ہفتہ, اکتوبر 11, 2008

سیاست اور گدی کا فرق

جاپان میں پاکستانیوں ميں اج کل بڑی هی ایکٹو ایک سیاسی جماعت (جاپان میں غیر قانونی)کے کچھ لوگوں سے فرداً فرداً گفتگو کا اتفاق هوا ـ
تو دوران گفتگو اساس هوا که سیاسی اور جمہوری پارٹی کے عہدھ داران کہلوانے والوں کو جمہوریت کی انتہائی بنیادی باتوں کا بھی معلوم نہیں ہے ـ
میں جن دوستوں کا یہاں ذکر کرنے جارها هوں ان کے خلوص نیت پر مجھے کوئی شک نہیں هے مگر ان کے علم پر ـ
جاپان کی مختلف کین (ڈویژن) میں آپ نے پاکستانیوں کو عہدے بانٹے جارہے هیں ان میں سے گنماں کین کے ایک عہدے دار کے ساتھ اویاما کے اوکشن میں بیٹھے تھے اور گفتگو اس بات پر چل نکلی که ان عهدوں کی حثیت کیا ہے ـ
جب مجھ سے میرے خیالات پوچھے گئے تو میں نے بتایا که جی اپ کے سارے عہدے فضول هیں کیوں که یه کسی ایلکشن سے نہیں بنے بلکه سلیکشن سے بنے هیں
تو ہمارے اس دوست کو معلوم هی نہیں تھا که پارٹیوں کے اندر بھی الیکشن هوتے هیں ـ
تو میں نے ان کو بتایا که جی اصولی طور پر هو پارٹی کے ورکر ایک ورکر کے طور پر رجسٹرڈ هوتے هیں
اور ان ورکروں کو آپ اپنی جماعت کے ووٹر سمجھ لیں
ان ورکروں میں سے کچھ لوگ عهدوں کے لیے کھڑے هوتے هیں اور باقی کے پارٹی ورکر ان کو ووٹ دے کر الیکٹ یا ریجکٹ کرتے هیں ـ

اور اصولی طور پر هر پارٹی کو اپنے منشور کے مطابق ایک ایک عرصه مخصوص کرنا هوتا ہے جس کے بعد اس پارٹی کی انتظامیه تبدیل هو جاتی ہے ـ
دوسرے دوست وه هیں جو که تھوچیگی کین میں رهتے هیں اور اس پارٹی میں اس وقت بھی شامل تھے جب اس پارٹی کے گدی نشین (اچھے لفظوں میں پارٹی لیڈر کہـ لیں )خاکی ولوں کے زیر عتاب تھے
یعنی که ایک مخلص ورکر!ـ
هم پاکستانیوں نے اپنی جمہوری پارٹیاں کہلوانے والی جماعتوں کو صرف ایک هی رنگ میں دیکھا ہے که ایک صاحب یا صاحبه کدی نشین هوتی هیں
اور تاحیات هوتی یا هوتا ہے هے ـ
اور پارٹی ان کی روحانی ملکیت هوتی ہے
اور ورکر ان کے مرید هوتے هیں اور ان مریدوں کو جس طرح پیران لوگ اپنے خلیفے چن لیا کرتے تھے ان کو سیکرٹری وغیرھ کا نام دے دیا کرتے هیں ـ
ٹوٹلی اپ دیکھیں گے که سارا سلسله ان روحانی سلسلوں کی طرح کا ہے جو برصغیر میں اسلام کے انے کے ساتھ ساتھ هی چل رہے هیں ـ
پیر صاحب کی بجائے لیڈر صاحب هیں
گدی کانام پارٹی قیادت ہے ـ
پیر صاحب کی منزل رب کی رضا هوتی تھی اور مریدان کی اس میں سے کچھ حصه ملنے کی
اور خلفاء صاحبان کو چندے میں سے ان کا حصه ملتا تھا ـ
اور پارٹی لیڈر کی منزل اقتدار هوتا ہے اور سیکرٹری لوگوں کی اس میں حصه ملنے کی ـ
سیاسی ورکروں کو ادھر ادھر پلاٹوں پرمٹوں وغیرھ کو شکل میں حصه مل جاتا ہے ـ
روحانی سلسلوں میں گدی نشین کا ورثه اس کو اولاد کو ملتا ہے
جو که عموماً اس وارث کو جواب میں بشارت کی شکل میں هوتا ہے
اور سیاسی پارٹیوں کی گدی بھی پارٹی لیڈر کی اولاد کو هی ملتی هے
وصیت کی شکل میں
اور یه وصیت پارٹی لیڈر کی موت کے دو دن پہلے کی لکھی بھی هو سکتی ہے ـ
آج کی پوسٹ کو یہیں ختم کرتا هوں
اور اللّه سے دعا کرتا هوں که هماری قوم کو چیزوں کو ڈیفینیشن مقرر کرنے کی سمجھ بوجھ دے ـ

2 تبصرے:

ڈفر کہا...

میرے خیال میں تو یہ نصیحت مرنے سے دو دن پہلے نہیں مرنے کے دو دن بعد لکھی جاتی ہے

Rashid Kamran کہا...

کاش کے لوگ جمہوریت اور آمریت یا گدی نشینی کے اس بنیادی فرق کو سمجھ سکتے۔۔ یعنی آمریت بو کر جمہوریت کاٹنے کی تیاری ۔۔ بہت اچھا لکھا ہے آپ نے ۔۔

Popular Posts