سوموار، 23 مئی، 2011

فوج پر حملے

ملک معاشرے ، گاؤں کیسے بنتے هیں ؟
ایسے هی اگ اتے هوں کے
جنگلی جھاڑ کی طرح !ـ
نہیں لوگ خود ترتیب دیتے هیں جی معاشروں کو
اپنی ضرورتوں کے مطابق
حالانکه
چالاک لوگ اس ترتیب کو فوج هی کی ضرورت کی مطابق بنا کر لیتے هیں
لوگوں کو معاشرے ميں ضرورت هوتی هے
لوگوں کی !ـ
جن سے معاملات کرسکیں
ماحول کی !ـ
جس میں کاشت کاری هو
کاروبار هو
میلے هوں
ملن ملاپ هو، کچھ دکھ بانٹ کر کم کیے جائیں اور کچھ خوشیاں بانٹ کر بڑھائی جائیں
معاشروں کو ضرورت هوتی هے کچھ پردھان لوگوں کی !!ـ
جو کمزوروں کی حفاظت انصاف اور عدل سے کریں
اور خود کو ظلم سے روکیں
اور ان پردھانوں کو تعلیم اس بات کی دی جائے که تم که اج اگر طاقت ور هو
تو اس کا مطلب یه نهیں هے که تماهری انے والی نسلیآ کمزور هوں گی هی نهیں !ـ
اس لیے تم بجائے ظلم کے انصاف کی ریت ڈال جاؤ که
تمہاری انے والی کمزرو نسلوں کو
انے والے دور کے طاقت ور عدل کے ساتھ سہارا دیے رهیں ـ
لیکن جی فوج کو ضرورت هوتی ہے
ایک دشمن کی
جس کے خلاف حمایت حاصل کی جائے
لوگوں میں اختلاف کی که
ان پر حکومت کی جاسکے
کمزور پردھانوں کی
که ملک میں عدل کی بجائے
طاقت کی حمایت کریں
لوگوں کو تھرڈ پرسن کہـ کر اپنی انا کی تسکیں کریں
اگر چه که ان کی انے والی نسلوں کو کسی اور هی معاشرے میں پناھ گزیں بن کر رهنا پڑے
جیسا که اس وقت کے پاکستان کے کمزور پردھانوں اور فوج کو جرنیلوں کے ساتھ هو رها ہے که
ان کی انے والی نسلوں کے لیے اس ملک میں کوئی مقام نهیں هو گا
یه لوگ جو اج بڑے طرم خاں بنے پھرتے هیں
ان کی پوتیاں اور
پڑپوتیان کسی جم اور ٹیری کی
هوں گی ـ
مجھے یاد هے که ایک بڑے هی طاقت ور چوھدری کا بیٹا
جس کی زمین کمہاروں نے خریدنی تھی تو اس کی شرط بس یه تھی که
میرے جهاز کا کرایه بھی کمهار دیں کے اور گوجرنواله کے سب سے اچھے ہوٹل ميں آ کر رهوں گا
اور
پھر
اس کی وھ زمین اب کمہاروں کی ملکیت هے
میں نےاس بات کا نچوڑ نکالا ہے که
جس نے اپنا ملک چھوڑا
بمع خاور کے
اس نے بہت هی غلط کیا
جو اپنی زمیں سے چمٹے رهے
بعد میں وهی اس کے مالک هوں کے
مجھے میرے الله نے ایک کرب سے بچا لیا که
مجھے جاپان ميں بیٹے دیے که کم از کم میری زندگی میں تو
مجھے وھ دکھ ناں اٹھانا پڑے که
جس بات کے دکھ هونے کی میرے كلچر نے تعلیم دی هے !!!ـ
بات کهان سے کهاں چلی گئی !!ـ
تو جی لوگ معاشرے اپنی ضرورت کے مطابق خود تشکیل دیتے هیں
اور یه تشکیل
باغیچوں ميں پھول کی طرح نهیں اگتی هے
اس کے لیے خون دینا پڑتا هے
اس لیےکه کچھ نسلوں نے اگر غلطی سے چوروں کو چوکیدار سمجھ لیا تھا تو
اس کا مطلب یه نهیں هے که اب انے والی نسلوں کو بھی احساس هةی نهیں هو گا که
پاک فوج کر کیا رهی هے
جی هاں اب کچھ لوگوں نے شائد معاشرے کی تشکیل کے لیے کام شروع کردیا هے
جو فوج پر حملے کر رهے هیں
پاک فوج کی کمزوری میں هی پاکستان کی بقا هے
که اس فوج کی کمزوری سے هی عدالتیں مضبوط هوں گی
اور
اس فوج کی کمزوری سے هی
اصلی والے سیاستدان اگے ائیں گے
یا درهے
سوشل ورکر کے اعلی ترین ایڈیشن کو
سیاستدان کهتے هیں
لیکن اب والے پاکستان کے سارے سیاستدان جی ایچ کی پنیری سے تیار کردھ هیں
وھ شریفین هوں که شیاطین
وھ خان هوں که مخدوم
وھ بھئے هوں که بھائی جان
سب فوج کی پیدا وار هیں
حتی که
بھٹو بھی فوج کی پیدا وار تھا
اور مزے کی بات که بھٹو نے مقبولیت حاصل کرنے کے لیے
خام مال امرکه سے ایمپورٹ کیا تھا
کینیڈی کی نقل
اس جیسی ادائیں اور
تقریریں تک کینیڈی کی تقریریں کا ترجمعه هوا کرتی تھی
ساری نان سہی لیکن شروع والی
مں بے پہلے بھی لکھا تھاکه
جب
وھ
جو اصلی والے پاکستانی هیں
مارگله کی پہاڑیوں پر چڑھ آئے
اور گولے چلے تو؟؟
یه پاک اور ناپاک سبھی ایسے بھاگیں گے جیسے کتّی ٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠ـ

کون هیں جی یه دهشت گرد؟؟
اور
جی فوج کا کام هی حملوں کو روکنا هوتا ہے
اگر اس فوج میں اس بات کی صلاحیت هی نهیں هے تو جی
اس کو نوکری سے نکال دو
اور کراچی کی حفاظت الله هی کرے گا
ورنه جب سے فوج کے گماشتے اس شهر میں پیدا هوئے هیں
کراچی دارالخوف بن کے ره گیا ہے
یه نامعلوم قاتل
یه نامعلوم دهشت گرد
یه نامعلوم شر پسند
یه معلوم کرنا کس کا کام هے جی؟؟؟
یه موٹر مکینک کا کام هے!!ـ سر جی
حکومتیں تو ایسے کا نهیں کیا کرتی ناں جی
اب اپ کا کیا خیال ہے که پاکستان کی فوج کے عظیم جرنیل اور سیاستدان
تھرڈ پرسن لوگوں کی سہولت کے لیے اقدامات کرتے پھریں

9 تبصرے:

عثمان کہا...

فوج کے چانٹے آپ کی خبر لینے آتے ہی ہوں گے۔ لیکن فی الوقت ایک اور چیز کی تصحیح کردوں جس کا تذکرہ آپ اکثر اپنی تحاریر میں کرتے ہیں۔

میں نےاس بات کا نچوڑ نکالا ہے که
جس نے اپنا ملک چھوڑا
بمع خاور کے
اس نے بہت هی غلط کیا

از خاور کھوکھر

یہ کبھی ہندؤں کے جذبات ہوا کرتے تھے۔ کہ اگر اپنی جمین چھوڑی تو تیں پڑاس ہوجائے گا۔ ہندؤں نے تو اپنی عادات کسی حد تک بدل لیں ، اب آپ بھی ان باتوں سے باہر آجائیں۔
بے شک ہم گناہ گاروں نے اپنے دنیاوی مقاصد کے واسطے ہجرت کی ہے۔ لیکن اگر آپ کا اعتراض ہجرت پر ہے تو ہجرت تو انبیاء نے بھی کہ اگرچہ ان کا مقصد عظیم تھا۔ اگر بنی نوع انسان ہجرت کا عادی نہ ہوتا تو انسانی آبادیاں ان چھ براعظموں تک نہ پھیلتیں۔ دنیا کا ترقی یافتہ ترین ملک امریکہ مہاجروں ہی کمال ہے۔ اسے آپ کس خانے میں فٹ کریں گے؟
حسب نسب ، قومیت ، زبان اور زمین پر فخر کی کوئی حثیت نہیں۔ وقت کے محدود لمحے میں یہ بظاہر اہم نظر آتی ہیں۔ وقت کا دورانیہ بڑھ جائے تو یہ پہچان بدل جاتی ہے۔ اللہ کو آپ کو مزید اولاد سے نوازے۔ لیکن کیا آپ کو یقین ہیں کہ آپ کی آئیندہ نسلیں پنجابی و پاکستانی شناخت برقرار رکھ پائیں گی اور جاپانیوں میں گم نہ ہوجائیں گی؟ کیا آپ کے فرزند پنجابی اسی طرح بول پاتے ہیں جیسا کہ آپ؟ کیا آپ کے پوتے پنجابی سے واقف بھی ہوں گے کہ نہیں ؟
مخلوق کی کسی خصوصیت کو دوام نہیں۔
رہے نام اللہ کا!

جعفر کہا...

فوج کے چانٹوں کے علاوہ
کراچی کے مامے بھی آتے ہی ہوں گے
اور مامیاں بھی

عنیقہ ناز کہا...

یہ آپ نے طالبان کی مدح یں لکھا ہے یا فوج کی ہجو میں یا یہ بتانے کے لئے کہ میرے ہم زبان بھائیوں ، دہشت گردی کے اس تازہ واقعے میں پڑ کر یہ مت بھول جانا کہ کراچی اصل میں ایک دارالخوف ہے۔ جہاں فوج کے گماشتوں کا راج ہے یہ بلاگستان کے اہل پنجاب گھوم پھر کر اسی ٹاپک پہ کیوں رہتے ہیں۔
اگر یہ آپ نے طالبان کی مدح میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس دفعہ صحیح سے چانٹے رسید کئے ہیں تو آپکے پاس اس بات کو رد کرنے کے لئے کیا ثبوت ہے کہ طالبان فوج کے گماشتے نہیں ہیں، دارالخوف نہیں چلا رہے ہیں۔
تاریخ تو کہتی ہے کہ انہیں پیدا کرنے والی بھی فوج ہے۔ آپ نے کس جذبے کے تحت اس حقیقت سے منہ چرایا۔
اور اگر آپکو طالبان کی یہ ادا پسند آرہی ہے تو بتاءوں کہ ایم کیو ایم کے لڑکوں نے بھی نوے کی دہائ کے شروع میں فوج کے ایک میجر کو مارا تھا۔ کیا اب آپ انہیں پسند کریں گے۔ یہی نہیں نوے کی پوری دہائ فوج کراچی میں انکا دماغ درست کرتی رہی۔ اب آپ انہیں مظلوم سمجھیں گے۔
نہیں سمجھیں گے، نہ فوج پہ پڑنے والا یہ چانٹا آپکو پسند آیا ہوگا۔
پھر آپ کیسے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں انصاف آنا چاہئیے۔
انصاف کے مامے، چاچے، بھتیجو اور بھانجوں کو ہزار بار لفظ انصاف لکھنے کی پریکٹس کرنی ہوگی، تاریخ سے کوئ انصاف کی مثال لے کر دکھانی ہوگی۔ آخیر میں اپنی ذاتی زندگی میں سے دکھانا ہو گا کہ آپ کس طرح انصاف کا بول بالا کرتے ہیں۔ اسکے بغیر آپکی اس فرمائیش پہ نظر نہیں ڈالی جا سکتی۔

Abdullah کہا...

Well said Aniqa!
:)

Abdullah کہا...

کیا خوب آئینہ دکھایا ہے ان منافقوں کو۔۔۔۔۔۔۔!!!!

Abdullah کہا...

ویسے کچھ احمقوں کو ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہم صرف کراچی کے نہیں پورے پاکستان کے مامے اور مامیاں ہیں،
کسی کوکوئی اعتراض؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
:)

جعفر کہا...

i was right
:D

Abdullah کہا...

Good for u!
:)

khan کہا...

پاک و مقدس فوج زندہ باد

Popular Posts