جمعہ، 19 دسمبر، 2008

لتّر !ـ تبدلی کی نوید

آپنے بش صاحب کو لتر پڑنے پر هر بندے کا اپنا اپنا انداز ہے جی
تبصرے کرنے کا ـ
سوچنے والے بھی بڑی دور کی سوچتے هیں جی
ایک لاله جی کہیں توند نکالے سو رہے تھے که
ایک چوھا ان کی عظیم توند پر سے گزر گیا
جس سے لاله جی کی انکھ کھل گئی
اپنی توند کو چوھے کی گزرگاھ بنتے دیکھ کر
لاله جی کرنے لگے واویلا ، وه شور مچایا که خدا کی پناھ
کسی نے کہا که لاله جی چوھا هی گزر گیا ہے ناں جی کون سی قیامت آ گئی ہے؟
تو لاله جی کہنے لگے که جی اج چوھا گزرا ہے راسته تو بن گیا ناں جی کل کلاں کو ھاتھی هی گزر جائے تو؟؟
بس جی کچھ اسی طرح کی دور اندیشی کا خیال پیش کرهے تھے جی اپنے ایک دوست
که
جس طرح شوشلیزم ختم هوئی اسی طرح ایک دن یه سرمایه دارانه نظام بھی ختم تو هونا ہی ہے
تو جی پھر اسلامی نظام هی آئے گا
اب اپ دیکھ هی لیں گے که کانفرنسوں میں لوگ ایسے جوتے اتار کر جائیں کے جیسے مسجد میں جاتے هیں
اسی طرح اہهسته آهسته ماحول اسلامی بنتا جائے گا ـ
میں تو جی اس بات سے متفق نہیں هوں
میرے خیالات کیا هیں ؟؟
اگر میں نے بتائے تو هو سکتا ہے که همارے یه دوست اپنی انسلٹ سمجھیں
اور
دوسری بات یه ہے که اسلام کے ٹھیکیدار کہیں مجھے قتل هی ناں کر دیں !ـ
پہلے هی کتنے لوگ مجھے کہـ چکے هیں که جی اپ کے خیالات کافرانه هیں
کسی دن کوئی آپ کو قتل کردے گا !!
ثواب کے لیے!!ـ
قصور میرا یه ہے که میں قرآن کی '' باتاں '' کرتا هوں !!ـ
آپ کا کیا خیال ہے جی بیچ اس بات کے؟؟؟

منگل، 16 دسمبر، 2008

پاک غدّار

بی بی سی کی ایک خبر کے مطابق
محترمه گوجرانوالہ کی عدالت
میں یه ایک مقدمه آیا ہے جی غدّاری کا !!ـ
عدالت میں
سب انسپکٹر نذر محمدگوندل نے ضمانت کی مخالفت کی وجه یه بتائی ہے کہ ملزم محمد رضوان کتب کی دکان کا مالک ہے۔
اس کے قبضے سے ایک ایسا کتابچہ برآمد ہوا ہے جس میں ''عسکری تربیت '' کی ترغیب دی گئی ہے۔ تفتیشی آفسر کے بقول یہ ایسے لٹریچر پر مبنی ہے جو'' فوج '' کے خلاف نفرت پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
تفتیشی افسرکی ایک دلیل یه بھی تھی کہ اس کتابچے سے عام پاکستانیوں (بلڈی سیویلین ) میں فوج کے خلاف نفرت پھیل سکتی ہے
اس لیے ملزم کو گرفتار کیاگیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کے جج صاحب نے ملزم کی درخواست ضمانت خارج کردی اورفرمایا کہ ملزم سےبظاہر فوج کے خلاف باغیانہ لٹریچر برآمد ہوا ہے اس کے لیے ضمانت کی رعایت کا حقدار نہیں ہے۔
یہاں میرے ذہن میں سوال پیدا هوتے هیں که جی
یه بغاوت ہے کیا اور غدّاری کس کو کہتے هیں ؟؟
لال مسجد بھی پاکستان کا ایک حصه تھی اور لاله موسی کا محمد رضوان کتب فروش بھی ایک پاکستانی ہے
اور پاک فوج بھی پاکستان کا هی حصه هے
لیکن پاک فوج اپنے آپ کو پورا پاکستان هونے کی ایکٹنگ کیوں کرتی ہے
پاکستان کا آئین پامال هو یا پاکستان کی سرحدیں ـ مشرقی پاکستان کے ڈھاکے میں بربریت کی هو یا اسلام آباد کو فتح ـ
بلوچوں کا قتل هو یا پٹھانوں پر بم باری ـ
اس کو کوئی بھی بغاوت یا غدّاری نہیں کہتا
اور ایک پاکستانی اپنے پاکستان کی محبت میں اگر پاک فوج کے ان جرائم پر انگلی بھی اٹھائے تو
جی
غدّار کہلوائے ؟؟
بھلي مانس شہریوں کے خلاف اس طرح کے مقدمات فوج کی رهی سہی عزت بھی ختم کردیں گے ـ
پاک فوج کے کرتاؤں دھرتاؤں سے میں ایک پاکستانی هو نے کے ناطے اپیل هی کر سکتا هوں که
پاکستانیوں کا قتل بند کریں !ـ
آئین کی بار بار پامالی بند کریں ـ
پاکستانیوں کو غداری اور بغاوت جیسے مقدموں میں هراساں ناں کریں ـ
بلکه اگر هو سکے تو جی پاکستان کی جان چھوڑيں اور اپنے آقاؤں کے ملک کو چلے جائیں ـ

اتوار، 14 دسمبر، 2008

عید نامه

محترمه فرحت کیانی صاحبه کی میل وصول هوئی
که مجھے عید نامه لکھنے کے لیے ٹیگ کیا گیا ہے
یه سلسله شروع کیا ہے جی آپنے ساجد اقبال
صاحب نے اور جی حاضر ہے اپ کی خدمت میں ٹیگ لگوا کر خاور کھوکھر عید نامه لے کر ـ
عید سے پہلے
هر سال عید پر نماز کے بعد ایک عجیب سی اداسی طاری هو جاتی ہے
اس لیے میں نے اس سال پہلے هی اپنے مسجد کے ناظم عمران صاحب کو کہنا شروع کردیا تھا که جی کوئی شغل وغیرھ هونا چاهیےـ
کیون که مسجد کے زیادھ تع نمازی اس سال کہیں ناں کہیں چلے گئے هیں
مثلاً ٹوکیو ٹریڈنگ والے راشد صاحب حج کے لیے چلے گئے هیں
هجویری ٹریڈنگ والے فیاض مغل صاحب افریقی ممالک کے دورے پر نکلے هوئے هیں
نجیب خان صاحب بھی برما (مینمار)جانے کا کہـ کر نکل گئے هیں
برما والے سلیم بھائی بنگله دیش چلے گئے هیں ـ
ان دنوں فجر کی نماز میں پاکستانیوں کی نسبت برما اور بنگله دیش والوں کی تعداد زیادھ هو تی هے ـ

یوم عید
عید کی نماز کا ٹائم نو بجے مقرر هوا تھا هر روز کی طرح صبح چار بچے اٹھے
انٹر نیٹ پر براؤزنگ کی سوا پانچ بجے گاڑی کا انجن اسٹارٹ کر کے اندر آکر وضو کیا ، کافی پی ،اور نماز کے لیے مسجد کی طرف نکلے ـ
نماز چھ بجے تھی
هر روز نماز کے بعد گفتگو هوتی ہے لیکن عید کے دن سبھی نمازی جلدی گھروں کو چلے گئے
میں نے بھی گھر آ کر غسل کیا کپڑے استری کیے
اور نماز کے لیے چلے ـ
نماز کے بعد عید ملن '' جپھیاں '' ڈال کر لوکاں کو ملے ـ
تو عمران کہنے لگا که
نماز عید
جی اس کے بعدآپ اپنے حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ میں پہنچ جائں که سبھی دوست وهاں هوں گے
حاجی مشتاق صاحب گیلانی ٹریڈنگ کے پریزیڈنٹ هیں جی ـ
ان کا معاملات کو دیکھنے کا جی اپنا هی انداز ہے ـ
میں حاجی مشتاق صاحب کو کافی جگتیں کیا کرتا هوں
جس کا حاجی صاحب نے گله کیا تھا کہیں میری غیر موجودگی میں جس کا مجھے
اپنے طارق خان صاحب نے بتایا ہے
میں دو دن پہلے کافی کے کینوں کا ایک کارٹن خرید کر گاڑی میں ڈال رکھا ہے که اب جب مجھے حاجی صاحب ملیں گے تو میں ان سے اس بات کی معافی مانگوں گا
کیونکه حاجی صاحب ایک سادھ دل بندے هیں
اور میں ایسے بندوں کا دل نہیں ٹوڑنا چاهتا ـ
تو جی
ان حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ میں تھا
جی
قربانی کا انتظام
اور یہاں پر بکروں کو ذبح کرنے کا بھی انتظام کیا هوا تھا
جاپان میں جانوروں کے ذبح کے قوانین کافی سخت هیں مگر جی
جس طرح برانیه میں پرانے زمانے میں سائیکل کی دو سواریاں غیر قانونی هوتی تھیں مگر کیونکه قانون کی کتاب میں تین سواریوں کچھ نہیں لکھا هوا اس لیے تین سوایوں والے سائیکل پولیس والے نہیں پوچھتے تھے
اسی طرح جی سور گائے بیل کے ذبح کے تو قوانین هیں مگر بکری کے ذبح کا پر کچھ بھی نہیں لکھا هوا اس لیے بکری کا ذبیح کا کام چل هی جاتا ہے
میں نے اس ذبح کے وقت کوئی بھی تصویر نہیں لی تھی کیونکه میں نهیں چاهتا تھا که کہیں کوئی تصویری ثبوت پھر بھی رھ جائے ـ
اس بعد حاجی صاحب کی پارکنگ کے ساتھ هی ایک اور پارکنک بھی ہے

جس میں چولہا وغیرھ بنا هوا ہے
اس لیے گوشت کو اس حاجی مشتاق صاحب کی پارکنگ کے ساتھ والی کسی اور کی پارکنگ والے چولہے پر پکایا
گوشت ابھی کچا پکا هی تھا که اسلام خان بھائی اور میں نے اس کو نکال کر کھانا اور کھلانا شروع کردیا
اس گوشت نے میرے پیٹ میں تین دن گڑ بڑ مچائے رکھی
مگر جی گوشت تھا مزے کا
اور جی هیں اس دن کی کچھ تصاویر





آپنے آپنے اصول

قلم کی حرمت اور صحافطی عظمت یا اسی طرح کے کچھ جذباتی الفاظ اپنی جکه لیکن
اگر کوئی بندھ اس بات کی توقع رکھتا ہے که جی میں اپنے زرداری صاحب کے خلاف کچھ لکھوں تو یه میں اس کی یه توقع پوری نہیں کر سکتا
اس لیے نہیں که جی زرداری صاحب بڑے چنگے بندے هیں
بلکه جی اس لیے که زرداری صاحب بڑے زورداری بھی هیں ـ
اور جی میں ٹھہرا پنجابی
سدا کے طاقت کے پجاری
کمزور پر تو مجھے غصه هی بہت آتا ہے
جی چاهتا ہو که جی اس کا بازو مروڑ کر اس کی کمر میں کونی مار کر گرا دوں
اور جی طاقت ور کے سامنے جی میرا دل بڑا رقیق القلب هو جاتا ہے
جی چاهتا ہے جی که اس کے سامنے لوٹنےلگانے لگوں
اگر مجھے دم لگی هو تو ایسے ایسے بل دے کر هلاؤں که اپنے آقا کا تو جی '' هاسا '' نکال دیا کروں ـ

ایک پاکستانی انجنیر اپنے کسی دوست انجنیر کو ملنے گیا جو که کسی افریقی ملک میں کام کرتا تھا
اپنے اس دوست کے ٹھاٹھ باٹھ دوکھ کر تو جی پاک والا انجنیر حیران هی رھ گیا که
یه کیسے ممکن هوا ہے که تم اتنے دولت مند هو گئے
تو اس میزبان انجنئیر نے اس کو کھڑکی سے باهر ایک پل کی طرف اشارھ کر کے پوچھا وه پل دیکھ رہے هو ؟؟
هاں !!ـ
دس پرسنٹ!!ـ میزبان نے کہا ـ
کجھ سال بعد میزبان انجنئیر کا پاکستان انا هو تو اس نے دیکھا که پاک والے کے ٹھابھ باٹھ اس سے بھی پڑھ کر هیں
تو اس نے باگ والے سے پوچھا که یه کیسے ممکن هو ا؟؟
تو پاک والے انجنئیر نے اس کوکھڑکی کے پاس بلایا
اور ایک طرف اشارھ کر کے پو چھا
وه پل دیکھ رهے هو ؟؟
نہیں !ـ مجھے تو کوئی پل نظر نہیں آ رها !!ـ
پاک والے انجنئیر نے کہا
سو پرسنٹ!!ـ
اب کوئی اس لطیفے کو زرداری صاحب پر لگا دے تو جی اس کا اپنا قصور ہے
که زرداری صاحب مسٹر ٹین پرسنٹ سے ٹوٹل پرسنٹ هو گئے هیں ـ
میں تو جی ایسی بات نہیں لکھ سکتا
اب کچھ دوست بتا رهے تھے که اپنے زرداری صاحب جب چین گئے تھے بھیک مانگنے تو جی چین نے مشینری اور تکنیک دینے کی بات کی تو
زرداری صاحب نے فرمایا که جی دینا هے تو کیش دو جی
اور کیش کی ضرورت پوری کرنے کے لیے انہوں نے ائی ایم ایف کی شرائط مان کر ملک کو مقروض کر دیا ہے
یه ساری باتیں لوگ کر رهے تھے ميں تو ایسی کوئی بات بھی ان کے خلاف نہیں کرنا چاهتا
اب اگر بھانڈ ان کو منگتا کہـ رہے هیں یا
ان کی ماضی کی کرپشن کے افسانے گردش کررہے هیں تو جی
ان لوگیوں کو میں تو یه هی کہـ سکتا هوں جی که ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور
ان کو ایسے هی بد نام ناں کریں جی ـ
یقین کریں که میں تو زرداری صاحب کے خلاف تنہائی میں بھی کوئی بات نہیں سوچتا
که کہیں پکڑا هی ناں جاؤں
اپنے بلاول صاحب کہیں امریکه میں کوئی ایوارڈ وصول کرنے گئے تھے که کسی امریکی صحافی نے ان کو پارٹی کا چئیر مین سمجھ کر کوئی سوال کردیا
اب ان امریکیوں کو کو سمجھائے که جی
جس کو اپ چئیر مین سمجھتے هو
اردو میں اس کو سجادھ نشین کہتے هیں
سجادھ ذرا چئیر سے مختلف هوتا ہے
ناں جی
اور
آپ لوگوں کے چئیرمین اور همارے سجادھ نشین میں زمین اسمان کا فرق هوتا ہے جی
آپ امریکی هوئے جی عام سے لوگ اور اپنے عام سے لوگوں میں سے کسی کو پکڑ کر چئرمین اور پته نہیں که کیا کیا بنا دیتے هو
همارے سجادھ نشین اور صاحبزادگان کچھ اور '' چیز '' هوتےهیں
اس لے بلاول صاحب نے جو جواب دیا میں تو جی اس کے غلط یا صحیع هونے کا نہیں لکھ سکتا هاں امریکیوں کو سمجھانے کی کوشش کرسکتا هوں که جی سجادھ نشین کی ڈیفینیشن سمجھنے کی کوشش کریں
اس طرح آپ لوگوں کو معاملات کرنے میں اسانی رهے گي
که کیسے سلام کرنا ہے
کیسے نذرانه () دینا ہے ـ
وغیرھ وغیرھ ـ
یه لکھ دیا گيا ہے تاکه سند رہے
که میں زرداری صاحب کے خلاف نہیں هوں
اور اللّه سائیں مجھ پر کرم فرمائیں
آمین!!ـ

ہفتہ، 13 دسمبر، 2008

اج کی بات

موسم بھی ٹھنڈا هوتا جارها هے اور کاروبار بھی
ڈالر کی مندی نے جاپان میں هم پاکستانیوں کے کاروبار کو بہت متاثر کیا ہے
جی اج کا ریٹ تھا آٹھاسی ین کا ایک ڈالرـ
اگر کسی کا ایک ٹرک افریقه میں دس هزار ڈالر کا بکتا ہے تو چار مہینے پہلے اس کو بارژ لاکھ ین مل جاتے تھے جاپان میں
اور اب هی دس هزار ڈالر والے کے پیسے جب جاپان اتے هیں تو ان کے بنتے هیں آٹھ لاکھ اسی هزار ین ـ
کچھ لوگوں بڑا شوق ہے جی امریکه کو اجڑتے دیکھنے کا ـ
امریکی اس کو ان لوگوں کا حسد کہتے هیں ـ
میں بھی اس بات میں '' کسی حد '' تک امریکیوں سے متفق هوں ـ
سارا نئیں !!ـ
اب کر لو جی باتاں ـ
ساری دنیا کے کاروباروں پر مندی چھائی هوئی ہے ـ
کیونکه امریکه کی اکنامک پر مندی چھائی ہے
امریکه دنیا کی ضرورت بن چکا ہے امریکه کا نقصان صرف امریکه کا نقصان نہیں هوتا بلکه بہت سے ملکوں کا لوگوں کا نقصان بن جاتا ہے ـ
پچھلي دنو ں جب امریکه کے کار میکر تین بڑوں کے کاروبار کے بحران کا سنا تو سوچا که شائید هم کاریں بنانے والے جاپان میں رهتے هیں اس لیے هو سکتا ہے که جاپان کی کاروں کی صعنت ک لیے یه اچھا هو
مگر جی جب سیانے لوکاں سے بات کی تو انہوں نے بتایا که امریکه کی موبائیل انڈسٹری کے لیے پرزے سارے جاپان سے جاتے هیں
اس لیے اس بحران کا جاپان کو بھی نقصان هو گا
اور ایسا هی هوا که جی جاپان کی بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ورکرں کو کام سے نکال رهی هیں ـ
سونی الیکٹرونس اور ٹیوٹا والوں نے هزاروں لوگوں کو کام سے نکال دیا ہے
سال کے اخری مہینے میں جب بونس ملنے کی امید هوتی هے
کام سے جواب مل گیا ہے
ناں بونس اور ناں هی اگلے مہینے سے تنخواھ ـ
اللّه هم مزدوروں کے حال پر رحم فرمائے !!ـ
پاکستان گو حالات پر بندھ کیا کہے ؟
که هر چیز هی کجیوں سے بھری پڑی ہے
کسی بھی بات کا هم اور ممالک سو موازنه هی نہیں کرسکتے
که موازنه کرنے کے لیے بھی کچھ ناں کجھ تو هونا چاهیے
یہان هے هی کچھ نہیں
بھانڈ جگتیں کر رهے تھے کسی کی شادی کی تقریب میں
ایک کہتا ہے جی
اب تو جی اپنی هی حکومت ہے
سارے حکمران اپنے میں سے لگتے هیں
دوسرا کہتا ہے
اؤے وه کیسے ؟؟
ہم اس شادی میں بھیک مانگنے آئے هوئے هیں اور جی همارے صدر صاحب امریکه مانگنے گئے هوئے هیں ـ

سارے ای منگتے!ـ
ساری قوم کو انڈیا سے جنگ کرنے کا شوق چڑھا هوا ہے جی !!ـ
کسی گاؤں ميں لڑائی هو جائے تو جی گوجرانواله کے ہسپتال اس لڑائی کے زخمیوں کو سنبھالنے کی سکت نہیں رکھتے
تو جی جنگ جیسی ایمرجنسی کو کیسے سنبھالیں کے ؟؟
بڑا فخر ہے جی میری قوم کو اپنی '' پاک فوج '' پر لیکن یه فوج تو کسی زلزلے کی مدد کے لیے بھی تین دن میں پہنچتی ہے
محاذ پر تو جی ''اگلے '' بھی گولیاں چلا رہے هوتے هیں ـ

اتوار، 7 دسمبر، 2008

اردو رسالے

آج صبح میل چیک کی تو جی میل بکس میں ایک مشکوک سی میل بھی تھی
جس میں سینڈر کا نام لکھا تھا
*~*sMiLiNg DoLL*~*
اورمیل کا عنوان تھا
A humble Request...
پہے تو میں اس ڈلیٹ کرنے جا رها تھا مجھے خیال آيا که دیکھ لیتے هیں بڑی بڑی رقموں کو ترسیل کے لیے میری مدد کے طلب گار کسی افریقی کی هو گی اور اس نے کتنی رقم مجھے ٹرانسپورٹ کروانی هے
میل کھولی تو جی اسلام علیکم سے شروع اس میل کو کھول کر میں نے شکر کیا که اس ڈلیٹ نہیں کیا
یه میل تھی جی اردو رسالے والوں کی
جن کا دومین لنک ہے
http://www.urdurasala.com
اس سائیٹ کو کھول کر بھی ایک خوش گوار احساس هو که اس کا ڈیزائین کسی اچھۓ ڈیزائینر نے بنایا ہے
اور اس پر کگی کتابیں دیکھ کر جی اپنی جوانی میں پڑھی هو ئی کتابیں یاد اگئیں
سوناگھاٹ کا پجاری
ایک کتاب ہے جی بازی
جو که اردو کے ایک ماهانامے سب رنگ میں چھپا کرتی تھی یه ماهنامه پھر سالوں نامه هو گیا که سالوں میں ایک دفعه چھپا کرتا تھا
اس کہانی کو پورا پڑەنے کی خواهش میں جی بوڑہے هو کئے
شوکت صدیقی صاحب کی ایک کہانی تھی جی جانگلوس
اس کہانی کی تیسری قسط کا چربه تھاجی پی ٹی وی کا مشهور زمانه ڈرامه
وارث
اس کہانی کو بھی پرا پڑھنے کے لیے ترستے رهے که پچھلی دفعی پاکستان گیا تو گوجرانواله اسٹیشن کے سامنے والے کتابوں سٹالوں میں سے ایک سٹال پر اس کے کچھ حصے دیکھے لکن اس کا اخری حصه اس کتابوں والے کے پاس نہیں تھا تو اس نے کہا که جی آپ پیسے دے جائیں میں یه کتابیں آپ کے پنڈ(گاؤں)پہنچا دوں گا
لیکن جی اس نے نہیں پہنچائیں
اردو رساله کے نام سے بنی اس سائیٹ کو دیکھ کر میرے اندر ایک خسارے کا سا خفیف احساس گذر گیا
که کاش اج میرے پاس وھ کتابیں هوتی جو میں نے اپنے بچپن میں پڑهی تھیں اور اج وه نایاب هو چکی هیں
آنه لائبریری
کا نام سنا ہے کسی نے ؟؟
پاکستان بننے سے پہلے اس نام سے بچوں کی کتابوں کی اشاعت کا ایک سلسله چلا تھا
ان کتابوں کے بھے صندوق میاں ممتاز خاں صاحب کے مکانوں میں پڑے تھے
میاں ممتاز خان سیکرٹری وزارت خزانه هوا کرتے تھے
عمر کی چالیسویں دەائی کے پاکستانیوں نے ان کا نام ایک روپے والے نوٹ پر ضرور دیکھا هو گا
یه میاں ممتاز خان صاحب همارے گاؤوں کے تھے
ان کے گاؤں چھوڑ کر چلے جانے کے بعد ان کے مکان خالی پڑے تھے که کسی نے ان کے تالے توھ کر یہاں سو کتابیں چوری کر کے ردی میں بیچ دی تھیں
ان دنوں مجھے کتابیں پڑھنے کا جنون هوا کرتا تھا
همارے ایک کلاس فیلو رزاق درزی نے مجھے ان کتابوں کا بتایا
اور مجھے پوچھا که کیا تم یه کتابیں خرید لیا کروں گے
میں نے کتابیں خریدنے کی حامی بھر لی
اب زراق درزی نے مجھ سے پیسے لے کر ایک ایک کتاب کرکے مجھے لا کر دینے لگا اور جبمین کتاب پڑھ لیتا تھا تو رزاق کہتا تھا که کتاب تو تمهاری هی ہے لیکن یه زرا مجھے بھی
دو که میرے چاجے نے پڑھنی ہے
اس طرح سو وه کتابیں واپس رزاق کے پاس هی چلی جاتی تھیں تھیں
ایک دفعه جاوید درزی نے مجھے بتایا که رزاق کہـ رها تھا که اس نے خاور کو ایک فراڈ لگایا هوا هے جس میں خاور اور اس کوپیسے دیتا رهتا ہے
لیکن وه فراد کی تفصیل نہیں بتا رها تھا
تم هی بتا دو که کس مد میں اس کو پیسے دے رهے هو ؟؟
میں نے جاوید کو تو نہیں بتایا کیوں که همارے ابا جی کو کتابوں سے اللّه واسطے کا بیر تھا
اگران کو معلوم هو جاتا که میں نے کتابوں پر پیسے خرچ کیے هیں تو هو سکتا ہے مجھۓ مار مار کر لہولہان هی کردیتے
اپنے اردو کے بلاگر علوی صاحب کے کتابوں کو اون لائین کرنے کی شروعات کے بعد مجھے کتنی هی دفعه اس بات کا احساس هو ا که کاش وه کتابیں میرےپاس هوتیں
اور اج اردو رساله دیکھ کر تو یه احساس اور بھی بڑھا
کبھی کبھی سوچتا هوں که شائید رزاق نے وه کتابیں سنبھال کر رکهی هوں
چاهے وه اس بات سے مکر بھی جائے که کتابیں خاور کی ملکیت هیں
میں ایک دفعه پھر سے اس کو ادائیگی کر کے بھی وه کتابیں خریدنا چاهتا هوں
بہرحال مجھے
یه سائیٹ پسند ائی ہے
اور میرا خیال ہے که کتابیں پڑھنے والے کسی بھی شخص کو پسند آئے گي

بدھ، 26 نومبر، 2008

ایک ویب سائیٹ

جو لوگ آئیڈیا پیدا کرتےهیں ان کو زمانه موجد کہتا
ورنه
هم جیسے تو جی آئیڈیا کو یاتو نقل کرتے هیں یا پھر کچھ ائیڈیاز کو مکس کر کے ایک نیا آئیڈیا بنا لیتے هیں
بہت پہلے میں نے کہیں پڑھا تھا که یورپ کے کسی ملک میں کسی نے ایک دن کوئی چیز فروخت کرنے کے لیے ایک پرچی لکھ کر ایک بارونق جگه پر ایک درخت پر لگا دی
جس کی وجه سے سے کی چیز فروخت هو گئی
اس بات سے اور بھی لوگوں نے اسی درخت کو پرچی والی مشہوری کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا
که ایک وقت یه تھا که اس شہر میں کسی بھی ایڈروٹایزنگ سے زیادھ اس درخت پر لگائی پرچی کی اهمیت هوتی تھی
بیلٹن بورڈ کے نام سے کچھ دوکانیں یا سٹور یا پھر چرچ بھی ایک پھٹا (بورڈ) مہیا کرتے هیں
جہاں مکان کی تلاش مین جوان سٹوڈنٹس کا هجوم هوتا ہے
سیکنڈ ہینڈ کتابیں هوں که روز مرھ کے استعمال کی چیزیں
ایک سٹوڈنٹ جب اپنی تعلیم مکمل کر کے جا رها هوتا ہے تو اس کی کوشش هوتی ہے که اس کی یه پرانی چیزیں پیسوں میں بدل جائیں یا پھر کسی کے کام آ جائیں
تو جی یه لوگ بھی ان بیلٹن بورڈز پر اپنے پیغام لگا دیتے هیں

ایسے مفت رسائیل تو پاکستان سے باهر رہنے والے سبھی لوگ جانتے هیں جن پر اس طرح کے اعلانات اور پیغامات هوتے هیں
مزدور پیشه لوگ جو که بیرونی ممالک مین اخبار تو خریدتے نہیں که اجنبی بولی
اور پیسے کا ضائع
مگر
یه لوگ بھی ایسے رسائیل سے استفادھ کرتے هیں
ان رسائیل کو دسترخوان کے طور پر استعمال کرکے !!ـ
لیکن میں نے ایسی کوئی چیز
اردو میں
نہیں دیکھی
ناں تو پرنٹڈ میڈیا میں اور ناں هی
اون لائین
انٹر نیٹ پر !!!ـ
اخبارات کا اشتہارات کا صفحه ایک قسم کی چیز ہے اردو میں لیکن ناں تو یه فری هے اور ناں هی هر بندے کی دسترس میں ـ
پیرس میں میں نے بہت کوشش کی که ایسی کو چیز بناؤں مگر کتنی هی کوشش کے باوجود میں بمشکل روزی روٹی کا انتظام هی کرسکا
اپنی بقا کی کوشش میں هی باقی سارے خیالات خاک هوئے ـ
جاپان آکر میں نے بھی میں نے اس بات کو ذہن میں رکھا که کیسے اس ملک میں هی وه کا کام کر لیا جائے جو که میں کرنا چاهتا تھا
ایک تو جاپان میں لوگوں کا رویه بہتر ہے فرانسیسی لوگوں کی نسبت اور
کچھ بات یه بھی ہے که میں افورڈ بھی کر سکتا هوں
کسی حد تک خرچ کرنا !ـ
جاپان میں پاکستانی پورے جاپان میں بکھرے هوئے هیں
جاپان میں میرے علم میں ایسا کوئی بھی علاقه نہیں هے جہاں که ایک کلومیٹیر کے علاقے میں بیس پاکستانیوں کے گھر هوں ـ
هاں ایسے علاقے ضرور هوں گے که دس کلومیٹر کے علاقے میں ایک بھی پاکستانی ناں هو ـ
اس لیے یہاں جاپان میں اگر ایک ایسی ویب سائیٹ هو جس سے که سارے اردو پڑھنے والے ایک دوسرے كے حالات سے اگاھ هو سکیں تو یه ایک یونیک چیز هو گی
یاد رہے یه کوئی اون لائین نیوز نہیں ہے
جس میں بادشاهوں کی باتیں هوتی هیں
یه ایک اناؤنس اعلان ، اشتهار ٹائیپ پیغام کو شائع کرنے کی جگه هو گی ـ
یه سائیٹ کچھ اس طرح کام کرے گي که کوئی بھی بندھ کہیں سے بھی مجھے فیکس کر دے

جس پر که ھاتھ سے هی لکھا هو ـ
مثال کے طور پر کہیں کوئی مرگ هو جاتی ہے تو اگر میت کا کوئی قریبی بندھ مجھے فیکس کر دے که فلاں بندھ قضائے الہی سے انتقال کر گیا ہے تو
اگلے دن سارے جاپان میں زیادھ تر اردو پڑھنے والے اس بات سے اگاھ هو کر اس کے جنازے میں شامل هوسکتے هیں
یا احباب اور جاننے والے افسوس کرنے کے لیے جاسکتے هیں
یاپھر فرداً فرداً مجھے فیکس کر کے افسوس کا پیغام انٹر نٹ پر لگوا سکتے هیں
یا اس میت کی تدفین پر انے والے خرچے کے لیے چندھ اکٹھا کرنے والے کارکنوں کے لیے بھی سہولت هو سکتی هے

دوسری طرف کسی کی شادی کی خبر
اور
اس پر مبارک باد کے پیغامات
گاڑیوں کی فروخت میں میں نے دیکھا ہے که بہت سے پاکستانی
گھوم پھر کر گاڑیا ں تلاش کرتے رهتے هیں
جب کوئی گاڑی مل جاتی ہے تو اس کو خرید کر ایکسپورٹ کرنے والے لوگوں سے رابطه کر کے بیچ دتے هیں
اور هر بندے کی پہنچ چند هی ایکسپوٹروں تک هوتی هے
دوسری طرف ایکسپوٹروں کی پہنچ بھی تھوڑے هی لوگوں تک محدود هو جاتی هے
یا پھر اوکشن
اس طرح اگر کوئی بندھ اپنی گاڑی کے لیے مجھے لکھتا هے تو اس کی پہنچ بھی زیادھ ایکسپوٹروں تک هو جائے گي اور ایکسپوٹر حضرات کو بھی سہولت هو گي که
اوکشن کی نسبت کچھ کم قیمت پر گاڑی مل جایا کرے گی ـ

گاریوں کی حد تک تو پحر بھی ایک سسٹم بن هی چکا ہے مگر
کبھی کبھی کوئی مشینری مل جاتی ہے جس کی که کسی ناں کسی ملک میں ضرورت بھی هوتی ہے مگر
روابط کے ناکافی هونے کی وجه سے یه میشنری سکریپ هو جاتی هے

کیا هی اچھا هو که ایسی مشینوں کے متعلق بھی اطلاعات کا کوئی پیلٹ فارم بن جائے
اور وه پلیٹ فارم هو گا جی یه سائیٹ
اب مثالکے طور پر میرے پاس کچھ مشینیں پڑی هیں
پلاسٹک کی پٹی بینڈ !ـ
وه مشین جو که کارٹن کے ڈبوں یا کسی اور مال پر پلاسٹک کی پٹی باندھتی ہے
میرے پاس پڑی هیں تین عدد اور ایک سریه کاٹنے والی مشین اور ایک کمپریسر پڑا ہو جو که تھری فیز چار سو وولٹ ہے
اس کمپریسر کی بنی هوا میں نمی نہیں هوتی
لیکن مجھے کسی بھی ایسے بائیر کا معلوم نہیں ہے جو اس قسم کی چیزیں کسی ملک کو بھیجتا هو
لیکن کوئی ناں کوئی هو گا ضرور

بس جی ایسی هی باتیں اور معاملات کو اکٹھی کر کے کسی ایک جگه کرنے کی خواهش دل میں اٹھتی تھی
جس کے لیے بنائی ہے یه ایک سائیٹ
http://gmkhawar.net
اس سائیٹ میں ایک صفحه هو گا نمائندگان کا جس میں که ان لوگوں کا تعارف اور فوٹو فون نمبر هو گا جو که اس سائیٹ کی اهمیت کو سمجھتے هوں گے اور لوگوں کو اس سائیٹ کے استعمال کی ترغیب دیں گے ـ
یه نمائیندھ آپ بھی هو سکتے هیں
آپ دنیا کے کسی بھی ملک میں رہتے هیں کوئی بات نہیں اگر آپ میرے ساتھ شامل هونا چاهتے هیں
تو مجھے لکھیں
اس سائیٹ کے لیے جو ای میل استعمال کی جائے گی
gmkhawar@gmail.com
اور فیکس نمبر هو گا
0480 68 3588
میں تکنیک طور پر زیادھ اهلیت نہیں رکھتا هوں
اس لیے بلاگر دوستوں سے یا وه قارئین جو ویب ماهر هیں ان کے مشورے میرے لیے مشعل راھ هوں کے
آپ کی تنقید بھی '' ویل کم''ـ
اردو میں دنیا بھر میں یه اپنی طرز کی پہلي سائیٹ ہے
جی هاں پہلی سائیٹ !!ـ

پیر، 24 نومبر، 2008

ملنے والے

کل مورخه تئیس نومبر کو یہاں اباراکی کے شہر کوگا میں فیض میاں ٹریڈنگ والوں نے مسلم لیگ نون کی ایک تقریب رکھی تھی
جس میں میں بھی گیا تھا
باتیں سب وهیں تھیں جن سپ سب لوگ بھی واقف هیں
کچھ مبالغے اور کچھ مفالطے ، خرابیوں کی تشخیص هی تشخیص علاج ندارد!!ـ
بہرحال هم تو جی میاں عظمت کی دعوت پر گئے تھے
اور اسی طرح کتنے هی لوگ جو که پیپلز پارٹی کے هیں اور کئی دوسری پارٹیوں کے مگر میاں برادران کی دعوت پر یہاں شامل تھے
انہی میں همارے ایک بہت هی اچھے دوست عبدلالقدوس صاحب بھی تھے
بھٹی صاحب اور گورایه صاحب کے ساتھ کچھ مہمان پاکستان سے ائے هوئے تھے
جناب ملک طارق صاحب اور ان کے ساتھ چوھدری آصف صاحب
یه دونوں صاحبان جاپانی حکومت کی دعوت پر چاپان مین ایک کانفرنس میں شامل هونے کے لیے تشریف
لائے تھے
سیونتھ گلوبل هیومن ڈولپمنٹ کانفرنس


ملک طارق صاحب سے گفتگو کا کافی مزا آیا که
کافی پڑھے لکھے بندے هیں
پاکستان می کتنے هی سکول چلاتے هیں اور غالباً دس که بارھ ہسپتال بھی
ان کے ایک بھائی ٹیکسلا میں پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر هیں
لیکن ملک صاحب کو سیاسیت سے زیادھ ملاحی کاموں کا شوق ہے
بقول ان کے فلاحی کاموں میں ان کا ''اندر '' راضی هوتا ہے
ملک صاحب آئیڈیل ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائیٹی کے چئرمین هیں ـ



محمد دلاور گورایه دائیں طرف اور بائیں طرف چوھدری آصف صاحب هیں اور ان کے ساتھ ملک طارق صاحب

عبدلاقدوس بھٹی اور محمد دلاور گورایه ملک طارق صاحب کے دائیں بائیں کھڑے هیں

محمد دلارو گورایه اور ملک طارق صاحب

جمعرات، 20 نومبر، 2008

آیت مصطفے

چھبیس آگست دوهزار آٹھ کو
ایت مصطفے کی میں پیڈائیش کے بعد آیت مصطفے کی پرورش کی مصروفیت کی وجه سے
نیٹ کو صرف پڑھنے کی حد تک هی استعمال کررها هوں

آیت مصطفے

جمعہ، 14 نومبر، 2008

یه جاپان ہے

بات کہاں سے شروع کروں ؟؟
آپنے گھر کی غریبی سے یا ملک کی غریبی سے
نہیں اس طرح کرتے هیں که غریبی کا رونا بعد میں سہی
پہلے
جاپان کی امیری کی بات کرتے هیں ـ
اخلاقی طور پر بھی جاپانی بہت رِچ هیں
اور مالی طور پر تو پاکستان کے ان داتا هیں جی
امریکه کی گارنٹی پر پاکستان کو سب سے زیادھ قرضه دینے والا ملک جاپان هی هے ـ
اج کل جاپان میں ایک مسئله کھڑا هوا هے اور ساری قوم اس موضوع پر کچھ ناں کچھ کہـ رهی ہے
مسئله هے جی جاپانی قوم کے لیے
اور اس مسئلے کو اگر پاکستانی قوم کو بتائیں تو هو سکتا ہے که
پاک سوچ میں سسٹم ایرر آ جائے
مسئلے کو سمجھ کر اس کا حل نکالنا تو بات هی دوسری هے
مجھے ایک پرانی کہانی یاد آ گئی میں نے کہیں
کسی ڈائیجسٹ میں پڑھی تھی
که
کرامتی مراثی کی وفات هوتے هیں منظر هی بدل جاتا ہے
موت کے فرشتے کرامتی مراثی کو
کرامت صاحب کرامت صاحب کہـ کر پکارنے لگتے هیں
یه بگھی آ گئی ہے جی کرامت صاحب قبله !ـ
ادھر تشریف لائیں حضور کرامت صاحب !ـ
کرمتی مراثی که ٹک ٹک دیدم
اور گھگی بندھی آواز میں کہتا ہے که جی کوئی غلطی لگ گئی ہے آپ کو فرشته صاحب میں هوں جی سدا کا کرامتی مراثی !ـ
سجی دھجی سواری میں بٹھا کر کرامتی کو عدالت میں پیش کیاجاتا ہے
تو کرامتی سجدے میں گر جاتا ہے که جی سچے بادشاھ صاحب اپ کا درشن هو گيا اب بے شک جہنم میں پھینک دیں ساری زندگی کی کچلی حیاتی کا کوئی گله نہیں !ـ
ایک دفعه میں چوھدریوں کے گھوڑے پر چڑھ گیا تھا
اور اس پر بڑی لترول هوئی تھی
اپ کو بھی اکر کوئی غلطی لگ گئی تو جی معافکردیں میں کرامتی مراثی هی هوں !ـ
فرشته رضوان فائیل کھول کر پڑھنے لگا که جی
پیدائیشی نام کرامت علی قوم مراثی ساری زندگی کسی کو دکھ دیا ناں دھوکه
گناھ کوئی ناں بندوں که خدمت هی خدمت اس لیے کرامت صاحب کو جنت میں محل الاٹ کیا جاتا ہے ـ
کرامتی کو لے کر پروٹوکول افسر ٹائیپ فرشتے لے کر محل میں جاتے هیں اور کرامتی کو سارا محل دکھاتے هیں که جی اب یه آپ کا ہے
اور آپ اب جنت میں هیں
یہاں اپ کی هر خواهش پوری کی جائے گي !ـ
کرامتی نے محل کی ڈیوڑھی میں مجی ڈلوا لی اور کہنے لگے که جی مجھے یہی ٹھیک ہے
فرشتوںنے بہت کہا که جی یه سارا محل آپ کا ہے اور اب آپ کی هر خواهش پوری هوگي
مگر کرامتی کو یقین هی نہیں آ رها تھا ـ
فرشتوں کی بار بار تکرار پر که یہاں هر خواهش پوری هو گي
کرامتی جھجکتے هوئے کہنے لگا
اچھا ؟ کیا آپ لوگ مجھے هر روز تندور کی پکی دو روٹیاں اور کم شورے والی گاڑھی دال دے سکتے هو؟؟
یه سن کر فرشتوں نے شرم سے سر جھکا لیا که
جی اس بندے کی سوچ هی اتنی ہے

تو جی
تو جی بات یه ہے که جاپانی حکومت کے پاس پیسے فالتو پڑے هیں اور ان کو ان کے استعمال کا کوئی طریقه نہیں سوج رها
اس لیے وزیر آعظم آسو صاحب کا خیال ہے که یه رقم سب لوگوں میں بانٹ دی جائے
اس بات پر بحثیں هو رهی هیں که یه غلط ہے که صحیع
حکومتی پارٹی کا خیال ہے که جاپان کے هو بالغ کو ایک سو بیس ڈالر اور کم عمر کےلوگوں اور ریٹائیر لوگوں کو دو دو سو ڈالر نقد دے دئے جائیں ـ
اب نکته یه نکل آیا که دولت مند لوگوں کو اتنے سے پیسوں کی پرواھ هی نہیں هے اور وه لوگ اس کی خیاهش بھی نہیں رکھتے
تو آسو صاحب نے کہا که چلو امیر لوگوں کو نہیں دیتے
تو سوال پیدا هو گیا که امیر اور غریب کا معیار کیا مقرر کریں گے
اور کون کرے گا
کیا حکومت یه کر سکتی هے؟
تو جی حکومتی پارٹی کو احساس هوا که یه تو بڑا ذمه داری کا کام ہے اور کی ذمه داری نہیں لی جاسکتی
اس لیے
آسو صاحب نے کہا که جی
شہری کونسل اس بات کا تعین کرے
تو جی شہروں نے بھی اس ذمه داری کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے
ایک آئیڈیا یه بھی ہے که کیوں ناں یه رقم
لگا کر اس طرح کر دیا جائے که هائے وے کا ٹول ٹیکس کم کردیا جائے
که جاپان میں ایک سرے سے دوسرـے سرے تک انے کا ٹول صرف ایک هزار ین کر دیا جائے
جی که اب اس وقت آدھے لاکھ ین کے قریب بن جاتا هے
اور اپوزیشن بھی اس بات کا گله کر هی هے که الیکشن قریب هیں اور حکومتو پارٹی کہیں یه رقم دے کر ووٹروں کو اپنی طرف مائیل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رهی ؟؟
اور لوگوں کا رویه کچھ ایسا ہے که اس رقم کی وصولی کے لیے کہیں بھی کوئی گرم جوشی نہیں ہے
ٹ وی پر دیکھائے جانے والے خیادھ تر انٹرویو میں لوگوں کا تاثر کچھ اس طرح ہے که
اچھا ؟
ههم؟
مل بھی جائیں تو کیا کریں گے؟؟
چلو کہیں گھومنے چلے جائیں کے !!ـ
اب دیکھیں که یه اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے
جاپان میں !!ـ
اور پاک قوم کی باتیں هین جی که پاک فوج کے ناپاک کارناموں کی بدولت پاک حکمران
بھیک مانگنے نکلے هوئیے هیں
دے جا سخیا ـ ـ ـ ـ ـ
هاں میں بھی ایک بھکاری قوم کا فرد هوں
جس کے سربراهاں آپنی عیاشیاں بھیک اور قرضے سے پوری کرتے هیں
پاک حکمران قرضے کو منافع سمجھ کر خرچتے هیں

Popular Posts