جمعہ، 28 اکتوبر، 2005

ايكـ پرانى پوسٹ ـ

ظالم ماپے(والدين)ـ


كتنے ظالم ەيں پاكستانى والدين جو بچوں كو پرديس بهيج كر ان كى كمائى پر گلچهڑے اڑاتے ەيں!!كتنے بے حس هيں كه كمائى بهيجنے والوں كے مستقبل كا احساس ەى نەيں!يا پهر اتنے چالاك ەيں كه ان كو پاكستان انے دينا ەى نهيں چاەتے !كه كەيں رقم كى ترسيل بند نه ەو جائے دنيا كے سارے ەى قابل ذكر ملكوں ميرا جانا ەوا ەےاور ەزاروں ەى پاكستانيوں سے دكهـ سكهـ كەے سنے ەيں پەلے پەل سارے ەى والدين سے فرمانبردارى اور آپنے گهر سے وفادارى كى باتيں كرتے ەيں مگر جب دوسرے جلا وطن لوگوں كى باتيں سنتے ەيں كه سالەاسال كى كمائىاور گهر كو رقم كى ترسيل كے باوجود نتيجه صفر !تو پهر95% جوان اپنى رقم كے ضيائع اور اپنے گهر والوں كى خواەشات كے بڑهنے كا بتاتے ەيں! باەر رهنے والے كيسى ذندگى گزاررەے ەيں آپنے گهر كى حالت بەتر بنانے كے ليے آپنى حالت كتنى خراب كر لى ەے اس پر كبهى كسى نے نەيں لكها!ايك ايك كمرے ميں سات سات ادمى اور لاكهوں كاكروچ عام بات ەے كپڑے خريدنے جايئں كے سب سستے والے خريديں گے كه گهر پيسے بهيجنے ەيں كهانے والى چيزيں خريدنے جائيں گے سب سے سستى والى كه گهر پيسے بهيجنے هيں تازه سبزى صرف آلو كهاتے ەيں باقى ەر چيزجمّى ەوى يا پهر ٹين كے ڈبوں والىكيونكه گهر پيسے بهيجنے ەيں جب بهى كوئى قيمتى چيز خريديں گے وه پاكستان بهائى يا ابا جي كو بهيجنے كے لئے ەو گى! يه پاكستان والے باەر والوں كے لئے كيا كر رەے ەيں حقيقت ميں كچهـ بهى نەيں مگر كچهـ كرنے كى كوشش كا ڈرامه!اپنى كفائيت شعارى كا ڈرامه اتنا كه جب بهى فون كريں گے صرف اتنا كەنے كے لئے كه تم پاكستان فون كرو ! اب كوئى پوچهے كه فون آپ كريں يا جلا وطن پيسے تو جلا وطن كے ەى خرچ ەوں گے ناں؟؟مگر چالاكى ديكهيں كه اپنى كفائيت شعارى كا ڈرامه كيا جارەا ەےمگر پرديسى ەيں كه ان كي انكهوں پر والدين كى فرمانبردارى كى پٹى بندهى ەے
پاكستانيوں كى پچهلى ايك نسل ايسى ەوى ەے جن كى پەلى عمر آپنے والدين كے سەارے اور جب يه والدين بنے آپنى اولاد كے سەارےذنذگى گزار رەے ەيں اس نسل نے صرف ايك ەى كام كيا ەے پاخانه كرنا باپ كى كمائى بهى كها كر پاخانه اور جلا وطن اولاد كى كمائى كها كر پاخانه! اگر جلاوطن بيٹا فون پر كەے كه اباجى دوكان كر ليں تو كهيں گے كه دوكان كا كوئى فائده نەيں ادهار بەت ەو جاتا ەے اگر زمين دارى كا كهيں تو جواب ملتا ەے كه زمين دارى ميں اب رها ەى كچه نەيں! آگر كوئى فيكٹرىلگانے كا كهيں تو جواب ملے گا مجه سے تو يه كام ەوتا نەيں تم خود ەى آ كر كچهـ كر لو الله كى شان !20سال جلاوطن ره كر باپ كى بيٹيوں كى شادياں كر دى اب جب اپنى بيٹياں جوان ەيں ان كى شادياں كون كرے گا؟؟سيدها سا فلسفه ەے ەمارے والدين والى نسل كے پاكستانيوں كا كه ەم تين نسلوں كى پرورش كريں !آپنے والدين كى آپنى اور آپنى اولاد كى؛اگر پوچهيں كه اباجى آپ نے سارى ذندگى كيا كيا ەے ؟ تو جواب ملتا ەے كه تمەيں پيداكيا ەے يه كيا كم ەے!الله رحم كرے ابا جي جلاوطن بيٹوں پر رحم كريں پرديسيوں كو گهر واپس آنے ديں اولاد كے ليے كوئى كاروبار كريں پاكستان ميں كوئى كمائى كا ذريعه بنائيں كه پرديسيوں كو واپس اتے ەوے خوف نه آئےخدا كا واسطه ەے پرديسيوں پر ترس كهائيں اگر باەر والے اپ كى پريشانى كا خيال كرتے ەوے اپنى اصلى حالت نەيں بتاتے آپ ەى عقل سے كام ليں آگرالله نے اپ كو عقل نەيں دى تو اس سے موت ەى مانگ ليں كه اولاد كو ايك قسم كے عذاب سے نجات مل جائے

2 تبصرے:

SHAPER کہا...

خاور آپ نے جو لکھا ہے وہ ایک کڑوا سچ ہے

iabhopal کہا...

آزادی سے ہم نے فائدہ تو کوئی نہیں اٹھایا البتہ غلط طور طریقے سیکھ لئے ہيں جس کا نتیجہ یہی ہے جو آپ نے لکھا ہے مگر تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔ ساتویں آٹھویں جماعت میں ایک لڑکا ہمارے ساتھ پڑھتا تھا ۔ ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ والدین نے اس کی خوشی کے لئے بی اے کے بعد اسے مغربی جرمنی بھیج دیا ۔ 1667 میں مجھے حکومت نے جرمنی بھیجا تو اس کا ایک دوست جو میرا پڑوسی تھا مجھے کہنے لگا کہ جب سے گیا ہے اس نے اپنے گھر سے کوئی رابطہ نہیں رکھا ہوا اس کی ماں روتی رہتی ہے ۔ اسے مل کر کہنا کہ گھر صرف خیریت کا خط لکھ دے ۔ میں نے جرمنی پہنچ کر اسے تلاش کیا مگر اس کا کوئی پتہ نہ چلا ۔ آخر 14 اگست کو وہ مجھے سفارت خانہ میں مل گیا ۔ میں نے اسے پیغام دیا تو کہنے لگا " 60 پیسے لگتے ہے خط پر" میں نے اپنی جیب سے 5 مارک نکال کے اسے دیکر کہا " یہ لو ہر ماہ ایک خط 8 ماہ تک لکھتے رہو" ۔ واپس آنے پر پتہ چلا کہ اس نے کوئی خط نہیں لکھا تھا ۔

Popular Posts