ والی کسی اور کی پارکنگ والے چولہے پر پکایا
گوشت ابھی کچا پکا هی تھا که اسلام خان بھائی اور میں نے اس کو نکال کر کھانا اور کھلانا شروع کردیا
اس گوشت نے میرے پیٹ میں تین دن گڑ بڑ مچائے رکھی
مگر جی گوشت تھا مزے کا
اور جی هیں اس دن کی کچھ تصاویر





5 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

عید پارٹی میں عورتیں نظر نہیں آئیں۔ کیا جاپان میں عورتیں عید نہیں ٕمناتیں۔

ڈفر کہا...

بری مفصل روداد لکھی ہے جی آپ نے بھی عید قرباں کی
ہماری عید تو نماز پڑھنے، سونے ، سونے اور سویے رہنے میں گزر جاتی ہے
آپکا بلاگ پڑھ کر دل کرتا ہے کہ جاپان کی سیر کرنی چاہیے :) ۔

فرحت کیانی کہا...

السلام علیکم

یعنی جاپان میں بھی آپ لوگ ٹھیک ٹھاک اہتمام کے ساتھ عید مناتے ہیں۔ ماشاءاللہ.. پاکستان جیسا ہی ماحول لگ رہا ہے عید پارٹی کا۔
اس پوسٹ کے لئے خصوصی شکریہ :)

japan کہا...

yaar mera pakistan ..In japan mostly pakistani marry old an disabled japanes woman an they shy so u no see woman in japan any pakistani party .if u whant true u read khawer old post ..

Pathan کہا...

شکریہ خاور بھائی
آپ کی زرہ نوازی کہ ہمارے لئے اتنی تفصیل سے جاپان کی عید کا احوال لکھ دیا۔

Popular Posts