منگل، 17 جنوری، 2012

یونیکس کی سی ڈیز

یارو منڈا ضد کرتا هے که
یونیکس کی سی ڈیز جاپان سے هی بھیجو
اپ کو تو معلوم هی هے که جن کو باهر کی کمائی اتی ہے ان کی عادات
هوتی هیں که سب کام
اور چیزیں باهر سے هی آ جائیں
اور رویه بن جاتا هے
کم جوان دی موت اے
اور هر چیز کی ذمه داری کسی اور کی هوتی هے
اور هر بگڑے کام ميں غلطی بھی کسی اور کی هوتی هے
اور هر ذمه داری ٹالنے کے لیے هوتی هے
اس لیے

علمائے یونیکس سے مدد کی اپیل ہے که
مجھے بتائیں که ميں یه سیڈیز کهاں سے حاصل کروں؟؟
صرف سی ڈیز هی چاهیے
ڈاؤن لوڈ یا کسی قسم کا م نهیں بتانا هے جی
یونکیس کے علمائے کرام کو میں نے ذہین پایا هے
اس لیے
مجھے یقهن هے که
ان کو میری بات کی سمجھ لگ گئی هو گی
هے کوئی عالم جو بتائے که پاکستان ميں کهاں سے مل سکتی هے یا که کہاں سے ملیں گی

ہفتہ، 14 جنوری، 2012

بلاگ پوسٹ


پاکستان میں اج کل ایک لفٹین کرنل کی بیٹی کی ذهانت کا اور اس کی بیماری کا بڑا چرچا هے
الله اسے شفا دے
که بجے سب کے پیارے هوتے هیں
بلکل انہی بچوں کی طرح که جن کے باپ فوج کے لفٹین نهیں بن سکتے
گدھا ریہڑی چلا کر بچوں کو پالتے ـ
هو سکتا ہے که کسی بلڈی سولین کا بچه بھی ذهین هو جائے؟؟
هو بھی جائے گا تو کیا!!ـ
جاڑے کی چاندنی اور غریب کی جوانی تو بس کہیں آئی آئی که ناں آئی جیسی هی هوتی هے ناں جی؟
ایک دفعه ایمبیسی میں کام پڑ گیا
کسی نے فون کر کے ایمبیسی میں بتا دیا که خاور آرها هے
اور یه بڑا زہریلا بنده هے
اس کو اعتراض کا موقع نهیں دینا ـ
عملے نے بہت تعاون کیا که ایک فارم پر میوکی کے دستخط کی ضرورت تھی لیکن دستخط نهیں تھے ،
متعلقه افسر صاحب نے کها که گھر سے فیکس کروا لیں اسطرخ سے بھی کام چل جائے گا
مجھے بڑی سهولت محسوس هوئی ـ
کام هو جانے کے بعد افسر صاحب نے پوچھا که جی اب تو کسی بات پر اعتراض نهیں ناں جی؟؟
میں نے کها که اعتراض تو ہے لیکن اکر طبع نازک پر ناگوار نان ہو تو!!ـ
مجھے اعتراض ہے که جیسا رویه اپ نے اج میرے ساتھ اپنایا هے
ایسا هی رویه سارے هی پاکستانیوں کے ساتھ هر روز اپنایا جائے تو بهتر هے ـ
افسر نے ہنس کر بات ٹال دی لیکن
خاور کی سوچ کچھ اسی طرح کی هی هے
اس لئے میری نظر میں کسی فوج کے فرشتے لفٹین کی اولاد بھی اور بلڈی سیولین کہلوائے جانے والے عام سے پاکستانی کی اولاد میں کوئی فرق نہیں ہے
اگر اچھو ڈنگر کا ابا کمپیوٹر خرید کر اپنے بچوں کو دینے کے جوگا ہوتا تو اچھو بھی شائید ڈنگر نہیں ہوتاـ
اور پاکستان میں یہ حالات کس نے پیدا کیے ہیں کہ
کچھ لوگ تو سارے پلاٹ اور رقبے
نام کر لیں اور کچھ لوگ که
جن کو روٹی کے لالے پڑے هیں ، سائیکل تک خریدنے کے لیے سالوں پلاننگ کرنی پڑتی هے
کمپیوٹر تو دور کی بات هے
یهاں کلکولیٹر چلانے کی "جاچ" سیکھنی پڑتی هے ، کیونکه میسر نهیں
سر جی پاکستان کا نظام بناؤ که پاکستان کے سورسز پاکستانیوں پر خرچ هوں
ناں که هندو کا هوّا ، کشمیر کا مسئله ، دہشت کی جنگ اور وغیره وغیره پر خرچ
تو پھر دیکھیں که پاکستان (سویلین) ميں ٹیلنٹ کتنا هے
خود داری ایک چیز هوتی هے جو که بھیک پر پرورش پانے والوں کے لیے اجنبی چیز هوتی هے
اج کل ایک اور سوال میرے ذہن ميں پیدا هو رها هے
که
ویت نام کی جنگ میں جب امریکی فوجیوں کو جنسی ٹوائلٹ کی ضرورت هوئی تو انہوں نے ڈالر کی دیواریں چن کر بنکاک اور نواح میں اپنی ضرورت پوری کرلی
اب جب که افغانستان میں نیٹو کی فوجیں مہم پر هیں اور ان کے پاس ڈالر بھی هیں اونچی دیواریں چن کر خامیوں کو چھپانے کے لیے تو؟؟
اج کل ان کی اس بھوک کا کیا علاج کیا جارها هے، جس بھوک کو فرائیڈ نے کھانے کی بھوک کے بعد کی دوسری اهم بھوک بتایا تھا
جی هاں جنسی بھوک کی بات کر رها هوں
کون هیں جو ان کو سپلائی کر رهے هیں ؟؟
مال کہاں سے آ رها هے؟
یا که تحقیق نامی مشقت سے بیزار پاک قوم کو تب هی پته چلے گا جب کوئی جاپانی یا یورپی بتائے گا؟؟

ذہنی بد کاری


پنجابی میں کہتے هیں ذات دی کوڑھ کرلی تے چهتیراں نوں جپھےـ
کچھ کم عقل یه بات کسی غریب گهرانے کے کسی فرد کے کسی بات میں ترقی کرجانے پر طنزیه بهی کہتے هیں ـ
لیکن اصل میں بات اپنی طاقت کے مغالطے میں مبتلا کسی کے متعلق کہا جاتا ہے ـ
ایسے سماج جو افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا هوں ان کے اپنی ترقی کے ڈهنڈورے پیٹنے کو بهی کہتے هیں ـ
ہم پاکستانی یه نہیں سوچتے که تعمیر ترقی کی باتیں اس قوم کو زیب دیتی هیں جو تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے تک پہنچ چکی هو ـ
هم قومی حثیت سے افلاس اور جہالت کے جس نقطے پر کهڑے هیں
وہاں سے تعمیر ترقی کی باتیں دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوه کچھ نهیں ـ
پهر پنجابی کا ایک محاوره
بُنڈ وچ گهوں نہیں تے کاواں نوں سینتراں ـ
هم اپنی اس پسماندگی کے سلسلے میں قابل ملامت بهی هیں اور قابل رحم بهی
لیکن قابل معافی بلکل بهی نہیں ـ
کچھ عقلمند دوست جن کو میں واقعی عقلمند سمجهتا هوں
آپنی قوم کے قابل معافی هونے کا کہتے هیں اور اس کے لیے دلیل ان کی هوتی هے ـ
که
ہماری تعلیمی پسماندگی اور جہالت کے پس منظر ميں صرف غلامی کی هی ایک صدی نہیں سماجی ، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی انحطاط کی بهی کئی صدیاں شامل هیں
اور ہمں ماضی کے اس زبردست نقصان کی تلافی کے لیے جو مہلت ملی ہے وه بڑی مختصر ہے اور اس مختصر مہلت میں ہم صدیوں کے قرضے چکانے سے قاصر هیں ـ
لیکن
اس معقول عذر کے باوجود میں اپنی قوم کو قابل معافی نہیں سمجهتا

اور ہم اپنی تعلیمی پسماندگی میں اخلاقی طور پر دیوالیه هو چکے هیں ـ
اب ہمیں معافی نہیں تلافی کرنی هو گی ـ
جی ہاں تلافی !!ـ
تلافی کیسے کریں ؟؟
کہاں سے شروع کریں ؟
یارو میں بهی اسی ذہنی پسماندگی کے شکار معاشرے کا ایک فرد هوں میری سوچ کی پرواز بهی محدود ہے
کیا کریں کہاں جائیں ؟
ضیاء صاحب جب جاپان آئے تهے تو انہوں نے جاپانی قوم سے نقد خیرات کی بجائے تکنیک کی بهیک مانگي تهی
تو
معاشی ،اخلاقی ، تکنیکی ، تعلیمی اور معاشرتی طور پر امیر تر اس جاپانی قوم نے پوچهاتها که پاکستان کے پاس ہماری تکنیک وصول کر ''جوگے '' هاتھ کتنے هیں ؟؟
اور ضیاء صاحب کا منه بند هو گیاتها
پهر ضیاع صاحب نے اس کی کیا تلافی کی؟؟

اُجڑیاں مسیتاں دے گالڑ امام
انہیاں وچ کانے راجے
ضیاع صاحب بهی تو اس قوم کے تعلیمی انحطاط کے ذمه داروں میں سے ایک تهے
صدیوں سے ہمیں تعلیم سے دور رکها گیا ہے ـ
ایک کرب ہے که سونے نہیں دیتا
علاج کیا هو ؟
پهر بات وهیں آ جاتی ہے
که میری اوقات کیا ہے اور حثیت کیا ہے اور باتیں کیا کررها هوں
شائد اسی کو کہتے هیں ذات دی کوڑھ کرلی تے چهتیراں نوں جپھےـ
لیکن ایک نسخه ہے اس بیماری کے علاج کو شروع کرنے کا میں نہیں کہتا که یه علاج ہے
هاں علاج کی شروعات کا یقین ہے مجهے اس نسخے سے ـ
چهوٹا منه تے بڑي بات
یارو آؤ قرآن کے ترجمعے کو عام کریں
لوگوں کو دعوت دیں که قران کا ترجمعه پڑها کریں ـ
تفسیر کو بهی بعد میں پڑھ لیں گے
ابهی صرف ترجمعه اور اس پر غور ـ

انداز بیاں گر چه که میرا شوخ نہیں
شائد که تیرے دل میں اُتر جائے میری بات

منگل، 10 جنوری، 2012

ٹھنڈے بے غیرت

ایک ملک میں حکومت مخالف مظاہروں میں فوجی فائیرنگ سے پانچ ہزار لوگ مر گئے!!۰
ملک کے سربراہ نے گیر ملیی میڈیا کو بتایا
کہ
ہم نے ایسے لوگوں کے ساتھ دہشت گردوں والے سلوک کے لئے کمر باندہ لی ہے
میں اپنے ملک کی عوام کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور ان کی حفاثت کروں گا
تو سوال پیدا ہوا کہ
جو لوگ مارے کئے وہ
کیا عوام نہیں ھے
تو کیا تمہاری۰۰۰کے خصم تھے؟؟

ایک ملک کی فوج نے اپنے ہی ملک پر قبضہ کر لیا
ملک میں بغاوت ہو گئی
ادھا ملک علیحدہ ہو گیا
فوجی سربراہ نے کہا
ہم اپنی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں
ملکی دفاع میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی
ہم دشمن کو وہ کر دیں گے ہم دشمن کو یہ کردیں گے
تو سوال پیدا ہوا کہ
ادھا ملک گنوا کر جغرافیے کے ساتھ جو بلاد کار کردیا گیا ہے
وہ کیا تمہاری ۰۰۰ کی ۰۰۰ تھی جو استعمال کے لیے ۰۰۰۰کو دے دی

ایک ملک کے وزیر داخلہ کا بیان
شر پسندوں کو امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر کسی نے امن خراب کرنے کی اجازت مانگی ہی نہیں تو؟؟؟

بدھ، 4 جنوری، 2012

هیرو اور انسان


گاندھی بھی ایک انسان تھا
لوگوں اپنے هیروز کو بھی انسان هی بنا کر پیش کرو
که اس میں معاشرتی فوائد هیں
ورنه برائیوں پر پرده ڈالنے کے لیے یه بہانه بنایا جائے گا
که
هم کمزور لوگ نبیوں کی سنت کیسے پوری کرسکتے هیں ـ

میں مسلمانوں گے متعلق نهیں لکھوں گا
که
بیچارے ذہنی نابالغوں کے اسلام کی توهین هو جاتی هے


منگل، 3 جنوری، 2012

ٹیگ کا جواب


عمار ابن ضیاءکی طرف سے شروع کیا گیا ٹیگ کا سلسله
جی که عرفانیات سے هوتا هوا مجھ تک ایا هے
لیکن مجھے اس کو اگے منتقل کرنے کی سمجھ نهیں آ رهی ہے


2012ء میں کیا خاص یا نیا کرنا چاہتے ہیں؟
دبئی کے لیے جاپان سے پارٹس کی ایکسپورٹ کے کام کو شروع کرنا اور اس کو ترقی دینا ہے

۔ 2012ء میں کس واقعے کا انتظار ہے؟
جاپانی ین کی قدر کے کم هونے کا انتظار هے یاکه جاپانی چیزوں کی قیمت کم هو اور غیر ملکی خریاداروں کی آمد هو

۔ 2011ء کی کوئی ایک کام یابی؟
اپنے سکریپ یارڈ پر حکومتی اجازت نامے کے ساتھ گاڑیوں کی کٹائی کا کام شروع کرنے ميں کامیابی

۔ 2011ء کی کوئی ایک ناکامی؟
چھٹی چھوٹی سی پریشانیوں کے علاوه کچھ نهیں ،

۔ 2011ء کی کوئی ایک ایسی بات جو بہت یادگار یا دل چسپ ہو؟
کوئی خاص نهیں ، کام کی مصروفیات نے مشین سا بنا دیا هے ، یه سوال پڑھ کر یه احاساس اور بھی بڑھا هے
۔ سال کے آغاز پر کیسا محسوس کررہے ہیں؟
 پہلا هفته تو بڑا هی مصروف  اور کیش کی کمی کا احساس

۔ کوئی چیز یا کام جو 2012ء میں سیکھنا چاہتے ہوں؟
هزروں خواهشیں ایسی که هر خواهش په دم نکلے ، سرور کو سیٹ کرنے اور اس پر ویب هوسٹ کا علم حاصل کرنا چاهتا هوں تاکه
بلوگر کی طرح کا ایک بلاگ بنانے والی سائیٹ بنا دی جائے ـ

اتوار، 1 جنوری، 2012

یادیں

بہت سال پہلے کی بات ہے که میں گاؤں گیا تھا که
معلوم هو ا
میرے ایک اجھے دوست ملک ذکاء  الله  بٹ کا چھوٹا بھائی ضیاءلاهور ميں قتل هو گیا هے
قاتل یا قاتلوں نے بڑے هی بہیمانه  طریقے سے اینٹیں مار مار کر  قتل کیا تھا که میت دیکھ کر خوف اتا تھا
دو دن بعد هی ذکاءءالله نے بتایا که سیف الله جو که ذاکاء الله کا چھوٹا بھائی هے اور ان دنوں ملائشیا محنت مزدوری کے لیے گیا هوا تھا
کهیں ملائیشا سے براسته تھائی وطن واپسی کی کوشش میں بنکاک میں جیل میں هے
میری اگلی منزل جاپان تھی
بھائی ننھےپریشر ککر لانے کا کہا ھا اور جلیبیان بنانے کیے مسالے رنگ کاٹ ٹاٹری وغیره
اور ایک جاپانی ساچو نے پاکستان سے قالین لانے کی فرمائیش کی تھی
میں نے سوچاکه میں براسته بنکاک جاپان چلا جاتا هوں
اور سیف الله کو بھی ملتے چلا جاؤں گا
میں جب بنکاک گیا تو
جیل کا معلوم کرکے ملاقات کے لیے گیا
فارم پر کرکے سیف کے ملاقاتیوں والے جنگلے مين انے تک کے وقت ميں میں نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں
کیلے بسکٹ جوس اور دیگر چیزیں جو که جیل کی کنٹین سے ملیں وه بھی  سیف الله کے لیے داخل کرواءدیں اور ایک معقول سی رقم کو که کہ لین که ان دنوں پاکستانی پولیس مین کی ایک ماه کی تنخواه کا نصف تھی بھی سیف کے اکاؤنٹ ميں داخل کروا دی
جب سیف الله جنگلے میں پہنچا تو اسے نهیں معلوم تھا که میں نے کیا کیا اس کے نام پر اندر بھیجا هے
اس لیے جب میں نے استفسار کیا که کسی چیز کی ضرورت تو ہے؟
تو اس نے کہا که
ایک تو پسی هوئی مرچ لے دیں که اندر چاول تو مل جاتے هیں لیکن اکر مرچ هو گی تو پانی میں گھول کر ان پر ڈال کر کھالیا کروں گا
اور اگر هو سکے تو پانچ سو ڈالر کی رقم بھی دے دیں که اس طرح ميں ٹکٹ کٹوا کر جلدی پاکستان جا سکتا هوں
میرے پاس خاصی بڑی رقم موجود تھی
لیکن پتی نهیں کیوں میں بخیلی کا شکار هو گیا که میں نے اس کو کها که  مرچ وغیره تو بھیج دیتا هوں لیکن پانچ سو ڈالر مشکل هیں
میں تمهارے بڑے بھائی سے کهتا هوں
مجھے معلوم بھی تھا که ذکاء کے مالی حالات بہت خراب هیں
مجھے چاهیے تھا که ميں پانچ سو ڈالر قربان کر دیتا
لیکن شائد ذکاء کے مالی حالات کے خراب هونے کا علم هونے کی وجه سے مجھے اپنی رقم مرتی هوئی لگی تھی
که
میں بخیلی کر گیا
ایک که دو دن بعد جب ميں ناریتا پہنچا تو
ایمکریشن والوں نے پکڑ لیا که
اس دفعه انٹری نهیں ملے گی
کیوں؟؟
جواب تھا که انسپکٹر کی صوابدید پر!!ـ
یهاں سے فل فئر کی بنکاک تک کی ٹکٹ کوئی ستره سو ڈالر کی بنی
بنکاک ميں کیا کرنا تھا
ميں نے سوچا که اب فرانس چلتے هیں
بنکاک سے فرانس تک کی ٹکٹ
لی اور پیرس چلا گیا ، جن دوستوں سے ملنے کی امید تھی وه نان مل سکے اس لیے بارسلونا کی طرف منه کیا
ایک ماه یهاں ره کر لندن کے لیے ٹرین پر پیرس اور پھر لندن !!ـ
لندن مين چند هفتے رهنے کے بعد کوریا سے ایک جاپانی دوست کا پیغام ملا که یار کوریا هی اجاؤ
ذرا رونق رهے گی
لندن سے بائیٹرین پیرس اور پھر براسته کراچی بنکاک اور بنکاک سے سیول
سیول ميں جب اس جاپانی دوست سو جاپان سے ڈیپورٹ هونے کی بات کی تو اس نے کها
که فارغ بیٹھے هیں کیوں ناں ناریتا چلیں اور ذرا ایمگریشن والوں سے  منه ماری کرکے آتے هیں
چلو جی چلو چلتے هیں
لیکن جب ٹکٹوں والے سے پوچھا تو اس نے بتایا که اج کی تاریخ ميں ناریتا کے لیے کوئی سیٹ نهیں هیں
هاں اوساکا کے لیے سیٹ مل سکتی هے
جاپان دوست کہنے لگا
ایک هی بات هے
چلو اوساکا چلتے هیں
که اوسکا کے لوگ زنده دل هوتے هیں ، اس لیے منه ماری کا بھی مزه آئے گا
کچھ جگتیں سنیں گے کچھ کہیں گے اور واپس آ جائیں کے که جو سرخ رنگ کی مهر تمهارے پاسپورٹ پر جاپان ایمگریشن نے لگا دی هے اس کی روشنی میں اب تمهیں جاپان کی انٹری تو ملنی نهیں هے
اوسکا میں ایمگریش کاؤنٹر پر گیا تو انسپکٹر نے فارم دیکھا اور انٹری کی مہر لگانے جارها تھا که جاپانی دوست نے کها
وه مہر تو دیکھو !ـ
هم اس پر بات کرنے آئے هیں
اب جی نیا کٹا کھل گیا
اور ایک لمبی تفتیش
لیکن افسر لوگ هم کو ئی بات نهیں کرنے دے رهے
ایک گھنٹا بعد انٹری کی مهر لگا کر کہتے هیں که جاؤ!!ـ
یه تو مزه نهیں آیا !!ـ
جاپانی دوست نے کها
لیکن چلو
اب تم بھائی کے پاس جاؤ اور میں سیول واپس جاتا هوں
اس وقت تک وه سارا سامان قالین اور جلیبیوں کے مسالے اور پریشر ککر میں ساتھ هی لے کر چل رها تھا
ایک پانچ سو ڈالر سیف الله کو ناں دینے کے بعد اس سامان کو منزل تک پهنچانے پر میرا کوئی پانچ هزار ڈالر خرچ آیا تھا

لیکن سف الله کا گاؤں ميں رویه کیا هے؟؟
سب کو بتا رها هے که خاور بھائی جان ملاقات کے لیے آئے تھے اور بهت سا سامان اور ایک بڑی رقم بھی دے گئے تھے
لیکن خاور اس کی پوری مدد ناں کرسکنے پر شرمنده ہے

منگل، 27 دسمبر، 2011

خبر اور اخبار

بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق
http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/12/111225_orakzai_bombing_ra.shtml
پاک فوج نامی لوگوں نے جنگی جهازوں سے پاکستان کے ایک علاقے اورکزئی پر بم مارے هیں ـ
جس ميں کئی پاکستانیوں کی املاک کے تباه هونے کا بھی بتایا گیاهے اور خدشه هے که کوئی دس پاکستانی اس بم باری میں فوت کر دیے گئے هیں ـ
یاد رهے که پاکستان ميں پاکستانیوں کی حفاظت کا کوئی معقول انتظام نهیں ہے
مختلف ناموں سے جانے جانے والے ٹولے پاکستانیوں کو شمال سے لے کر جنوب تک مار رهے هیں
بلوچستان میں مسخ شده لاشیں ملتی هیں اور دوسرے علاقوں میں بم دمھاکےهوتے هیں
اس غارت گری سے تنگ آ کر بنگالی پاکستانیوں نے انیس سو اکہتر میں اپنا ملک علیحده کر لیا تھا

ایدهر گبھرو لاشاں ڈگیاں سینے پاٹے ماواں دے
اودهر ٹھیک نشانے بدلے ،لگدے تغمے تلّے رهے

دوش ناں دیوں هواواں نوں سر توں اڈیاں تمبوواں دا
کلّے ٹھیک نئیں ٹھوکے خورے ، ساتھوں رسے ٹلہے رهے

جمعہ، 23 دسمبر، 2011

لاشوں کی طاقت

ایک بات دیکھی هے
که جب کهیں کسی نے ایک بڑی اکثریت کو بیوقوف بنانا هوتا هے تو
قبروں کا ، میتوں کا سهارا لیتا هے
کوریا كی جنگ میں امریکه نے انچن میں فوجیں داخل کرکے کوریا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا
شمالی اور جنوبی کوریا
شمالی میں کم ال جون حکمران بنا جو که جنگ کا هیرو بھی تھا
چورانوے میں اس کا بیٹا کم ال سونگ حکمران بنا
اور اس نے ابے کی موت کا تین سال سوگ منایا
تین سال !!!ـ
سوگ میں هی گزار دیے
اور مردے کو شیشے کے شوکیس میں رکھ کر سب کو دیدار کروایا اور
اور ابے کی لاش کو هوا بنا بنا کر حکومت کرتا رھا
اب یه کم ال سونگ بھی مر گیا هے جی
اور اس کا بیٹا بھی وهی طریقه اختیار کرنے جارها هے
کامیابی یا ناکام کا انحصار اس ملک کی فوج پر هے
اور انے والے دنوں میں هی پته چل سکے گا
مذہب بناناے کا بھی یهی فارمولا هے که
کسی لاش کی باتیں کر کے
کسی مرنے والے کے اقوال پر اپنے خیالات کو لوگوں پر لاگو کر دینا
اس وقت موجودمذاہب مين سے ایک مذہب کا بانی جب مر گیا تو اس کے ساتھ ساری حیاتی اواره گردی کرنے والے مراثی کو خیال ایا که اب میں کیا کروں تو؟
اس نے بابے کے نام پر ایک نیا مذہب بنا کر دیا
لاش غائب کرکے رب پر الزام دیا ـ
اسی طرح بهت سے لوگ یهی کرتے هیں که
کسی لاش کا کهتے هیں اور
لوگوں کو بیوقوف بنانے لگتے هیں
اور لاش کے تازه احکامات کو خواب میں سن کر لوگوں تک پہنچاتے هیں
اور کام چلاتے هیں
میں نے اوپر جولکھا ہے وه
غیر اسلامی معاشروں کا لکھا ہے
اسلام ميں اسطرح هوتا هے یا نهیں اس کے متعلق ميں اپنے خیالات کا اظہار نهیں کروں گا!!ـ
کیوں؟؟؟
کیونکه



ں
ب ں ٹ
ک گ غ




ج س ش د غ








ہے!!ـ

جمعرات، 22 دسمبر، 2011

فرشتوں کے کام

یه مسلم لیگ بچے دے دے کر پھاوی سی هو گئی هے
اس لیے اس سے پچے دلوانے والے فرشتوں نے کچھ اور سوچا هے که
اب فرشتوں کے نئے بچے مسلم لیگ کا نام لے کر پیدا نهیں کیے جائیں گے
بلکه
انقلاب کا سابقه یا لاحقه لگا کر پیدا کیے جائیں کے اور اس سابقے اور لاحقے کے اگے پيچھے کے نام بھی بدلنے کی گنجائش رکھی جائیں گی
بڑا رواج تھا جی
لنگی کا ان دنوں جب پاکستان بنوانے کے لیے مسلم لیگ سرگرم کیا پاؤں گرم دل گرم اور پته نهیں کیا گیا کرم تھی که
ایک جگه کسی مخیر نے مسلم لیگیوں میں لنگیاں بانٹیں
سوتی لنگیاں تھیں که ایک هی دهلوائی میں سکڑ گئیں
اسی مخیر نے بڑے فخر سے پوچھا که کیسی هیں میری دی گئی لنگیاں
تو
منچلے نے جواب دیا که
کانگرس کی حمایتی لگتی هیں
که جب ان سے مسلم دھانپتے هیں تو " لیک " ننگی هو جاتی هے
اوراگر "لیک" ڈھانپیں تو" مسلم " ننگا هو جاتا هے
مجھے تو جی اب پاکستان کی سیاست دیکھ کر لگ رها هے که
روحانی خانوادوں کے کاروبار ميں اب سیاست کی دوکاندایان بھی داخل هوچکی هیں
اور انے والی تین چار دھائیوں میں سیاسی جماعتوں کی خانقاهیں بھی هوں گی جن کے سجاده نشین ملک کی حکومت کے لیے کوشش کیا کریں گے
بی بی شهید ، بابا شهید ، شهید جمهوریت ، پیر سیاست ، شهید انقلاب وغیره وغیره قسم کے نام هوں گے ـ
لیکن
اگر الله پرست لوگ آئے اور انهوں نے ساری سیاسی اور روحانی اور تعویذی اور وظیفی خانقاهوں پر بلڈوزر چلا دیے اور لوگوں کے دیکھتيے هیں دیکھتے قبروں والے بابے ان بلڈوزروں کو روک بھی ناں سکے
تو؟؟
چھڈو جی !!ـ
یه اوپر والا خاور کا خواب هے اور توحید کے داعی هزاروں سال سے یه خواب دیکھتے آئے هیں
اس خواب کے لیے قتل بھی هوتے هیں اور دربدر بھی
بے عزت بھی هوتے هیں اور بدنام بھی
لیکن اس خواب کو پورا بھی کرتے هیں اور نام چھوڑ جاتے هیں
لیکن
بڑا هی واهیات جانور هے
انسان بھی که
ایک اسی سبق کو جلد بھول جاتا هے اور
میرے رب ! الله سائیں کے ساتھ لوگوں کو ، چیزوں کو شریک کرنے لگتا هے
اور ملک کے حالات پاکستان جیسے هو جاتےهیں
خاور ان حالات کو بے دین معاشرے کے حالات کہتا ہے
اور بد انیش لوگ اس کو دین(سسٹم) کهتے هیں
آپ بھی اپنے اردگرد دیکھیں که کون کون انقلاب لانے کی باتیں کر رها هے
اور اس کا منشور کیا هے عزم کیا هے؟؟
بس انقلاب!!ـ
مولبی طاهر صاحب بھی قائد انقلاب کہلوائے تھے اور بھائی الطاف بھی انقلاب کی باتیں کرتي هیں اور
اسی لیے عمران خان کے انقلاب ميں کراچی ميں تعاون کو روش اپنائی هے
جی
ایم کیو ایم نے
کیوں که فرشتوں کا حکم ہے
اور فرشتے انقلاب لانا چاهتے هیں
اب اس بات کا مجھے بھی علم نهیں ہے که
فرشتوں کے نزدیک " انقلاب " کے معنی کیا هیں ـ
یاد رهے فرشتوں کے الفاظ معنی عوام سے مختلف هوتے هیں

Popular Posts