اتوار، 28 نومبر، 2010

انسٹنٹ جنتی

اج کل پاکستانیوں کی اکثریت کو توهین رسالت پر غیرت آئی هوئی هے
اور اگر میں نے کوئی معقولیت کی بات کی تو٠٠٠٠٠٠٠
کستاخ رسول ، خارجی، وهابی ،اور پته نہیں که کیا سے کیا کہا جائے
انسٹنٹ میں جنت کی تلاش ہو جی پاک لوکاں کو
پراپر طریقے سے تو ان کو کافی بنانی بھی نهیں آتی هو گی
تو پراپر حیات کے فلسفے کا علم کیا هو گا
ہندو مذہب سے شروع هوئی کہانیاں
که بندے نے نیکی کی اور مکت هو گیا
کسی نے کانٹا راھ سے ەٹایا اور مکت هو گی ا
کسی نے بھوکے کو کھانا کھلایا اور مکت هو کيا
کسی نے رام کے نام کی لاج کے لے کچھ کیا اور مکت هو گیا
ہندو مین حیات کا فلسفہ هے آواگون
ایک آتما چوراسی لاکھ مرتبه جنم لیتی هے جس مین وھ جنم بھی هوتے هیں که سورج کے نکنے سے شروع هوئے اور سورج غروپ پر ختم
کبھی کسی جانور کی جون اور کبھی کسی کی اور اخر پر انسان کی جون میں آئے نیک کام کیےتو
مکت ورنہ پھر وهی چوراسی لاکھ جنموں کا چکر
لیکن
اسلام میں تیم عاملوں کا ہے که عالم ارواح جس میں ساری روحیں هیں ، جن سے سچے رب الله جی عالی شان نے روز الست وعدھ لیا تھا یه پوچھنے کے بعد که میں کون هوں اور سب نے کہا تھا(بشمول خاور)آپ همارے رب هیں
اس عالم سے روح عالم دنیا میں اتی هے اور
جو کام کرتی هے کرکے مرجاتی هے
یعنی عالم برزخ میں چلی جاتی هے
روز محشر
عدالت لگے گی
الله جل شان جج هوں گے اور گواھ بھی که وھ سب دیکھتے سنتے هیں
یهاں فیصلے هوں گے که کس نے کیا کیا اور اس کو کیا ملنا چاهیے
لیکن جی اپ نے بھی سنی هوں گی اور پاکستان مين مذہبی تربیت هی اس طرح کی گئی هے که کسی ایک کام پر بندے کو جنت مل بھی گئی اور اس نے خواب میں آکر کسی کو بتا بھی دیا
بس جی اس طرح کی جنت کے حصول کے لیے لوگ کوشاں هیں که ساری زندگی جو بھی کرو
بس کهیں جنت کی لاٹری پر بھی نظر رکھو
پاکستان میں جو بھی توهین رسالت کا قانون هے
کیااس میں توهین پر اکسانے والے کے لیے بھی کوئی سزا هے؟؟
اس دفعہ جو چوہری عورت پھنسی هوئی هے
اس کو جس بی بی نے یه کہا تھا که عسائیوں پر قربانی کا گوشت حرام ہے
جس پر که تپ کر اس چوہڑی کے منہ سے گستاخانہ الفاظ نکلے
اس فتوة دینے والی بیبی کو کیا سزا هو گی؟؟
اس کو بھی سزا ملنی چاهیے که اس نے توهین رسالت پر اکسایا
پاکستان میں
عسائیوں کا کیا حال ہے؟
بے چارےاپنے نام تک اس طرح کے رکھتے هیں که اپنے گاؤں سے باهر کسی کو معلوم ناں پڑے که میں عیسائی هوں
اقلیتی امور کے وزیر
شہباز بھٹی کا نام
ایک فیملی کے نام هیں
اسحق بھٹی ، لیاقت بھٹی ،انوار بھٹی ،جاوید بھٹی، سعید بھٹی،
کیا اپ ان ناموں سے اندازھ لگا سکتے هیں که یه چوہڑے هیں که پاک؟
غالباً پہلا کیس تھا وھ
توهین رسالت کا
سیالکوٹ کے کسی گاؤں کا ، اسّی کی دھائی کی بات ہے غالباً
میں نے سرے کاؤنٹی کے علاقے تھاؤنٹن هیتھ میں کالو قسائی کی دوکان پر اس کیس کے فرار هو جانے والے لوگوں کو دیکھا
گل کے نام سے تعارف کرواتا تھا وھ بندھ حلال گوشت کی دوکان پر کام کرتا تھا اور جھٹکے کی مرغیوں کے گلے پر چھری چلا کر ان کو حلال جیسی شکل دیتا تھا
اس چوہڑے سے مردھ مرغیوں کو حلال کروانے والے مسلمان کو کیا کہیں گے
پنجاب میں میں نے دیکھا ہے که زمین دار دوپہر کے کھانے میں خود سالن کھاتا هے اور عیسائی کو پیاز سے روٹی دیتا ہے
خود چارپائی پر بیٹھتا هے اور عیسائی نیچے زمین پر
اور اگر میرے جیسا کوئی اس عیسائی کو کہے که بابا جی اپ بھی چارپائی پر بیٹھ جاؤ
که خالی پڑی چارپائی کس لیے هے
تو بھی یه عیسائی چاپائی پر بیٹھنے سے انکار کردیتا ہے
ایسے لوگ نبی پاک کی توهین کی کیسے جرأت کرسکتے هیں؟
کچھ حالات اس طرح کے بنا دیے جاتے هیں که
ان کو اشتعال ميں لا کرکچھ کہلوا دیا جاتا ہے
آپ کا کیا خیال ہے که پاکستان ميں پرورش پانے والے عسائیوں کو کلمه پڑھنا نہیں آتا؟؟
بے چارھ اگر اپنے نالج کا رعب ڈالنے کے لیےکسی کے سامنے کلمه پڑھ بیٹھے
تو اگلے دن اس پر مرتد کا الزام هو
اور قتل کرنے والا خود کو جنتی جانے
انسٹنٹ جنتی

19 تبصرے:

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

تحریر اچھی ھے۔تعریف نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔
پاکستانیوں کی اکثریت کوتوہین رسالت پہ غیر ت نہ آنا بے غیرتی ھے جی۔
اگر پاکستانیوں کی اکثریت جنت میں جائے گی۔تو پاکستان کی عیسائی برادری بغیر پوچھ پڑھت کے جنتی ھے۔یہاں نہ سہی اس جہاں اللہ میاں سے میں پوچھ ضرور لوں گا۔کہ اس ملا کو تو جنت مل رہی ہے۔اس مظلوم ناانصافیوں کے شکار نسل در نسل دوسروں کی گندگی صاف کر کے نفرت کا شکار ہونے والے کو کیوں جنت نہیں مل رہی؟
معاشرتی تفاوت اور ناانصافی علیحدہ
بات اور آئین و قانون علیحدہ شے ھے۔
کیا جاپان میں معاشرتی تفاوت نہیں ھے؟
لیکن یہاں کا قانون جب حرکت میں آتا ھے تو کچھ تھوڑے بہت فرق کے باوجود انصاف ہی کرتا ھے۔
ہمارے پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ھے۔
توہین رسالت کے قانون کی بے غیرتی کی حد مخالفت کرنے والے ۔سب کو جگا کر پورے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی بات کیوں نہیں کرتے؟
جب کوئی ایسا واقعہ ہوتا ھے تو پاکستان کی نسبت بیرون ملک اس قانون کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا جاتا ھے۔اور ساتھ میں دعوی کیا جاتا ھے۔کہ اس طرح کا قانون دنیا میں کہیں نہیں ھے۔
میں معاشرتی ناانصافی تک آپ سے متفق ہوں۔اگر توہین رسالت پر غیرت آنےکا طعنہ ھے تو محترم نہایت گستاخی کے ساتھ عرض ھے۔اگر توہین رسالت پر بھی غیرت نہ آئے تو ہندو یہودی عیسائی سکھ ہوجانے میں کس چیز کا ڈر؟
رہ گئی اس آسیہ نامی عورت کی بات تو اس عورت کو سزائے موت دینے کی میں بھی مخالفت ہی کروں گا۔جس طبقے سے اس کا تعلق ھےاس طبقے کے مسلمان اس سے زیادہ گستاخ رسول ہوں گے۔
میرا اختلاف صرف اس قانون کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں سے ھے۔اور اس کی وجہ میری نسبت آپ بہتر سمجھتے ہیں۔

جاوید گوندل ، بآرسیلونا ، اسپین کہا...

ھے۔اگر توہین رسالت پر بھی غیرت نہ آئے تو ہندو یہودی عیسائی سکھ ہوجانے میں کس چیز کا ڈر؟
رہ گئی اس آسیہ نامی عورت کی بات تو اس عورت کو سزائے موت دینے کی میں بھی مخالفت ہی کروں .......میرا اختلاف صرف اس قانون کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں سے ......
از یاسر خوامخواہ جاپانی


متفق علیہ

عثمان کہا...

خاور کنگ زندہ باد !
اس طرح کا قانون واقعی دنیا میں کہین نہیں ہے۔ بڑے پیمانے پر نفرت انگیز پروپیگینڈا کیا ہو۔ کوئی غلیظ کتاب چھپوائی ہو تو تب ہی قانون پکڑتا ہے۔ یہ نہیں کہ کسی دیہاتی اپنی ویڑے میں کھڑے ہوکر کچھ لغویات بک دیں تو پھانسی پر چڑھ گیا۔
باقی اس مذہب پرست جزاک اللہ گروپ کے کیا کہنے۔ ان کا سارا دین غیرت سے شروع ہوکر غیرت پر ختم ہوجاتا ہے۔ مسئلہ ان کا غیرت ہے باقی سب وڑے پانڈے میں۔
سیانے کا کہنا تھا کہ جہاں جوش و جذبات کا بسیرا ہو وہاں عقل نہیں ٹھہرتی۔
یا عقل کی بات کرلو۔ یا غیرت کی۔

عمران جاٹ کہا...

تعزیزات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی کے تحت توہین رسالت کی سزا موت پراسلام کے تمام مسالک کے مسلمانوں بریلوی، دیوبندی، اہل تشیع اور اہل حدیث کے جید فقہا اور علماء کا اتفاق ہے ۔یہ قانون پاکستان کی پارلیمنٹ کےی امور بغیر کسی عدالتی ک

عدالت نے ایک ملزم کر سزا دے دی۔وزیر اور گورنر صاحب اس مجرم کو بے گناہ قرار دے رہے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو یہ عدالت کی کھلی توہین ھے۔عیسائیوں کے پوپ صاحب نے اپیل نما حکم جاری کیا اور ان ہوا بھرے غباروں میں کھل بھلی مچ گئی۔

عافیہ صدیقی پر کتنے قتل ثابت ہیں؟

عافیہ صدیقی کی واپسی کیلئے کتنے مسلمان تڑپ رہے ہیں ، عافیہ صدیقی کیا انسانوں میں شمار نہیں ہوتی؟

عافیہ صدیقی کیلئے ان انسانی ہمدردی سے بھرے مینڈکوں میں رتی بھر رحم نہیں ھے۔

آسیہ بی بی کیلئے تڑپنے والے اگر کہہ دیں کہ عافیہ صدیقی کیلئے بھی اپنے پوپ صاحب سے رحم کی اپیل کردیں تو ان کا کہنا ہوتا ھے کہ وہ ایک علیحدہ مسئلہ ھے!!

ان کیلئے انسان کیلئے ڈبل سٹنڈرڈ ھے جی،

اپنی پسند کا ھے تو انسانی حقوق ہیں۔اختلاف کرنے والے بندوں کا ھے تو دہشت گرد طالبان ، طوائف سے بھی بدتر وغیرہ ہو جاتا ھے۔

عافیہ صدیقی کو تو امریکی قانون نے اور

ان کی عدالت نے سزا دے دی اس لئے اب کچھ نہیں ہو سکتا۔

ان کے ملک میں بھی انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں۔ایسا کہرام نہیں مچا ان کے ممالک میں۔

مسلمانوں کا مجرم مسلمانوں کی عدالتوں کے سزا یافتہ کیلئے معافی کی درخواست نما حکم اور پھر ہر طرح کا تعاون اور مدد۔

توہین رسالت کے قانون کی حمایت کا ایک ذرا سا ذکر کرکے دیکھیں۔

بے وقوف جاہل اجڈ عقل ادھار لے لو۔

یہ ہمارے اندر کے ہی پورے خاندان کے ساتھ ہجرت کرکے دیس بدل کر جانے والوں اور پاکستان میں بس کر پاکستان کی مراعات کے مزا اڑاکر خود ساختہ آقاوں کی خدمت کیلئے ہر دم تیار رہنے والوں کے الفاظ ہوتے ہیں۔

ان سے کوئی پوچھے کہ جن کا دم بھرتے ہو کیا ان کے ممالک کے قوانین کا معلوم ھے؟

اپنی کالی چمڑی کی کھال میں ان ممالک میں رہ کر باعزت طریقے سے اپنے خیا لات اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہو؟

اگر یہ کھال مسلمانی ھے ذرا ان ممالک کے قوانین کا مطالعہ کرکے ہمیں بھی سمجھا دیں۔

جب ان کے ممالک میں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جائے تو انسانی حقوق ، شخصی آزادی ، آزادی رائے وغیرہ وغیرہ کی لفاظی کرکے مسلمانوں کو دھتکار دیا جاتا ھے۔

انہی کے ملک میں جئے ھٹلر کا نعرہ لگا کر دیکھئے،شخصی آزدی ، آزادی رائے وغیرہ دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

اگر کہہ دیا جائے کہ ہولو کاسٹ کچھ زیادہ لمبی چھوڑی گئی افسانوی کہانی ھے۔

تو انکا قانون متحرک ہوجاتا ھے۔بے شک ہائی کورٹ تک چلے جائیں۔جواب ایک ہی ہو گا قانون تو قانون ھے جی

۔

ہمارے ملک میں بسنے والے ہی کیوں اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔۔۔۔،،،،۔۔۔۔۔

میرے خیال میں پاکستان میں یہ قانون بھی دوسرے قوانین کی طرح غیر متحرک ھے۔

توہین رسالت کرنے والوں کی کتابوں میں تو اس قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔

اور یہی لوگ اس قانون کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔

جیسے ہی کوئی ایسا واقعہ ہوتا ھے۔ایک مخصوص فتنہ پرور گروہ حد سے زیادہ متحرک ہوجاتا ھے۔اور توہین رسالت قانون کی سب سے زیادہ مخالفت شروع کردیتا ھے۔اس فتنے کی بنیاد ہی توہین رسالت پر ہے۔اس فتنے نے نہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے بلکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام،اور حضرت مریم علیہ السلام کی بھی توہین کے مرتکب ہیں۔اس کے علاوہ وہ جملہ مسلمانوں کو جو کہ اس فتنے کو نہیں مانتے انکے بارے میں بہت ہی غلیظ زبان استعمال کرتے ہیں۔۔

ہمارے نام نہاد روشن خیال جب توہین رسالت کے قانون کا نام سنتے ہیں تو تیوریاں چڑھا کر اس کی برائیاں بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

دوسرے قوانین کی طرح اس قانون کا غلط استعمال ضرور ہوتا ہوگا۔اس میں اس قانون کی کیا برائی؟

جب بھی کوئی ایسا کیس سامنے آتا ھے۔اس قانون کی برائی شروع ہو جاتی ھے۔

کیا پاکستان میں قانون کا راج ھے۔اور امن امان اپنی بہترین حالت میں ھے؟۔

قانون کے بننے سے لیکر اب تک ۷۰۰ کیسز رجسٹر ہوئے ہیں۔

سزا کسی کو بھی نہیں ہوئی۔اور ان سات سو میں سے آدھے سے زیادہ مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف بنائے ہیں۔

صرف اقلیتوں کو ٹارگٹ کیا جاتا ھے جھوٹ ھے۔

علامہ کاشف نصیر کہا...

پاکستان میں لگ بھگ تمام توہین رسالت کے مقدموں کا پیغمبرِ اسلام کی توہین سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ لوگ ذاتی دشمنیوں کی بنیاد پر اس قانون کا استعمال کرتے ہیں اس لیے قانون کو تبدیل کیا جانا چاہیے، تو ایک دم سے جذباتیوں کا جمعہ بازار لگ جاتا ہے اور دین دشمنی کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں آج تک کسی بھی شخص کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں موت کی سزا پر علمدرآمد نہیں ہوا اور تقریباً تمام ملزمان مقامی عدالتوں میں سزا پانے کے بعد، اعلیٰ عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں (یہ اور بات ہے کہ ان میں سے کئی کو زیادہ عرصہ جینے نہیں دیا جاتا)۔ ان حالات میں کیا یہ تجویز غلط ہے کہ یا تو اس قانون کو ختم کیا جائے یا تبدیل کیا جائے۔

چار بچوں کی ماں آسیہ بی بی کو ابھی صدارتی معافی ملی بھی نہیں کہ مذہبی منافرت کے دلدادہ افراد نے ملک میں دھمکیوں کا بازار گرم کردیا ہے۔ کوئی بولے تو ٹھک سے اسلام اور دین دشمن قرار۔

پاکستان میں جو لوگ مسیحیوں یا دوسری اقلیتوں کے افراد کو جانتے ہیں ان کو اندازہ ہوگا کہ وہ بے چارے کس قدر سہمے ہوئے ہوتے ہیں، کیا ان کو اپنی جان گنوانی ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے پیغمبر کے خلاف زبان درازی کریں؟

آپ کہیں کہ ملک میں شدت پسندی، قتل و غارت گری، مذہبی اور لسانی فسادات نے معاشرے کو انتہائی پژمردہ کردیا ہے ایسے میں کچھ نہ کچھ ثقافتی اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیں تو سڑکوں پر اور میڈیا میں مصروف ‘جہادی بریگیڈ‘ اللہ اور رسول کے احکامات سے انحراف کی تلوار لیکر میدان میں کود پڑتی ہے۔ کہتے ہیں آپ بے حیائی اور عریانیت پھیلا رہے ہیں اور یہ مملکت خداداد میں ہونے نہیں دیا جائے گا۔

حال میں ایک بڑے اخبار کے ’توپ صحافی‘ کا ‘عریانیت اور فحاشی‘ کے خلاف کالم پڑھا جو پڑھ کر کچھ ایسے ہی خیالات اور جذبات ابھرے جیسے پاکستان کے اخبارات میں آئے دن پاکستانی فلموں میں عریانیت کے موضوع پر چھپنے والے ان لاتعداد مضامین سے ابھرتے ہیں جن میں پاکستانی ہیروئنوں کی بڑی بڑی تصاویر چھاپی جاتی ہیں اور ان تصاویر میں ہیروئنیں کے جسم کے متعدد حصوں کو سیاہ دھاریاں لگا دی جاتی ہیں۔

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں اسلام اور دین کے احکامات کے خودساختہ ٹھیکیدار، لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے تمام خیالات کو بھی اسی طرح سیاہ دھاریاں لگا دینا چاہتے ہیں۔لللل

ابو سعد کہا...

خاور کنگ زندہ باد

mdanishtaha کہا...
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
کاشف نصیر کہا...

خاور جی توہین رسالت کا قانون کسی مولوی کا بنایا ہوا نہیں ہے. بخاری کی ایک نہیں کئی احادیث اس حوالے سے موجود ہیں. اگر آپ ان احادیث کا انکار کرتے ہیں تو ہم آپ کو منکر حدیث کہیں گے وہابی اور اہل حدیث نہیں کہ وہابیوں اور اہل حدیث سے بڑھ حدیث کو اپنانے والے کون ہیں.

سرکار دو عالم صلی اللہ و علیہ وسلم کے گستاخ کی سزا موت ہے، موت ہے، موت ہے چاہے وہ گستاخ توبہ کرکے دنیا کا متقی ترین شخص ہی کیوں بن جائے. ہم اس سے کم پر ہرگز تیار نہیں ہونگے. اگر حکومت یہ قانون ختم بھی کردے تو خدا کی قسم ہم ابوبکرہ کے بیٹے ہر قعب بن اشرف کی گردن اڑا دیں گے چاہئے اس کے لئے ہمیں قانون ہاتھ میں کیوں نہ لینا پڑے. اللہ کی قسم ہم گستاخ کے خون کےپیاسے ہیں وہ جہاں بھی ہمارے سامنے آئے گا چاہے دارلحرب ہو یا دارلسلام، بندوق کی گولی ہو یا تلوار یا خنجر کی دھار ہم چلا دیں گے. گستاخ کے قتل کے لئے اللہ کے رسول نے خانہ کعبہ تک میں خون خرابے کا حکم دیا ہے ہم کسی خاور کے کہنے پر اللہ کے رسول صلی اللہ و علیہ وسلم کے حکم کو پامال نہیں ہونے دیں گے.

شازل کہا...

توہین کرنے والے کو قتل کردینا چاہئے چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر۔
لیکن یہ یقین ہو کہ واقعی اس نے توہین کی ہے

کاشف نصیر کہا...

میں یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ میں کسی آسیہ نامی خاتون کے خلاف نہیں ہوں اور نہ مذہبی جماعتیں آسیہ کے خلاف، اسکے گاوں والے اس غریب کے خلاف بھلے ہوتے ہوں۔ ہم تو اس قانون کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والوں، اب جیسے منکرین حدیث، روشن خیالیوں اور بے دین مادہ پرستوں کی منافقت کے خلاف ہیں۔
عثمان کی یہ بات بہرحال قابل غور ہے اور میرے خیال سے اس قسم کی سخت سزاوں کے لئے شہادتوں کے طریقے کار کو بہتر بنایا جانا چاہیے اور ایک عادی گستاخ اور ایک حادثاتی گستاخ میں تمیز بھی ہونی چاہئے۔ اگر قانون ختم ہوا تو یاد رکھیں پھر انصاف سڑکوں پر ہوگا اور مجھ جیسا جینز پہن کر یونیورسٹی جانے والا لڑکا بھی ایسے انصاف میں خود شامل ہوگا۔

خرم کہا...

سر جی بات وہی ہے۔ لوگوں نے جہلا کو اپنا عالم مانا ہوا ہے۔ وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوجوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ غیر مسلم پر تو شریعت لگتی ہی نہیں۔ ہماری شریعت لگتی ہی ان پر ہے۔ جو رسول مانے اسی کی گستاخی واجب سزا ہے جو رسالت پر ہی ایمان نہ لائے اس پر گستاخ رسول کا فتوٰی چہ معنی دارد؟ لیکن یہ بات شارٹ کٹ کے متوالوں کو سمجھائے کون؟ ایک بات کی اور وضاحت کہ بخشنہار جو ہے وہ ایک کرم پر بھی جسے چاہے جب چاہے بخش دے۔ اس کی رحمت پر نہ خاور کی منطق چلتی ہے اور نہ خرم کا فلسفہ۔ چاہے جی مانے یا نہ مانے، حقیقت یہی ہے۔ یہ جو عمل ہم جنت میں جانے کا سرٹیفیکیٹ سمجھ کر کرتے ہیں ان کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ اگر حقیقت ہے تو صرف اس کے رحم کی اور وہ رحم ایک کرم پر بھی ہوسکتا ہے اور ساری حیاتی کے اعمال پر بھی۔

عثمان کہا...

کاشف،

[سرکار دو عالم صلی اللہ و علیہ وسلم کے گستاخ کی سزا موت ہے، موت ہے، موت ہے چاہے وہ گستاخ توبہ کرکے دنیا کا متقی ترین شخص ہی کیوں بن جائے. ہم اس سے کم پر ہرگز تیار نہیں ہونگے. ]

[ میں یہاں یہ بھی وضاحت کردوں کہ میں کسی آسیہ نامی خاتون کے خلاف نہیں ہوں اور نہ مذہبی جماعتیں آسیہ کے خلاف، اسکے گاوں والے اس غریب کے خلاف بھلے ہوتے ہوں۔]

یار بھائی دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کی ضرورت ہی کیا تھی. اگر کوئی ملعون ہے تو معلون ہے۔ گردن مارو اور بات ختم۔ اگر مگر کا سوال کہاں ؟

fikrepakistan کہا...

کوئی غیر مسلم خرم صاحب کے والد کو خرم صاحب کو گالی دے یا انکی شان میں گستاخی کرے تو کیا خرم صاحب اس وقت یہ ہی سوچیں گے کہ یہ تو غیر مسلم ھے اسکی بات کا کیا برا ماننا ؟ شریعت تو بہت بعد کی بات ھے سب سے پہلے تو عشق کا تقاضہ ہی کافی ھے، کاشف نصیر کی بات بلکل درست ھے کہ جو بھی حضور پاک صلی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو اسکی بیخکنی فوری طور پہ ضروری ھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ سے روایت ھے کہ حضور پاک صلی علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی بھی اس وقت تک مسلمان نہیں ھوسکتا جس وقت تک میں اسے اپنے والدین سے بھی زیادہ عزیز نا ھوجاوں۔ حیف صد حیف ان لوگوں پر جو حدیث سے ہی منکر ہیں جو حدیثوں کو ہی نہیں مانتے بلکے باقائیدہ مذاق اڑاتے ہیں حدیث کا، اور اس پر بے غیرتی یہ کہ پھر بھی خود کو حضور پاک صلی علیہ وسلم کا سمجھتے ہیں۔

fikrepakistan کہا...

کوئی غیر مسلم خرم صاحب کے والد کو خرم صاحب کی موجودگی میں گالی دے یا انکی شان میں گستاخی کرے تو کیا خرم صاحب اس وقت یہ ہی سوچیں گے کہ یہ تو غیر مسلم ھے اسکی بات کا کیا برا ماننا ؟ شریعت تو بہت بعد کی بات ھے سب سے پہلے تو عشق کا تقاضہ ہی کافی ھے، کاشف نصیر کی بات بلکل درست ھے کہ جو بھی حضور پاک صلی علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے تو اسکی بیخکنی فوری طور پہ ضروری ھے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ سے روایت ھے کہ حضور پاک صلی علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی بھی اس وقت تک مسلمان نہیں ھوسکتا جس وقت تک میں اسے اپنے والدین سے بھی زیادہ عزیز نا ھوجاوں۔ حیف صد حیف ان لوگوں پر جو حدیث سے ہی منکر ہیں جو حدیثوں کو ہی نہیں مانتے بلکے باقائیدہ مذاق اڑاتے ہیں حدیث کا، اور اس پر بے غیرتی یہ کہ پھر بھی خود کو حضور پاک صلی علیہ وسلم کا امتی سمجھتے ہیں۔

گمنام کہا...

"کوئی غیر مسلم خرم صاحب کے والد کو خرم صاحب کی موجودگی میں گالی دے یا انکی شان میں گستاخی کرے تو کیا خرم صاحب اس وقت یہ ہی سوچیں گے کہ یہ تو غیر مسلم ھے اسکی بات کا کیا برا ماننا "

برا منانے اور کسی کو قتل کردينے ميں بڑا فرق ہے ليکن مذہبی دہشتگرد يہ فرق مٹانے پے تلے ہيں۔ بدمعاشی جو کرنی ہے۔ باقی جو دہشتگردوں کے ہمدرد ناموس رسالت کے بڑے بنے ہيں انکے اپنے کرتوت کيا ہيں؟ اگر ناموس رسالت انکے ہاتھ ميں ہے تو يقينا خطرے ميں ہے۔

ان منافقوں سے ايک جملہ بڑا سننے ميں آتا ہے کہ ”ہم جيسے بھی مسلمان ہوں رسول کی توہين برداشت نہيں”، بڑے بڑے مولوی يہ جملہ بولتے ہيں۔ ارے بھئی ”جيسا بھی مسلمان” ہونا تو خود رسول کی توہين ہے، اور چلے ہو دوسروں کو ناموس رسالت کا سبق دينے بلکہ سبق سکھانے۔

گمنام کہا...

"حیف صد حیف ان لوگوں پر جو حدیث سے ہی منکر ہیں جو حدیثوں کو ہی نہیں مانتے "

تمام حديثيں صحيح نہيں ہوتيں، قرآن کی حفاظت کا وعدہ ہے حديث کا نہيں، اسليئے حديثوں کو احتياط سے ديکھنے کی ضرورت ہے آنکھيں بند کرکے نہيں۔ ليکن منافقوں کا کام ہی کمزور اور قرآن کی تعليم کے خلاف حديثوں سے چلتا ہے اسليئے وہ بھی مجبور ہيں کہ حديث حديث کی رٹ لگائے رکھيں۔

اگر قرآن کے بر خلاف حديثوں کو صحيح تسليم کرليا جائے تو اسلام تضادات کا مذہب بن جائے گا اور اپني بنياد ہي ميں تضاد رکھنے والا سچا مذہب کيسے ہوسکتا ہے؟ اسليئے ضروری ہے کہ قرآن سے متصادم ہر حديث کو ردکيا جائے چاہے کتنی ہی سنديں پيش نہ کی جائيں۔ جہادی بے شک روتے رہيں۔

گمنام کہا...

"اگر توہین رسالت پر بھی غیرت نہ آئے تو ہندو یہودی عیسائی سکھ ہوجانے میں کس چیز کا ڈر؟
"

اگر توہین رسالت پر بھی غیرت نہ آئے تو ہندو یہودی عیسائی سکھ ہوجانے میں کس چیز کا ڈر؟

واہ بھئ واہ يعنی مسلمان تو مسلمان ہونے پہ خوش ہی نہيں بلکہ وہ تو ہندو یہودی عیسائی سکھ ہونا چاہتے ہيں صرف تم جيسے دہشتگردوں کے خوف سے مسلمان بنے بہٹھے ہيں۔ ارے ان جيسے منافق مسلمانوں کو جانے دو تاکہ پھر گلياں ہون سونی تے مرزا يار پھرے۔

حقيقت ميں تم جيسوں کے کرتوت ديکھ کے ہی کوئی اسلام کو چھوڑنے کا سوچ سکتا ہے۔

mdanishtaha کہا...
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
راشد خواجہ کہا...

خاور صاحب
سلام مسنون
بعض لوگوں میں انقلاب کا خوابیدہ جذبہ بھی ہوتا ہے اور اس کا حوصلہ بھی لیکن منزل کا منظر دھندلا ہونے کی وجہ سے ان کی کڑھن بار آور نہیں ہو پاتی۔ آپ کی باتوں کی باتیں مجھے انہی حوصلہ مندوں کی یاد دلاتی ہیں جو اپنی عمر کے چھیالیس سال تک کڑھنے جھیلنے کے باوجود انسانیت کے لیے اس لیے عازم سفر نہ ہو پائے کہ رخ منزل متعین نہ تھا۔ میں بھی اسی کڑھن میں مبتلا ہوں اور ان عجیب و غریب گوشوں کی جستجو میں رہتا ہوں جن سے مجھے فرسودہ آموختہ کی بجائے اپنی سیرابی کا سامان ملے۔
http://kohesafa.blogspot.com/
یہ بلاگ بھی اسی قسم کا ایک بلاگ ہے جو میری پسندیدہ بغاوت کا مظہرہے۔ امید ہے آپ کے لیے بھی دلچسپی کا حامل ہو گا

Popular Posts