جمعہ, مئی 29, 2015

دوہزار پندرہ مئی جون کے فیس بک کے چٹکلے


اخرت میں بخشش ، تو بڑی دور کی بات ہے ۔
اپنے  *مذہبی * صاحب کا بس چلے تو؟
کسی جاپانی کو اوکشن کی ممبر شپ تک  کی “اجازت “ نہ  دیں ۔
(^.^)
جس طرح اپ ،اپنے مذہبی سکالر کی عقیدت اور علمی قابلیت کے معترف ہیں ۔
اسی طرح ، قادیانی ، مرزا غلام احمد کے ، مولوی طاہر کے قادری لوگ اپنے اپنے بڑے کے علم کے معترف ہیں ۔
بریلوی ، دیو بندی ، اہل حدہث ، اہل تشیع ، بلکہ ہندو ، سکھ ، کیتھولک  لوگوں کا بھی  یہی حال ہے ۔
اس لئے اگر اپ کو قران کی باتیں کرتا خاور  عجیب لگتا ہے تو ؟ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ، بلکہ ! تکنیکی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے۔
کیونکہ
 اپنا اپنا کمپیوٹر سسٹم ہے جس میں دوسرے سسٹم کا فائل فارمیٹ   چلانے پر ایرر آ جاتا ہے ۔
(^.^) 😀

بیوی ،اچھو سے پوچھتی ہے ، سونے  کی چین کب لے کر دو گے ؟
اچھو .، جب مجھے چین سے سونے دو گی !!!۔
(^.^) 😀

ایک پارٹی میں  ، گانے چل رہے تھے ، ڈی جے نے نیا گانا لگانے سے پہلے کہا ۔
ایک ڈانس کرنے والا میوزک لگا رہا ہوں ، جس جس کو ڈانس نہیں کرنا ،وہ جا کر اپنی  بھینس چرائے !!۔
گامے نے یہ سن کر اپنی بیوی کو کہا ۔ چل بھلئے لوکے  میں تمہیں کھانا کھلاؤں  ۔
(^.^) 😏🐃

دماغ اگر پرنٹر ہوتا تو ؟ میں اپنے خیالات کو  تصاویر میں مجسم  کر لیتا۔
دل  میں اگر بلیو ٹوتھ ہوتا تو دل  کی دل سے راہیں نکال لیتا ۔
سکھ اگر  میموری سٹک ہوتے تو ؟ میں ان کا بیک اپ لے لیتا ۔
ہائے کاش کہ زندگی  ایپل کے کمپیوٹروں کی طرح  ہسٹری کا اپشن رکھتی  ، تو میں اپنے بچپن کی فائیلیں  ہی کھولے رکھتا  ۔
لیکن
یہ سب ممکن نہیں ہے اس لئے میں زندگی کو سچائی سے گزارنے کے مشن پر لگا ہوا ہوں ۔
اس لئے میرے خیالات  مجسم نہ بھی ہو بد بو نہیں دیتے ۔
میرا دل اپنے جیسوں کے دلوں سے راہ نکال ہی لیتا ہے
اور سکھ میری زندگی میں دکھوں پر چھائے ہوئے سے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔
اور بچپن ؟ 
چھڈو پراں ، ساری عیاشیاں تو فطرت مہیا ہی نہیں کرتی ۔
(^.^) 🐎

میں ایسے بندے کو جانتا ہوں  ، جس نے ایک چھوٹا سا ویلڈنگ پلانٹ سائکل کے پیچھے رکھا ہوا ہوتا تھا
 اور گاؤں گاؤں گھوم کر آواز لگاتا تھا
ٹوٹی ہوئی چیزیں ویلڈ کرا لو !!!۔
جس گھر میں کام نکلتا تھا ، وہ بندہ اسی گھر کی بجلی لے کر  ، فی راڈ کے پیسے چارج کرتا تھا،۔
اور اپنے گھر کو چلا رہاتھا
حاصل مطالعہ
محنتی لوگوں کے پاس بے روزگاری کے بہانے نہیں ہوا کرتے ۔
(^.^) 🐜

آئی لوّو یو ! آئی لوّو یو سو مچ!!!۔
یہ کہنا چاہتا تھا
رانجھا ، ہیر سلیٹی کو
لیکن
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
بارہ سال بھینسیں چراتے گزر گئے ، ہیر کو کھیڑے لے گئے ۔
رانجھے کو “ انگریزی “ کا یہ  فقرہ  کہنا نہ آیا !!!۔
(^.^) 👿


پھندو فقیر کہا کرتا تھا
خاور پائی ، رب نے یہ انگلیوں کے درمیان جو گیپ رکھا ہے ناں اس میں  قدرت کی بڑی  رمز اور حکمت پوشیدہ ہے ۔
اگر کوئی پوچھ لیتا تھا کہ اخر وہ رمز یا حکمت ہے کیا ؟
تو!۔
پھندو بتایا کرتا تھا ، حکمت یہ ہے کہ
کسی دن
کوئی
بندہ پھندو کے نزدیک آئے اور
چرس بھرا سگریٹ دے کر کہہ سکے کہ
لے پھندو یار سوٹا لاء ۔
(^.^)

گامے کے گھر پر پولیس کی ریڈ ہو گئی ، گامے کو پکڑ کر پولیس نے صحن میں بٹھا لیا ۔
اوئے گامیا! پولیس کو اطلاع ملی ہے کہ تم نے اپنے گھر میں ایک خطرناک دہشت گرد کو چھپا رکھا ہے ۔
گاما: تھانیدار صاحب ! اطلاع تو اک دم صحیح اور پکی ہے
لیکن
کل سے وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہے ۔
(^.^)

گامے کی سالگرہ پر اس کی بیوی پوچھتی ہے
اجی اپ کے برتھ ڈے پر گفٹ دینا چاہتی ہوں ، آپ کو کیا چاہئے؟
گاما یہ سن کر بہت خوش ہوا
اور کہنے لگا
نئیں ، بھلئے لوکے  چیز کوئی نہیں چاہئے ،
بس تم مجھے پیار کرو، مجھے عزت دو، اور میرا کہنا مانو!! بس یہی کافی ہے ۔
بیوی کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی !!۔
نئیں ! میں تو گفٹ ہی دوں گی !!!!۔
(^.^)

ذاتی  مفادات اور مالی فوائد کے لئے ، جماعت اسلامی کا نام لینے والے لوگ !۔
یہاں جاپان میں اپنی “ خامیاں “ چھپانے کے لئے تین اوزار استعمال کرتے ہیں ۔
ایک : مذہب
دو : داڑھی
تین: محراب ( ماتھے والا!۔
جو زیادہ ہی زہریلے ہیں وہ چوتھا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔
خود کو عربی نسل کا ( سید) بنا کر پیش  کرتے ہیں ۔
(^.^) 🐭

جج: تمہارا نام کیا ہے ؟
ملزم: غلام ، گاما حضور ، گاما!!۔
جج: تم پر الزام ہے کہ تم نے سال ہا سال سے اپنی بیوی کو ڈرا کر ، دھمکا کر ، دبا کر،  اس کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے ۔
گاما : گگیاتے ہوئے ، حضور ، وہ ۔ ۔ ۔!۔
جج گامے کی بات کاٹتے ہوئے ، صفائی کی ضرورت نہیں ہے ،
طریقہ بتاؤ طریقہ؟؟
(^.^)

پاگل خانے کا ڈاکٹر ایک پاگل سے پوچھتا ہے ، کیسے ہو ؟
پاگل : میں نے پانچ سو صفحوں کی ایک کتاب لکھی ہے
ڈاکٹر : اچھا کیا لکھا ہے ؟
لکھا ہے کہ میں کمائی کر کے اپنے گھر کی غربت مٹانے کے لئے جاپان آیا ، میں نےاپنے گھر کی  غریبی مٹائی ، جاپان کی نیشنیلٹی لے  لی ، اور  صحافتی کارنامے کرنے لگا ۔
ڈاکٹر ، یہ تو ایک صفحے کی کہانی ہے باقی کیا لکھا ہے ؟
باقی کے صفحات میں کیا لکھا ہے ؟؟
پاگل :  باقی کے صفحات میں ، میں یہہ ، میں وہ ، وہ برا ، میں اچھا  کی تکرار ہے ۔
ڈاکٹر: اس کتاب کو پڑھے گا کون؟
پاگل : چھپوا کر بانٹتا رہوں گا ، کوئی نہ کوئی میرے جیسا ، پڑھ ہی لے گا!!!۔
(^.^)

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
گر سو برس بھی جیتے  یہی انتظار ہوتا
،،،،،،،،،،
اچھو ڈنگ اس شعر کی تشریح کر رہا تھا
کہ
شاعر کا کوئی یار بہت مارلدار اور لاولد  ہے ۔
جس کے انتقال فرما جانے پر اس کی جائیداد اور مال شاعر کو مل جانا ہے
لیکن وہ یار بہت صحت مند ہے اور  اس کے وصال کی خبر  انے کی کوئی امید نہیں ہے
اس بات سے مایوس شاعر کے دل کا دکھ زبان پر  آگیا ہے کہ
گر سو برس بھی انتظار کریں گے تو  انتظار ہی کرتے رہیں گے ۔
(^.^)

کسی  گانؤں ( اج سے گاؤں کو ایسے ہی لکھا جائے گا)  میں  بجلی انے والی تھی ۔
اس گانؤں کے لوگ بہت خوش تھے  ، خوشی سے ناچ گا رہے تھے
ان میں کتا بھی تھا جو کہ زیادہ ہی خوشی کا اظہار کر رہا تھا
کسی نے پوچھا ، تمہیں کیا کہ بجلی آئے نہ آئے ؟
تم کیوں خوش ہو ؟
پگلے ! جب بجلی آئے گی تو گانؤں میں کھنبے بھی تو لگیں گے ناں ؟؟؟
(^.^)

ایک عورت نے نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور فوراً ہی نیچے کر لئے ۔
اس کا خاوند دیکھ رہا تھا۔
خاوند نے پوچھا دعا کیوں نہیں مانگی ؟
بیوی نے کہا: میں یہ دعا مانگنے لگی تھی کہ
اللہ اپ کی سب مشکلات دور کر دے
لیکن پھر مجھے ڈر لگا کہ اس دعا سے کہیں مجھے ہی کچھ نہ ہو جائے !!!۔
(^.^)

عجب دستور  زباں بندی ہے تیری محفل میں
کہ یہاں بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
۔
 خلاصے ، ٹیٹ پیپر اور گیس پیپر  ، اپ کو امتحان تو پاس کراوا دیتے ہیں  ، جیسے بوٹی اور نقل
لیکن اگر
تعلیم حاصل کرنی ہے تو نصاب کی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہوتا ہے  ۔
لکھنے والوں کی باتیں ، بھی خلاصے ، ٹیسٹ پیر اور گیس پیپر ہی ہوتے ہیں ۔
اور سنی ہوی تقریریں ؟ ایسے ہی ہیں جیسے بوٹیاں  اور چلاکیاں!!۔
اگر ، “ تعلیم” حاصل کرنی ہے تو ؟ نصاب کی کتاب  اللہ کا کلام ہے  ۔
(^.^)

اس  کے والد صاحب کی طبعت خراب رہتی تھی ۔
وہ اپنے والد صاحب کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے  “ اس “ کے والد کو دیکھ کہا ۔
اپ کے والد صاحب کے کچھ “ٹیسٹ “ کروانے ہوں  ۔
یہ سن کا “ اس “ کا تراھ نکل
اور ڈاکٹر صاحب کی منت کرتے ہوئے کہنے لگا
ڈاکٹر صاحب ، ابا جی کی عمر زیادہ ہے
ان سے ٹیسٹ نہ کروائیں ، “ ون ڈے “ یا “ ٹونٹی ٹونٹی “ سے کام چلا لیں ۔
 (^.^)

جاپان میں اس پرندے کو گرمیوں کا پرندہ سمجھا جاتا ہے، جسے “سوبا مے” کہتے ہیں ۔ اور پاکستان میں اس کو سردیوں کا پرندہ ، اور اس کو ابابیل کے نام سے پکارتے ہیں  !!۔
جاپان میں یہ پرندہ انڈے بچے جننے کے لئے آتا ہے ،۔ آکست اور ستمبر میں بہت نظر آتا ہے ۔
جگہ جگہ اس پرندے کے گھونسلے نظر اتے ہیں ، کئی دفعہ تو گھروں کی بیٹھک یا کہ لوگوں کی روز مرھ کی زندگی میں روکاوٹ سی بھی پیدا ہوجاتی ہے  ۔
لیکن جاپانی لوگ  ، فطری طور پر  بچوں کا تحفظ کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اس لئے  چند دن کی بات ہے کا کہہ کر  ابابیل کے انڈے بچوں  کی پرورش اور بقا میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالتے ۔
جاپانی لوگ اپنے بچوں کو  “جاپان “ ہونے کا یقین رکھتے ہیں ۔
اس لئے ہر فرد ہر کسی کے بچے کے تحفظ کا خیال رکھتا ہے ۔
اسی لئے یہاں سب لوگ محفوظ ہیں  ۔
حتیٰ کہ غیر محفوظ ممالک کے پناھ گزین لوگ  بشمول پاکستانی  بھی خود کو یہاں محفوظ خیال کرتے ہیں ۔
(^.^)

مغربی دنیا میں لوگ
 شادی
 پر خوشیاں مناتے ہیں ۔
پاکستان میں شادی  پر؟
پھوپیاں اور چاچیاں  مناتے ہیں  ۔
(^.^) 🙏🙏

مجھے دوسروں  کے اندر کے شیطان  پر حملے کرنے کا کوئی شوق نہیں  ۔
میں اپنے اندر کے شیطان کو کچلنے میں مصروف ہوں ۔
لیکن جب کس کا شیطان میرے مفادات یا عزت نفس پر حملہ کرتا ہے تو ؟
میں  شیطانی کرنے والے کے شیطان  کو آئینہ ضرور دیکھاتا ہوں ۔
شیطان  کہیں کے  ۔
(^.^)

جھگڑالو بیویوں سے نپٹنے کے لئے
 سیانے خاوندوں نے کچھ اصول بنا رکھے ہیں  ۔
اور وقت پڑنے پر یہ سب اصول فیل ہو جاتے ہیں  ۔
(^.^)

خوش قسمتی مٹھی میں بند ریت کی مانند ہوتی ہے ،
کوشش کے باوجود کھسک  کر نکل جاتی ہے ۔
یاں یہی ریت  دعا کی طرح پھلائے  ہاتھوں پر ٹکی رہتی ہے  ۔
(^.^)


برے دن سدا نئیں رہندے ،
برے دن  تہانوں ، تجربہ دے کے ، تے تہاڈی زندگی دی کتاب تے دستخط کر کے ٹر جاندے نیں  ۔
مولا خوش رکھے ،
(^.^)

میری زندگی میں شامل واحد جھوٹ !
یہ جھوٹ  جو کہ میں خود  سے بولتا ہوں
اور اکثر بولتا ہوں ۔
وہ ہے یہ سوچ
کہ
بعد میں لکھ لوں گا  ، کیونکہ مجھے یہ بات یاد رہے گی  ۔
(^.^)

لوکی تے  بڑے ای لج پاڑ نیں  ۔
اٹھے پہر حسد تے شرارت تے تلّے ہوندے نئیں  ۔
میرا رب ! بڑ لجپال اے ،۔
ایس دے وچ کوئی شک ای نئیں
ایسے لئی تے میں بچیا ہویا واں ۔
(^.^)

کوئیز محفل میں سوال تھا ، وہ کون سی چیز ہے جو سخت سردی میں بھی گرم رہتی ہے ؟
پاڈے مغل نے ہاتھ لمبا کر کے اٹھا دیا ۔
اینکر نے مائک پاڈے مغل کے سامنے کر دیا ۔
مغل کا جواب تھا  : گرم مصالحہ!!!۔
اینگر نے کہا ، ہاں ایک طرح سے  تمہارا جواب بھی درست ہی ہے ۔
مغلپاڈے نے پانچ فٹے قد کی ایڑہیاں اٹھا کر اور توند سے پچکے ہوئے سینے کو تان کر کہا
میں تو جینئس ہوں ، ویسے ہی مجھے غرور کرنے کی عادت نہیں ہے  ۔

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts