جمعہ، 25 مئی، 2018

دل کی دل سے راھ


جناب شاھ جی  بلنگا شاھ سرکار گامے سے پوچھتے ہیں ،۔
گامیا ، تم اج اپنے دل کی اصلی بات بتا ہی دو کہ تم  میری کتنی عزت کرتے ہو ؟
گاما : جناب شاھ جی قبلہ ، میں اپ کی ٹھیک اتنی ہی عزت کرتا ہوں جتنی کہ اپ کے دل مبارک میں میرے لئے عزت اور قدر ہے ،۔
شاھ جی تھوڑا زیر لب مسکرا کر گویا ہوتے ہیں ۔
تم میرے دل کی پوچھتے ہو ؟ میرا دل حکمت اور نور سے بھرا ہوا دل ہے ، علم اور حکمت کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی دعاؤں سے اس دل میں ہر بندے کی  وہی قدر اور حثیت ہے جو کہ اس بندے کی اصلی حثیت  ہو سکتی ہے ،۔
گاما : جی بس  جی ، وہی ویسی ہی باتیں میرے بھی دل میں ہیں ،۔
شاھ جی : پھر بھی میں سننا چاہتا ہوں کہ تمہارے دل میں میری کتنی عزت ہے ؟
گاما پہلے اپ بتاؤ جی ؟
شاھ جی : یار گامیا ، میں نے کیا بتانا ہے اور کیا اظہار کرنا ہے ،
تم بس ایک نیچ ذات کے کمی ہی تو ہو ، تمہاری حثیت کیا اور عزت کیا ؟
تم بس سادات سے عزت کا اظہار کر کے اپنے دل کی بات بتاؤ ؟
گاما ہاتھ جوڑ کر گگیاتا ہوا کہتا ہے ،۔
شاھ جی اپ  وہ سفید پوش سیاھ کار ہو جو بھیک کی کمائی سے چلتے ہو  اور سخت کام چور واقع ہوئے ہو ۔
یہ ہے میرے دل میں اپ کے لئے شاھ جی قبلہ !!!،۔
شاھ جی غصہ کر جاتے ہیں ، عام عوام کے لہجے میں گالیاں دیتے ہوئے وہاں سے چلے جاتے ہیں ،۔
اگلے دن شاہنی صاحبہ گامے کی بیوی گھر پر بلاتی ہیں ،اور اس کو سخت سست کہتی ہیں اور جھاڑ پلاتی ہیں کہ گامے نے  شاھ کی کی بے عزتی کی ہے 
اس لئے روز محشر ہم نے اپ لوگوں کی سفارش نہیں کرنی ہے ،۔
اب شاھ جی کا غصہ ٹھنڈا کرنے کا ایک ہی حل ہے۔
 کہ تم ایک تھال کچے چاولوں کا بھر کر 
 چاولوں کی چوٹی بنانی ہے ،
اور اس چوٹی پر ایک گڑ کی روڑی ٹکا کر 
اس کے اوپر ایک نئی پگ کا کپڑا رکھ کر 
شاھ جی کو کو نذر گزارنی ہے ورنہ تم لوگوں کو بہت شراپ لگے گا ،۔
گامے کی بیوی تھال تیار کر رہی تھی 
اور گاما بڑبڑا رہا تھا 
یہ ہے ان کا بھیک مانگنے کا طریقہ !،۔
گامے کی بیوی کہہ رہی تھی 
یہ بھیک نہیں ہے 
یہ نذرانہ ہے نذرانہ !۔

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts