جمعہ، 26 ستمبر، 2008

بخیل سیٹھ

دولت کے پجاریوں کے لیے امیر ادمی دیوتا مانند هوتـےهیں ـ
اور دولت کے پجاری ان کی تعریف میں کافی ایکٹو هوتے هیں ـ
سیٹھ صاحب بڑے چنگے بندے نیں ـ
سیٹھ صاب بڑے دهیالو نیں ـ
نمازیں پڑھ پڑھ کر ان کے متھے پر محراب بن گيا ہے ـ
لیکن
هر نماز میں سیٹھ صاحب ٹوپی تو پہن کر آتے هیں مگر پہلے هی سجدے میں اس کو سر سے گرا دیتے هیں جو که عموماً امام صاحب کی ایڑهیوں کے پاس گرتی هے تاکه باقی کے سارے نمازیوں کو معلوم رہے که سیٹھ صاحب بھی نماز میں کھڑے هیں ـ
ریاکاری بھی دولت کے پجاریوں کو سیٹھ صاحب ک ادا نظر اتی ہے ـ
لیکن اہل نظر کی بات کچھ اس طرح ہے که
سیٹھ صاحب کی ساری فیملی ڈنگروں کی تجارت کرتی ہے
میں بھی ڈنگروں کی تجارت میں انا چاهتا تھا
مگر ڈنگرں کی قیمت کا تعین نہیں کر سکتا تھا
اس لیے میں نے سوچا که اپنے سیٹھ صاحب کو فیملی کے افراد مجھے عرصه تیس سال سے جانتے هیں
اور کافی اچھے لوگ کہے جاتے هیں
ان سے پوچھ لیا جائے تو معلومات دے هی دیں گے ـ
جمعه کی نماز سے فارغ هو کر میں نے سیٹھ صاحبان سے پوچھا که میں بھی اس کاروبار میں انا چاھتا هوں اور مجھے اپ کے تعاون کی ضرورت ہے
اگر آپ مجھے قیمتوں کا تعین کرنے میں مدد کر دیں تو آپ کی مہربانی هوگی
سیٹھ صاحبان نے میری یه بات چلتے چلتے سنی ان سنی کی اور چلتے هوئے گاڑی میں بیٹھ گئے
اور چھوٹے سیٹھ صاحب نے گاڑی کا شیشه کھو ل کر بے دھیانی کی سی کیفیت میں میری طرف دھیان کر کے سنتے رهے ـ
میں نے سمجھا که اپنی مصروفیت کی وجه سے میری طرف دھیان ناں دے سکے مگر سیٹھ صاحب کافی چنگے مشہور هیں
مجھے معلومات دینے میں بخیلی نهیں کریں گے
اس لیے میں جب کہیں ایک ڈنگر خریدنے کے لیے گیا تو میں نے سیٹھ صاحب کو فون کر کے پیچھا که اس طرح کے ڈنگر کی مارکیٹ ویلیون کیا هے ؟؟
تو سیٹھ صاحب نے فرمایا که یه ڈنگر تو هميں لگتا هی نہیں هے
اس لیے کسی اور سے پوچھ لو ـ
اسی طرح کتنی هی دفعه هوا که میں جس ڈنگر کا پوچھتا وهی سیٹھ صاحب کو نہیں لگ رها هوتا تھا ـ
میں نے ان کو کہا که جی سیٹھ صاحب اپ کا اس کاروبار اس علاقے میں کافی بڑا نام ہے
اپ مجھے معلومات دے دیا کریں آپ کی مہربانی هو گي ـ
تو سیٹھ صاحب نے پیچھا چھڑانے کے لیے مجھے کہا که یار تم منڈی جایا کروں ـ
لو جی مجھے سمجھ آگئی که جی سیٹھ صاحب کافی سے زیادھ بخیل واقع هوئے هیں اس لیے میں نے ان سے پیچھنا چھوڑ دیا بلکه کسی بھی معاملے میں ان کوتکلیف ناں دنے کا فیصله کر لیا
مگر
سیٹھ صاحب کو اپنے پیسے کا رعب جمانے کا کافی شوق ہے میں اس بات سے بھی واقف تھا مگر مجھے ان سے
پیسے نہیں معلومات چاهیے تھیں ـ
اب مسجد میں یا پھر کسی دوکان میں ملاقات تو هو هی جاتی هے ناں جی ایک هی علاقے میں رھتے هوئے ـ
میں نے ایک دوکان سے خریدداری کی اور بڑے سیٹھ صاحب وهاں کھڑے تھے
انہوں نے فوراً میري فریداری کی ادائیگی کی پیشکش کر دی جو که میں نے بڑی شائستگی اور سختی سے رد کر دی ـ
لیکن مجھے انسلٹ کا احساس هوا که که سیٹھ صاحب نے میری غریبی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی هے
که مجھے جس چیز کی ضرورت تھی وه تو ان کے پاس هونے کے باوجود مجھے دی نهیں اور پیسے خرچ کر کے
لوگوں کی ٹکے ٹکے کا هونے کا احساس دلوارہے هیں ـ
انهی دنوں اپنے مشرف صاحب نے پاکستان میں ایمرجنسی لگا دی
یں نے سیٹھ صاحب سے پوچھا که جی اپ کا کا کیا خیال ہے اس معاملے میں ؟؟
تو جی سیٹھ صاحب نے منه توڑ جواب دیا
اؤے مینوں سیاست وچ کوئی دلچسپی نہیں ہے !!ـ
لو جی گل ای مک گئی
فٹبال ایسوسی ایشن کے صدرهونا تو باکل هی غیر سیاسی عہدھ هو گا
مسجد کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصه لینا اور ان کی کتنی سیاسی باتیں مجھے یاد آ گئیں
اور میں نے سوچا که جی سیٹھ صاحب انسلٹ کرنے کے بھی کافی سے زیادھ ٹیکنیکل ایکسپڑ هیں ـ
مین نے ان کی ایک اور بات کا بهت مشاھدھ کیا که
که سیٹھ صاحب هر ادمی کو اتنی هی گھاس ڈالتے هیں جتنا وه ان کے لیے کارآمد هو سکتا ہے !ـ
اب سیٹھ صاحب کی اس عادت کی روشنی میں سیٹھ صاحب میرے لیے تو کار آمد بندے هیں نہیں اس لیے میں نے بھی ان کو گھاس ڈالنی چھوڑ دی ـ
ایک دن کا ذکر ہو که جمعه کا روز تھا
جمعه کی نماز کے بعد میں نے مولوی صاحب کو کلفی کھانے کی دعوت دی
مولوی صاحب کے ساتھ ایک اور باباجی بھی تھے انہوں نے کہا که جی کلفی نہیں ہمیں روٹی کھانی ہے
مجھے تو خوشی هوئی که چلو کسی کو کھانا کھلانے کا موقع ملے گا
میں ان بابا جی اور مولوی صاحب کو لے کر ایک دوکان پر چلا گیا جہاں سیٹھ صاحب اپنے کچھ حواریوں کے ساتھ پہلے هی بیٹھے تھے
اب جی سیٹھ صاحب نے کیا کیا که اٹھ کر بڑی گرم جوشی سے تو مولوی صاحب کو ملے اور هم دونوں کو رسمی طور پر
اس کے بعد صرف مولوی صاحب کو اپنی ٹیبل پر ساتھ بٹھانے کی کوشش کی تو میں نے کہا که
جی سیٹھ صاحب
اب جب مولوی صاحب میرے ساتھ ائے هیں تو ان کو میرے ساتھ هی بیٹھنے دیں ـ
بہرحال کھانا کھا کر جب میں بل دینے لگا تو پته چلا که جی سیٹھ صاحب نے پلے هی بل دے کر میرا بچھایا دستر خان ''هائی جیک '' کر لیا ہے
میں نے دوکان دار کو کہا که تم ان کے پیسے واپس کرو میں اپنے پیسے خود دوں گا ـ
لیکن اس بات کا سیٹھ صاحب بھی برا منانے لگے
جب میں نے اصرار کیا
تو فرمانے لگے
که
جب تم اکیلے هو گے تو اپنا بل خود دے لینا ـ
مجھے بڑا دکھ هوا که مجھے یه بھکاری سمجھ رہے هیں جس کو پیسوں کی ضرورت ہے اور کچھ ٹکوں میں اس پر احسان کر رہے هیں
جس چیز کی مجھے ضرورت تھی یعنی معلومات کی اس میں تو یه سیٹھ صاحب انتہائی بخیل واقع هوئے که کہیں خاور بھی کاروبار کر کے پیسے والا ناں بن جائے
که اگر کوئی اور پیسے والا بن گیا تو ان کا فخر ' پیسا '' کسی اور کے بھی پاس آ جائے گا
اور اسطرح تھوڑے تھوڑے پیسے خرچ کر کے دولت کے پجاریوں میں دیوتا بنے بیٹھے هیں
وهاں ایک اور دیوتا کا اضافه پجاریوں کی کمی کا باعث بنے گا ـ
ایک عام ادمی سوچتا ہے که سیٹھ صاحب نے میرے کھانے کا بل دے کر میری عزت افزائی کی ہے مگر مجھے اس بات سے بے عزتی کا احساس هو رها ہے که سیبھ صاب هینڈ کر گئے
کیا خیال ہے جی اپ لوگوں کا بیچ اس بات که که میں غلط هوں ؟؟
بڑی باریک بات ہو یه خود کو ایک خوددار بندے کی جگه رکھ کر جواب دیں که کیا یه ایک معتبر بندے کی انسلٹ نہیں ہے کیا ؟؟؟

4 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

اصول تو یہ ہے کہ آدمی کو ایک بار پرکھیں اور پھر اسے اس کے حال پر چھور دیں۔ اسی طرح منہ پھٹ آدمی کے کبھی منہ نہ لگیں اسی میں آپ کی عزت ہے۔
رہی بات کھانے کی رقم کی تو ْآپ کو ان کی رقم ہر حال میں واپس کرا کے کھانے کے پیسے خود ادا کرنا چاہیں تھے۔
کاروبار شروع کرنے کیلیے کم ہی لوگ مدد کرتے ہیں یعنی اپنے مرے بغیر جنت ملنے کے مصداق آدمی کو اپنے تجربات سے خود ہی سیکھنا پڑتا ہے۔ دنیا میں ایسے لوگ خال خال ہیں جو آپ کی مدد کسی غرض کے بغیر کریں گے وگرنہ یہی سچ ہے کہ
دنیا مطلب دی او یار
مطلب ہوے تے پیار وی کر دے ظالم دنیا دار

Noumaan کہا...

اچھی دلچسپ تحریر ہے۔ مجھے حیرت ہے کے آپ سارے جہاں میں گھوم پھرلینے کے بعد بھی کیسےایک کروفر سے تنی ہوئی بے ثمر ٹہنی سے کوئی توقع رکھ سکتے ہیں۔

اگر ایسے بے تکے لوگوں سے مقابلے بازی کریں گے تو وقت، پیسہ اور عزت گنوائیں گے۔

Rashid Kamran کہا...

تحریر بہت ہی جاندار اور دلچسپ ہے۔
میرا اپنا خیال ہے کہ تقریبا سب ہی لوگ ایک طرح‌کی رائے دیں گے۔۔ یقینا ایسے لوگ اپنی بڑائی قائم رکھنے کے لیے تو کچھ بھی کرجائیں گے لیکن کسی دوسرے کو سہارا دینے کا ظرف ناپید ہی ملے گا۔

ڈفر کہا...

پیسا ہے تو اپنے پاس رکھے ، ۔۔۔۔۔ نہ کرے
سیٹھ سیٹھ ہوتا نہیں یہ خوشامدی اور "چکو" لوگ اسکو سیٹھ بناتے ہیں

Popular Posts