ہفتہ، 14 اپریل، 2018

گزرے کل کی بات


جاپان میں ایسا ہوتا تو کم ہی ہے کہ کوئی بندہ اپ سے ہاتھا پائی شروع کردے ،۔
گزرے کل کی بات ہے ،اپنے ایک جاپانی دوست کے ساتھ گاڑی میں جا رہے تھے ، دوست کی گاڑی  تھی ،۔
ہم دونوں پینڈو توچیگی کین کے بڑے شہر میں جا رہے تھے کہ ایک جگہ ہماری غلطی سے حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا ، پچھلی گاڑی والے نے ہارن بجا بجا کر غصے کا اظہار کیا ، ہارن کی تکرار سے میرے دوست نے گاڑی کو سائیڈ پر لگا کر زبانی معافی مانگنے کے لئے باہر نکلا تو ؟
پچھلے گاڑی والا جوان  جوکہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ تھا ، وہ بھی گاڑی کھڑی کر کے باہر نکل آیا ، وہ بڑے غصے میں تھا ، گالیاں دے رہا تھا ،۔
میرا دوست ندامت کا اظہار کر رہا تھا  لیکن پچھلی گاڑی والے نے آ کر اس کے سینے پر دوہتھڑ مارا ،۔
جس پر میرا دوست پوچھتا ہے ،۔
لڑائی چاہتے ہو؟
ہاں لڑائی چاہتا ہوں  کہہ کر اس نے دوسرا دوہتھڑ مارا ،۔
تو میرا دوست جو کہ کراٹے میں بلیک بیلٹ چار دان ہے ،۔
اور مسلسل ورزش بھی کرنا ہے ،۔
پچھلی گاڑی والے غصہ ور کو کہتا ہے اچھا ایک منٹ !!،۔
اور اپنی گاڑی کی ڈگی کھول کر اس میں سے  پچاس کلو وزنی “ سینڈ بیگ “ کو کھلونے کی طرح اچھال کر باہر نکالتا ہے اور سینڈ بیگ کو دو کک مار کر کہتا ہے ،۔
چھڈو یار آپکو بھی جو غصہ ہے اس بیگ کو دو چار لگا کر نکال لو !!،۔
بیگ کو لگنے والی ککوں کی ساؤنڈ سے اس کا غصہ پہلے ہی رفو ہو چکا تھا ،۔
لڑائی ختم کرنے کی آفر سن کر اس نے بھی  دو مکے زور زور سے سینڈ بیگ کو لگائے اور گاڑی میں جا بیٹھا ، اس کی گرل فرینڈ اور میرا ہنس ہنس کر برا حال ہو گیا  تھا ،۔

ہفتہ، 31 مارچ، 2018

لہجے تے کیٹاگریاں

پتہ نئیں کہ کیوں  ، پر گاما راشد دی بڑی عزت  کردا اے ،۔
منڈی  وچ  گاما راشد دے نال چل رہیا سی انیج لگدا سی پیا جیویں  گاما چاپلوسی کردا اے پیا  ، پر گامے نوں جانن والے جاندے نیں کہ گاما بڑا خوددار بندہ اے ،۔
سامنے توں  چیمہ صاحب اوندے سن پئے ، راشد نوں ویکھ کے بڑے چاء نال ایدھے نال سلام دعا کیتی  ، منڈی وچ نہ آون دے شکوے کیتے ، تے جدوں گامے نال نظر ملی تے گامے وی ہولی جیہی سلام چاء کیتی ،۔
ورزشی جسم والے گامے دی شخصیت دا رعب سی یاں کہ ایویں ای چیمہ صاحب راشد نوں پوچھدے نے ، راشد صاحب تعارف تے کرواؤ اے صاحب کون نے ؟
راشد اکھیا ، اے تہاڈے نال دے پنڈ دے کمہار جے ، گاما کمہار !!،۔
چیمہ صاحب کا لہجہ  ای بدل گیا تے پوچھدے نے ۔
اوئے ! توں ایں گاما ؟  بڑا ناء سنیا اے تیرا ،۔
پر گامے دی تے حالت ای بدل گئی اکھاں دیاں پتلیاں چٹیاں سفید  ہو گیاں ، گل وچوں گراریاں جیہیاں چلن دی آواز نکلی  تے اینج لگیا جیویں کوئی خراب روبوٹ بولدا اے  تے آواز نکلی توں ں ں ں ں ں  ، جیویں تنیاں ہویا تاراں دی وائیبریشن دی آواز ہوندی اے ،۔
توں اوں اوں اوں !!م،۔
گامے نے اپنے سر نوں دو تین واری تھپے مارے ،۔ چیمہ صاحب پریشان ہو کے ویکھن لگ پئے کہ پتہ نئیں کی ہون لگا اے تے راشد دے منہ تے وی ہوائیاں اڈں لگ پئیاں ،۔
کوئی دو کو منٹ بعد گاما ٹھیک ہویا تے آکھن لگا ،۔
او جی چیمہ جی تہاڈی توں سن کے میرے دماغ دے کمپیوٹڑ ویچ ایرر آ گیا سی ، پروسیسر کم چھڈن لگا سی ، بڑا جھٹکا لگا اے پر ہون کوئی گل نئیں ،۔
میں دماغ دے کمپویٹر وچ تیری کیٹاگری چینج کر دتیی اے ہون تون پاویں آکھ تے پاویں نہ آکھ ، ہن اے ایرر نئیں آئے گا ،۔
چیمہ مذاق اڈان والے لیہجے وچ پوچھدا اے
اوئے ، کیڑی کیٹاگری رکھی اے اوئے توں ، میرے اپنے کمپیوٹر وچ ؟
گاما بڑے بڑے اعتماد دے نال مضبوط لہجے وچ آکھدا اے ۔
پئین چوداں والی کیٹا گری !!!،۔
چیمہ صاحب نے گامے تے حملہ کر دتہ  تے گامے نے چیمہ صاحب نوں تھلے رکھ کے اتے چڑھ گیا ،۔
فیر لوکاں پولیس بلا لئی تے ہن دونوئیں تھانے وچ نے ،۔
ویکھو ضمانت  ہوندی اے کہ نئیں ،۔

بدھ، 28 فروری، 2018

پنجابی ویڈیو بلاگنگ ،۔


 واھ او میریا مالکا ، لکھوں ککھ کرنا ایں تے ککھوں لکھ کرنا ایں
اوہدی چہلدا نئیں کوئی چہال جگ تے جدہے ول  دا توں پکھ کرنا ایں
جیدا رب پکھ مارے ؟ یاروں ایتھے تے جیدا کوئی ایس پی یا ایم پی اے ، یا ایم این اے پکھ مارے اور علاقے دا معتبر ہوندا اے ،۔
رانی خان دا سالا ہونادا اے ،۔
تے جیدا رب پکھ مارے ؟
او ہٹلر ہوندا اے ، او چنگیز خان ہوندا اے ،۔
تسی پاویں نہ منو ، پر میں تے اے یقن رکھنا واں کہ ہٹلر ہوئے کہ جارج بش اینہاں پاویں دنیا توں وخت ای پایا ، پر اوس دور وچ اینہاں دے پچھے رب دی   ہی طاقت سی رب کا پکھ سی ،۔
میں تے آکھناں واں کہ کدی رب میرا پکھ مارے تے ؟
کسی ملک ویزہ کی ، کسی ملک قومیت دی کی دعا منگنی اے ، رب پکھ تے مارے ، میں اوس ملک  ای سودا مار لاں ، ملک ای خرید لاں ۔
بس ، ذرا جہیا ای سی ، رب میرا پکھ تے مارے ،۔
جیدا جیدا رب نے پکھ ماریا ، اوس اوس دا ، ناں ، اک زمانہ جاندا اے ،۔
جے رب میرا پکھ مارے ، جے میں رب کولوں منگا کہ
میریا ربا میرا وی پکھ مار ،
میں اے نئیں منگاں گا کہ جیویں محمود غزنوں دا پکھ مارایا سی ، ایویں ، جیویں احمد شاھ ابدالی دا  پکھ مارایا سی ایویں ،۔
ای کہ منگناں ہویا کہ بندہ  ہن بندے مارن لئی رب کولوں ساتھ دیں دیاں دعاواں منگے ،۔
میں تے منگاں گا  اور چیز جیہڑی منگی سی ابراہیم علیہ سلام نے ،۔
میرا ربا ، مینوں او ہنر دے جیہڑے لوکاں دے کم اون ، مینوں او علم دے جیہڑے علم  میرا  ، تے میری اولاد دا ناں اوچا کرن ،
میریا ربا ! کجھ اینج دا کردے ، میریا عادتاں ، اونہاں لوکاں جیہیاں ہو جان جنہاں لوکاں  دے ناں نوں توں امر کر دتا ، رہندیاں زمانیان تک ،  تے اونہاں دی اولاد نوں تے اون والیاں نسلاں  تک نوں دوجے لوکاں تے حکم دار بنا دینا اٰں
ہاں ہاں
اونہاں لوکاں دی گل کرنا پیاں واں ،۔
جنہاں نوں
أنعمت عليهم
اکھیا ای ،۔
میریا رب میرا وی پکھ مار ، کہ میں تیری حمد کردا رہواں ، میریاں اون والیاں نسلاں وی  تیری حمد کرنا تے زمانے وچ سر کڈھدے لوک ہو جان ،۔

جمعرات، 22 فروری، 2018

رب نال گلاں ، ویڈیو


ہفتہ، 10 فروری، 2018

آٹو درائیو کاریں ۔

آٹو ڈرائیو  کاریں ۔
جاپان کے وزیر اعظم جناب آبے نے عندیہ دیا ہے کہ دوہزار بیس تک کاریں آٹو ڈارئیو پر ہو جائیں اور دوہزار تیس تک سڑکوں پر بھی دوڑنے لگیں ،۔
پہلے پہل لوکل اور ابادیوں کی سڑکوں پر چلائی جائیں اور اور اگلے مرحلے میں ہائی ویز پر ،۔
آٹو ڈرئیو کی کاروں  اور ٹرکوں کو آٹو ڈرائیو پر  منتقل کر کے گاڑی میں سوار لوگوں کی ایکٹویٹی پر پرزینٹشنز ویڈیو بنا کر دیکھائے جا رہے ہیں ،۔
کہ کیسے گاڑی آٹو ڈائیو پر چل رہی ہے اور گاڑی میں سوال لوگ سیٹو کے منہہ ایک دسرے کی طرف کر کے میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں ۔
یا کہ لمبی مسافتوں کے مال بردار ٹرک کے ڈرائیور ، ٹرک کو آٹو پر کرکے کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں یا کہ سمارٹ ڈیوئیس پر ویڈیو ، گانے  یا کہ اپنے معاملے کے لئے روابط کر کے وقت کو استعمال کر رہے ہیں ،۔
یہ کوئی خواب و خیال کی گپیں نہیں ہیں  گاڑیاں ، ورکشاپوں میں تیار ہو رہی ہیں ، دوہزار بیس بس دو سال بعد ہی آنے والا ہے ،۔
 اور بارہ سال بعد  دوہزار تیس ، ہم سے کئی لوگ زندہ ہوں گے اور کئی میچور ہو چکے ہوں گے ،۔

پلٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو
والی تصویر بنتی جا رہی ہے کہ
اکیسویں صدی کی یہ آٹو ڈرائیو گاڑیاں ، ہند کے گاؤں دیہات میں چلنے والی بیل گاڑیوں ، گھوڑے کے  ٹانگے کی طرح ہوں گی ،۔
بیل گاڑیوں پر مال لادھے ہوئے شہر کی طرف منہ کئے گڈھے کا ڈائیور  مال سے ٹیک لگائے بیٹھا ہوتا تھا ،۔
علاقائی زبان کی کوئی منظوم لوک کہانی ، ماہئے یا کہ گیت گا رہا ہوتا تھا ،۔
بیل خود سے چلتے جاتے تھے ،سامنے سے آنے والی چیزوں ، انسانوں مکانوں سے بچ کر نکل جانے میں ڈائیو ر کو ٹینشن نہیں لینی پڑتی تھی ،۔
ٹانگے کا کوچوان باگیں ڈھیلی کئے ، پائیدان پر پیر ٹکائے بانس پر تشریف رکھے ہوئے ، تماشاہائے اہل کرم دیکھ رہا ہوتا تھا ،۔
پھر انجن والی گاڑیاں آ گئیں ، سٹئیرنگ تھامے ہوئے ڈارئیور کی انکھ جھپک گئی یا دھیان بٹ گیا تو ؟
کئی جانئں  ،جان سے گئیں ،۔
لمبی مسافتوں کے ڈارئیور لوگوں کے اعصاب تنے رہ رہ کر چٹخ جاتے تھے ،۔ آنکھیں پتھرا کر رہ جاتی تھیں ، ،۔
میوزک ،جو کہ امیروں کی عیاشی ہوا کرتی تھی آڈیو کے انے سے ڈرائیور کو ایک یہی عیاشی میسر تھی کہ کیسٹ بدلو اور گانے سنو،۔
لیکن دھیان نہ بٹ جائے کہ جان سے جاؤ گے اور گھر پر بیوی بچے انتظار ہی کرتے رہ جائیں گے ،۔
آٹو ڈارئیو کے انے سے بیلوں کی نکیل ، گھوڑے کی لگام ڈھیلی چھوڑ کر وقت کو انجوئے کرنے والے گاڑی بان یا کوچوان کی طرح اب ڈرئیور بھی  ٹرک کو آٹو ڈرائیو کر کے وقت کی بچت کر لیا کریں
 گے ،۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ وقت کی بچت ؟ پیسے کی طرح وقت کو بچا کر رکھ لیا جانا ناممکن ہے ۔
اگر کوئی کسی کو وقت کی بچت کا طریقہ بتا رہا ہو تو ؟
یہ ایک علیحدہ موضوع ہے اس پر پھر کبھی سہی ،۔
ابھی اپ اپنے تصور میں آٹو ڈرائیو والے ٹرک اور بیل والے گڈھے کا تقابل کر کے انجوائے کریں ،۔

پیر، 15 جنوری، 2018

بے تال لوگوں کا منتر

ہمالیہ کی ترائیوں سے بحر ہند کے پانیوں  تک کی سرزمین ہند میں  ،۔
ہندو لوگوں کا ایک قبیلہ ، جس کو “ بے تالے “ کہتے ہیں بکھرا پڑا ہے ،۔
کہیں یہ بے تال کہلواتے ہیں کہیں بے تالے ، کہیں بٹالے اور کہیں بٹ لالے ،۔
بے تال کے معنی ہوتے ہیں ، کھسکا ہوا یا کہ بے عقل یا کہ جس کی سوچ کے تال میل نہ کھاتے ہوں ،۔
لیکن
ان لوگوں میں بڑے بڑے کاروباری ، دانش وار اور مفکر لوگ پیدا ہوتے ہیں ،۔
ان لوگوں میں ایک روایت پائی جاتی ہے کہ کئی سال قبل مسیح میں راجہ بکرم اجیت کے دور میں ، راجہ بکرم اجیت کے رتن نے ان کے بڑے بزرگ کو بتایا تھا کہ
تم ایک بے تال ہو ، تم میں عقل نہیں ہے ،۔
اور تمہاری انے والی نسلوں میں بھی کوئی عقل مند  پیدا نہیں ہو گا ،اس لئے تم کو میں ایک منتر بتاتا ہوں
جو کہ تم نے اپنے بیٹوں اور بیٹوں کو بتانا ہے اور ان کو کہنا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو بھی یہ بتاتے رہیں ،۔
تمہاری نسل میں جو جو یہ منتر یاد رکھے گا ، اس کو ہر زمانے میں عزت ،دولت اور وقار ملے گا ،۔ جو جو یہ منتر بھول جائے گا  وہ وہ زمانے میں رسوا ہو گا ،۔
میرے سے اور میری نسل میں کبھی کوئی عقل مند پیدا نہیں ہو گا ،  میرے بالکو ! ،۔
اس باتکا  تمہارے پڑسیوں کو علم نہیں ہونا چاہئے  ، اس بات کو راز رکھنے اور چھپانے کے لئے ، تم نے کوشش کر کے اور بڑی تندہی سے  جنتر (اسٹرونومی اور ہندسوں کا علم) اور منتر (تحریر کا علم)سیکھنا ہے ،۔
تم میں سے جو جنتر اور منتر نہ سیکھ سکے وہ انت کی مشقت کر کے اور اپنا منہ بند رکھ کے اس راز کی حٖفاظت کرئے گا ،۔
میرے بالکو ! یاد رکھنا تم نے کبھی بھی کسی بھی زمانے میں بھیک اور سود نہیں کھانا ،۔

بے تالوں کے خاندان میں یہ منتر پڑھا جاتا ہے اور بے تالے لوگ ہر زمانے میں سرتال (ردھم) کے ساتھ کامیاب لوگ رہے ہیں ،۔

منگل، 2 جنوری، 2018

برف پر پھسلنا


سکیئینگ اور سکیٹنگ ،انگریزی کے دو الفاط ہیں جن کے اردو میں  معنی “ برف پر پھسلنا “ پڑھائے جاتے ہیں ،۔
حقیقت میں یہ دونں کھیل ، گیم یا کہ سہورٹس کہہ لیں بلکل دو مختلف چیزیں ہیں ،۔ ان کے اصول اور قوانین ، سے لے کر استعمال کے اوزار کپڑے اور ماحول تک میں بہت فرق ہے ،۔
اسکیٹنگ ، جمی ہوئی برف جس کو انگریزی میں  آئس کہتے ہیں اس پر پھسلنے کو کہتے ہیں ،۔
اور سکئینگ ؟ برسنے والی برف ، یعنی  سنو پر پھسلنے کو کہتے ہیں ،۔
میں نے ایک دو دفعہ اسکیٹنگ کی کوشش کی ہے لیکن مجھے اس میں مزہ نہیں آیا یا کہ کہہ لیں میں اس کو صحیح طریقے سے کر ہی نہیں سکا ،۔
لیکن سنو پر پھسلنے والی  یعنی اسکیئینگ  انیس سو نوے سے کر رہا ہوں ،۔
کراٹے کے استادوں کی مہربانی جنہوں نے مجھے برف پر پھسلنا ، بریک لگانا موڑ کاٹنا اور رکنا سکھایا ،۔

یکم جنوری  2018ء کے دن توچیگی کے پہاڑوں پر سکیئینگ کے لئے گیا تھا ،  ، چار تاریخ کو پھر جانے کا پروگرام ہے ،۔
اس سے پہلے کئی سال سکئینگ کے لئے نہیں جا سکتا تھا ،۔

جمعرات، 28 دسمبر، 2017

ماخوذ

توہین مذہب کے ڈر سے ،ہندوانہ رنگ میں پیش کرتے ہیں ،۔
کہ
جوان لڑکی بھگوان سے پراتھنا کرتی  ہے ،۔
پربو ! میں  بیاھ نہیں چاہتی ، میں  ودیا ، گیان کے ساتھ ساتھ آتما کی شانتی خودانحصاری چاہتی ہوں ، مجھے خصم نہیں چاہئے ،۔
اے بھگوان میری سن لے مجھے خصم سے بچا لے  ،۔
بھگوان کی آواز آتی ہے ،۔
ناری ! میں نے تمہیں بہت سندر اور بھرم بھری بنایا ہے ، بڑے ہی گن رکھے ہیں تم میں لیکن تم سارے کا م نہں کر سکتی جب جب تم غلطی کرو گی تمہیں الزام دینے کے لئے ایک خاوند کی ضرورت ہو گی ،۔
صرف اپنی غلطیوں کو الزام دینے کے لئے ایک خاوند ،۔
گاما بھی مندر میں ہی تھا ، بھگوان کی آواز سن کر گاما تلملا کر رہ گیا اور بات کئے بغیر نہ رہ سکا
اور بھگوان سے پوچھتا ہے
تو میں کیا کروں ؟ میں کس کو الزام دوں ؟؟
آواز آتی ہے ،۔
پترا ! تمہارے لئے بہت وسعت کے   میدانوں میں  ۔
تم حکومت کو الزام دے سکتے ہو ، نظام تعلیم کو الزام دے سکتے ہو ، ماحول کو الزام دے سکتے ہو ، اکنامک کی سست گروتھ کو اور تیز گروتھ کو بھی الزام دے سکتے ہو ،۔
تم مذہب کو الزام دے سکتے ہو بیوروکریسی کو الزام دے سکتے ہو ،۔
سیاستدانوں کی بہن کی سری کر سکتے ہو
اور تو اور تم مجھے ، یعنی بھگوان کو الزام دے سکتے ہو ،۔
بس ایک بات یاد رکھنا  بیوی اور فوج کو الزام نہیں دینا
اور
اور
 اور
عمران خان کو بھی الزام نہیں دینا ورنہ پی ٹی آئی والے بڑی گندیاں گالاں کڈدے نی !!،۔
ماخوذ

منگل، 19 دسمبر، 2017

محاورے کی کہانی،۔

محاورے کی کہانی،۔
پرانے زمانے میں کہیں کسی ملک میں کسی بادشاھ نے  مگر مچھ پالے ہوئے تھے ،۔
ایک دن بادشاھ نے اپنے امراء اور وزراء کو  بمع ان کے بیوی بچوں کے اکٹھا کیا اور ان کو مگر مچھوں والے تالاب کے پاس لے گیا ،۔

یہاں تالاب کے پاس  بادشاھ نے اعلان کیا کہ
جو بہادر مرد اس تالاب میں تیر کر دوسرے کنارے تک جائے گا  ، اگر وہ کامیاب ہوا تو اس کو پانچ کلو سونا اور دس گاؤں کی جاگیر عطا کی جائے گی ،۔
اور اگر  چیلنج قبول کرنے والا   مرد ،مگر مچھوں کا شکار ہو کر مارا گیا تو ؟
اس کے پسماندگان کو  دو کلو سونا اور پانچ گاؤں کی جاگیر عطا کی جائے گی ، تاکہ مرنے والے کے بیوی بچے خجل ہو کر نہ رہ جائیں ،۔
سب لوگ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ، ایک سناٹا سا چھا گیا ۔
مردوں کے چہرے کا رنگ اڑا ہواتھا کہ
ایک بندہ ، کپڑوں سمیت تالاب میں کود گیا ، پھراس  نے پلٹ کر نہیں دیکھا ، مگر مچھوں نے اس کا تعاقب کیا لیکن مرد بچے کی سپیڈ تھی کہ مگر مچھ رجے ہوئے تھے ،۔
کودنے والا مرد  کامیاب ٹھہرا ،۔
بادشاھ نے اعلان کیا کہ وعدے کے مطابق اس کو پانچ کلو سونا اور دس گاؤں کی جاگیر عطا کی جاتی ہے ،۔
کہ
ایک بچہ  چیخ کر کہتا ہے ۔
اس کو اس کی بیوی نے تالاب میں دھکا دیا تھا ،۔
بادشاھ کہتا ہے جو بھی ہوا  ، اب یہ بندہ کامیاب ہوا !!،۔
اس دن سے محاورہ بنا ہے کہ ہر کامیاب بندے کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے ،۔
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی
کیونکہ محاورہ نامکمل ہے ۔
کامیاب شخص نے جاگیر حاصل کر دولت اور نوکر چاکر بھی آ گئے ، کہ اس کو اپنی بیوی جو کہ اب موٹی ہو کر دولیٹر والی کوکے کوکے کی بوتل بن چکی تھی بری لگنے لگی ،۔
کامیاب شخص نے بہت سی باندیاں خرید کر  اپنا حرم بنا لیا ،۔
ایک سال میں اس کے پاس کوئی پچاس باندیاں تھیں اور بیوی صرف ایک ہی تھی ،۔ جس کو ایک علیحدہ محل بنا کر اس میں منتقل کردیا تھا ،۔
کہ اگلے سال  پھر اسی تالاب کے کنارے اسی بادشاھ نے اعلان کیا کہ
پچھلے سال کی طرح کامیاب بندے کو پانچ کلو سونا اور دس گاؤں کی جاگیر دی جائے گی
اور مرنے والے کے پس ماندگان کو  اس کے ادھے سونے اور جاگیر سے اشک شوئی کی جائے گی ،۔
لیکن اس سال ایک نئی شرط یہ ہو گی
کہ
جو شخص تالاب میں چھلانگ نہیں لگائے گا ! اس کی زر خرید باندیوں میں سے ادھی نفری بحق بادشاھ ضبط کر کے بادشاھ کے حرم میں داخل کر لی جائے گی ،۔
باندیوں اور کنیزوں کا بادشاہی حرم میں داخلے کا شوق تھا کہ اپنے مالک کو بچانے کی خواہش  ، سب مردوں کی باندیاں فوراً ان کے پیچھے آن کر کھڑی ہو گئی تاکہ کسی کی بیوی اس کو دھکا نہ دے سکے ،۔
اس سال کوئی بھی شخص تالاب میں نہ کود سکا ،۔
سب کی باندیوں کی ادھی نفری بحق بادشاھ ضبط کر لی گئی ،۔
کسی کی تین گئیں کسی کی پانچ سب سے زیادہ نقصان پچھلے سال کے کامیاب شخص کا ہوا کہ اس کی پچیس نفر بانیاں بادشاھ کے حرم میں داخل کر لی گئی ،۔
اس سال کا سب سے ناکام شخص بھی وہی ٹھہرا ،۔
اس طرح محاور بنا کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے اور ہر ناکام مرد کے پیچھے کئی عورتیں ہوتی ہیں ،۔

شیشہ

جاپان میں ٹوٹ جانے پر خود کو جوڑ لینے والے شیشے کی دریافت ،۔
جاپان کی لوک کہانیوں میں ایک کہانی ہے جس میں
کہ
ایک کنیز اپنے مالک کی محبت کو ازمانے کے لئے ایک شیشے کی پلیٹ ٹوڑ دیتی ہے ،۔
محبت کا ٹیسٹ ناکام ہو جاتا ہے اور مالک اس کنیز کو قتل کروا کر اندھیرے کنوئیں میں پھینکوا دیتا ہے ،۔
کنیز ایک چڑیل بن کر آ جاتی ہے اور ہر رات باقی کی بچی ہوئی پلیٹوں کو گنتی رہتی ہے ،  پلیٹیں گن گن کر کنیز کی روح مالک کی مت مار دیتی ہے کہ مالک کو بھی خود کشی کرنی پڑ جاتی ہے ،۔
ہائے ، کاش  !!۔
کہ
ٹوکیو یونیورسٹی ، خود کو جوڑ سکنے والا شیشہ اس زمانےمیں دریافت کر لیتی تو ، یہ دونوں کریزی بچے مرنے سے بچ جاتے بلکہ تھوڑی سی کوشش سے پنشن  بھی پاتے  اور ہو سکتا ہے کہ انشورینس کا کوئی اچھا سا پلان لے کر بہت سے بچے جنم دے کر چھوڑ جاتے ،۔
لیکن  ایسا نہیں ہوا تھا
اب اکیسویں صدی میں ٹوکیو یونیورسٹی نے ایک ایسا شیشہ دریافت کیا ہے جو کہ ٹوٹ جانے کی صورت میں  انسانی ہاتھوں سے اگر ٹوٹی ہوئی جگہوں پر جوڑ دیا جائے تو چند سیکنڈ میں جڑ جاتا ہے، ۔
اور اگر اس کو چند گھنٹے  آرام دیا جائے تو شیشہ اپنی اصلی اور پرانی شکل میں مضبوطی سے جڑ جاتا ہے ،۔
تصور کریں کہ اپ ہاکی یا کرکٹ کا میچ دیکھ رہے ہیں ، کرپٹ پاک انتظامی کی سلیکٹیڈ ٹیم کو ہارتے دیکھ کر  کوئی چیز اٹھا کر دیوار میں دے مارتے ہیں تو ؟
بیوی کی چخ چخ اور پیسے کے نقصان کا اندیشہ اب ختم ہو جائے گا ،۔
ہماری زبان میں جو شیشے اور دل میں تریڑ پڑنے والے محاورے ہیں وہ بھی بدل جائیں گے کہ
دلوں کی میل کو دور کرنے والی دوائی (خلوص) توصدیوں پہلے دریافت ہو چکی ہے لیکن کوئی استعمال ہی نہیں کرتا ،۔
اور اب شیشے کی تریڑ والی بات بھی کہانیوں کی بات رہ جائے گی ،۔
پروفیسر آئیدا اور ان کے طلبہ ٹیم سے یہ دریافت بھی دیگر بڑی بڑی دریافات کی طرح بلکل حادثاتی طور پر ہو گئی ہے ،۔
ورنہ پروفسر صاحب ایک قسم کی شریش (جوڑنے والی چیز) کو بنانے کی کوشش میں تھے ،۔

Popular Posts