جمعرات، 3 اگست، 2023

بابا نانک

 بابر بہ عیش کوش 

کہ عالم دوبارہ نیست

مغلوں کے جد امجد  بابر کو بھی علم تھا کہ ایک اور زندگی سوٹ کیس میں نہیں رکھی ہوئی اس لئے اسی زندگی سے عیش کرنی ہے 

لیکن

اسنے ظلم کو عیش سمجھا تھا 

اور 

پنجابی کا ایک شعر ہے کہ کر کے ظلم عروج تے اون والے 

اینی گل دا زرا خیال رکھیں 

اوچی ہوا وچ جا کے پاٹ جاندے ، جنہاں گڈیاں نوں کھلی ڈور ملے ،۔

 ابراہیم لودی کے اسلام کو کینسل کر کے اپنا اصلی اور پستے بادام والا اسلام لے کر بابر جب کابل سے چلا تھا تو ۔

پنجاب کے عظیم درویش  بابا جی نانک نے اسکو سوروں کی بارات کہا تھا ،

تگانے دا منگدا دان وے لالو 

اے کیڑا پرداھان وے لالو

بابر کی چڑھتل تھی ، اقبال تھا ، کہ ظالم نے بابے نانک کو پکڑ کر چکی پیسے پر لگا دیا ،۔

نانک ایک شخصیت کا نام نہیں تھا ، ناناک ایک روح کا نام ہے ، ایک نیکی کا نام ہے ناناک ایک برکت کا نام ہے ، جو مرتی نہیں ہے ، ۔

اور ظلم خلاف چلتی رہتی ہے ،۔

بابے کے ایک داس مان سنگھ نے بابر کی نسل کے اخری  شاھ ظفر کو ہتھکڑی لگا کر  انت کر دیا تھا ، مان سنگھ  گوجرانوالہ کے قصبے منڈیالہ کا ایک سکھ تھا جو میجر ہڈسن کے ساتھ گیا تھا بہادر شاھ ظفر کو گرفتار کر کے رنگون بھیجنے کے لئے ،۔

بابا جی  ناناک بھی کوئی دور کے نیں تھے یہی تلونڈی کے تھے جس کو اج ننکانہ صاحب کہتے ہیں ،۔

وسدا رہے پنجاب 

کہ ڈاکٹر منظور اعجاز صاحب نے قادر یار کے قصہ پورن بھگت کو بھی پنجاب کا قصہ کہا ہے کہ پورن (پنجاب)کو کنوئیں سے نکال کر ہاتھ پاؤں دینے والا جوگی کوئی اور نہیں تھا بلکہ بابا جی نانک درویش تھے ،۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts