جمعہ، 16 دسمبر، 2011

ترقی کی کوشش

کاروبار کو کچھ وسعت دینے کا پروگرام ہے
جاپان سے گاڑیوں کے پرانے پرزه جات کو یو اے ای المعروف دبئی کو ایکسپورٹ کرنے کا پروگرام پکا هو چکا هے
اس مہینے کی آٹھائیس تاریخ کو مجھے سکریپ یارڈ کا اجازت نامه ملے ایک سال هو جائے گا
اگر چه که کٹائی کا کام تقریباً ایک مهینه بعد هی شروع هو سکا تھا

یهان جاپان سے پرانے انجن اور گاڑیوں کے دوسرے پرزه جات دبئی کے نام پر شارجه ایکسپورٹ کیے جاتے هیں
اب تک میں جو کام کرتا تخا وه کچھ اس طرح تھا که گاڑی کاٹ کر رکھ دیتے تھے
اور ایکسپورٹ کرنے والے لوگ آ کر اس کے پرزه جات خرید کر لے جاتے تھے
لیکن اس مين ایک قباحت یه نظر آئی که بهت سا مال ڈیڈ سٹاک نما بن جاتا تھا
اور کچھ مال خریدنے کے لیے انے والے ایکسپوٹر مجھ سے سیانے تھے
اور هینڈ کر جاتے تھے
مثلاً ایک خان صاحب هیں جو که صرف چھوٹی چیزوں کی ایکسپورٹ کرتے هیں
هارن ، بریک سلینڈر، ریڈی ایٹر ، جیک پانے ، سی ڈی ٹیپ پلئر وغیره
لیکن جب بھی آئیں کے کهیں گے که انجن خریدنے کے لیے آیا هوں
ون کے زیڈ کا انجن هے ؟
جی وهاں پڑے هیں دو عدد!!ـ
اور ٹو ایل کا انجن؟؟
وه پڑا هے ایک عدد !!ـ
یه تو ٹربو والا هے
مجھے نان ٹربو چاهیے
ایک ٹرک کھڑا هے هائی ایس کا اس ميں هے نکال دوں ؟؟
اس مکالمے کے بعد خان صاحب قیمت وه بتائیں گے که
بندے کی پتلاں هی گرم هو جائیں ـ
اس لیے سودا تو هونے سے رها
اس لیے خان صاحب فرمائیں گےـ
جی اب کے پاس آئے هیں تو اب خالی هاتھ کیا جانا ، کچھ هارن وغیره هی دے دو !!ـ
لیکن هارن زیاده هوتے نهیں هیں که سبھی گاہک مانگتے هیں اس لیے میں کهتا هوں که
یه دو یاتین هی پڑے هیں لے لیں !!ـ
کتنے پیسے دوں ؟؟ خان صاحب سوال کرتے هیں ـ
لے جاؤ خان صاحب ، اب ان کا لیں آپ سے ـ
اور یهی سننا چاهتے هیں خان صاحب ، اور هارن لے کر چلتے بنتے هیں
اور ان کا شکوه که چھوٹے کارباری هو جی خاور صاحب ، اپ کے پاس همارے مطلوبه انجن هوتے هی نهیں هیں
تو جی
اس لیے
اب میں خود ایکسپورٹ کروں گا
کنٹینر کھڑا کرکے لوڈنگ کرنے کی جگه امید هے که دو دن تک تیار هو جائے گی ـ
لوڈ کرنے کی فورک لفٹ بھی دو تین دن میں لے آئیں گے
اس وقت جو فورک لفٹ استعمال کر رها هوں ان ميں ایک تین ٹن کی هے اور اور ایک چار ٹن کی لیکن هر دو میں مسئله هے که کنٹینر کی اندرونی اونچائی سے اونچی هیں اس لیے کنٹینر ميں داخل نهیں هو سکتیں
کنٹینر کے لیے مخصوص فورک لفٹ کا انتظام کیا هے که یه لفٹ ایک مخصوص جیک کے ذریعے چیز کو تو اٹھاتی هے لیکن کنٹینر میں داخل هو سکتی هے ـ
لوڈنگ ، کاغـذی کاروایاں اور پانی میں سفر کے بعد یه کنٹنر دبی پہنچنے کے لیے کتنا وقت لیتا هے
اس سے قطع نظر میں جنوری کے تیسرے یا چوتھے هفتے دبئی کا سفر کروں گا
وهاں شارجه میں اپنے جاننے والوں کا یارڈ ہے جس ميں کنٹینر کھول کر فروخت کیا جائے گا!ـ
اب میں یه چاهتا هوں که دبئی میں کچھ سلام دعا والے بندے مل جائیں
که جس سے معلومات مل سکیں
کچھ کا ایڈریس میں لے کر جاؤں گا اور کچھ لوگوں سے مل کر معلومات لیں کے
اگر اب کے کوئی جانے والے دبئی مین سکریپ کا کام کرتے هیں تو ان کا خاور کو بتائیں ـ
یا اگر کوئی اردو کا بلاک لکھنے والا دبئی شارجه میں رهتا هے تو ان سےملاقات کر کے بڑی هی خوشی هو گی
جیسے هی هوٹل کا کنفرم هوتا هے
ميں بلاگ پر پوسٹ کردوں گا
لیکن اکر اپ آپنا فون نمبر دے دیں تو اسانی رهے گی
بس ڈر هے تو اس بات کا که دبئی ميں بڑے بڑے سیانے لوگ هیں
اور میں سدا کا ساده دل ، کهیں کوئی هینڈ ناں کر جائے
که ابھی تو مالی حالت بھی صحیع نهیں هےـ

اتوار، 11 دسمبر، 2011

مذهب کی افیم

مذہب ایک افیم کی طرح کی چیز هوتی هے
کسی سیانے کا قول هے اوپر والا میرا نهیں !!ـ
عمران حمید نے لکھا ہے كه
آپ کی اکثر تحاریر اس قسم کی کیوں ہوتی ہے کہ کیونکہ میں نے سنا پڑھا نہیں لہذا ایسا نہیں ہوتا یا پھر اگر میں نے ایسا جانور نہیں دیکھا اس سے ملتا جلتا جانور دیکھا ہے تو ایسا جانور ہو ہی نہیں سکتا؟

اگر میرا رویه وقعی ایسا هے تو یه بهت هی احمقانه رویه هے
مجھے اس پر غور كرنا هو گا اور كر بھی رها هوں
كه ایسے هی رویے كے تو میں خلاف هوں لیكن كهیں نادانستگی میں خود بھی اسی رویے کا شکار تو نهیں هو چکا؟؟
پاک مذہب کے نشے کے نشئی لوگ کسی بھی بندے کو اسی بحث میں کھینچ نے کی کوشش کرتے هیں که مذہب پر بات کرو جی
اور اگر بات کر لیں تو ؟
ان کے اسلام کی توهین هو جاتی هے
مہروں کے لڑکے بھینیس چرانے جاتے تھے تو ان کی باتيں بڑی دلچسپ هوتی تھیں که
هماری مج کے سینگ
اور همارے مج کا دوده
اور ایسے ایسے مغالطے که بندے کا هاسا هی نکل جائے
همارے بڑے بزرگ هندو هوا کرتے تھے
توحید کی سمجھ لگنے سے پہلے
شجرے والے مسلمانوں سے معذرت کے ساتھ که مجھے اپنے بڑوں کے هندو هونے سےکوئی شرمندگی نهیں هے
میرے نزدیک شرمندگی والی بات یه هے که
میں توحید کے فلسفےمیں شک کا شکار هو جاؤں
جب همارے بزرگ هندو سے مسمان هوئے تو برادری والوں نے کها
گنگا جل جیسے پوتر پانی تمہیں مسلمانی ميں کهاں ملیں گے
تو مولوی نے بزرگوں کو بتایا که
آب زم زم هے ناں جی
بجرنگ بل جیسا نعره جس سے دشمن کا دل دهل جائے اس کا کیا کرو کے جی؟
مولوی نے بتایا
یاعلی کا نعره ہے ناں جی
بجرنگ بلی کے وزن کا
دهارمک معاملات کو نمپٹانے اور شراپ وغیره سے پچانے کے لیے برہمن کہاں سے لاؤ گے؟؟
اسلام کے ٹھیکداروں نے بتایا که
سید صاحب آل رسول هیں ناں جی
هندو نے کها که هماری رکھشا کرنے والے لاکھوں دیوی دیوتا هے
تو مسلمانوں کو بتایا گیا که
همارے ولی هوتے هیں غوث اور ابدال هوتے هیں
قلندر هوتے هیں اور مونث قلندر بھی هوتی هے
لو جی اب اپنی اپنی مج کے سینگ بڑے کرو
یا مج کی کرامات کا تذکره
مجھے اسلام میں بتایا گيا
که سب مسلمان برابر هوتے هیں
اور پھر سید او آل رسول کے برابر ناں هوںے کا درس دیا گیا
مجھے بتایا گیا که
اسلام ایک مکمل ترین ضابطه حیات ہے
اور پھر وه درس دیے گئے که٠٠٠٠٠٠٠٠ـ
چلو جی اس طرح کرلیتے هیں
اسلام ایک بهترین معاشره چاهتا هے
تو؟
اب زم زم کے غیر معمولی پانی کے ثابت هوجانے سے معاشرے میں کیا تبدیلی آئے گی؟
سارے طغرے تعویذ اور وظیفے مل کیا کرلیتے هیں ؟
یا کیا کیا هے جی ان سب چیزوں کی بهتات نے پاکستان ميں ؟؟
مذهب کی افیم کھاؤ اور نعره لگاؤ
یه تہذیبی نرگسیت نهیں هے
منافقت هے
جی هان منافقت
اور وه بھی انتہائی اعلی سطح کی منافقت
توحید کا فلسفه
اور شرک کا معاشره
برابری کا درس اور نسلی تفاخر کا معاشره
معاشرتی تعمیر کا دعوه
اور معاشرتی تقابل تک ناں کر سکنے والی سوچ اور تعلیم
اور جب آئینه دیکھاؤ تو
سب یه رویه اختیار کرتے هیں که
یه شرک کرنے والے
یه نسل تفاخر والے
یه معاشرے میں انتشار پھلانے والے
سب دوسرے مسالک ے هی
میرا مسلک
تو جی
وه هے ، یه هے وغیره وغیره هے

ایپل کے بانی سٹیو جابز کا باپ بھی الجزائر کا مسلمان تھا
اس لیے کمپوٹر کی ساری ٹکنالوجی بھی مسلمانوں کے نام کر لو جی

جمعرات، 8 دسمبر، 2011

دین سلام

ایک تو جی میں اج کل "دین سلام " والوں سے بڑا تپا هوا هوں
هر بات میں دین سلام
اور کم علمی که انتها که دین کے لغوی معنی تک نهیں معلوم
اور ناں هی اسلام کے لغوی معنے معلوم هیں
تو جی
دین سلام دین سلام کرکرکے
ایتوں کے طغرے لگا لگا کے
آب زم زم کی جھوٹی تحقیات کے طغرے
اور اصلی بات که
سلام کے لغوی معنی ہیں طاعت و فرمانبرداری کے لیے جھکنا
یا
عیوب و نقائص سے پاک اور بری ہونا یاپھر کسی عیب یا آفت سے نجات پانا، اور سلام کے ایک معنی صلح کے بھی ہیں
اور یه ساری باتیں پاک دین (نظام پاکستان ) میں تو پائی نهیں جاتیں
اور ناں هی کسی اور ملک کے دین (نظام) میں پائی جاتی هیں
جو مسلم کهلواتا هے
هاں یه صفات
دین جاپان ، دین امریکه اور دین یورپ میں بدرجه اتم پائی جاتی هیں
اؤ ادیان (سسٹمز) پر بات کریں که کس کے دین (سسٹم ) میں کیا خامیاں هیں ؟؟
اور کیا خوبیاں هیں ؟؟
شائد که تیرے دل میں اتر جائے میری بات!!!ـ

اتوار، 4 دسمبر، 2011

لڑایاں اور مانگے

حمید پور کے چوھدیوں کا لڑکا گھبرایا هوا
دیڑے پر پہنچا
ابا جی مجھ سے بنده مر کيا هے
گولی لگنے سے !!!ـ
ابا جی بڑے سیانے تھے
اوئے فوراً بندوق لے کر !!ـ
یه لو جی مصطفے نے هاتھ میں پکڑی بندوق جلدی سے ابا جی کو دینے کی کوشش کی ـ
اوئے جھلیا !ـ اے نهیں ، اس سے تو بنده مار کر آئے هو اندر سے دوسری لے کر آؤ!ـ
هونهار پتر جلدی سے دوسری بندوق لے کر آتا ہے
ابا جی کیا کرتے هیں که
پاس هی کام کرتے هوئے چوہڑے کی طرف بندوق سیدھی کرتے هیں اور اس کو گولی ماردیتے هیں
چوہڑے کے ٹھنڈا هونے سے پہلے هی بیٹے کو کهتے هیں
اور پتر مصطفے جلدی سے تھانے پہنچ اور
پرچه کٹوا کر آ که دشمنوں کی گولی سے همارا چوھڑا مارا گیا هے اور هماری جوابی فائرنگ سے ان کا کوئی بنده بھی زخمی هو گیا ہے
ابا جی کی سوچ تھی که اس طرح دونوں طرف سے ایک ایک قتل کے پرچے سے کیس برابر هو جائے گا اور
بات صلح اور کچھ لینے دینے سے ٹل جائے گی
اور پھر هوا بھی ایسے هی !!!ـ
مانگی کی رسم پنجاب میں پرانوں سے پائی جاتی ہے
ایک گھر کی دیوار بنانی هے
گھر والے لوگوں کو مانگی کا کهیں کے
سب گاؤں والے یا کچھ آ جائیں گے
سب مل کر ایک دن کا کام کریں گے دوپهر کو میٹھے چاول کھائیں گے
کچھ بھاگ جائیں کے کچھ کام کو ختم کرنے تک رهیں گے
ان لوگوں کو مانگے کہا جاتا تھا پنجابی میں ـ
لیکن اب لڑائیوں میں فائرنگ کرنے کے لیے جو لوگ بلائے جاتے هیں
ان کو بھی مانگے کهتے هیں
همارے گاؤں کا بالا گجر ویگن چلاتے چلاتے
بدمعاش هو گیا
پھر مانگا جانے لگا
ایک دن چھچھر والی ميں ایک جگه کے قبضے کے لیے گئے
بالے نے للکارا مارا
اوئے بالا گجر آ گیا جے
بھاگ جاؤ اوئے!!!ـ
اندر کوئی اس سے بھی بڑا مانگا بیٹھا تھا
اس نے ایک هی گولی چلائی جو بالے کو سر میں لگی
بالا مر گیا
دوسرے مانگے بھاگ گئے
بالے کی بیٹی اور بیوی لاوارث هو گئیں
اقتصادیات کے اصول طلب اور رسد کے مطابق
جس مال کی طلب تھی پاک معاشرے میں وه پھر پچیس پچیس روپے میں رسد دینے لگیں ـ
اب جب جی پاک فوج امریکه کے مانگے بن چکے هیں
اور اس کام میں سالهاسال سے هیں
تو جی اگلی پارٹی کی گولیوں سے بھی مریں گے
اور حمید پور کے چوھدریوں کی طرح لاشوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے
چوھدریوں کی گولیوں سے بھی مریں گے ناں جی؟؟
اس لیے ميں ابھی پاک فوج کے جوانوں کی موت کے افسوس تک نهیں پہنچ سکا که
که
ابھی پچھلےگیاره سال سے مارے جانے والے عام پاکستانیوں کی میتوں کی تعداد هی اتنی زیاده هے که
ان کا افسوس ختم هو لے
پھر
میں مانگے کے سپاهیوں کا افسوس بھی کرلوں گا!!ـ
غائب کر دیے گئے لوگ !ـ
مسخ لاشیں
بم دھماکوں میں مرنے والے
بھی اتنے هی پاکستانی تھے جتنا که کوئی بھی فوجی هو سکتا هے
تنخواهیں لے کر جنگ کی تربیت لے کر اسلحے کے ساتھ مرنے والے فوجیوں سے زیاده مجھے
زیاده افسوس ہے ان پاکستانیوں کا
جو غائیب کر دیے گئے !!ـ
جو مسخ لاشیں بنا دیے گئے!!ـ
بقول ظہیر کیانی کے خاور تھرڈ پرسن
جیسے عام پاکستانیوں کو کس نے غائب کرکے مسخ شده لاشوں میں تبدیل کیا؟؟؟
کوئی نهیں بتائے گا
وقت کا صدر پاکستان بھی اپنی بیوی کے قاتلوں کی طرف انگلی اٹھا کر دیکھے تو!!!ـ

جمعرات، 1 دسمبر، 2011

ابابیل کا گھونسلا

پاکستان گیا تھا
میں !ـ
بائیس نومبر سے انتیس تک صرف ایک هفتے کے لیے
که مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ بنوانا تھا
رقم کے لگنے سے دفتری کاموں کی سپیڈ کا وه حال دیکھا که جاپان اور دوسرے ترقی یافته ممالک بھی ایسی سپیڈ دیکھانے سے قاصر نظر اتے هیں
پاسپورٹ آفس میں ارجنٹ پاسپورٹ باره دن ميں ملنے کا لکھا تھا
میں نے منگل کو جمع کروایا
اور ایجنٹ نے جمعو کو دینے کا وعده کیا
میں نے ایجنٹ
وعده پورا کرنے پر انعام کا لالج دیا
تو؟
جعمرات کو دن کے ایک بجے پاسپورٹ لے کر ایجنٹ
گاؤں پهنچ چکا تھا
اس لیے اس دفعه کا خاور کا پاکستان کا دوره
جزوی طور پر کامیاب رها
ایک دوست هیں
حاجی صاحب
ان کو پتھروں کا شوق هے ، جاپان سے جاتے هوئے ان کے لیے کچھ ناں کچھ لے جاتا هوں
اس دفعه ٹائیگر آئی نام کے نگ تھے
ننھا بھائی کے گودام پر حاجی صاحب نے ایک بات بتائی
که جی پاکستان میں بھی اکر بنده بهت سی کوشش کرے تو امول قسم کے پتھر اکٹھے کیے جاسکتے هیں
اس بهت ساری محنت کی تفصیل انہوں نے یه بتائی که
ابابیل کا گھونسلا تلاش کرتا پڑتا ہے
بقول ان کے ابابیل اپنا گھونسلا پلوں کے نیچے یا پہاڑوں ميں ایسی چٹانوں کی چھاؤں میں بناتی هے که جهاں انسان پہنچ ناں سکے
جیسا که سینکڑوں فٹ اونچی چٹان که جس پر انسان چڑھ هی ناں سکے
اور ابابیل اپنا گھونسلا اپنے منه کی تھوک سے بناتی هے
اب جی جب اس گھونسلے میں ابابیل کے بچے چھوٹے چھوٹے هوں تو ان کو زرد رنگ لگا دیا جائے تو
ابابیل سمجھتی هے که
بجے بیمار هو گئے هیں
اور ابابیل پتھروں سے اپنے بچے کا علاج کرتی هے که
مختلف پتھر اس کے پاس لا کر رکھتی
تاکه ان پتھروں کے اثر سے بیمار بجے شفا پاجائیں
اب جب جی یه بهت سے پتھر اکٹھے کر لے
تو اس کے گھونسلے سے یه اٹھا لیے جائیں
وغیره وغیره
اور پھر وغیره
میں نے حاجی صاحب کی بات سنی لیکن ان کو کوئی جواب نهیں دیا که
بات ایسے هو جائے گی جیسے پانی میں مدھانی
ناں لسی ناں مکھن
بس ریڑکا لگائے جاؤ
که خاور کا علم کهتا ہے که کم یاب چیز کو انسان بیماریوں کا علاج جانتا رها هے
اور جس علاقے میں عام هو ، اس علاقے کے لوگوں کو اس کاعلم بھی نهیں هوتا
ابابیل
ایک هجرت کرنے والا پرنده هے
جو که پاکستان ميں سردیوں میں نظر اتا ہے
ٹھٹرتا هوا
بجلی کی تاروں پر غول کے غول نظر اتے هیں
میں اسے سردیوں کا پرنده سمجھتا رها هوں
اس پرندے کی خوش قسمتی که اس کو مذہبی تحظ حاصل هے
ورنه پاکستان میں پرندوں کو کھا هی جانے کا وه کلچر پروان چڑھا ہے
الله کی پناه
فاخته جیسا بھولا پرنده بھی انسان کو دیکھ کر دور سے هی اڑ جاتا هے
حاجی صاحب نے دو پرندوں کو اکٹھا کر لیا هے
ایک ابابیل
اور دوسری ایک چڑیا هوتی هے جو چین اور ویت نام کے پہاڑوں میں پائی جاتی هے
یه چڑیا اپنے منه کے تھوک سے گھونسلا بناتی ہے اور چٹانوں ميں انسانی پہنچ سے دور بناتی ہے
اس چڑیا کا یه گھونسلا جاپان اور چین ميں کھیا جاتا هے
اور
اچھی خاصی مہنگی ڈش کے طور پر جانا جاتا هے
کیونکه اس کےگھونسلے کا حصول خاصا جان جوکھوں کا کام ہے
لیکن
یه کام کرنے والے جیالے بھی هیں
جو بانسوں کے تکنیکی استعمال سے اس کو اتار هی لیتے هیں
لیکن
اس چڑیا کے متعلق پتھروں کو اکٹھا کرنے یا علاج کے متعلق میں نے کچھ نهیں سنا هوا
اور ابابیل
جو که پاکستان مين سردیوں کا پرنده هے
جاپان میں گرمیوں کا پرنده ہے
اگست اور ستمبر میں غول کے غول نظر اتے هیں اور فیکٹریوں گوداموں ، پرانے گھروں میں گھونسلے بنا کر انڈے بچے پیدا کرتے هیں
جاپان دوستوں میں ابابیل کے سردیوں کا پرنده هونے کا کہیں تو
ان کا جواب هوتا هے که نهیں ابابیل
تو گرمیوں کا پرنده ہے
جو انڈے بچے پیدا کرنے کے لیے جاپان اتا ہے

بس یه جی ایک مثال ہے
پاکستان کے نالج کی
که مغالطے هی مغالطے
اور مبالغے هی مبالغے
اور ان مغالطوں اور مبالغوں کو هی حقیقت جاننے کا یقین !!!ـ
الله کی پناه

ہفتہ، 19 نومبر، 2011

ایوارڈ لینا ہے

یارو اج کل ایک ایوارڈ کا بڑا ذکر چل رها هے
اردو کی بلاگنگ کی دنیا میں
اچھے خاصے معقول اور سمجھ دار لوگ بھی اس دوڑ میں شامل هیں
کچھ تو هو گا هی اس ميں
لیکن میں نے یهاں اپنا بلاگ رجسٹر نهیں کروایا
کیوں؟؟
اس لیے که یقین جانیں ميں اس سائیٹ کو نهیں جانتا که
یه لوگ هیں کون
اور کیا بیچتے هیں
اس لیے
خود ایوارڈ دینے والے کی کوالٹی کیا ہے
بڑے پرانے ٹرانسپوٹر هیں جی کمہار لوگ
خچروں اور گدھوں پر صدیوں سے سامان کی ٹرانسپورٹ کرتے هیں
لیکن کیا اپ کسی کمہار سے اج کی ٹرانسپورٹ "ٹرک "پر سیر حاصل گفتگو کرسکتے هیں ؟؟
هاں!!!ـ
اگر کمہار ٹرکوں کا مکینک بن گیا هو تو
ورنه نهیں
تو جی ایک سائیٹ هے هی انگریزی میں
اور اپ اس سے اردو کے لیے دادا مانگ رهے هیں ؟
هے ناں پاک سوچ!!ـ
هر دیسی چیز کی دادا انگریزوں سے

هاں اکر اردو کے سب رنگ یا سیاره کی لسٹ ميں شامل کوئی لکھاری ، متذکره سائیٹ کے متظمین میں شامل هے تو دوسری بات هے
لیکن میں ایسے کسی کو نهیں جانتا

قدوس صاحب نے ورڈپریس ڈاٹ پی کے شروع کیا
اور ختم هو گیا
علی عمران نے اردو ٹیک شروع کیا ور ختم هو گیا
مجھے علم هے که معاملات ميں مشکلات بن جاتی هیں
زندگی میں کئی کام ایسے هوئے هیں که باوجود کوشش کے ناکام هو گئے
سب سے بڑی مشکل
فنڈ کی بن جاتی هے
اور دوسری بڑی مشکل هوتی هے
بندے کی انا !!ـ
که کسی سے مدد نهیں مانگنی هے
میں بھی بڑا خود دار هوں
کسی سے اپنے لیے مانگتے هوئے مر هی جاتا هوں
لیکن کسی کے لیے کسی سے مدد مانگ هی لیا کرتا هوں که
معاشرے کی تعمیر کا سلسله چلے
اب جو کام قدوس صاحب یا علی عمران نے شروع کیا تھا
وه شروع تو انفرادی طور پر کیا هے لیکن
کام ایک اجتماعی تھا
هر دو صاحبان کو میں هلکے پھلے اندازميں کها بھی تھا که
اگر کنگ سے کچھ هو سکے تو؟؟
لیکن جی پته نئیں که مجبوریوں کا کیا تسلسل تھا
ان صاحبان کے ساتھ
که یه ایک بہت بڑی حقیقت هے کائینات کی که
جس کے ساتھ بیت رهی هوتی هے
وهی اس کی کیفیت کو جاتنا هے
اب بھی اگر
اپ دونوں ميں سے کوئی ایک
یا دونوں مل کر
یا پھر وهی دومیں مجھے دے دیں
میں کر لیتا هوں که
اپ کے لیے ایک ان لیمٹ سپیس والا هوسٹ لے لیتا هوں
جس پر صرف ایک هی دومین چلے
اور اردو کے بلاگ بنانے والوں کی حوصله افزائی کی جائے اور انگریزی والوں کو بھی
روکا ناں جائے
میں کسی ایک کا نام لکھ کر دوسروں کی حوصله شکنی نهیں کرنا چاهتا
لیکن میں جانتا هوں که جوان بلاگروں ميں بهت سے اس بات کی کوالٹی رکھتے هیں که ان کے ایک گروپ کو سائیٹ کی ذمه داریان دے دی جائیں
ادائیگیوں والے معاملے کو میں سنبھال لیتا هوں
اور تکنیکی معاملات کو اردو کے باصلاحیت بلاگروں پر چھوڑ دیا جائے
جیسا که اپ لوگوں کو علم هی هے که
اگر ورڈ پریس پر سائیٹ بنائی جائے تو ایک وقت ميں کئی ایڈمن بنائے جاسکتے هیں
ایڈمن کا ایک گروپ هو جو معاملات کو باہمی مشورے سے چلائے
میرے نزدیک بلاگر وه هیں جو
انفرادی طور پر لکھتے هیں ،ناں که کسی ادارے کی تنخواه پر
بی بی سی والے یا جنگ والے اپنی کسی سائیٹ کا نام بلاگ رکھ بھی لیں تو کیا هے
که پیسے کے زور پر رکھ سکتے هیں
لیکن کیا وهاں لکھے هوئے پر عام لوگ ایسے هی تبصرے کر سکتے هیں جیسا که اردو کے سب رنگ کی لسٹ والے بلاگ پر کیے جاسکتے هیں
نهیں ناں ؟؟
تو یه بلاگنگ تو ناں هوئی ناں جی
یه تو کالم نگاری کے کوئے کو چونا لگا کر سفید کی جانے کی کوشش هے ناں جی
اس لیے
اپ لوگ جو
اصلی والے اردو گے بلاگر هیں
اگے آئیں
اور جب اپ لوگ کسی کو ایوارڈ دیں گے تو
یه هو گا اصل والا ایوارڈ
اردو کے سبھی بلاگرون کو میرا ای میل ایڈریس معلوم هے
اب بھی اکر خود داری اڑے ائے تو مجھے میل کر لیں
ميں اپ کی شرم رکھتے هوئے
مدد مانگنے والی ذمه داریان اپنے اپ پر لے لوں گا

منگل، 15 نومبر، 2011

ناکام دوره

جاپان کے غیر معروف کاروباری ،معروف لکھاری اور نقاد خاور کھوکھر پاکستان کے ناکام دورے سے واپس جاپان پهنچ گئے هیں
پاکستان کے متذکره دورے کے متعلق خاور کو پهلے هی علم تھا که یه ایک ناکام دوره هے
اس دورے ميں پاکستان ميں خاور نے بهت سی بے مقصد ملاقاتیں بھی کی اور بہت سی بے مقصد کانفرنسں بھی
خاور کی شمولیت والی یه کانفرینسیں عموماً دھریک کے درخت کی چھاؤں میں هوئیں ، جهاں شرکاء کی تعداد عموماً پانچ سے دس هوا کرتی تھی
ان شرکاء میں دوکان پر انے والے گاهکوں کی تعداد کو بھی شامل کیا گیا هے
کیونکه خاور بہرحال اپنے قصبے اور اردگرد کے دیهات میں خاصا مقبول بنده رها هے
ان کانفرنسوں میں شمولیت کے لیے جو رفقاء سب سے دور سے تشریف لاتے تھے
ان میں شامل هیں
جناب نعمت الله سمور
اور
یونس گورایه
جو که حافظ آباد کے نواحی علاقے سے اتے تھے
گاؤں سے علامه افتخار احمد خالد، آفتاب چیمه (ٹیلی فونوالے)اپنا چاچا اقبال ، اور برادری کے لطیف ، عنصر ، ننھا ، سیٹھ عابد ، اور بہت سے سیٹھ
کیونکه میری برادری کو لوگ علاقے میں سیٹھ کے سابقے کے ساتھ بلاتے هیں
پاکستان کے اس دورے کے مقاصد
خور خاور کو بھی معلوم نهیں تھی
بس
ایک موهوم سی سوچ اپنے غریبی کے دنوں کے دوستوں کو یه جتلانے کی تھی که دیکھو جی خاور اب کچھ امیر هو گیا هے
لیکن
غریبی کے دوستوں کو مل کر احساس هوا که وه بھی پاکستام ميں رہتے هوئے کچھ ناں کچھ کر رهے هیں اور اپنی زمین پر هونے کی وجه سے
خاور سے بھاری هیں
اس لیے ناکام دوره
اور بھی ناکام ثابت هوا
اور خاور کو شدت سے احساس هوا که پاکستان نهیں چھوڑنا چاهیے تھا
کیونکه خاور جاپان سے كمائی كركے ایک دن واپس پاكستان جانے کا تارگٹ لے کر ایا تھا
خاور کا یه دوره اس تارگٹ کے پورا هونے سے پہلے کیا گیا هے
جس لیے خاور کو واپس جاپان انا هی پڑا
اس لیے
خاور کا یه دوره ناکام دوره
ثابت هوتا هے
وجه تحریر بالا
کمپیوٹر میں جب وائرس آجاتا ہے تو کمپیوٹر کو اس کا علم نهیں هوتا هے
کمپیوٹر اس وائرس کو بھی اپنی هی کوالٹی سمجھ کر
چلائے جاتا هے
اسی طرح
جب بندے میں وائرس آتا هے
میں اس وائرس کو ملک صاحبان کا وائرس کهتا هوں
تو بنده بھی اس کو اپنی کوالٹی سمجھتا هے
اس وائرس کی پہچان هے که جس ميں یه وائرس آ جائے وه بندے کو اوپر سے نیچے دیکھتا ہے
جس طرح كمپیوپر كے وائرس كا
صرف اس كوچلانے كو هی علم هوتا هے
اسی طرح
ملک صاحب وائرس کا بھی اردگرد کے لوگوں کو هی علم هوتا هے که
"ان" صاحب میں بھی وائرس آچکا هے
لیکن اکر وائرس ناں ایا هوا هو تو؟
زرا سا سوچنے سے
یه نتیجه نکالا جا سکتا هے که
خاور سے جتنے سال پہلے جاپان آئے تھے
حالات کی بہتری کی وجه سے صرف اتنا هی کاروبار
خاور کی نسبت بڑا ہے
ورنه
خاور اپ سے اچھے مکان ميں رهتا هے
اپ سے اچھے اوزار اور مشینیں استعمال کرتا هے
کباڑیے کے کام کی وجه سے سوٹ نهیں پہنتا
ورنه گھر پر جو سوٹ پڑے هیں
کرسٹنڈیور ، ورسچ ، ارمانی ، پئرکارڈن، هیوگوبوس، وغیره
هوسکتا هے که اپ کے سارے کپڑے اس ایک سوٹ کی قیمت کے بھی ناں هوں
اور سب سے بڑی بات که خاور
سقراط کی طرح جانتا هے که خاور ایک کم علم بنده هے
اور اپ کو اس بات کا بھی علم نهیں هے که اپ ایک بے علم بندے هیں،
اسی لیے
وائرس زده لوگوں کے پاکستان کے دورے، کامیاب دورے هوتے هیں
اور اپنے مقصد کو بھول نان سکنے والے
خاور کا پاکستان کا دوره ناکام ثابت هوا

جمعہ، 11 نومبر، 2011

دبئی کا دوره


جاپان میں مقیم پاکستانی جو که بقول خاور میڈ ان جاپان امیر هیں
ان کو دورے بہت پڑتے هیں
مرگی کا دوره
پاگل پن کا دوره
وغیره نهیں
بلکه ایک خاص قسم کا دوره پڑتا هے
جس کا ذکر جاپان کی خبری سائیٹوں پر هوا کرتا هے
اور یه سائیٹس هیں که ان ميں سے کچھ کے مدیراں تو اتنے جھوٹے هیں که جوتوں سمیت انکھوں میں اترنے کا محاوره ان پر فٹ هوتا هے
ایک دورے کی خبر کچھ اس طرح سے هوتی هے
رانا پداں والا پاکستان گے کامیاب دورے سے واپس جاپان آگیا ہے
اب کوئی ان سے پوچھے که
جو بنده کمائی کرنے کے لیے جاپان ایا تھا
که ایک دن پاکستان واپس جائے گا
اگر وه پاکستان جاکر پھر جاپان هی واپس اتا هے تو یه دوره کامیاب کیسے هوا؟؟
چھڈو جی ایسی گہری باتاں جاپان کے میڈ پاکستانیوں کی سمجھ سے بالاتر هیں
که
یهان روزنامه سائتاما کی خبروں کو سمجھ سکنے والے بندے
ایک فیصد بھی هوں که ناں هوں
حالانکه جاپان کے متعلق خبروں کی اردو میں یه سائیٹ هو سکتا هے که دنیا کی سب سے بڑی سائیٹ هو
اصلی میں میں بات یه کرنا چاهتا تھا که
میں کچھ ایکسپورٹ کا کام کرنا چاهتا هوں
دبئی کے لیے آئیڈیا دیا هے جی
بھائی رمضان نے
اس وقت میرے یارڈ میں کوئی دو کنٹیروں کا مال پڑا هوا هے
جو که میں فوراً بھی دبئی روانه کرسکتا هوں
لیکن
کیش کی طرف سے یه حالت هے که
کل جو مال اوکشن سے خریدا هے اس کی ادائیگی کروں تو؟؟
بٹوے ميں پڑے نوے هزار کے علاوه کچھ نهیں بچتا
اور ان حالات میں اگر مال دبئی بھیجوں
اور
کوئی هینڈ هو جائے تو؟؟
اس لیے میں نے سوچا که دبئی کا ایک پھیرا لگا لوں
که
پاکستان سے ننھے بھائی کا فون آگیا که
اپ کا پاسپورٹ مشین دیڈ ایبل نهیں هے اور دبئی والے اپ کو ویزا نهیں دیں گے
اس لیے اپ پاکستان سے هوتے هوئے( مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ بنوا کر) دبئی چلیں جائیں
میں نے یهاں جاپان ميں میڈیا والے پاکستانوں کو فون کیا هے اور پیغام ریکارڈ کروایا هے که
خاور کو دبئی کا دوره پڑنے والا هے
لیکن اس دوره پڑنے میں پرانا پاسپورٹ وهی کردار ادا کر رها هے جو
مرگی کے دورے میں پرانا جوتا ادا کرتا هے
یعنی که پرانا پاسپورٹ دبئی کا دوره پڑنے کو روکتا ہے
اور پرانا جوتا
مرگی کے دورے کو
یهاں پاکستان کی ایمبیسی ميں ایک صاحب هیں
مروان صاحب
بڑی دلچسپ شخصیت هیں
میں نے ایک دفعه ان کو پوچھا که کیا اپ کو معلوم ہے که بلاگر کیا هوتے هیں؟
تو
ان کا جواب تھا
هاں ناں !!ـ وهی لوگ جو فارغ بیٹھے انٹر نیٹ پر کچھ لکھتے رهتے هیں
میں نے جی ان مروان صاحب سے مشوره کیا هے که
کیا کروں تو
ان کا مشوره هے پاکستان جانا هی پڑے گا
لیکن
ناصر کا کهنا هے که
اکر ایمبیسی والے ایک خاص قسم کا کاغذ لکھ دیں تو دبئی والے ویزا دے دیتے هیں
لو جی بند کرے تے کی کرے؟
پیسے کول کوئی نئیں جے
دوره ایک بھی مشکل تھا یهاں دو دو پڑنے کے امکان بنے هوئے هیں

مجھے تو لگتا هے که مجھے جاپان سے باهر کا دوره پڑنے سے پہلے کوئی اور دوره ناں پڑجائے

جمعرات، 10 نومبر، 2011

وائرس کی موت

سیانے کہتے هیں که قطب شمالی کے برف زاروں میں بسنے والے لوگوں کا سب سے بڑا سکھ یه ہے که وه بهت سی بیماریوں سے بچے هوئے هیں
اس لیے نهیں که
عام دنیا سے دوری کی وجه هے
بلکه اس لیے که جب سردی مائنس دس سے نیچے جاتی ہے توبهت سے وائیرس کی بقا ممکن نهیں رهتی
سردی کی ایک بیماری فلو جس سے که سرد ممالک ميں پناه گزین پاکستانی بھی واقف هیں
جس سے ناک بند کھانسی اور بخار هو جاتا هے
اس کے وائرس بھی قطب شمالی کی سردی میں پنپ نهیں سکتےـ
سالوں پہلے جب میں جوان تھا اور دنیا کی سیر کے نام پر اواره گردی کیا کرتا تھا
یهاں جاپان میں تھا که فلو هو گيا
یهاں سے کوریا گیا
ایک ماه کے قیام میں مسلسل ناک بند بڑی کوفت سی رهی
اگلی منزل بنکاک تھی میں سے سوچا که گرمی سے ناک کا حال کچھ ٹھیک هو جائے گا
لیکن ناک مسلسل بند
بنکاک سے پاکستان گیا
پاکستان کی پاک مٹی جو که
وه وه خاک اڑائی هے لوگوں نے که قوم کے سروں میں ڈالی هوئی هے اڑا اڑا کر
اس ماحول ميں یه ناک کا بند هونا جس کو زکام کهتے هیں غالباً
بھلا کیسے ٹھیک هوتا؟؟
کچھ میں دوائیاں لینے کا سست هی واقع هوا هوں ، کوشش هوتی هے که بس ایسے هی ٹھیک هو جائےچھوٹی موٹی بیماری

کچھ دن ، ایک یا دو هفتے پاکستان میں گزار کر واپس بنکاک کے راستے جب کوریا اترا تو
جهاز میں بتایا کیا که سیول کا درجه حرارت مائنس گیاره هے
اس وقت تک میں فلو کو ٹھنڈ کی بیماری سمجھا کرتا تھا
اس لیے سنجیدگی سے باهر جاتے هیں دوائی لینے کا فیصله کیا
ایمگریشن ، کسٹم کو پار کرکے
ائر پورٹ کا بیرونی دروازه آٹو میٹک میں کھل کر راسته دیتا هے
باهر قدم رکھتے هیں سردی کے احساس سے زیاده
یه هوا که میرا سانس کھینچنے کا دل چاها
اور سانس کھلتی چلی گئی
ایک جادو تھا که کیا بات تھی
میں اج تک اس احساس کو نهیں بھول سکا که
کتنے ہفتوں سے بند ناک چند سیکنڈ میں ایسی کھلی که فرحت کا ایک احساس سارے جسم مں پھیل گیا

اتوار، 6 نومبر، 2011

بڑی عید

میرے علم کی کمی بھی هو سکتی هے که
همارے یهاں چھوٹی عید کو عید کی مبارک کے لیے اور بڑی کو قربانی کے لیے هی سجھا جاتا تھا
بڑی عید پر مبارک کے پیغامات ، میں نے پچھلے کچھ سالوں میں هی دیکھے هیں
چھوٹی عید پر عید کارڈوں کا ایک سیلاب هوتا تھا
اور بڑی پر ایک بھی کارڈ نهیں هوا کرتا تھا
ان دنوں
جب همارے قصبے کا ڈاکخانه ماسٹر عزیز دین صاحب کے پاس هوتا تھا اور اس کے بعد میرے والد کے پاس
ميں سن ستر اور اسی کے شروع کے سالوں کی بات کر رها هوں
هاں پھر سرمے والی سرکار جناب جرنل ضیاع صاحپ کا زمانه اتا ہے
جس ميں اسلام تو ایا نهیں
اسلامی جذبات پر بڑا عروج آیا هے
باقی جی الله پروردگار آپ سب کی قربانی قبول فرمائیں
اور حقوق العباد میں قربانی کی توفیق عطا فرمائیں
آمین

Popular Posts