بدھ، 30 مئی، 2012

راگ مالنکوس

وهاں ملک حبیب الرحمن سے بات کر رها تھا
خاور
که جی جو حال هے ان دنوں پاکستان کا
کچھ ایسا نہیں لگ رها که
پاکستان کو باقی کی دنیا سے بائیکاٹ کا خدشه ہے
یا که کیا هے که اکر ملک کا نام بدل بھی جائے لیکن نام اچھا هو جائے اور
عام لوگوں کو بجلی پانی اور انصاف جیسی عیاشیاں حاصل هو جائیں ؟
حالانکه خاور اور ملک صاحب منه جوڑ کر یه باتیں کر رهے تھے که کسی اور کو سنانا ان کی مرصی نہیں تھی
لیکن جی ڈار صاحب بھدل کر ملک صاحب کے پيجھے آ بیٹھے اور لگے ٹرانے
تم یه غلط بات کر رهے هو
خوار نے حلیمی سے کہا که تم چپ رہو تمہاری سمجھ سے اوپر کی بات هے
لیکن ڈار
راشد ، شاہد اور
خاور کے درمیان والی کرسی پر آ بیٹھا اور
شورع هو گیا
خاور اگر تمہاری ماں کا نام بدل دیا جائے تو تمہیں کیسا لکے؟
سب لوگ خاور کا منه دیکھنے لگے که کیا جواب دیتا هے
که سامنے بیٹھے
یملے نے ڈار کو مخاطب کر کے اسی کو لہجے میں پوچھا
که
اوئے ڈار کیا نام چیج کیا هے اوئے خاور نے
تمہاری ماں کا؟؟
نئیں یه خاور کہتا هے که پاکستان کو ختم هو جانا چاهیے
پاکستان کو تباه کردیا جانا چاهیے ، ڈار بتانے لگا
تو شاهد اور خاور نے کہا که خاور نے تو ایسا کچھ نهں کہا
لیکن ڈار تھاکه
اسی بات کی کوشش میں که ایک
اہل علم سے بحث کرکے زرا اپنے نمبر بنا لے که
ڈار کی بڑی بات هے خاور کو لاجواب کردیا
بات کو گرم هوتے دیکھ کر راشد نے سیانف دیکھانی شروع کی که
چھڈو جی چھڈو جی
مٹی پاؤ
لیکن خاور نے کہا
اچھا میں بات کو بدلتا هوں
اور ڈار سے پوچھنے لگا
تم نے وه گانا سنا هے
الجھی هے لٹ سلجھا جا رے بالم
میں ناں لگاؤں کی هاتھ رے
ڈار نے کہا
هاں
تو خاور نے پوچھا
که اگر یه گانا
بجائے راگ تیلنران کے
راگ مالنکوس پر گایا جاتا تو کیسا لگتا؟؟
ڈار صاحب کی بولتی بند که یه کیا پوچھا گيا هے
یا که یه هے کیا
اور باقی کے سبھی لوگوں کا هاسا نکل گیا
لیکن مجھے امید هے که
سمجھ کسی کو نہیں لگی که بات کیا کر گیا ، خاور کنگ!!!ا

پیر، 21 مئی، 2012

پیٹ کے اسیر لوگ


میں سیاستدانوں کے خلاف کم هی لکھتا هوں
که ان بیچاروں کی اوقات هی کیا؟؟

ناں عقل فہم سے معامله ناں عشق مستی سے تعلق
یه اسیر اپنے شکم ، ناں یقیں میں هیں ناں گماں میں
پیٹ سے اگے کی سوچنے کی سوچ هی نهیں هے
یه سب بڈاوے هیں
جو کھیتوں میں لگے هوتے هیں
پرندوں کو ڈرانے کے لیے
سر پر هانڈی الٹی کی هوتی هے که پکھو کو بڑے سر والا بنده نظر آئے
لیکن اندر سے خالی
اور هانڈی بھی وه که جو کام کی نهیں رهی هوتی
یه بے چارے وه لوگ هيں جن کے متعلق قران میں لکھا ہے که
شیطان تم کو مفلسی کے خوف کا وسوسه دے گا
اور یه لوگ اس وسوسے کا شکار لوگ هیں
که اگر یه کام نان کیا تو مفلسی آ جائے گی
اکر یه بد کام ناں کیا تو مفلسی آ جائے گی
اور جو اس سلسلے کا شکار هوا وه پھر نان نکل سکا که
ملاوٹ ، زخیره اندوزی ، جھوٹ اور پته نئیں کیا کیا بلاؤن کا شکار هو جاتا هے
اس ایک وسوسے سے

اور
 جن کو گارنٹی ملی هے
ولله هو خیر الرزقین؟؟
اصلی بات یه هے که ان سیاستدانوں کون استعمال کون کر رها هے ؟
ان کو سیاستدان بنا کون رها هے؟؟
یه سب لوک کس سے ڈرتے هیں؟
جی ایچ کیو!!!ـ
لیکن یه جی گيلانی صاحب کی بات نےتو
وه بات کی هے که جس کو پنجابی میں کچھ انڈرشیو کے ساتھ دهشت گردی کرتے هوئے جھلس دینے والی بات کردی جی
گیلانی صاحب نے
ان لوگوں کی تاریخ دیکھو
سن ایک هزار دو تین سے پہلے
اسلام کے ان ٹھیکیداروں کا ذکر بھی نهیں ملتا
اس کے بعد ان کے اباءواجداد کا اگر ذکر هے تو
غیر ملکی حمله آوروں کے لیے جاسوسی کرنے کا
اور اس کے بعد بھیک کھانے کی تاریخ هے ان لوگوں کی
قبروں کے نام پر مورتوں کے نام پر
یه فاقوں کے مارے لوگ پته نہیں کہاں کہاں سے اٹھ کر آئے که
هند میں پیٹ بھر کر کھانا ملتا هے
اور اج جب ان کی نسلیں ، یهاں اس دھرتی ميں پیٹ بھر کر کھا رهی هیں تو
اس دھرتی کے سپوتوں کو یه دھرتی چھوڑ کر جانے کی اجازت دے رہے هیں
ان لوگون کا رنگ روپ دیکھو
کیا یه عرب کے بدو نظر اتےهیں ؟؟
اگر عربی نسل کے سید هیں تو ان کی شکل ميں عربی بدؤں والا رنگ تو هونا چاهیے ناں جی
جب  که یه لوگ اپنی نسل کو بچانے کے لیے شجرے بنا بنا کر شادیاں کرتے هیں
تو ان کا رنگ  گورے جیسا کیوں هے؟؟؟
اصلی بد نسل لوگ
شرک کرنےوالے لوگ
مورتوں کی پرستش کروانے لوگ
غریبی کے خوف کا شکار لوگ
گیلانی صاحب جاؤ ، گیلان کو واپس جاؤ
هم کو همارے حال پر چھوڑ دو

اتوار، 20 مئی، 2012

پھر کیا هو گا

ابھی تیس چالیس سال پہلے تک یه مناظر دیکھے جاسکتے تھے
پنجاب میں
که شائد اب بھی کچھ علاقوں میں هوں
کنویں پر یا گاؤں کے باہرکھڑے پانی  کے کنارے عورتوں کے کپڑے دھونے کے مناظر!!ا
جاپانی زبان میں بھی کچھ کہانیاں ایسے شرع هوتی هیں
بابا کھیتوں میں کام پر جاتا تھا اور بے بے دریا پر کپڑے دھونے جای تھی
شمالی کوریا !!ا
ایک ملک هے جو ایٹمی طاقت هے که نہیں هے
که بس بننے هی والا ہے
لیکن میزائل نامی شرلیاں چھوڑتا رہتا هے
پڑوسیوں کو کان کرانے کے لیے!
یه ملک اپنے شوں فوشوں اور اکڑ شکڑ کی وجه سے
دنیا کی نفرت کا شکار هو چکا هے
اس کا بائیکاٹ هو چکا ہے
لیکن یهاں بھی ان کے عقل کے اندھوں نے اس قوم کو بتایا تھا که
ان کی جغرافیائی پوزیشن بڑی مضبوط هے
بیک پر روس هے
محاوراً بھی اور جغرافیائی طور پر بھی
اور بیک پر هی اور بازو میں بھی چین هے
یا اس طرح کہ لیکن که پیٹھ سے لگے چين کی گود میں بیٹھا هوا هے
شمالی کوریا
اس ملک شمالی کوریا کا یه حال هے که اس کی خبر وهی خبر هوتی هے جو اس ملک کے حکمران  دینا چاهیں
بلکل روس کے آہنی پردے کے زمانے کی طرح کی حالت هے
اپنے ملک میں صحافیوں کو قتل  یا غائب کرنے  کا رواج قصے کہانیوں کی بات هے
اب تو یهاں صحافی هوا هی وه هے جو حکمرانوں کے ذهن سے سوچتا  هے حکمرانوں کی شان میں لکھتا هے گاتا هے
اس لیے ملک میں امن امان هے
کوئی بغاوت نهیں هے
لوگوں کو بتایا جاتا هے که
شمالی کوریا دنیا کا بہترین ملک هے
لیکن امریکه اور اس کے حواری هماری ترقی سے خائف هیں اور همیں زمانے میں اگے نهیں انے دیتے
که
کهیں هم تکنیکی طور پر ان کا قابو ناں پا لیں

شمالی کوریا کی سرحد جہاں چین کے ساتھ ملتی هے
یهاں ایک دریا هے جس کے دوسری طرف شمالی کوریا کی ابادی نظر اتی هے
شمالی کوریا میں سخت سردی پڑتی هے
دریا جم جاتے هیں
پانی کے تیز بہاؤ کے دونوں طرف برف کی سخت تہ جمی هوتی هے
اور
یهاں اپ یه نظاره اب بھی دیکھ سکتے هیں که
کپڑوں میں ملبوس عورتیں، سردی میں ٹھٹھرتی  هوئی ، برف کی تہ پر بیٹھ کر دریا پر کپڑے دھو رهی هوتی هیں
کیا مطلب هے اس کا؟؟
که دریا کے پاس اباد دیهات میں بھی دریا کے پانی کو استعمال کے لیے ترسیل کا نظام تک نهیں هے
اور
اس قوم کی خود کوترقی یافته سمجھنے کے مغالطے کی یه حالت هے که
ميں ایک دن صبح سویرے جنوبی کوریا کے شہر سیول میں کھڑا تھا
سیول کے قلب میں ، ایک سڑک کا نام هے انزا دون ، اس سڑک کے شروع ميں ایک سیون الیون نامی  سٹور هے ، جس کے تھڑے پر اپ کھڑے هوں تو سامنے پگوڈا پارک بھی نظر اتا هے
یه پگوڈا پارک بھی اپنی مثال اپ هے که
یهاں جتنے بابے ایک جگه اکٹھے دیکھ سکتے هیں اتنے دنیا ميں شائد هی کہیں اور هوں
اس سیون الیون سے فون بوتھ سے ميں اپنے ایک جاپانی دوست کو فون کر رها تھا
اور وقت تھا صبح کے پانچ بجے کا
که میں نے دیکھا که اوپر فضا ميں ، دور کاغذ اڑ رهے هیں
جو که غیر فطری سی بات لگی که هوا کے ساتھ بھی کاغذ هے اوپر اٹھنے کی ایک حد هو تی هے
ميں اس بات کا فون کی دوسری طرف موجود کوتاکے نامی دوست سے ذکر کیا تو اس نے کہا که یه کاغذ جیسے هی نیچے آئیں ان میں سے چند کو سنبھال لینا
میں نے دیکھا که کاغذوں کے زمیں پر گرنے سے پہلے هی سینکڑوں کی تعدا د ميں فوجی رنگروٹ کہیں سے نکل آئے
اور دیکھتے هی دیکھتے انہوں نے کاغذوں کو چننا کرنا شروع کردیا
میں نے بھی ان کی نظر بچا کر چند کاغذ اٹھا لیے
یاد رهے که
شمالی اور جنوبی کوریا ایک هی رنگ نسل کے اور ایک هی زبان بولنے والے ممالک هیں
جن کا طرز تحریر بھی ایک هی هے
کوتاکے جو که کورین زبان پڑھ لکھ سکتا تھا
اور کوریا کی سیاست کےمتعلق بھی جانکاری رکھتا تھا
اس نے بتیا که یه کاغذ شمالی کوریا کے پروپگینڈا هیں
ان میں لکھا هے که
جنوبی کوریا کو چھوڑ کر شمالی میں آ جاؤ
شمالی کوریا ميں ازادی اور مواقع هیں
اور وغیره وغیره
شمالی کوریا هی کی طرح
پاکستان بھی اپنی جغرافیائی پوزیش پر نازاں هے
ایٹمی طاقت بھی هے
اگر چه که پاکستان کی مساجد میں کچھ اس طرح کی دعائیں بھی مانگی جاتی هیں که
یاالله پاکستان کے ایٹم بم کی حفاظت فرما
پروپیگیڈا ہے که
اپنے میزائل بنائے جارهے هیں
ٹینک بنائے جارهے هیں
اور نیٹو کےکام میں روڑے اٹکانے کی کوششیں  هیں
اور حالت یه هے که
غیر ملکی امداد کے بغیر کجھ نهیں کرسکتے
اج جب که اگر کسی جرنیل کی بیوی کو پھجے کے پائے منگوانے هوں تو اسلام اباد سے
طیاره اڑتا هے اور لاهور سے پائۓ کا سالن لے کر اتا هے
یه سب عیاشیاں کسی کے دام درھم سے هیں ؟؟
عرش کےرب کو رب ماننے والے هم جیسوں کی بات دیگر
مگر
زمین کے خداؤں میں اس وقت سب سے بڑا خدا امریکه هے
اور پاکستان کے حکمران (اصلی والے ، سیاستدانوں کی بات نهیں کر رها)زمین کے چھوٹے خدا هیں
اپنی خدائی میں مگن یه جھوٹے خدا شمالی کوریا کی طرح مغالطے رکھتے هیں
مغالطے بیچتے هیں
مغالطے کھاتے هیں
لیکن جب زمین کے بڑے خدا نے
ان کے روز روز کے نخروں سے تنگ آ کر
که کبھی نیٹو کی سپلائی بند کرتے هیں
کبھی معافی کا مطالبه کرتے هیں
اگر ان کا بائیکاٹ کر دیا تو؟؟؟
تو کیا هو گا؟؟؟

----------------------------------------
اؤے!!!!ا
تم نے کیا سمجھ رکھا هے که همارا حال شمالی کوریا جیسا هو جائے گا؟؟
هیں؟؟؟
اوئے کمیارا تمہاری سوچ سے زیاده عقل مند هیں هملوگ
همارے پاس دوہری نیشنیلٹیاں هیں
همارے بچے امریکه میں هیں
همارے اکاؤنٹ امریکه میں هیں
جائیدادیں امریکه میں هیں
هم سب امریکه چلے جائیں کے
بائیکاٹ اور قرضے بھگتو گے تم لوگ
هاں تم چھوٹے لوگ
بلڈی سویلین!!ا

منگل، 15 مئی، 2012

اندر کا گند


انگریز کہتے هیں
که جو کچھ برتن میں هوتا هے
وهی باهر اتا هے
اور مزے کی بات هے که انگریز برتن میں سے اصلی چیز نکال کے بھی دیکھا دیتے هیں
ایک جرنسلٹ کی ذمه داری هوتی هے که وه معاشرے کی کجیوں کو دیکھائے، اجاکر کرئے ، ناں که ان کجیوں سے خامیوں سے تکرار شروع کردے
جیسا که پاکستانی صحای کر رهے هیں
یا اینکر پرسن!!ـ
اور پانی میں مدھانی
که ناں
مکھن ناں لسی
یه هوتی هے صحافت
که ایسا سوال کیا جائے که بندے کے اندر کا جو گند یا قند یا بلند هے نکال کر دیا جائے
باقی کا کام دیکھنے والوں پر سننے والوں پر چھوڑ دیا جائے که وه
برتن سے نکلی چیز کو کسی رنگ میں لیتے هیں  ـ
اس ویڈیوں میں صحافی سوال کرتی هے

اور پاکستان میں اس وقت کے وزیر اعظم اس کا جواب دیتے هیں
جی هاں یه هوتی هے صحافت!!!ـ
اب اگر قوم میں اتنی عقل ہے که اس بات میں باریکی  کو تلاش کر سکیں تو کر لیں
نہیں تو ؟
ڈنگر اتنے حساس نہیں هوتے هیں !!!ـ
جس کی ذمه داری ہے که ملک کے لوگوں کے لیے ملک کو رهنے کے قابل بنائے
اس کو علم ی نهیں هے که اس کی ذمه داری کیا هے
اور صحافی کے سوال پر بھی ان کو یاد نہیں !!ـ
ملک کے عوام کو بھی اس بات کا علم نهیں هے که
اگر ملک میں کاروباری حالات  معاشی حالات ناهموار هوں  تو جو لوگ ملک چھوڑ کر باهر کے ممالک کو جارهے هیں ،
یه لوگ کس کی غلطیوں کا خمیازه بھگت رهے هیں ؟؟
لیکن مزے کی بات که ملک چھوڑ کر بھاگنے والے بھی اس بات کے احساس سے عاری هیں که
ان سے ان کا ملک چھین لیا گیا هے
ان کی انے والی نسلوں کو پرائی زمینوں ميں بکھیر دیا کيا هے
ان لوگوں کو احساس هی نهیں هے که ان کے ساتھ کیا ظلم کردیا کیا هے
ان کی جڑ هی کاٹ دی گئی هے
بلکه پاکستان میں حالات نے ان کو تعلیم دی هے که تم جو ملک چھوڑ کر بھاگ  گئے هو
وهی اچھے رهے هو
جہنم سے نکل کر جنت میں چلے گئے هو
لیکن محب وطنی کی افیم دی گئے هے که خدا کی پناھ
اس بات کا مجرم کون ہے که پاکستانی پاکستان میں رہنے کو مشکل سمجھتے هیں ؟
گیس سے پیٹ پھول جاتا هے
لیکن اس کا مطلب پیٹ بھرانهیں هوتا
حب الوطنی کی گیس سے اپھرے  لوگ وطن میں زندگی نهیں گزار سکتے
جھوٹ در جھوٹ
منافقت در منافقت
یه انیکر پرسن کیا هوتا هے
اینکر اس کنڈے کو کہتے هیں جس سےبحری جہاز لنگر کیا جاتا هے
تو جی جو بنده اس کنڈے کی طرح کسی بات سے اڑ جائے شائید اس اینکر پرسن کہتے هیں
یعنی پنجابی میں کہیں کے
اے وی کنڈا ای اوئے

پیر، 7 مئی، 2012

غریبی سوچ

جناب پیران پیر فلاں ابن فلاں کی قبر
یا
مقبره
یا
فوٹو
اور گرو دیو مہاراج مہا گرو فلاں فلاں!!!ـ
کی مڑی
یا مندر
یا ٹمپل
یار کیا بیچتے تھے یه صاحبان؟؟
ادب سے نام لو اور یه کیا انداز هے که کیا بیچتے تھے؟؟
الله کی رحمت کے ڈسٹری بیوٹر تھے جی!!ـ
گرو دیو جی بھی؟؟
نهیں گرو دیو جی تو بھگوان  کے ڈسٹری بیوٹر تھے
لیکن
مقصد دونوں کا بھیک مانگنا تھا
نئیں یار
یه مسلمان والے کی  ہتک هے
یه صاحب تو لوٹ مار کرنے والے فاتحیں کے ٹاؤٹ هوا کرتے تھے اس لیے بھیک مانگا نهیں کرتے تھے
وصول کرلیا کرتے تھے
لیکن یار خاور کا رب تو سنتا ، جانتا ، اور اکمل ذات اور عقل کل هے
اور بے پروه هے
اس کو ڈسٹری بیوٹر کی کیا ضرورت هے؟؟
خاور کم عقل هے
که اس دور میں جب آل رسول کی دوکانداریوں بہتات هے
جب قادری اور قادیانی لوگوں نے شرک کا تصور هی بدل کر رکھ دیا هے
ابھی تک وهی پرانی اور گھسی پٹی باتیں کیے جارها هے
لیکن یار جی خاور تو وهی باتیں کرتا هے ناں جو تواریت انجیل اور قران ميں لکھی هیں اور سبھی بنیوں نے تعلیم دی هیں که
توحید کی!!ـ
تو پھر خاور کو یاد هونا چاهیے که ان نبیوں اور پیغمبروں کو ان کے زمانوں کے لوگوں نے کیا کها تھا
کیا گہا تھا؟؟
که اگر تم اتنے هی سیانے هوتے
تو تم امیر ناں هوتے !!!ـ
اگر رب نے تم کو هی چننا تھا تو دولت هم کو کیوں دی تم کو کیوں ناں دی؟؟
آہو یار
اے گل تے هے
لیکن میں توحید پر کمپریمائیز نهیں کرسکتا، میرا اندر نهیں مانتا ، میرا مینوفیکچرنگ فالٹ هے شائد
بس جی الله ایک هے اور کوئی اس کا شریک نهیں هے
بے شک کوئی کتی دا پتر مینوں غریب تے بے عقل  پیا اکھے
میں نئیں مننا الله تو سوا کسے هور نوں!!!ـ

اتوار، 6 مئی، 2012

بلاگ

یہاں جاپان میں سنہرا هفته یعنی گولڈن ویک چل رها هے
اور خاور کی طبیعت کا حال هے که
فلو کا هفته چل رها هے
ناک بند گلا خراب اور کسلمندی
که کوئی کام کرنے کو جی نهیں چاه رها
ایسو جین نامی دوا سے غرارے کرنے سے رات کو نیند تو آ جاتی هے لیکن
جسم هے که که کہنا هی نهیں مان رها
جی چاه رها تھا که سامون مچھلی کی اپنی جنم بھومی کے پانیوں کی واپسی پر لکھوں
یا که پاک فوج کے اج کل کو پروپیگینڈے پر که جی
عقل کل هے تو فوج
اور ملک کا حال هے که
رهے که ناں رهے
لیکن
پاک فوج کا بھی وهی حال هے که ابا جی والا
ساری زندگی کوئی غلطی نهیں کی
اور اور ناں هی کوئی کامیابی
لکھنے کے لیے کرب کی ضرورت هوتی هے
اور میری دعا که الله کرب سے بچائے
تو اس کا مطلب هوا که
خاور لکھنے سے گیا
نئں جی شائید خیالات کی ویرانی کے دن بھی هوتے هیں
موسموں کی طرح کھبی بہار که خزاں
گرما که سردی
یه سب ناں هو تو ایک هی طرح کے حالات کا تسلسل بھی بندے کو بنجر کردیتا هے

منگل، 24 اپریل، 2012

تلونڈی کے کمہار


مقدور هو تو خاک سے پوچھوں که اے لعین
وه کنج هائے گران مایه تو نے کیا کیے؟
چاچا صدیق پہلوان کی وفات کا بڑا دکھ هوا
که تلونڈی کے کمہاروں میں ایک عہد کی نشانی تھے
پہلوان صاحب!!ـ
مٹی بھری چھٹ اٹھانے کے مقابلے کمهاروں کے کلچر کا صدیوں سے حصه رهے هیں
مرتی هوئی اس روایت کے شائد اخری پہلوان تھے صدیق پہلوان ـ
مجھے اپنے بچپن کے وه دن یاد هیں جب میرے ننیال کے ویہڑے ميں یا چاچا خوشی ٹوپیاں والے کے چاک والی حویلی ميں
 یا پھر کسی کے ویہڑے میں
 که کمهاروں کے گھروں کی ایک بات تھی که سب کے ویہڑے بڑے بڑے هوتے تھے
تاکه ڈنگر باندهے جاسکیں
ان ویہڑوں ميں گرمیوں کی سپہر کے وقت چھٹ اٹھانے کے مقابلے هوا کرتے تھے
چاچے صدیق کے ساتھ چواڑی کے دوسری طرف هوتا تھا چاچا فیض پہلوان ـ
چاچا صدیق کو گھٹنے کے جوڑ کی تکلیف تھی که
جوڑ نکل جاتا تھا
لیکن چاچے فیض کو سهارا دینے کا ہنر اتا تھا اس لیے سالهاسال تک  تلونڈی کے کمہار ایمن اباد والے بیساکھی کے میلے سے جیت کر ایا کرتے تھے
تلونڈی کے کمہاروں ميں ایک کہانی سنائی جاتی ہے که
صدیق پہلوان سے پہلے  جو جوڑی چھٹ اٹھایا کرتی تھی وه تھے
پهلوان الله لوک اور پہلوان حاجی خوشی محمدـ
هر دو کا تعارف اج کی نسل کو اس طرح سے کروایا جاسکتا هے که
پہلوان الله لوک  ، خاور کھوکھر کے نام سے انٹر نیٹ پر بلاگ لکھنے اور اردو کے انسائکلو پیڈیا وکی پیڈیا کے منتظم خاور
 کے پردادا (محمد رمضان عرف بابا بلھا) کے بھائی تھے
اور پہلوان خوشی محمد جن کو دو نسل پہلے تک تلونڈی کے لوگ حاجی صاحب کے نام سے جانتے هیں
خاور کھوکھر کے پڑنانا تھے
پہلوان الله لوک کو ایک ایک هنر اتا تھا که جب کسی غیر پہلوان کے ساتھ چھٹ اٹھاتے تھے تو  چواڑی کو
هتھیلی کا جھٹکا دے کر دوسری طرف والے پہلوان کو گرا دیتے تھے
جو که ایک فاؤل تھا
لیکن طاقت ور هونے کی وجه سے پہلوان الله لوک یه کام کچھ اس صفائی سے کرتے تھے که لگتا تھا که مخالف پہلوان بوجھ ناں سنبھال سکنے کی وجه سے خود هی گر گیا هے
تلونڈی کےکمهاروں کی چند نسلیں پہلے تک تحصل ڈسکه ضلع سیالکوٹ کے ایک قصبے تلهاڑا کے کمهاروں کے ساتھ بهت سی رشته داریاں اور
رقابتیں بھی تھیں که
که رشتوں کے لین دین میں جو هو هی جایا کرتی هیں
تو
باهو نام کے ایک بابا جس کو خاور نے اپنے لڑکپن کے دنوں ميں دیکھا هوا هے
جب باهو نے چھٹ اٹھانی شروع کی تو ان دنوں پہلوان الله لوک پر عروج تھا
ایک دن پریکٹس کے دوران پہلوان الله لوگ نے جھٹکا دے کر باهو کو گرا دیا اور للکارا مارا که
تلہاڑے کی کمهاریوں کی "سو" بند کردیاں گے!!ـ
اس بات کو باهونے دل پر لگا لیا اور اس نے پہلوان الله لوگ والی اس تکنیک میں کمال حاصل کرلیا
اور
کچھ سال بعد که جب پہلوان الله لوک پر سے جوانی ڈھلنے لگی اور باهو پر جوانی تھی
ایک مقابلے میں باهو نے اسی طرح سے پلوان الله لوک کو گرا دیا اور
للکارا مارا
تلونڈی دی کمیاریاں دی سو بند هو گئی آ !!ـ
شائد اس کے منه سے نکلی بات پوری هو گئی که اس کے بعد تلونڈی کے کمہاروں ميں چھٹ اٹھانے والا پہلوان پیدا نهیں هوا
صدیق پہلوان اور فیض پہلوان اس وقت تک پیدا هو چکے تھے
یا پھر شائد یه هوا که پاکستان جهاں ساری هی پرانی روایات مرتی جارهی هیں
وهان چھٹ اٹھانے کی روایت هی مرتی چلی گئی که
تلہاڑے کے کمہاروں میں بھی باهو کے بعد کوئی چھٹ اٹھانے والا پیدا نهیں هوا
چاچے مٹھو اور اشرف رحمانی کو کچھ دن چھٹ اٹھانے کی پریکٹس کرتے دیکھا ہے لیکن پھر
ختم
بہت افسوس هو ا هے اور دل غمگین هے چاچے صدیق پهلوان کی موت کا پڑھ کر
الله تعالی صدیق پهلوان کو غریق رحمت فرمائیں
اور اپنے نزدیک ان کے درجات بلند فرمائیں
آمین!!ـ
مرحوم بهت هی منلسار اور نرم طبیت کے ایک بهادر ادمی تھےـ

جمعرات، 19 اپریل، 2012

نام میں کیا رکھا ہے


بہت للکارے سنے ہوں گے اپ نے بھی
یا پڑہے ہوں گے
پاکستان قائیم رہنے کے لیے بنا ہے
پاکستان ہمیشہ قائیم رہے گا
پاکستان ختم ہونے کے لیے نہیں بنا ہے
کیا بات ہے ان سب لکھنے والوں کو کیا پاکستان کا ختم ہونا نظر آ رہا ہوتا ہے
یا کسی پینگ میں ایسا کہتے چلے جاتے ہیں؟؟
جب پاکستان بنا تھا تو
پڑوسی بدل گئے ، رشتے دار بدل گئے راستے اور قانون بدل گئے
اور مقدر بھی بدل گئے
کہ انصاف ہی اٹھ گیا
غریب کا تو جی ھال ہی برا ہے
اب جب کہ پاکستان کے زیادہ تر محب وطن لوگ دساور کی نیشنیلٹیاں لے چکے ہیں
تو کیا ہے اگر ملک کا نام بدل بھی جائے تو؟؟
پڑوسی وہی رہیں سارس پنڈ گاوں بھی وہی ہو رشتے دار بھی وہی ہوں
بس جی پاکستان کا نام ناں رہے اس کا نام رکھ لیں
۰۰۰۰۰۰
لیکن جاپان کی طرح کی تعلیم ہو
برطانیہ کی طرح کا عدالتی نظام ہو
امریکہ کی طرح کی جمہوریت
غریب کا تحفظ ہو
کاروبار چلتے ہوں ، سڑکیں مکمل ہوں بجلی کی ترسیل جاری رہے
تو کیا ہے کہ اس کا نام ملک کا ٹوٹنا رکھ لیں
اس نا م امریکہ کا قبضہ رکھ لیں
یا کچھ بھی نام رکھ لیں بس متذکرہ بالا چیزیں مل جائیں لوگوں کو
تو بھلے پاکستان ناں بھی رہے تو
سانوں کی !!!

جمعرات، 12 اپریل، 2012

لائیک کا بٹن

فیس بک پر ابھی تک لائیک بٹن تو هے
لیکن ڈس لائیک یا
تنقید کا بٹن نهیں هے
اسی طرح قوموں کے مزاج میں بھی کچھ بٹن هوتے هیں
جیسا که پاک  ملک کے لوکاں میں ایک بٹن هے
صرف لائیک  کا
مردوں کی میتوں کی جنازوں کی بات پر ان کا صرف لائیک کا هی بٹن هے
ڈس لائک کا بٹن چھوڑیں
حقیقت کی نظر تک بند هو جاتی هے جی
میتوں مردوں کی زندگی کے متعلق
وه فیس بک هے
جس ميں صرف لائک کا بٹن هے
اور یه فیس پاک ہے
بے نظیر کا هی معامله دیکھ لیں
پنکی سے لے کر دختر مشرق بننے تک
کیا کیا مقامات وصل و فراق تھے
اور کن کن رنگوں کے تھے؟
میت بنتے هی
سب کا لائیک  بٹن اون هو گیا
بی بی شهید ، بی بی زنده ،بی بی وه بی بی یه
فیس پاک ایک دوسرے کا فیس دیکھتے هیں اور
کهتے هیں
بس جی مرن والی برائی ناں کرو
اور پھر جھوٹ بولتے هیں مردے کی اچھائیوں کا
اور دوسری نسل میں جاتے جاتے یه جھوٹ ، اس مردے کی کواٹی بن کر روحانیت کی منزلیں طے کرنا شروع کردیتا هے
اور پھر چل سو چل
پاکستان میں جب بھی لاش گرتی هے تو
اس کے لائیک کا بٹن دبانے میں اتنے هی لوگ شامل هوتو هیں جتنا اس کا میڈیا
مضبوط هوتا هے
عام بندے کا میڈیا کمزور هوتا هے
اس لیے اس کو رونے والے بھی کم هوتے هیں
اور مضبوط میڈیا والے
بلے بلے
دوسری بات
پاکستان رهنے کے لیے بنا هے
پاکستان همیشه قائم رهے گا
یا اس طرز کی بڑهکیں
باتیں  بهت مل جاتی هیں پڑھنے کو سننے کو
مجھے یه باتیں ایسی لگتی هیں جیسے اندھیرے میں ڈرا هوا بچا
جو للکارے مار رها هو که مجھے ڈر نهیں لگ رها
ملک!!ـ
اداروں کے کومبینیشن سے بننے ولا ایک نظام هوتا ہے
اداروں کی گراریوں سے بننے والی مشین هوتی هے
پاکستان کی گراریوں میں سے کون سی گراری
ہے جو اپنی ذمه داری کا دس فیصد بھی پورا کر رهی هے ؟؟
فوج کے منظم ترین ، اصول پسند، ڈسپلنڈ هونے کا پروپیگینڈا هے
اندر کا حال تو معلوم نهیں هے
لیکن
اس ادارے کے چیف یعنی چیف آف آرمی سٹاف کی مدت هوتی ڈھائی سال !!!ـ
پچھلے پچاس سالوں میں کتنے چیفوں  نے یه مدت ضابطوں کے ساتھ پور کرکے اپنے جونئیر کو اگے انے کا موقع دیا هے ؟؟؟
برف کے تودے سے مرنے والوں کے لیے
فیس پاک کے سبھی لوگوں کا لائیک بٹن ان هے
لیکن
ان لوگوں نے کهان کهان ضابطوں کے پورا کرنے میں کاهلی کی ہے اس کو چھپانے کا انتظام تو پاک فوج کے پاس هو گا لیکن
نظام قدرت کا اپنا صول ہے
جس ميں سزا معطل نهیں هوا کرتی
اور موت کا دن مقرر ہے تو
اب قوم کے ترس کی کیا ضرورت هے ؟؟

منگل، 10 اپریل، 2012

بے دین معاشره

دین دار(منظم) هونے کے لیے بڑی ذمه داریاں نبھانی هوتی هیں
ایک دین دار معاشرے ميں اس دین (سسٹم)کے ماننے والوں کو هر روز اپنے فرائض کی ادائیگی کرنی پڑتی هے
دین (سسٹم) فرائیض اور حقوق کے توازن سے بنتے هیں
دین دار معاشروں ميں جب لوگ اپنے اپنے فرائض خلوص نیت سے ادا کررهے هوتے هیں تو
دوسرے لوگوں کے حقوق کا انتظام بھی هو رها هوتا هے
یهان ٹی وی پر ایک پروگرام چل رها تھا
که پہاڑوں میں جهاں بهت زیاده برف باری هوتی هے
وهاں برف کے پھسلنے کے حادثات بھی هوتے هیں
پہاڑ کے اوپر سے جب برف پھسل کر چلتی هے تو اس کی مقدار مسلسل بڑھتی چلی جاتی هے
که اس ریلے کے سامنے اگر درخت بھی آ جائیں تو ٹوٹ کر گر جاتے هیں
بلکه چھوٹی موٹی چٹانوں کو بھی توڑ جاتے هیں
یه برف کے ریلے!!!ـ
اب جی دین دار(منظم) معاشروں ميں ، ان کے عالم اس چیز کا بھی علم حاصل کرتے هیں که ، ان برف کے تودوں کا بهاؤ کس طرف کا هو سکتا هے
برف کی کتنی مقدار کے بعد تودے کا بهاؤ شروع هو سکتا هے
اور
اس کا بچاؤ کا کیا طریقه کا بنایا جائے که پهاڑوں ميں کام کرنے والوں
یا رهائش رکھنے والوں کی حفاظت کا انتظام هو !!ـ
یه عالم لوگ اس چیز کا علم حاصل کرنے کے بعد اس چیز کے تدارک کا انتظام کرتے هیں
اس چیز کو علم اور عمل کا نام دیا جاتا هے
اردو میں هم ان لوگوں کو عالم باعمل کہـ سکتے هیں
ٹی وی پر دیکھا رهے تھے که
ان کے دین (نظام) ميں جن لوگوں کی ذمه داری هے که ان چیزوں پر نظر رکھیں اور اس کا انتظام کریں
وه لوگ ایسا کرتے هیں که جب برف کی مقدار ایک خاص حد تک جاتی هے تو
برف کے اوپری مقام پر ڈائنامائٹ کے دھماکے کرتے هیں
جس سے برف پھسل ترائی میں چلی جاتی هے
برف کے ترائیوں ميں جا کر رک جانے سے ایک تو ان کے پھسل کر جانی نقصان کرنے کا خدشه نهیں رهتا اور دوسرا یه برف درجه حرارت کے زیاده هونے کی وجه سے پگلنے کے عمل کے ساتھ دریاؤں میں بہـ کر انسانی کام انے والے پانی کا انتظام بنتی هے
لیکن
ایسا صرف دین دار معاشروں میں هی هوتا هے

Popular Posts