جمعرات، 5 اپریل، 2012

شمالی کوریا اور بکرے کی ماں

همارے پڑوس ميں ایک ملک اباد ہے جس کا نام هے
شمالی کوریا!!ـ
میں نے همارا پڑوس اس لیے لکھا ہے که اس وقت میں جاپان ميں مقیم هوں
بلکه یه کہنا مناسب هو گا که جاپان میں پناه گزین هوں
که اس ملک نے مجھے روزگار دیا اور بهت سی باتوں کی سمجھ بوجھ
تو جی همارے پڑوسی ملک شمالی کوریا کی بات یه هے که
یهان پر کم خاندان کا حکومت نما قبضه هے
اس خاندان نے اپنی هی قوم کے لوگوں کو غلام بنایا هوا هے
کم خاندان کے اس وقت کے حاکم کے دادے نے جو که کیمونیسٹ نظریات رکھتا تھا
امریکه حمایت والے سیاستدانوں سے جنگ کرکے کوریا کو دو ٹکرے کر کے ایک پر حکومت سنبھالی تھی
جس کو اج هم شمالی کوریا کهتے هیں
یه ملک دنیا سے کٹا هوا هے
اس ملک کے عوام کو وهی علم دیا جاتا هے جس کی حکمران ضرورت محسوس کرتے هیں
اس لیے یهان کے عوام کو بتایا جاتا هےکه یه دنیا کے بهترین ملک میں بهترین زندگی گزار رهے هیں
جو چیزیں ان کو حاصل هیں
وه دنیا ميں کم هی لوگوں کو حاصل هیں
لیکن حقیقت ميں اس ملک کے حالات پاکستان جیسے هی هیں ناں بجلی
ناں پانی ، ناں اچھی خوراک
لیکن ایک اچھی بات پاکستان کے مقابلے میں ایک بات جو اس ملک ميں پائی جاتی هے
وه هے تعلیم
که اس ملک کا هر بنده تحریر کی پہچان رکھتا هے
لیکن علم وهی رکھتا هے جو حکمرانوں کا دیا هوا هے
یه ملک شمالی کوریا بهت بدنام هے
که اس کے حکمرانوں نے جو که ایک هی خاندان سے هوتے هیں انهوں نے ملک کا بیڑا غرق کردیا هے
اسی وجه سے یه ملک باقی کی دنیا سے کٹ کر ره گیا هے
معامله یه هوا که کم خاندان نے فوج پر گرفت مضبوط کر کے سارے هی ملک کو اپنی جاگیر بنا لیا هے
جس کی وجه سے یه لوگ بدنام هو کر اپنا ناتا بند کراچکے هیں
اب سوال یه پیدا هوتا هے که کم خاندان تو ایک ملک کے سورسز پر قبضه کرکے بد نام هوتا هے اور عالمی برادی کے بائیکاٹ کا شکار هوتا هے
لیکن پاکستان ميں میں بھی حالات شمالی کوریا سے ملتے جلتے هیں
که جس طرح شمالی کوریا کے مال کو کم خاندان اور کچھ جنرل هی مال لوٹ رهے هیں اسی طرح
پاکستان ميں بھی پاکستان کے مال کو کچھ سیاستدان اور جنرل هی لوٹ رهے هیں
عوام کا حال شمالی کوریا میں بھی اور پاکستان میں بھی ایک جیسا هے
بلکه پاکستانی عوام کوریائی عوام کی نسبت بهت زیاده غیر محفوظ هیں
تو یهان عالمی برادری پاکستان سے بائیکاٹ کیوں نهیں کرتی یا پاکستان پر قابض طاقتوں سے بائیکاٹ کیوں نهیں کرتی؟؟
جواب!!ـ
کیونکه کم خاندان نے فوج کے ذریعے اپنے خاندان کو هی معتبر بنا لیا
اس لیے عالمی برادری کی نظر میں آ گیا
لیکن پاکستان میں فوج نے سیاستدانوں کے پردے میں ملک پر قبصه کیا هوا هے
اس لیے ملک کے اصلی قابض لوگ نظر نهیں اتے
جس کی وجه سے عالمی برادری کے بائیکاٹ سے بچے هوئے هیں

دل کے خوش رکھنے کو اپ یه خیال کرسکتے هیں
که
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی
کبھی تو چھری کے نیچے آئے گي

ایک تبصرہ شائع کریں

Popular Posts