پیر, فروری 18, 2008

کالے کنبھ نی کاواں دے

ریڈیو پاکستان پر ایک پروگرام چلا کرتا تها اس پروگرام کا نام تو اب یاد نہیں مگر اس پروگرام کے صدا کار نظام دین اور قائم دین اب تک یاد هیں ـ
جرنل ضیاع کے پاکستان پر قبضه کرنے سے پہلے کے پنجاب میں کون هو گا جو چوھدری نظام دین کو نہیں جانتا هو گا ـ
پنجاب چاهے انڈیا والا یا پاکستان والا سارے هی پنجاب میں جظام دین کی آواز گھونجتی تهی اور لوگ بهالے اس کی باتیں سننے کے لیے کام کاج چھوڑ کر ریڈیو کے سامنے بیٹھ جایا کرتے تهے ـ
پنجابی کے شعر ، محاورے ،اور گیت هوتے تھے
طنز کے بهی بادشاھ تهے نظام دین صاحب
جرنل ضیاع کی امد پر انہوں نے ضیاع پر بهی طنز کیا تها
جس کی پاداش میں انہوں کو ریڈیوپاکستان سے نکال دیا گیا تها
کیونکه یه وه وقت هوا کرتا تها جب پاکستان میں فوج کو ایک مقدس چیز مانا جاتا تها ـ
نظام دین نے دوسری جنگ عظیم کا زمانه بهی دیکها هوا تها اور اس دور کے حالات اور واقعات کے متعلق نظام دین کی باتیں اس دور کی هسٹری کو سمجھنے کے لیے ایک اهم چیز هوا کرتے تهے
ایک واقعه سناتے هیں نظام دین صاحب
که
اکہتر کی لڑائی میں هم ایک پروگرام کیا کرتے تهے
جس میں فوجی بهائیوں کو گهر والوں کا پیغام سنایا جاتا تها
ایک دفعه سرگودھا کے علاقے سے ایک بوڑھی خاتون ائی جس کا بیٹا محاذ پر تها اس نے اپنے بیٹے کے لیے پیغام ریکارڈ کروایا تها جو که عام لوگوں کے پاکستان کے ساتھ اخلاص اور بہادری کا نشان ہے
بوڑهی مائی کہتی هے
مینڈا بچڑا فلک شیر ـ میں تیری ماں پئی بولینی آں
میڈا بچڑا کیں ویلے جے لوڑ پؤے تے مینڈا بچڑا سر دیویں کنڈ نه دیویں ـ
ترجمه
میرا بیٹا فلک شیر ، میں تمہاری ماں بلا رهی هوں ـ
میرا بیٹا اگر ضرورت پڑے تو سر دے دینا پیٹھ نه دینا ـ

جنگ عظیم کے پس منظر میں که ان دنوں جبری بهرتی هوا کرتی تهی اور ہم برطانیه کے غلام هوا کرتے تهے اس لیے ہمیں برطانیه کے مفادات کے لیے جانیں بهی دینی پڑتی تهیں ـ
جس طرح که ان دنوں ہم امریکه کے لیے جانیں قربان کر کے دەشت گردی کے خلاف جنگ پر فخر کرتے هیں ـ
برطانیه نے جرمنی کو ایک ظالم کو روپ میں دیکهاتے هوئے لوگوں سے ان کے بیٹے جنگ کی بٹھی میں جهونکنے کے لیے ڈیمانڈ کرتا تها ـ
ان دنوں متعلقه گورا افسر سرگودها کے علاقے میں گیا که جوان بهرتی کرواؤ ـ
سرگودها کے لوگوں کو جانگلی بهی کہتے هیں
جانکلی لوگوں نے کہا که اس بات کا فیصله بابا مراد کرے گا اس کو بلا کر لاتے هیں
بابا مرد بهینسیں چرنے کے لیے لے گر بیلے میں گیا هوا تها اس کو بلانے کے لیے ادمی دوڑائے گیے
جب بابا مراد گورے افسر کے سامنے آیا تو گرمی سے بے حال قمیض اتار کر کندهے پر ڈالی هوئی تهی
بابے نے پوچها که کیا بات ہے ؟
گورے کے ساتھ آئے هوئے دیسی افسروں نے بتایا که گورا صاحب آپ پاس آئے هیں که گورنمٹ برطانیه کی مدد کریں
بابے نے جب تفصیل پوجهی تو ترجمان نے بابے کو جرمنی کے ظلم اور ہٹلر کی سفاکی کی باتیں بتا کرملکه برطانیه کے نام پر فوج میں بهرتی کے لیے لڑکے مانگے
تو
بابے مراد نے بڑی سنجیدگی گورے کو مشوره دیا
که
کل اینج اے ، که ، جے ہن معامله ساڈے تے هی آ پیاء اے تے
اینج کرو ، ملکه نوں آکهو کچح بندے ڈالکر ہٹلر سے صلح کر لے ،
ساڈے کولوں منڈے نہیں مروائی دے ـ
ترجمه
بات اس طر ح ہے که اب اگر معامله هم پر آ پڑا ہو تو میرا مشوره ہے که ملکه سے کہو که کچھ آدمی دریان میں ڈال کرہٹلر سے صلح کر لے
ہم سے اپنے لڑکے نہیں مروائے جاتے ـ

ماہیا
پنجابی نظم کی ایک قسم ہے جس میں پہلے مصرعه ایک تمثیل هوتی هے اور دوسرا مصرعه تقاضا یا خیال هوتا ہے
جس طرح که
سڑکاں تے رُکھ ساوے
پته نہیں زندگی دا کیڑے موڑ تے مک جاوے
یا
پانی چھنے وچوں کاں پیتا
تیرے وچوں رب دسیا تینوں پیار میں تاں کیتا

جنگ عظیم کے دنوں میں کسی ماں کو جب اس کے بیٹے کی جنگ میں موت کی خبر ملی تو اس نےایک ماهیا کہا تها
جو که اس دور میں ایک لوک گیت سا بن گیا تها

کالے کنبھ نی کاوا ں دے
بس کر جرمنی پتر مک گئے نی ماں دے ـ

اس ماہیے کو تهوڑا سا موڈفائی کر لیں تو ایسا بهی کہا جاسکتا ہے

کالے کھنب نی کاوا دے
بس کر مقرف پتر مک گئے نی ماواں دے

ایک اور ماہیا
چهوٹے دن نی سردیاں دے
ملک دے جثے تے ، زخم لگے نے دهشت گردیاں دے
یا
مچھی ٹر گئی ڈونگیاں پانیاں نوں
مشرف تو بهل گیاں ایں سنتالی دی یاں قربانیاں نوں ـ

یا
ٹیم چنگیاں دی هار گئی
فوج نوں بهل گئی اے جیڑی اکهتر وچ مار پئی

اخری تین ماهیے میرے آپنے هیں ـ

2 تبصرے:

Azhar Ul Haq کہا...

اس پروگرام کا نام تھا جمہور نی ٓواز ۔ ۔ ۔

شعیب صفدر کہا...

ماھیے اچے ہیں!!

Popular Posts