ہفتہ، 20 اپریل، 2013

شیر کی شرافت

پرانی کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے کہ
کسی جنگل میں ایک شیر اور ایک ریجھ اور لومڑی نے شکار کھیلنے کا سیاسی اتحاد بنا لیا۔
شکار میں تین جانور مار کر لائے گئے ۔
ایک زیبرہ ایک ہرن اور ایک خرگوش ۔
سارا شکار سامنے رکھ کر شیر نے  بڑی ہی شرافت سے ریچھ کو کہا کہ کیونکہ میں ایک شریف  چیز ہون اس لئے میں جمہوریت کا لحاظ رکھتے ہوئے
تم کو دعوت دیتا ہوں کہ شکار کی منصفانہ تقسیم کرو۔
رچھھ نے مال کی تقسیم کرتے ہوئے کا کہ
کیونکہ تم سب سے بڑے ہو اس لئے زیبرہ تم کھا لو اور ہرن میں کھا لیتا ہوں
اور لومڑی کو خرگوش دے دیتے ہیں  ۔
شیر کو بہت غصہ ایا
ریچھ شیر کی رینج میں ہی کھڑا تھا
شیر نے اس پر حملہ کر کے ریچھ کو مار دیا۔
اور ہانپتے ہوئے لومڑی سے مخاطب ہوا کہ
تم ایک عقلمند جانور ہو
تم صحیع اور منصفانہ تقسیم کر سکتی ہو۔
لومڑی نے کہا کہ
یہ زیبرہ اپ بادشاھ سلامت ابھی کھا لیں اور ہرن کو شام کے کھانے میں انجوائے کریں ۔
اور یہ جو خرگوش ہے
اس کو
اپ کل ناشتے میں کھا لیں ۔
اور اس میں سے اگر کچھ جائے گا تو وہ میں کھا لوں گی ۔
یہ سن کر شیر بہت خوش ہوا اور پوچھنے لگا کہ
تم نے یہ عقل اور دانش کہاں سے سیکھی ہے؟؟

چھڈو جی لومڑی نے کیا جواب دیا ہو گا
مجھے بس یہ کہانی
نیٹ پر یہ خبر دیکھ کر یاد آ گئی تھی

مسلم لیگ(ن) نے سینیٹرمشاہداللہ خان کی بیٹی یابہوکوسندھ اسمبلی میں خواتین کی کسی مخصوص نشست پرنامزدنہیں کیا، پارلیمانی بورڈنے صرف ان لوگوں مخصوص نشستوں پرنامزدکیا جن کی سفارش متعلقہ شہریاضلع کی تنظیم کی طرف سے کی گئی تھی،مسلم لیگ(ن) کے ترجمان کا بیان

یاد رہے کہ یہ بات کسی ایک پارٹی کی نہیں ہے
پاکستان نامی حمام میں سبھی ننگے ہیں

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts