بدھ، 12 نومبر، 2008

جیالے

ای میل کیا
جس میں ناصر ناکا گاوا صاحب کے ساتھ پیپلز پارٹی کے جیالوں کی بد تمیزی کی خبر تھی یا خبر نما کالم
ناصر صاحب اردو سپیک اور پولائیٹ سے بندے هیں
میں نے انکو فون کیا که کیا هوا تو انہوں نے بتایا که پیپلز پارٹی والوں نے جو فنگشن کروایا تھا نودا اوکشن میں اس میں ناصر صاحب بھی گئے تھے
ایک تو ناصر صاحب اردو کے ایک اخبار ''دنیا کے صحافی بھی هیں اور کچھ مقامی کمیونٹی میں گھلنے کی خواهش بھی هو گی

میں خود تو اس فنگشن میں شامل نہیں تھا
لیکن کچھ دوستوں نے بیاتا که وهاں چندھ اکٹھا کیا گيا
جس کو اکٹھا کرنے میں کافی سے زیادھ جوش خروش دیکھایا گيا تھا
اب جی بقول ناصر صاحب کے انہوں نے کھوڑو صاحب کو ان کی تقریر کے بعد یه بات کہي که جی
آپ ایک اهم شخصیت هیں اس لیے اگر اپ بھی ایک دفعه چندے کے لیے اپنی تقریر میں کہـ دیتے تو اس کا بہت اثر هوتا
یه بات سن کر کھوڑو صاحب نے بہت تاسف کا اظہار کیا که یه بات ان کے ذہن سے کیوں نکل گئی
که واقعی اگر تقریر میں یه بات کہز دی جاتی تو اجھا تھا
لیکن ناصر صاحب کے کھوڑو صاحب سے اس بات کہنے کو مقامی جیالوں نے برا جانا
اور ناصر صاحب '' کچھیا ترویا''ـ

[caption id="attachment_507" align="alignnone" width="300" caption="چيبا کین کے یو ایس ایس اوکشن نودا میں "]چيبا کین کے یو ایس ایس اوکشن نودا میں [/caption][caption id="attachment_506" align="alignnone" width="300" caption="سٹیج پر سے ڈالر اکٹھے کیے جا رهے هیں "]سٹیج پر سے ڈالر اکٹھے کیے جا رهے هیں [/caption][caption id="attachment_505" align="alignnone" width="300" caption="زلزله زدگان کے لیے چندے کی اپیل کی جارهی هے"]زلزله زدگان کے لیے چندے کی اپیل کی جارهی هے[/caption][caption id="attachment_504" align="alignnone" width="300" caption="یہاں کچھ جاپانی فنکاروں کو بھی بلایا گیا تھا "]یہاں کچھ جاپانی فنکاروں کو بھی بلایا گیا تھا [/caption][caption id="attachment_503" align="alignnone" width="300" caption="پاکستان سے جناب کھوڑوکی صاحب بھی تشریف لائے تھے"]پاکستان سے جناب کھوڑوکی صاحب بھی تشریف لائے تھے[/caption][caption id="attachment_501" align="alignnone" width="300" caption="فنکار اور پارٹی کے جیالے سٹیج پر باتیں کر رهے هیں اورپاؤں میں امریکی ڈالرز بکھے پڑے هیں "]فنکار اور پارٹی کے جیالے سٹیج پر باتیں کر رهے هیں اورپاؤں میں امریکی ڈالرز بکھے پڑے هیں [/caption]

اتوار، 9 نومبر، 2008

پرانی پوسٹ دوبارھ

لو جی سائبر کرائم آرذینیس جاری هو گیا ہے
میں نےاس پر ایک سال پہلے ایک پوسٹ لکھی تھی


جناب سیدناں مصرف صاحب
اسلام علیکم
ہم سب یہاں خیریت سے هیں اور اپ کی خیریت خدا سے نیک مطلوب '' چاهتے '' هیں ـ
صورت احوال یه ہے که
آپ نے میرے پچھلے خط کا جواب تو نہیں دیا مگر میری درخواست پر آرڈینینس جاری کرکے ہم ہم راشی سرکاری کارندوں پر بڑا احسان فرمایا ہے ـ
هم لوگ دھڑا دھڑ موبائیل فون اور دوسرے قیمتی برقی الات ضبط کر رہے هیں ـ
اصل میں لوگوں کی بهی تو عادتیں خراب هیں موبائل پر گندے گندے پیغامات بهیج دیتے هیں جس سے همارے کام میں اسانی هو جاتی ہے ـ
کل ایک بندے نے کسی کو پیغام بهیجا تها که
میں ملکی حالات سے دلبر داشته هوں ـ
میں نے پکڑ لیا جی اس کو فحش پیغام بهیجنے کے جرم میں
ایک هی فقرے میں '' دلبر '' اور '' داشته '' کا ذکر کر رها ہے
میں سے اس کو بتایا که چلو '' دلبر ''کی حد تک تو درگزر کی جاسکتی هے مگر داشته تو هے هی فحش لفظ ـ
موبائل بهی کافی قیمتی تها
میرا بیٹا اس موبائل فون کو پا کر کافی خوش ہے اور آپ کے اقتدار کے لیے دعا گو ہے ـ
آپ کی مہربانی سے جلد هی ہمارے گھر میں کمپیوٹر سکینر اور ڈیجیٹل کیمرے کے علاوه کلر پرنٹر بهی آجائے گا ـ
میرے کتنے هی ساتهیوں نے تو کمپیوٹر حاصل کر بهی لیے هیں
مگر ایک قباہت بن رهی ہے کچھ لوگ یونکس کا آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے هیں ان کے کمپیوٹر ٹهیک کروانے میں خرچا وغیره آ جاتا ہے
کوئی ایسا طریقه کریں که ان مکینک لوگوں کا بهی کوئی حل نکلے که ان سے بهی مفت میں کام کروا کر ان پر احسان کیا جاسکے ـ
مہربانی هو گی ـ
اس بات کا خاص طور پر خیال رکهیں که کہیں پرانے جج بحال نه کرديں یه ناں هو که افتخار چوھدری اور رانا بگھوان داس جیسے لوگ واپس آجائیں اور
اچھی بهلی چیزیں واپس کرنی پڑ جائیں ـ
یه جج صاحبان بہت جیلس لوگ تهے جی ـ
ہم راشی لوگوں کو تو بہت هی چبتے تهے
آپ نے ان کو چھٹي کروا کے ہم پر بڑا احسان فرمایا ہے ـ

اس کے علاوه ایک بڑا قیمتی مشورھ تها جی آپ کے لیے
سنا ہے جی که آپ شراب اور شباب کے بڑے شوقین هیں
اسی لیے روشن خیالی پهلانا چاهتے هیں ـ
سرجی آپ روشن خیالی کی بجائے
مذہب کی ترکیب استعمال فرمائیں
آپ تو جی آل رسول هیں آپ کے لیے تو کچھ مشکل هی نہیں ہے
آپنے پیش رو جرنل ضیاع صاحب کی طرح اسلام اسلام کیا کریں
کچھ ماھ کے بعد خود کو آل رسول هونے کا کہـ کر خلیفة المسلمین کا دعوھ فرمادیں
آل رسول هونے کے ناطے آپ کو بخاری وغیره جیسی کتابوں میں سے کافی مواد مل جائے گا آل رسول کی حکمرانی کے حق میں ـ
اس کے بعد آپ بهی ایک حرم بنائیں جس میں جتنی چاهے لونڈیاں رکھ لیں
لونڈیوں کو پروڈکش کی آپ فکر هی ناں فرماییں
وه آپ کو ـ ـ ـ ـ ـصاحبان کردیں گے
آپ میرے اس مشورے پر سنجیدگی سے غورفرمائیں
روشن خیالی کی بجائے یه فارمولا آپ کی تاحیات حکمرانی کےلیے بهی راھ هموار کرے گا
آپ کی انے والی نسلوں کو بهی پاکستان کا حکمران بنا دے گا اور
باقی کے بهی شوق پورے هوتے رهیں گے
بس صرف افتخار چوهدری اور رانا بگوان داس جیسے آل رسول کے گستاخ لوگوں سے بچ کر رهیں ـ
سیدناں مصرف صاحب دهلی والی سرکار کے مزاج کے خلاف سوموٹو ایکشن لینا آل رسول کی گستاخی هی هوئی ناں جی ؟؟؟
بس جی همیں آپ کے سائبر آرڈینینس جاری کرنے سے هی یقین هو گيا ہے که آپ ہمارے آقا مولا هیں اور آپ کی حکومت میں هم راشی اور خود غرض لوگوں کو کوئی ڈر اور خطره نہیں ہے ـ
آيک دفعه آپ کی بہت بہت مہربانی
آپ کے خادم آپ کے در کے کتے
راشی آفسران

جمعرات، 6 نومبر، 2008

اے کاش که

اے کاش که میرا وطن بھی ایک ملک هوتا
اس کا مطلب ہے که بندے کی '' جمن پوئیں '' (جائے پیدائیش)تو اس وطن هوتا ہے
اور اس کے انتظام کو ملک کہتے هیں
تو جی میرا وطن ایمان داری کی بات ہے که ملکوں میں ملک نہیں ـ
ایک ڈنگروں کا ریوڑ ہے جو بے نظم بے ضبط اور بے کار چلا جارها ہے ـ
اور اس پر رکھوالے هیں جی کتے لوگ
جو اپنوں پر تو بھونکتے اور غراتے هیں اور غیر ملکی اقاؤں کے سامنے دم هلاتے هیں ـ
میرے وطن میں ادارے دوسرے ممالک کی طرح نہیں هوتے
که لوگوں کے لیے کام کریں
بلکه کتی خانے هوتے هیں که لوگوں پر بھونکتے کاٹتے هیں
اور اگر کبھی کو گدھا اکڑ جائے تو پھر یه کتے دولتی کھا کر ٹیاؤں ٹیاؤں کرتے هیں ـ
میرے وطن میں ملکوں کی طرح سسٹم نام کی کوئی چیز نہیں هوتی
بلکه صاحب کی مرضی هوتی هے
میرے وطن میں ملکوں کی طرح الیکشن نہیں هوتے
بلکه سلیکشن هوتی هے

میرے وطن میں ملکوں کی طرح سیاسی پارٹیاں جمہوری نہیں هوتیں
بلکه
خاندانی هوتی هیں ـ
میرے وطن میں ملکوں کی طرح لوگوں کو ووٹ نہیں سمجھا جاتا
بلکه
مرید سمجھا جاتا ہے جس کی اپنی کوئی سوچ هی نہیں هوتی ـ
مرے وطن میں کوئی بھی کام ایسا نہیں هوتا جو که ملکوں والا هو ـ
اس لیے میرے دل میں خواہش اٹھتی ہے که کاش میرا وطن بھی ایک ملک هو تا تو هم بھی انسانوں جیسی زندگی گزارتے ـ

جمعرات، 30 اکتوبر، 2008

اشتہار

جاپان سے ردی کاغذ امپورٹ کرنے کی بات هو رهی تھی کسی دوست سے انٹر نیٹ پر که فون پر اب یاد نہیں آ رها که کس سے !ـ
اگر مجھے یاد آجاتا تو میں اس دوست سے رابطه کرنا چاهتا هوں که اب هم جاپان سے کاغذ بھیج سکتے هیں !ـ
اس وقت همارے پاس رسالوں اور اخبار کی ردی موجود ہے جس میں تھوڑا سا پلاسٹک چڑھا کاغذ اور کارٹن گته شامل ہے ـ
فوری طور پر هم چھ هزار ٹن ردی دے سکتے هیں ـ
اگر کوئی دوست اس معاملے میں دلچسپی رکھتا هو تو میرے ساتھ رابطه کرلے ـ
ہم بہت هی مناسب قیمت پر اس کو کسی بھی ملک کے لیے کارگو کرواسکتے هیں ـ
اس کے علاوھ کارٹن کا گتّه بھی ہے جتنا که کوئی چاهے ـ
ہم یه ردی فوراً بیچنا چاهتے هیں ـ
یعنی که انے والے تین هفتوں میں اگر معاهدھ هو جائے تو اچھا ہے ـ
میرا ای میل
ellha@yahoo.com

میل کرنے پر میں فون نمبر بتا دوں گا اور پھر فون پر بات هو جائے گی

هندوستان اس کاغذ کی اچھی مارکیٹ هو سکتا ہے ـ

اتوار، 19 اکتوبر، 2008

هار جیت

ایک جاپانی جوڑا غالباً اکیاسی کی بات ہے یا اسی کی دھائی کے کسی سال کی که امریکه کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس سیر کے لیے گیا ـ
وهاں ان کے ساتھ ایک حادثه هو گیا که ان کو ڈاکو پڑ گئے اور
اس ڈاکے کے دوران فائرنگ میں خاتون کو گولی لگ گئی جس سے اس کا انتقال هو گيا ـ
مرنے والی خاتون کا نام تھا مے گُمی
اور اس کے خاوند کا نام تھا می یو را (فیملی نیم) !!ـ
مے گمی کے والدین نے اس کے خاوند می یو را پر مقدمه کر دیا که اس نے ایک سازش کے تحت ڈاکے کا ڈرامه کر کے اپنی بیوی کو قتل کر دیا ہے
جاپان میں یه کیس بڑا مشهور هوا تھا
جاپانی پولیس کی تحقیقات کے مطابق جاپانی عدالت نے می یورا کو دو هزار تین میں اس کیس سے بری کر دیا که می یورا بے گناھ ہے ـ

می یو را ایک کمپنی کا مالک ایک ممتول آدمی تھا
می یو را اس کیس میں بری هونے کے بعد پچھلے دنوں یعنی دوهزار آٹھ میں میکرو نیشیا کے جزائر کے ایک جزیرے سائپان کو سیر کے لیے گیا
جہاں اس کو مے گمی کے قتل کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا ـ
میکرو نیشین جزائر کے جزائر گوام اور سائیپان امریکه کی ٹیروٹیری هوتے هیں
یاد رہے ٹیروٹری ناں که ریاست !!ـ
یہاں کا سربراھ اعزازی طور پر امریکه کا ایم پی هوتا ہے ـ
کرسٹل کی طرح چمکتا هوا سمندر کا پانی اور چینی جیسی سفید ریت والے بیچ سیاحوں کے لیے ایک کشش رکھتے هیں ـ
میں بھی اپنی آوارھ گردی کے دنوں میں ان جزائیر میں کچھ وقت گزار چکا هوں !ـ
بارش ایسی که جیسے کسی نے پانی کی بالٹی الٹ دی هو اور دس منٹ میں یه بارش ختم اور دھوپ ایسے نکل؛تی هے که کیا کبھی بارش هوئی هو گی
هریالی ایسی که جیسی خط استوا کے ممالک میں هوتی هے ـ
لیکن جونکیں اتنی که سڑک کے دونوں کنارے لہو لہان هوئے هوتے هیں ان جونکوں کے ٹائیروں کے نیچے کچلے جانے سے !ـ
ان جزائیر کی اکنامک جاپانی سیاحوں کی بدولت ہے
جاپانی یہاں غسل افتابی کے لیے تو اتے هی هیں اس کے علاوه
جاپان میں کسی بھی شہری کو اسلحه رکھنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اسلحه چلانے کے شوقین لوگ یہاں شوٹنگ کلبز میں اسلحه چلا کر اپنا شوق پورا کر لیتے هیں ـ
ڈیوٹی فری شاپنک بھی هو جاتی هے
اور
پورنو ویڈیو کی انفرادی خریداری بھی ـ
کیونکه جاپان میں پورنو ویڈیوں میں عورت اور مرد کی پیشاب والی جگه سنسر کردی جاتی هے
لیکن امریکه میں ایسا نہیں هوتا
اس لیے جاپانی سائیپان وغیرھ سے ایسی ویڈیو خرید لاتے هیں اور جاپانی کسٹمز کا رویه بھی انفرادی شوق رکھنے والوں کے ساتھ سخت نہیں هوتا
اس لیے ایک دو ڈی وی ڈی پرکسٹم والے اعتراض نہیں کرتے ـ
تو جی
مسٹر می یو را سائپان کی سیر کو گئے اور گرفتار هو گئے که لاس اینجلس پولیس کو دو دھایاں پرانے اس کیس میں کچھ ایسے شواهد ملے هیں که ان پر می یو را کو
گرفتار کر کے عدالت میں پيش کیا جاسکے ـ
اب بقول مسٹر می یو را ان کے ذهن میں دور دور تک بھی یه خیال نہیں تھا که سائیپان بھی امریکه ہے
گرفتاری هے بعد دو تین مہینے اس بات پر گزر گئے که می یو را پر کیس سائیپان میں هی چلایا جائے یا لاس اینجلس میں جہاں که واردات هوئی تھی ـ
اخر کار اکتوبر کے دوسرے ہفتے ان کو سائیپان سے براسته هوائی لاس اینجلس لے جایا گیا
که ان کو عدالت میں پیش کیا جا سکے
لاس اینجلس پہنچتے هیں مسٹر می یو را لاس اینجلس پولیس کے ساتھ ھاتھ کر گیا !!ـ
اپنے ساتھ کچھ بھی هو جائے مسئله نہیں هے دشمن کی جیت نہیں هونی چاهیے ـــــــ
جان پر کھیل کر دشمن کو هرانے کی روایت جاپانوں نے هی ڈالی تھی دوسری جنگ عظیم میں ـ
تو می می یو را نے بھی خود کشی کرکے عدالت میں ناں پیش هو کر ، لاس اینجلس پولیس کو هرا دیا هے که
ٹھینگا دکھا گیا جی می یو را لاس اینجلس پولیس کو جو اس کے ساتھ جو کرنا چاهتی تھی وه می یو را نے ان نہیں کرنے دیا ـ
جاپانی خود کشی کے لیے ایک طریقه استعمال کرتے هیں
اپنی زبان کاٹنے کا
که بڑے حفاظتی انتظامات میں بھی اپنی زبان کو دانتوں میں لے کر اپنی تھوڑی پر نیچو سے مکه مار کر اس کو کاٹ کر کھا جاتے هیں اور بہنے والا خون بھی پی جاتے هیں جس سے ان کی موت واقع هو جاتی هے
مگر می یو را نے
یه طریقه استعمال نہیں کیا هے بلکه
می یو را جھو ل گیا جی گلے میں کچھ ڈال کر
میں رهوان نا ناں رهواں تینوں جیتن نہیں دیاں گا !!!ـ
اور اب می یو را کا وکیل لاس اینجلس پولیس کو گھسیٹے
'' او'ے تسی کردے کی سو پئے ؟؟؟''

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2008

سیاست اور گدی کا فرق

جاپان میں پاکستانیوں ميں اج کل بڑی هی ایکٹو ایک سیاسی جماعت (جاپان میں غیر قانونی)کے کچھ لوگوں سے فرداً فرداً گفتگو کا اتفاق هوا ـ
تو دوران گفتگو اساس هوا که سیاسی اور جمہوری پارٹی کے عہدھ داران کہلوانے والوں کو جمہوریت کی انتہائی بنیادی باتوں کا بھی معلوم نہیں ہے ـ
میں جن دوستوں کا یہاں ذکر کرنے جارها هوں ان کے خلوص نیت پر مجھے کوئی شک نہیں هے مگر ان کے علم پر ـ
جاپان کی مختلف کین (ڈویژن) میں آپ نے پاکستانیوں کو عہدے بانٹے جارہے هیں ان میں سے گنماں کین کے ایک عہدے دار کے ساتھ اویاما کے اوکشن میں بیٹھے تھے اور گفتگو اس بات پر چل نکلی که ان عهدوں کی حثیت کیا ہے ـ
جب مجھ سے میرے خیالات پوچھے گئے تو میں نے بتایا که جی اپ کے سارے عہدے فضول هیں کیوں که یه کسی ایلکشن سے نہیں بنے بلکه سلیکشن سے بنے هیں
تو ہمارے اس دوست کو معلوم هی نہیں تھا که پارٹیوں کے اندر بھی الیکشن هوتے هیں ـ
تو میں نے ان کو بتایا که جی اصولی طور پر هو پارٹی کے ورکر ایک ورکر کے طور پر رجسٹرڈ هوتے هیں
اور ان ورکروں کو آپ اپنی جماعت کے ووٹر سمجھ لیں
ان ورکروں میں سے کچھ لوگ عهدوں کے لیے کھڑے هوتے هیں اور باقی کے پارٹی ورکر ان کو ووٹ دے کر الیکٹ یا ریجکٹ کرتے هیں ـ

اور اصولی طور پر هر پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق ایک ایک عرصه مخصوص کرنا هوتا ہے جس کے بعد اس پارٹی کی انتظامیه تبدیل هو جاتی ہے ـ
دوسرے دوست وه هیں جو که تھوچیگی کین میں رهتے هیں اور اس پارٹی میں اس وقت بھی شامل تھے جب اس پارٹی کے گدی نشین (اچھے لفظوں میں پارٹی لیڈر کہـ لیں )خاکی ولوں کے زیر عتاب تھے
یعنی که ایک مخلص ورکر!ـ
هم پاکستانیوں نے اپنی جمہوری پارٹیاں کہلوانے والی جماعتوں کو صرف ایک هی رنگ میں دیکھا ہے که ایک صاحب یا صاحبه کدی نشین هوتی هیں
اور تاحیات هوتی یا هوتا ہے هے ـ
اور پارٹی ان کی روحانی ملکیت هوتی ہے
اور ورکر ان کے مرید هوتے هیں اور ان مریدوں کو جس طرح پیران لوگ اپنے خلیفے چن لیا کرتے تھے ان کو سیکرٹری وغیرھ کا نام دے دیا کرتے هیں ـ
ٹوٹلی اپ دیکھیں گے که سارا سلسله ان روحانی سلسلوں کی طرح کا ہے جو برصغیر میں اسلام کے انے کے ساتھ ساتھ هی چل رہے هیں ـ
پیر صاحب کی بجائے لیڈر صاحب هیں
گدی کانام پارٹی قیادت ہے ـ
پیر صاحب کی منزل رب کی رضا هوتی تھی اور مریدان کی اس میں سے کچھ حصه ملنے کی
اور خلفاء صاحبان کو چندے میں سے ان کا حصه ملتا تھا ـ
اور پارٹی لیڈر کی منزل اقتدار هوتا ہے اور سیکرٹری لوگوں کی اس میں حصه ملنے کی ـ
سیاسی ورکروں کو ادھر ادھر پلاٹوں پرمٹوں وغیرھ کو شکل میں حصه مل جاتا ہے ـ
روحانی سلسلوں میں گدی نشین کا ورثه اس کو اولاد کو ملتا ہے
جو که عموماً اس وارث کو جواب میں بشارت کی شکل میں هوتا ہے
اور سیاسی پارٹیوں کی گدی بھی پارٹی لیڈر کی اولاد کو هی ملتی هے
وصیت کی شکل میں
اور یه وصیت پارٹی لیڈر کی موت کے دو دن پہلے کی لکھی بھی هو سکتی ہے ـ
آج کی پوسٹ کو یہیں ختم کرتا هوں
اور اللّه سے دعا کرتا هوں که هماری قوم کو چیزوں کو ڈیفینیشن مقرر کرنے کی سمجھ بوجھ دے ـ

ہفتہ، 27 ستمبر، 2008

رمضان دوهزار آٹھ

اج کچھ حال بیان کیا جائے گا اس مسجد کا جو واقع هے جاپان کے شہر تاتے بیاشی میں ـ
نام ہے اس مسجد کا مسجد قبا ـ
ناظم هے جو اس مسجد کا شوقین ہے بہت کھانے کا ـ
اور اس سے بھی زیادھ کھلانے کا ـ
ساتھی هیں اس ناظم کے زیادھ تر مہمان نواز اس لیے انتظام هوتا ہے اس مسجد میں جو روزے کی افطاری کا وه اپنی مثال میں نرالا ہے ـ
لگتا هے ایسے که بیٹھے هیں کسی ریستوران میں ، کھانے هیں که ائے چلے جاتے هیں ـ
احوال اس مسجد میں ایک افطاری کا بیان کرتے تصاویر کے ساتھ
دیکھیں اس تصویر کو

نہیں هے یه مورت کسی کریانے کی دوکان یا بھٹیارے کے مکان کی ـ
تصویر هے یه ایک کونے کی مسجد کے باورچی خانے کی ـ
بیٹھا ہے ایک ورکر نام ہے اس کا اصغر سامنے ایک الماری کے جو بھری پڑی ہے مسالوں سے ـ

دیکھیں یه مورت


که پانچ بندے کاٹ رهے هیں صرف فروٹ کو ، دیا جائے گا جو که افطاری میں روزھ داروں کو ـ

نہیں ہے وقت ڈار صاحب کے پاس پوز بنانے کا بھی فوٹو کے لیے ـ

یه هیں جی


پکوڑے چوزے کی ٹانگوں کے ـ

اور

تھاک بھرا ہے پکوڑوں کا کھانے کے لیے روزھ داروں کے ـ


سمو سے هیں که ابھی تلے نہیں هیں مگر جائیں کے پیٹ میں روزھ داروں کے اور باعث بنیں کے جلن کا سینے کی اور روزگار چلے گا ڈاکٹر کا ـ



پیکنگ هو رهی هے مٹھائیوں کی منگوائی گئیں هیں سات سمندر پار کے ملک پاکستان سے که روزھ افطار کریں مومن اور خود کفیل هوں شوگر میں ـ

بانٹ رہے هں ورکر لوازمات افطار کو ـ




ایک منظر یادگاری مسجد قبا کا سال دو ہزار آٹھ کے رمضان کا که روزھ دار بیٹھے هیں انتظار میں افطار کرنے کے ـ


یه ایک ایک تھالی دی گئی هر روزھ دار کو ،
شامل هیں اس میں پکوڑے بیسن کے اور چوزے کے کچھ دانے کھجوروں کے اور نمک پارے هیں اور دسیوں قسم کے فروٹ هیں ساتھ دهی مسالے دار کے ـ
لیکن اگر روزھ دار ختم کرلے اس خوراک کو تو اور لے سکتا ہے
نہیں هے کوئی مضائقه اس بات میں که کھانا بہت ہے ـ

اور یه ہے سارا بیان صرف افطاری کا ، نہیں ہے بیان اس میں اس کھانے کا جو دیا جائے گا بعد تراویح کے ،
تفصیل اس کھانے کی اگر اختصار میں کروں تو هوگا بریانی اور روسٹ گوشت کے ساتھ ، پینے کو هو گا کھوا ملا دودھ جس میں ملائے جائیں گے کچلے هوئے بادام اور دوسرے مغزیات یعنی پسته ، چہار مغز وغیرھ ـ
رب مہربانی کرئے معدوں پر مسلمانوں کے اور دے ان کو پچانے کی طاقت که بسایر خوری میں یکتا هیں زمانے میں یه لوگ ـ

جمعہ، 26 ستمبر، 2008

بخیل سیٹھ

دولت کے پجاریوں کے لیے امیر ادمی دیوتا مانند هوتـےهیں ـ
اور دولت کے پجاری ان کی تعریف میں کافی ایکٹو هوتے هیں ـ
سیٹھ صاحب بڑے چنگے بندے نیں ـ
سیٹھ صاب بڑے دهیالو نیں ـ
نمازیں پڑھ پڑھ کر ان کے متھے پر محراب بن گيا ہے ـ
لیکن
هر نماز میں سیٹھ صاحب ٹوپی تو پہن کر آتے هیں مگر پہلے هی سجدے میں اس کو سر سے گرا دیتے هیں جو که عموماً امام صاحب کی ایڑهیوں کے پاس گرتی هے تاکه باقی کے سارے نمازیوں کو معلوم رہے که سیٹھ صاحب بھی نماز میں کھڑے هیں ـ
ریاکاری بھی دولت کے پجاریوں کو سیٹھ صاحب ک ادا نظر اتی ہے ـ
لیکن اہل نظر کی بات کچھ اس طرح ہے که
سیٹھ صاحب کی ساری فیملی ڈنگروں کی تجارت کرتی ہے
میں بھی ڈنگروں کی تجارت میں انا چاهتا تھا
مگر ڈنگرں کی قیمت کا تعین نہیں کر سکتا تھا
اس لیے میں نے سوچا که اپنے سیٹھ صاحب کو فیملی کے افراد مجھے عرصه تیس سال سے جانتے هیں
اور کافی اچھے لوگ کہے جاتے هیں
ان سے پوچھ لیا جائے تو معلومات دے هی دیں گے ـ
جمعه کی نماز سے فارغ هو کر میں نے سیٹھ صاحبان سے پوچھا که میں بھی اس کاروبار میں انا چاھتا هوں اور مجھے اپ کے تعاون کی ضرورت ہے
اگر آپ مجھے قیمتوں کا تعین کرنے میں مدد کر دیں تو آپ کی مہربانی هوگی
سیٹھ صاحبان نے میری یه بات چلتے چلتے سنی ان سنی کی اور چلتے هوئے گاڑی میں بیٹھ گئے
اور چھوٹے سیٹھ صاحب نے گاڑی کا شیشه کھو ل کر بے دھیانی کی سی کیفیت میں میری طرف دھیان کر کے سنتے رهے ـ
میں نے سمجھا که اپنی مصروفیت کی وجه سے میری طرف دھیان ناں دے سکے مگر سیٹھ صاحب کافی چنگے مشہور هیں
مجھے معلومات دینے میں بخیلی نهیں کریں گے
اس لیے میں جب کہیں ایک ڈنگر خریدنے کے لیے گیا تو میں نے سیٹھ صاحب کو فون کر کے پیچھا که اس طرح کے ڈنگر کی مارکیٹ ویلیون کیا هے ؟؟
تو سیٹھ صاحب نے فرمایا که یه ڈنگر تو هميں لگتا هی نہیں هے
اس لیے کسی اور سے پوچھ لو ـ
اسی طرح کتنی هی دفعه هوا که میں جس ڈنگر کا پوچھتا وهی سیٹھ صاحب کو نہیں لگ رها هوتا تھا ـ
میں نے ان کو کہا که جی سیٹھ صاحب اپ کا اس کاروبار اس علاقے میں کافی بڑا نام ہے
اپ مجھے معلومات دے دیا کریں آپ کی مہربانی هو گي ـ
تو سیٹھ صاحب نے پیچھا چھڑانے کے لیے مجھے کہا که یار تم منڈی جایا کروں ـ
لو جی مجھے سمجھ آگئی که جی سیٹھ صاحب کافی سے زیادھ بخیل واقع هوئے هیں اس لیے میں نے ان سے پیچھنا چھوڑ دیا بلکه کسی بھی معاملے میں ان کوتکلیف ناں دنے کا فیصله کر لیا
مگر
سیٹھ صاحب کو اپنے پیسے کا رعب جمانے کا کافی شوق ہے میں اس بات سے بھی واقف تھا مگر مجھے ان سے
پیسے نہیں معلومات چاهیے تھیں ـ
اب مسجد میں یا پھر کسی دوکان میں ملاقات تو هو هی جاتی هے ناں جی ایک هی علاقے میں رھتے هوئے ـ
میں نے ایک دوکان سے خریدداری کی اور بڑے سیٹھ صاحب وهاں کھڑے تھے
انہوں نے فوراً میري فریداری کی ادائیگی کی پیشکش کر دی جو که میں نے بڑی شائستگی اور سختی سے رد کر دی ـ
لیکن مجھے انسلٹ کا احساس هوا که که سیٹھ صاحب نے میری غریبی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی هے
که مجھے جس چیز کی ضرورت تھی وه تو ان کے پاس هونے کے باوجود مجھے دی نهیں اور پیسے خرچ کر کے
لوگوں کی ٹکے ٹکے کا هونے کا احساس دلوارہے هیں ـ
انهی دنوں اپنے مشرف صاحب نے پاکستان میں ایمرجنسی لگا دی
یں نے سیٹھ صاحب سے پوچھا که جی اپ کا کا کیا خیال ہے اس معاملے میں ؟؟
تو جی سیٹھ صاحب نے منه توڑ جواب دیا
اؤے مینوں سیاست وچ کوئی دلچسپی نہیں ہے !!ـ
لو جی گل ای مک گئی
فٹبال ایسوسی ایشن کے صدرهونا تو باکل هی غیر سیاسی عہدھ هو گا
مسجد کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصه لینا اور ان کی کتنی سیاسی باتیں مجھے یاد آ گئیں
اور میں نے سوچا که جی سیٹھ صاحب انسلٹ کرنے کے بھی کافی سے زیادھ ٹیکنیکل ایکسپڑ هیں ـ
مین نے ان کی ایک اور بات کا بهت مشاھدھ کیا که
که سیٹھ صاحب هر ادمی کو اتنی هی گھاس ڈالتے هیں جتنا وه ان کے لیے کارآمد هو سکتا ہے !ـ
اب سیٹھ صاحب کی اس عادت کی روشنی میں سیٹھ صاحب میرے لیے تو کار آمد بندے هیں نہیں اس لیے میں نے بھی ان کو گھاس ڈالنی چھوڑ دی ـ
ایک دن کا ذکر ہو که جمعه کا روز تھا
جمعه کی نماز کے بعد میں نے مولوی صاحب کو کلفی کھانے کی دعوت دی
مولوی صاحب کے ساتھ ایک اور باباجی بھی تھے انہوں نے کہا که جی کلفی نہیں ہمیں روٹی کھانی ہے
مجھے تو خوشی هوئی که چلو کسی کو کھانا کھلانے کا موقع ملے گا
میں ان بابا جی اور مولوی صاحب کو لے کر ایک دوکان پر چلا گیا جہاں سیٹھ صاحب اپنے کچھ حواریوں کے ساتھ پہلے هی بیٹھے تھے
اب جی سیٹھ صاحب نے کیا کیا که اٹھ کر بڑی گرم جوشی سے تو مولوی صاحب کو ملے اور هم دونوں کو رسمی طور پر
اس کے بعد صرف مولوی صاحب کو اپنی ٹیبل پر ساتھ بٹھانے کی کوشش کی تو میں نے کہا که
جی سیٹھ صاحب
اب جب مولوی صاحب میرے ساتھ ائے هیں تو ان کو میرے ساتھ هی بیٹھنے دیں ـ
بہرحال کھانا کھا کر جب میں بل دینے لگا تو پته چلا که جی سیٹھ صاحب نے پلے هی بل دے کر میرا بچھایا دستر خان ''هائی جیک '' کر لیا ہے
میں نے دوکان دار کو کہا که تم ان کے پیسے واپس کرو میں اپنے پیسے خود دوں گا ـ
لیکن اس بات کا سیٹھ صاحب بھی برا منانے لگے
جب میں نے اصرار کیا
تو فرمانے لگے
که
جب تم اکیلے هو گے تو اپنا بل خود دے لینا ـ
مجھے بڑا دکھ هوا که مجھے یه بھکاری سمجھ رہے هیں جس کو پیسوں کی ضرورت ہے اور کچھ ٹکوں میں اس پر احسان کر رہے هیں
جس چیز کی مجھے ضرورت تھی یعنی معلومات کی اس میں تو یه سیٹھ صاحب انتہائی بخیل واقع هوئے که کہیں خاور بھی کاروبار کر کے پیسے والا ناں بن جائے
که اگر کوئی اور پیسے والا بن گیا تو ان کا فخر ' پیسا '' کسی اور کے بھی پاس آ جائے گا
اور اسطرح تھوڑے تھوڑے پیسے خرچ کر کے دولت کے پجاریوں میں دیوتا بنے بیٹھے هیں
وهاں ایک اور دیوتا کا اضافه پجاریوں کی کمی کا باعث بنے گا ـ
ایک عام ادمی سوچتا ہے که سیٹھ صاحب نے میرے کھانے کا بل دے کر میری عزت افزائی کی ہے مگر مجھے اس بات سے بے عزتی کا احساس هو رها ہے که سیبھ صاب هینڈ کر گئے
کیا خیال ہے جی اپ لوگوں کا بیچ اس بات که که میں غلط هوں ؟؟
بڑی باریک بات ہو یه خود کو ایک خوددار بندے کی جگه رکھ کر جواب دیں که کیا یه ایک معتبر بندے کی انسلٹ نہیں ہے کیا ؟؟؟

بدھ، 10 ستمبر، 2008

اپنے من میں ڈوب

بھگت کبیر کا ایک شعر ہے
تن مٹکی ، من دھی ، سرت بلوھن ھار
کبیرا ماکھن کھا گیو چھاچھ پئے سنسار

جسم کو آگر ایک مٹکا سمجھیں تو دل کو دھی اس جسم کے مٹکے میں دل کے دھی کو ڈال کے عقل کی مدانی سے بلوھنے والے اس واردات کو کرکے مکھن خود کھا گئے اور لسی بیچارے لوگوں کے لیے رھ گئی ـ

میں ذولفقار بھٹو کو پسند کرتا هوں که اس کے دور میں غریب کو اپنی طاقت کا احساس هوا بھٹو بڑا بندھ تھا جی که تن کی مٹکی میں من کا دوھ بھی تھا اور بلوھنے والی عقل بھی اور یارو بھٹو خود تو سولی پر چڑھ کر لوگوں کے دلوں میں زندھ رھ جانے کا ماکھن خود کھا گیا ور اب
باقی بچی لسی اس کو بیٹی نے بھی پی اور اس کا جنوائی بھی پی رها هے
اگر بھٹو کی بلوهی هوئی لسی ناں هوتی تو کیا بے نظیر بے نظیر بن پاتی یا پھر زرداری صاحب کے زر کے طرح داریاں هوتیں ؟؟
اس کے بعد میں پسند کرتا هوں نواز شریف کو که اس کے پہلے دور میں پیلی ٹیکسی اور غریب کو قرضے دینے کے عمل نے لوگوں كو ایک طرح کی اسائیش دیکھائی تھی ـ
بعد میں تو جی بھاری مینڈک نے پھدک پھدک کر وه حال کیا که بقول منو بھائی کے پندرھویں ترمیم کی کوشش میں تھے که امیر المومنین هی بن جائیں ـ
پاکستان میں سیاست چالاکی اور عیاری کا نام بن کر رھ گئی هے
جمہوریت کے معنی هی بدل دیے گئے هیں
الکشن کو تو برداشت هی نہیں کیا جاتا
بس سلیکشن کی بات هوتی هے
اور مزے کی بات ہے که سب سے بڑا بھی اپنی سلیکشن کے لیے امریکه بادشاھ کے سامنے زانو تلمند هوتا ہے ـ
پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اپنے اندر عہدوں کی تنظیم کے لیے الیکشن کرواتی هی نہیں هیں ـ
بس جی گدی نشین صاحب (چئیر مین) جس کو سلیکٹ کر دیں وهی وه هوتا ہے جو اس کو بتادیا جاتا ہے ـ

اس دفعه کے ایلکشن کے بعد نواز شریف کی سیاست تو بڑی سیاست تھی که ججوں کی بحالی پر زور دے رہے تھے اور ایک اسی ایشو پر اتحاد بھی بنالیا تھا
جسٹس افتخار چوھدری صاحب کو ریپوٹیشن کچھ انصاف کرنے والے جج کی هے اور هیں بھی !!!ـ
اس لیے نواز شریف کی سیاست تھی که اگر افتخار چوھدری بحال هو جائے تو یه جج خود هی سوموٹو ایکشن لے کر مشرف کا وه ارڈنینس ختم کر دو گا جس کی رو سے زرداری صاحب '' پاک صاف هو گئے هیں ـ
اور اگر ججوں کی بحالی میں زرداری صاحب ٹال مٹول کرتے هیں تو بھی نقصان زرداری صاحب کا که مقبولیت میں فرق پڑے گا ـ
لیکن جی زرداری صاحب چھا گئے هیں
که ان کو معلوم تھا که پاکستان میں مج(بھینس) اس کی هوتی هے جس کے ھاتھ میں ڈانگ(لاٹھی) هوتی ہے
اس لیے انہوں نے اپنے لیے صدر پاکستان کا عہدھ مانگ لیا جی سلیکشن کرنے والوں سے !ـ
صدر جس کے پاس آٹھ ونجوں کی ٹوپی (آٹھونجا ٹو بی) بھی هے ـ
اب جی ساری مجوں(بھینسوں ) پر تو جی ڈانگ والے صدر صاحب کا قبضه هو گيا
باقی سارے اب کہیں کے که میری مج (بھینس) بوری (سفید) تھی ـ
اپنی اپنی مج بوری(مجبوری) کا رونا هو گا
اور کہتے پھریں گے که جی یه هماری مج بوری تھی اور وه اس کی مج بوری تھی پر یارو اب مج کالی هو یا مج بوری ان پر اٹھ ونجوں کی ٹوپی کا اور صدارت کی طاقت کا معامله ہے

کسی بندے نے اپنی ایک فیکٹری پر اپنے سالے کو مینجر رکھا هوا تھا
جو که منافع میں ڈنڈی مارا کرتا تھا
اخر کار جب مالک کو معلوم هوا تو اس نے اپنے سالے کو نوکری سے نکل جانے کا حکم دیا
اور کبھی منه ناں دیکھانے کا وغیرھ وغیرھ
سالا کہنے لگا که جی میں رات کو گھر پر آؤں گا اور باجی کے سامنے اپ سے بات کروں اپنی صفائی میں
رات کو سالا صاحب گھر گئے اور اپنی صفائی میں یه کچھ اس طرح بات کی
که جناب بھائی جان آپ بتائیں که جیسا اپ جانتے هیں میرے پاس اپنی کوٹھی ہے کار ہے ایک بڑا بینک بیلنس ہے
بازار میں کچھ پراپرٹی خرید کر دوکانیں بھی کرایے پر دی هوئی هیں ـ
که هر طرح سے میں ایک خوش حال زندگی گزار رها هوں
اور میں نے یه سارا اپ کی فیکٹری کی کمائی سے هی بنایا هے
اب اکز اپ مجحے نكال دیتے هیں اور ایك نیا مینجر رکھتے هیں تو جناب اس مینجر کو یه سب نئے سرے سے بنانا پڑے گا
اور وه نئے سرے سے ڈنڈی مارے گا
تو جناب اپ مجھے هی مینجر رہنے دیں
که میں اتنی ڈنڈی نہیں ماروں گا جتنی که ایک نیا والا مینجر ـ

تو جی اس حکایت کی روشنی میں دیکھیں تو جی زرداری صاحب کے پاس پاکستان کا دیا سب کچھ ہے اس لیے هو سکتا ہے که اب یه صاحب ڈنڈی ناں ماریں که پہلے هی '' رجے '' هوئیے هیں ـ
سب سے بڑی بات یه هے که فوجی تو نہیں هیں ناں جی ؟؟
لیکن
یارو
امریت سے جان چھوٹی ہے اور استعمار کے پنجے میں پھنس گئے هیں ـ
میری قوم کی بد قسمتی هے که ان کو جمہوریت کی تعریف بھی معلوم نہیں هے ـ
استعمار کو جمہور کے نمائندے سمجھ کر مج بوری کی لسی پئے اونگھ رہے هیں ـ
بس جی میری وی مجبوری اے !!ـ

جمعرات، 4 ستمبر، 2008

فلماں

مرزا صاحباں کا منظوم قصه تو معلوم هی ہے سب کو
جس اخیر اس طرح هوتا ہے که مرزا کو صاحباں کے بھائی جھنڈ کے نیچے جان سے مار دیتے هیں
اس وقت جن مرزا اور صاحباں '' وصل '' لذت اٹھا کر سوئے پڑے هوتے هیں

اس ویڈیو میں شاعر کی سوچ کی پرواز دیکھیں که ان دونوں کا مرنے بعد کا مکالمه لکھ رها ہے
مجھے بڑا اچھا لگا جب مرزا کہتا ہے که
اگر میرے بھٍ بھائی ساتھ هوتے تو میں بھی موت کو مذاق کرتا ـ


یملا جٹ کا وه مشہور گانا جو هر پنجابی نے عمر کے کسی ناں کسی حصے میں سنا هو گا
دس مین کی پیار وچوں کھٹیا ؟؟
اسی گانے کو بڑھاپے ميں کاتے هوئے جٹ کی سانس ساتھ نہیں دیتی که لے کو اٹھا سکے مگر
مزا اگیا
یملا جٹ



شیو کمار بٹالوی پنجابی کے ایک درد بھے شاعر
پاک بنجاپ مین ان کو کم هی لوگ جانتے هیں
لیکن اس بات سے شیوکمار کی عظمت پر کوئی فرق نہیں ہے



لو جی اے ایک گانا ہے کهشاید هی آپ نے سنا هو گا
پنجاب کا ایک یه بھی رنگ هے روشن خیال سا
گانا سارا سننا ہے

Popular Posts