منگل، 25 مئی، 2010

باہر کی کمائی

پاکستان میں جس بندے نے اچھے اکڑے هوئے کپڑے پہنے هوں ،بڑا صاف ستھرا بن کے بیٹھا هو ، بقول شخصے ناک پر مکھی نه بیٹھنے دے
اس سے پوچھھ کر دیکھیں که بھائی صاحب اپ کاکاروبار کیا هے ؟
تو زیادھ تر کا جواب هو گا بھائی باہر هوتا ہے
بھائی آپ کیا کرتے هو؟
تو ان کا کوئی مصاحب پاس سے جواب دے گا جی پیسه ان کے لیے مسئله هی نهیں هے اپ نے سنا نہیں هےکه ان کے بھائی باہر هوتے هیں .
اور جو باہر سے پیسے بھیجتا ہے اس کا کیا حال ہے !،
باہر سے کمائی کرکے بھیجنے والوں کی بھی کیٹگری هیں
نئے نئے باەر والے ابھی ماں باپ کی خدمت کے جذبے سے سرشار هوتے هیں لیکن پرانے والے اس جذبے سے بیزار هوتے هیں
پاک گھر والوں کو کام کرنے کا کہیں تو ان کے جواب کیا هوتے هیں
اپ نے وھ محاورھ تو سنا هے ناں جی
بے نمازاں والے عذر؟
بس اس کی مثال هوتے هیں
زمین پر کھیتی باڑی کا کہیں تو جواب هوتا ہے که
اس کام میں خرچے وغیرھ نکال کر کچھ بھی نهیں بچتا هے فضول کی محنت ہے بچت کچھ نهیں هے
ڈیری فارم بنا لیں
بھینسوں کو تو بیماری پڑ جاتی ہے اور اس بیماری کی کچھ مثالیں بھی دی جائیں گی جو که عموماً کسی رشتے دار کے گاؤں کی هوں گی اپنے گاؤں کی نهیں که جھوٹ پکڑا هی جائے
دوکان ڈال لو جی
جواب هو گا دوکان داری کا تو ادھار نے بیڑا غرق کردیا ہے لوگ ادھار لے جاتے هںیں اور دیتے هی نهیں اس کام میں تو اب رھ هی کچھ نہیں گیا هے
کوئی فیکٹری لگا لو
جواب هو گا تم جاپان بیٹھ کر باتیں کرتے هو یہاں بجلی هی نهیں آتی هے بجلی کا پلگ کیا میں اپنی ناک میں لگاؤں گا؟
حاصل جمع که تم بس پیسے بھیجوجی پیسے
اور جب کبھی اپ ان کو پوچھ بیٹھیں که سناؤ کیسی گزر رهی هے؟
تو جواب هو گا که اس ملک میں تو پیسے کا کچھ بنتا هی نهیں هے
لو جی کرلو باتاں یعنی که اب پیسے کا بھی کچھ نهیں بنتا ہے
کام چوری میں اس حد تک چلے جاتے هیں که اپ ان کو کہیں که گوجرانوله میں فلاں کے پاس پیسے پڑے هیں وھ جا کر لے آؤ
تو ان پیسوں کو لے کر انے کا وھ معامله بنا کر سنائیں گے که وھ میں تھا جو یه پیسے لے ایا هوں ورنه انہوں نے تو دینے هی نهیں تھے
یه سب اسانی سے ملنے والے پیسے کی خرابی هے
قران میں سود کو گھاٹے کا سودا کیوں کہا گیا هے ؟
اس لیے که یه بندے میں سے محنت کی تاثیر ختم کردیتا تے
اور یه باہر سے انے والے پیسے نے کھانے والوں ميں سے محنت کی صلاحیت ختم کی ہے اور پڑوسیوں کے ٹیسٹیکل آرتھ کر کے ان کو جائیز ناجائیز کی تمیز سے بیگانا کردیا ہے
اس ملک کو باہر کے پیسے نے نکما کردیا اور اسمگلنگ نے صنعت کا بیڑا غرق کردیا
کیا خیال ہے که اکر سبھی ممالک هم لوگوں کو نکال باہر کریں تو کیا هو گا؟
پاکستان کے حالات ٹھیک هو جائیں کے
جب کہیں سے کچھ نهیں آئے گا تو زمین میں ہل چلانا هی پڑے گا
دوکان چلانی هی پڑے گی
لوڈ شیڈنگ ؟؟
ابھی کل کی بات ہے که لائلپور میں کپڑے کی ملیں اونٹ سے چلتی تھیں
جاہل اور جولاھ کا قافیه ایک هونے کی وجه سے جاھلوں کے سبھی لطیفے جولاہوں پر فٹ کر دیے
اور ان کو بجلی کا چاکا دے کر اونٹ نکال باہر کیے اور اب بجلی بھی کھینچ لی هے
کیا اب مل اونٹ سے نہیں چل سکتے ؟
درے ميں بندوقیں بنانے والے بڑے بڑے چکوں سے کام چلایا کرتے تھے
ٹیوب ویل کو ضروری تو نهیں که موٹر سے هی گمہایا جائے
گراریاں لگا کربیل بھی تو چکر بنا سکتا ہے
بجلی کا جنریٹر کیا شریعت میں لکھا ہے که انجن سے هی چلے گا
فلائنگ وھیل لگا کر بیل سے بھی تو چلوایا جاسکتا ہے
لیکن جی هاہر کے پیسوں نے ماحول بنا دیا هے که
کم جوان دی موت اے(کام جوان کی موت ہے)،
پیسا قبر دا عذاب اے
الیکٹرونک کی مارکیٹ کا کیا بنے کا تو جی ضروت ایجاد کی ماں هوتی ہے
ناں جی؟
تو کاریگر اس کا خصم هوتا ہے
اور اسمگلر اپنی هی ماں کا یار هوتا ہے
دھرتی ماں پر غیر ملکی ایجنسیاں اسمگل کرے یا مشینری، دوایاں اسمگل کرے یا پرزے
یه اپنی ماں سے بلاد کار کرتا ہے
اور یه کروانے والے کسٹم افیسر ……..؟
پاکستان کی صنعت کو لوڈ شیڈنگ نے نهیں اسمگلنگ نے ختم کیا هے
صعنت کی موت نے هی لوڈ شیڈنگ بھی پیدا کی هے ورنه کیا همارے مستری جنریٹر نہیں بنا سکتے تھے

15 تبصرے:

منیر عباسی کہا...

بہت اچھے۔

نبض پہ ہاتھ رکھ دیا۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

خاور بھائی لگتا ھے۔ہم سب ایک ہی جہنم میں جلتے ھی۔اس سے نکلنے کا طریقہ بھی بتا دیں۔جہاں بیس ہزار میں گذارا نہیں ھوتا تھا۔اب دو لاکھ میں بھی نہیں ھوتا۔یہ باہر والی کمائی کا اور بھی مطلب ھوتا باہر کی بے برکتی کمائی۔

پھپھے کٹنی کہا...

گھر والے بھی لڑکوں کو خوب بے وقوف بناتے ہيں پر عقل انہيں تب آتی ہے جب اسکی ضرورت نہيں ہوتی

پھپھے کٹنی کہا...

مسٹر خوامخواہ اسکا علاج يہ ہے کہ صرف اپنے بيوی بچوں پر توجہ ديں ابا کے بچوں کو انکے حال پر چھوڑ ديں

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بھا جی ۔ مسئلہ فدی دا ايہہ وے کہ پيسہ نئيں چہی دا ۔ ايتھے تے روپے دا کُج نئيں ملدا ۔ پچھلے مہينے اک پا بير لے سی 40 روپے دے ۔ پا جی تُسی جيہڑے زمانے بار گئے سی نا ۔ اودوں اک پيسے دے پا بير ملدے سی ۔ مينوں گھٹ سی گھٹ 85 لکھ روپيہ چہيدا اے تاں کہ اک لکھ ڈالر خريد کے لکھ پتی بن جاواں ۔
جناب ہماری قوم کو ہڈحرامی اور حرام کی عادت پڑ گئی ہے ۔ يہ وہ جن ہے جسے نکالنے کيلئے صرف دُھوآں نہيں ساتھ چھترول کی بھی ضرورت ہوتی ہے
1969ء تک ملک سے باہر صرف وہ لوگ جاتے تھے جن کے علاقے ميں فصل نہيں ہوتی تھی تو ملک سے باہر جا کر محنت مزدوری کرتے تھے ۔ 1970ء ميں پہلی بار افريقہ ۔ اور مڈل ايسٹ ميں ہمارے لوگوں کی مانگ ہوئی اور حکومت نے ڈاکٹر ۔ نرسيں ۔ ليبارٹری ٹيکنشن ۔ انجيئر اور سب انجيئر بھيجے ۔ يہ لوگ اچھی تنخواہيں پاتے تھے اور اپنے خاندان کو ساتھ لے جاتے تھے ۔ 1972ء ميں عوامی دور آيا ۔ تمام انڈسٹری حتٰی کہ آٹے کی چکيوں پر اور سکولوں اور کالجوں پر حکومت نے قبضہ کر کے اپنے منظورِ نظر لوگوں کے حوالے کر ديئے ۔ ساتھ ہی ايک روپے کی قيمت 47 پيسے کر دی ۔ تمام کاروبار پر کميشن ايجنٹ بٹھا ديئے ۔ آٹا ۔ چاول ۔ گھی ۔ چينی بازار سے غائب ہو گئی ۔ سبزيوں کا يہ حال ہوا کہ پياز جو 8 آنے کا کلو بکتا تھا 5 روپے کلو بکنے لگا ۔ عام لوگوں نے مجبور ہو کر ملک چھوڑنا شروع کيا اور جہاں کا راستہ نظر آيا چلے گئے ۔ نتيجہ وہی ہوا جو آپ نے لکھا ہے

سن 2000ء سے ورلڈ بينک اور آئی ايم ايف سے بے تحاشہ قرضے لئے جا رہے ہيں اُن کی شرائط کے مطابق جو قانون ملک ميں رائج کيا گيا ہے اس کے تحت امپورٹ ہونے والے مال پر ڈيوٹی 30 فيصد ہے اور ملک ميں بننے والے مال پر ٹيکس کم از کم 65 فيصد ۔ اُوپر سے بجلی پٹرول اور گيس مہنگے ۔ سب کارخانے ٹھپ اور دھڑا دھڑ امپورٹ ہو رہی ہے ۔ ملک برباد نہيں ہونا تو اور کيا ہونا ہے ؟

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميرا تبصرہ کہاں اُڑ گيا ؟ چلو ايک دفعہ پھر لکھ دتيا ہوں
بھا جی ۔ مسئلہ فدی دا ايہہ وے کہ پيسہ نئيں چہی دا ۔ ايتھے تے روپے دا کُج نئيں ملدا ۔ پچھلے مہينے اک پا بير لے سی 40 روپے دے ۔ پا جی تُسی جيہڑے زمانے بار گئے سی نا ۔ اودوں اک پيسے دے پا بير ملدے سی ۔ مينوں گھٹ سی گھٹ 85 لکھ روپيہ چہيدا اے تاں کہ اک لکھ ڈالر خريد کے لکھ پتی بن جاواں ۔
جناب ہماری قوم کو ہڈحرامی اور حرام کی عادت پڑ گئی ہے ۔ يہ وہ جن ہے جسے نکالنے کيلئے صرف دُھوآں نہيں ساتھ چھترول کی بھی ضرورت ہوتی ہے
1969ء تک ملک سے باہر صرف وہ لوگ جاتے تھے جن کے علاقے ميں فصل نہيں ہوتی تھی تو ملک سے باہر جا کر محنت مزدوری کرتے تھے ۔ 1970ء ميں پہلی بار افريقہ ۔ اور مڈل ايسٹ ميں ہمارے لوگوں کی مانگ ہوئی اور حکومت نے ڈاکٹر ۔ نرسيں ۔ ليبارٹری ٹيکنشن ۔ انجيئر اور سب انجيئر بھيجے ۔ يہ لوگ اچھی تنخواہيں پاتے تھے اور اپنے خاندان کو ساتھ لے جاتے تھے ۔ 1972ء ميں عوامی دور آيا ۔ تمام انڈسٹری حتٰی کہ آٹے کی چکيوں پر اور سکولوں اور کالجوں پر حکومت نے قبضہ کر کے اپنے منظورِ نظر لوگوں کے حوالے کر ديئے ۔ ساتھ ہی ايک روپے کی قيمت 47 پيسے کر دی ۔ تمام کاروبار پر کميشن ايجنٹ بٹھا ديئے ۔ آٹا ۔ چاول ۔ گھی ۔ چينی بازار سے غائب ہو گئی ۔ سبزيوں کا يہ حال ہوا کہ پياز جو 8 آنے کا کلو بکتا تھا 5 روپے کلو بکنے لگا ۔ عام لوگوں نے مجبور ہو کر ملک چھوڑنا شروع کيا اور جہاں کا راستہ نظر آيا چلے گئے ۔ نتيجہ وہی ہوا جو آپ نے لکھا ہے

سن 2000ء سے ورلڈ بينک اور آئی ايم ايف سے بے تحاشہ قرضے لئے جا رہے ہيں اُن کی شرائط کے مطابق جو قانون ملک ميں رائج کيا گيا ہے اس کے تحت امپورٹ ہونے والے مال پر ڈيوٹی 30 فيصد ہے اور ملک ميں بننے والے مال پر ٹيکس کم از کم 65 فيصد ۔ اُوپر سے بجلی پٹرول اور گيس مہنگے ۔ سب کارخانے ٹھپ اور دھڑا دھڑ امپورٹ ہو رہی ہے ۔ ملک برباد نہيں ہونا تو اور کيا ہونا ہے ؟

Yasir Imran Mirza کہا...

پر سوچ باتیں ہیں سر
شاید ایسے تلخ حقائق جن کے وقت گزرنے کے بعد احساس ہوتا ہے۔
اللہ سب پر رحم کرے

جاویداقبال کہا...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
خاوربھائی، آپ نے بہت خوب لکھاہےیہ باہرکی کمائی گھروالوں کوکام نہیں کرنےدیتی اوریہ تولکھانہیں ہےکہ اگرپیسےنہ بھیجیں توپھرکیاہوتاہے؟؟؟؟؟؟؟

والسلام
جاویداقبال

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جاوید صاحب پھر ابا جی کےدوست فون کر کے مسلمانی یاد کرواتے ہیں۔فرمانبرداری کرو گئے تو جنت ملے گئی نہیں تو معافی نہیں ھے۔ایک اور بات کبھی مجھ سے یہ نہیں پو چھا گیا۔کہ کمائی حلال کی یا ۔۔۔۔۔۔

بدتمیز کہا...

ابا جان معصوم نے پھر پیسے ڈیمانڈے ہیںِ؟

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

نہیں بھائی ڈیمانڈوں والا کام ختم ھو گیا ھے۔ماکاناں دے کرآئے جاتے ہیں انہیں۔اب تو عید پر خیر خیریت پوچھنے والا فون بھی نہیں آتا۔پر سکون تے ٹھنڈیاں ٹھنڈیاں جاپان دیاں دن تے راتاں۔

Shahzad کہا...

بس جی پسیاں دا تے بن دا ای کج نیی...
بس اک امی جی ہی کیندے نیں ...پتر اپنا وی خیال رکھیا کر ساڈا فکر نہ کریا کر....نہ وی پیج اسی گزارہ کرا ں گے.

خورشیدآزاد کہا...

خاور ہمیشہ کی طرح کیا خوب لکھا ہے۔۔۔۔پہلے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو محنت کش کہاجاتا تھا اب تو یہ محنت کش بھی کام چوری پر اتر آئے ہیں۔ بےروزگاری کا رونہ رو کر حکومتی فیملی ویلفئر ادارے سے پیسے لیتے ہیں اور دوسری طرف چھپ کرکام بھی کرتے ہیں، طلاق کا ڈرامہ، زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کروکہہ حکومت سے پیسے ملیں، کام کے دوران معمولی سا زخم لیکن ہاتھ میں ڈانگوری پکڑ لی کہ انشورنس سے زیادہ پیسے ملیں وغیرہ وغیرہ

ہمارا کیا ہوگا۔

گمنام کہا...

تھو۔۔۔۔ڑے ہم کیا راہ دے اھر تو پنجابی مشاعرہ چل رہیا نی ایک پنجابئ نے سڑک چھاپ بلاگ کیا لکھا سب وھا وھا وھا وھا کرتا ھے بڑا تصوبی ھے پنجابی تم صرف محب وطن اور سب غادار ھے تھو۔۔۔۔ڑے تھو تھو اخو تھو

کوثر بیگ کہا...

بہت خوب لکھااب یہ سب پڑھکر نئے نئے پردیسیوں کو کچھ پس انداز کر رکھنے کا خیال آ ہی گیا ہوگا ۔ مگر ہمارا کیا جو اب پچھتاوے کے موڈ پر کھڑے ہیں؟ اللہ پردیسیوں اور ان کے اقارب دونوں ہی کو عقل و سمجھ اور حس عطا کرے۔۔۔

Popular Posts