بدھ، 19 مئی، 2010

تعلیم اور ہنر کی عزت هونی چاھیے

بی بی عنیقه ناز صاحبه جو که ایک تعلیم یافته خاتون ہیں پچھلے کچھ دنوں سے کچھ ان گے ساتھ بدتمیزی کی جارهی ہے، اور جوان بلاگر ان سے هونے والی بد تمیزی میں شامل هو گئے هیں ، میں اس بات کی مذمت کرتا هوں
ایسا نهیں هونا چاھیے
کسی کی تعلیم اور وھ صلاحیتیں جو اس شخص نے محنت کرکے حاصل کی هوں ان پر طنز نهیں هونا چاھیے
کسی کے اپنی نسل پر فخر یا زبان پر فخر یا کسی بھی ایسی چیز پر فخر جو که اس شخص کی نهیں اس کے اباءکی کوشش کا نتیجه هو اس پر اس کی کھنچائی هونی چاھیے که وھ بندھ خود بھی کوشش کرے لیکن
تعلم یافته اور ہنر مندوں کو کم تر نام سے اور طنز سے بلانا گوجرانواله کی ایک غیر پنجابی برادری جو که پهاڑوں سے زرق کی تلاش میں اتر کر یهاں اباد هو چکی هے ان کی عادت ہے جو که پاکستان کے ایلٹ میں بھی پائی جاتی ہے
عام لوگ ایلیٹ کی عادتیں اپنا لیا کرتے هیں
اس لے شاید دوست بلاگر نادانستگی میں ایلیٹ لوگوں والے رویے کا شکار هو گئے هیں
عنیقه ناز صاحبه کے نظریات سے یا ان کی کسی تحریر سے مجھے اختلاف هو گا تو ميں اپنی سے کوشش سے جتنی بھی هو سکے طنز اور تلخ تحریرلکھوں گا لیکن ان کی ذات پر یا ان کی تعلیم پر طنز نهیں کروں گا
بلاگنگ کی تاریخ میں هم لوگ اس مقام پر هیں جہاں سے روایا ت بنیں گی
هماری کوشش هونی چاھیے که اچھی روایات قائم کریں ـ
ایک دوسرے کے نظریات پر اختلاف میں پھٹیاں اکھیڑ دو جی لیکن ذاتیات پر نهیں اترو جی
انداز بیان گر چه که میرا شوخ نهیں
شائد که ترے دل میں اتر جائے میری بات

25 تبصرے:

راشد کامران کہا...

خاور صاحب۔ بروقت لکھا اور درست لکھا۔ کچھ اچھا نہیں ہورہا پچھلے چند دنوں سے اس کے لیے ہم سب ہی ذمہ دار ہیں تو مثبت سوچ کے ساتھ نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔

Noumaan کہا...

آپ نے بروقت اس موضوع پر لکھا۔ میں لکھنا چاہ رہا تھا مگر وقت کی کمی کے سبب نہیں لکھ سکا۔ میرے خیال میں براہ راست ذاتیات پر طنزیہ تحاریر لکھنا نامناسب رویہ ہے۔

ابن سعید کہا...

ذاتیات پر اترنا عمومی طور پر قابل مذمت عمل ہے.

میرا پاکستان کہا...

ہم بھی عنیقہ صاحبہ کیساتھ ہونے والی زیادتی پر لکھنے ہی والے تھے کہ آپ نے ہمارے دل کی بات لکھ دی۔ واقعی ذاتیات پر اتر آنے والے لوگ اچھے نہیں ہوتے اور یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس کسی کے مقابلے میں اچھی دلیل دینے کو نہیں ہوتی تو وہ ذاتی گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں۔
ہمیں بھی عنیقہ ناز کے خیالات سے اختلافات ہوتے ہیں مگر ہم اپنی بات کہ کر چپ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے بلاگ پر کھل کر تبصرے کیے ہیں اور ہم نے کبھی ان کی بات کا برا نہیں مانا۔

افتخار اجمل بھوپال کہا...

ميں کسی کی دلالت کرنے کی بجائے اصولی پہلو پر بات کروں گا ۔ درست ہے کہ نظرياتی اختلاف کو ذاتيات پر منتج نہيں کرنا چاہيئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام بلاگرز کو اپنے رويہ پر بھی نظر ڈالنا چاہيئے کہ وہ اپنی پوسٹ لکھتے ہوئے يا کسی کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی فرد ۔ سياست يا سياستدان سے اختلاف ضرور کريں مگر کسی فرد يا کميونٹی پر ذاتی حملے نہ کريں ۔ اسی طرح بلاگر کی يہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پوسٹ پر ذاتيات پر مبنی تبصرے حذف کر دے ۔

جن لوگوں نے عنيقہ ناز صاحبہ پر ذاتی حملے کئے ہيں اُن کی مذمت ہونا چاہيئے کيونکہ يہ زيادتی ہے ۔ موجودہ صورتِ حال جو عنيقہ ناز صاحب کے ساتھ پيش آئی اس کی ذمہ داری دو وجوہ سے اُن پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ ايک وہ لکھتے ہوئے آپے سے باہر ہو کر قابلِ اعتراض باتيں لکھ جاتی ہيں اور کسی فرد يا کميونٹی کی تضحيک بھی کر جاتی ہيں ۔ دوسرے ۔ اُن کا واحد بلاگ ہے جہاں مبصرين اپنا نام لکھ کر يا گمنام رہ کر لوگوں کی ذات پر نہ صرف حملے کرتے ہيں بلکہ اُنہيں اور اُن کے آباؤ اجداد کو گالی ديتے ہيں يا اُن کا تمسخر اُڑاتے ہيں ۔ اسلئے محتمہ کو بھی اس سلسلہ پر نظرِ ثانی کرنا چاہيئے

Jafar کہا...

اصول کے طور پر تو بالکل درست بات ہے کہ ذاتیات پر نہیں لکھنا چاہیے۔۔۔
پر اگر تعلیم یافتہ اور ہنرمند بندہ ہی دوسروں کی تضحیک کرے
تو ان پڑھ اور جاہل سے آپ کیا امید کرسکتے ہیں؟؟؟؟

DuFFeR - ڈفر کہا...

میں بھی لکھنا چاہ رہا تھا جی اس پر
لیکن سمجھ نہیں آئہی کہ کیا لکھوں
مذکورہ بلاگ پر غیر حذف شدہ تبصروں کو ہدف بناؤں یا پھر بلاگ پوسٹ کے میٹیریل کو؟
سمجھ نہیں آئی اس لیے نہیں لکھا
لیکن جوان بلاگران کو بے وجہ ہی گھسیٹ لیا آپ نے
جوان بلاگران میں سے کسی نے ذاتیات یا کسی کے ہنر پر نہیں لکھا
مجھے تو یہاں پر موجود تبصرہ نگاران جو کے بابائے اردوستان بھی مانے جاتے ہیں کے تبصروں کی سمجھ بھی نہیں آرہی کہ کیا لکھنا چاہ رہے تھے اور کیا نہیں لکھ سکے؟
اور وہ ایسی کیا زیادتی ہے جو مجھ جیسے اندھوں کو نظر نہ آ سکی؟

ابوشامل کہا...

جو لوگ بھی اس تنازع میں گھرے ہوئے ہیں، انہیں اپنے رویوں پر غور کرنا چاہیے۔ ایک طرف جہاں بدتمیز اور دیگر صاحبان کو سنبھلنے کی ضرورت ہے وہیں عنیقہ صاحبہ کو اپنے ذرا سوچ سمجھ کر انداز تخاطب اختیار کرنا چاہیے۔ میں نے تو یہ بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے چند مقامات پر نام لے کر ایک بلاگر کو منافق اور دوغلا تک کہا ہے۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ وہ انتہائی پڑھی لکھی خاتون ہیں، اتنا زیادہ جذباتی نہیں ہونا چاہیے۔
باقی بدتمیز کے بارے میں میں کیا کہوں کہ انہوں نے شاید اپنا یہ نام ہی اس لیے رکھا ہے کہ کوئی ان سے تمیز کی امید نہ رکھے۔ اللہ انہیں ہدایت دے۔

بدتمیز کہا...

ذاتی طور پر میرا خیال ہے ذاتیات پر جتنا آپ نے لکھا ہے شائد ہی کسی اور نے لکھا ہو۔
دوسرے میں مکمل طور پر اختلاف کرتا ہوں کہ عنیقہ کے معاملے میں کسی نے بھی ذاتیات پر بحث کی ہے۔ اور میرے خیال سے یہاں تبصرہ کرنے والے اکثر لوگ لاعلم ہیں کہ ذاتیات اور عادات میں کیا فرق ہے۔
تیسرے پہل عنیہق نے شروع کی تھی۔ کہیں نہ کہیں تو بس ہونی چاہئے۔ اول وہ چیزوں کو آوٹ آف کانٹیکسٹ لے جاتی ہیں اور اس کے بعد پنجاب کی کسی جاہل عورت کی مانند بےتکان بولتی چلی جاتی ہیں۔

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

جناب آپ نے یہ ایک جانبدار پوسٹ لکھی ھے۔کسی نے بھی کسی کی ذات پر حملہ نہیں کیا۔تعلیم یافتہ اور ہنر مندوں سے صرف احساس ذمہ داری اور اخلاقیات کا خیال رکھنے کی گزارش کی گئی تھی۔محسوس یہی ھوتاھے۔آپ نے اس پوسٹ کے تبصرے نہیں پڑھے اور نہ ھی اس کے بعد والی پوسٹ پڑھی۔ذات پات کی نفی کرکے آپ کس چیز کی معاشرے میں اصلاح کرنا چاھتے ھیں؟انسان کی تحقیر والا رویہ معاشرے سے ختم کرنا چاھتے ھیں نا؟تو یہ لسانی تعصب کیا ھے؟نسلی تعصب کی نفی کرتے ھیں نا۔تو جناب بتائیں یہ پہاڑوں والےرزق کے متلاشی۔پہاڑوں سے اترنے والے کیڑے مکوڑوں کا آپ کی اخلاقیات کی یاد دہانی کرانے والی پوسٹ میں کیسا ذکر ھے؟بات وہی کرنا ورنا کچھ نہیں دل کی بھڑاس نکالو۔یا گروہ بندی کرو۔مخصوص طبقے یا مٖخصوص علاقے کے لوگوں کا تحقیر سے ذکر کرنا کہاں کی اخلاقیات ھیں؟اس پوسٹ میں بھی یہی کچھ اور اس پوسٹ میں بھی یہی کچھ!!!!ہ محترم مجھ جیسا انپڑھ جاہل بندہ تعلیم یافتہ لوگوں سے کیسے رانمائی لے؟میں کیونکہ اپنے آپ کو جاہل سمجھتا ہوں۔محترم مجھے بتائے کیا میں آپ کی پوسٹ میں جو کچھ محسوس کر رہا ھوں۔کیامیں غلط ھوں؟غیر پنجابی برادری؟اچھا جی اس وجہ سے اس میں گند کر نےکی عادتاں ھیں؟تو جناب عنیقہ صاحبہ کی ذات پر کسی نے حملہ نہیں کیا تھا۔وجہ یہی تھی کی پنجابیوں کی ایسی کی تیسی ھو رھی تھی۔یعنی کہ نسلی یا لسانی تعصب کا گند ھو رھا تھا۔پھر بھی کوئی نہ سمجھے تو ایسی تعلیم ایسی ڈگریوں کی کیا عزت کرے یہ بندہ جاہل!!ہ

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

انداز بیان گر چه که میرا شوخ نهیں
شائد که ترے دل میں اتر جائے میری بات

پھپھے کٹنی کہا...

جو سب لکھنا چاہ
جو لوگ پرائمری پاس ہيں انکے ليے خرم شہزاد خرم نے نالج اپ ٹو ڈيٹ کرنے کے ليے لنک لگايا ہے مڈل ميٹرک وہاں سے کر ليں ايف سے ايم اے تک ميری ذمہ داری آگے عنيقہ ناز کی اور جو چٹے ان پڑھ ہيں انکا کچھ نہيں ہو سکتا جيسے جعفر ڈفر بدتميز خاور ياد رہے يہ ذاتی حملہ نہيں ہے صفاتي حملہ ہے کہ جعفر کے علاوہ سب کے نام فرضی ہيں جعفر کا کنفرم نہيں

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

پھیپھے کٹنی صاحبہ کوئی بھی بندہ ناچیز ایم اے تک تو خطوطی طریقےسے پڑھا لکھا انپڑھ ھوسکتا ھے۔آگےکی اہلیت نہ ھو تو کیا کرے۔
(-!-؛)

محمداسد کہا...

اوروں کی طرح میں بھی یہی کہوں گا کہ بروقت لکھا۔ لیکن آپ کے بلاگ پر یہ سب پڑھ کر حیرت ہوئی۔ کیوں کہ جو شخص مسلمانوں کے عمل کی آڑ میں دین اسلام کا مذاق اڑاتا ہو، وہ بھلا دوسروں کے کام پر تنقید کیسے کرسکتا ہے؟

آپ کے نزدیک تعلیم اور ہنر کی عزت ہے تو پھر دوسروں کے خیالات اور نظریات کا بھی احترام ہونا چاہیے۔ آپ اپنی کئی ایک تحریروں میں اسلام کو ثانوی حیثیت کا درجہ دیتے ہیں مثلاَ کبھی اس کے مقابلہ میں دین جاپانی کی اصلطلاح تو کبھی کچھ لاکھڑا کرتے ہیں۔

تعلیم اور ہنر کی عزت کی تلیقین کے باوجود اگر آپ یہ تحریر فرمارہے ہیں کہ نظریات کی جتنی چاہو پھٹیاں اکھیڑ دو۔ مطلب صاف ظاہر ہے، تعلیم یافتہ کو چھوڑو اور مذہبی نظریات والے کو کہیں کا نا چھوڑا۔

رہی بات عنیقہ صاحبہ کی ہتک کی، یہ عمل واقعی قابل تنقید ہے۔ لیکن کیا کوئی ان لوگوں کی طرف اپنی نظر کرم فرمائے گا جن کی بے عزتی عنیقہ ناز صاحبہ نے فرمائی۔ کیا کسی کی ہتک آپ کے لیے اس لیے قابل قبول ہے کہ وہ کم تعلیم یافتہ ہے یا اس میں ہنر نامی کوئی چیز نہیں؟ اگر اس کا جواب نہیں میں ہے تو یک طرفہ حمایت کرنے کے بجائے دونوں فریقین کی غلطیوں کی نشانہی اور تصحیح فرمائیں۔

nonajani کہا...

محمد اسد صاحب سے اتفاق کرتا ھوں

اپنا کوریا کہا...

خاور صاحب درست لکھا آپ نے عنيقہ ناز صاحبہ پر ذاتی حملے کئے ہيں اُن کی مذمت ہونا چاہيئے ,,یاسر صاحب میں نے اپ کی پوسٹ روشن خیال تعلیم یافتہ اور تیزابیت پڑھی اپنے نسلی یا لسانی تعصب پرلمبا چوڑا تعصب نا مہ لکھ دیا 23 سال چاپان رہنے کے بعد کچہ تو بندے چینج میں انی چاھے ،،

اپنا کوریا کہا...

< کچہ تو بندے میں چینج انی چاھےَََََْْ >,

عنیقہ ناز کہا...

چلیں جناب خاور صاحب، اب 'آپکی حاضری' کا وقت ہو گیا۔ ویسے آپ نے ناحق یہ کیا۔ آپکے مداح تو ناراض ہو گئے۔ کہاں توآوے ہی آوے کا نعرہ تھا اور کہاں جواب دو کا نعرہ۔
خیر ہے ابھی بھی کچھ لوگ بچے ہوئے ہیں۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

اسکو غیر جانبداری کہتے ہیں
اندھی تقلید نیہں
(عبداللہ اور نا معلوم ناراض نہ ہو جائیں کہیں اس بات سے)۔

عنیقہ ناز کہا...

سجن کی جانبداری میں غیر سجن سے غیر جانبداری۔
یہ سارے عیب پہلے نہیں نظر آئے تھے۔ جو اب گنوائے۔
سجناں کی باری کب آئے گی۔ اور کس موضوع پہ۔

خاور کھوکھر کہا...

ڈفر کا یه تبصرھ میل میں تو ملا ہے لیکن پوسٹ پر نظر نهیں اتا

اسکو غیر جانبداری کہتے ہیں
اندھی تقلید نیہں
(عبداللہ اور نا معلوم ناراض نہ ہو جائیں کہیں اس بات سے)۔


‎ میرے خیال ميں میں نے جو لکھا اور اس پر سب کے تبصروں سے یه حاصل هوتا ہے که تالی ایک ھاتھ سے نهیں بجتی هے
‎جتنی جھاڑ بدتمیز کو پڑی هے اس سے اور جتنے اعتراض عنیقه صاحبه پر هوئے هیں ان سے عنیقه صاحبه کو بھی کچھ ترامیم کرنی هوں گي اپنے رویے ميں
‎جناب اجمل صاحب همارے لیے بڑے محترم هیں
‎اور ان کے لکھے پر تنقید هم بھی کرتے ههں اور مزے کی بات ہے که اس تنقید سے کبھی بد مزگی پیدا نهیں هوئی ہے
‎ایس دوسرے کے خیالات کو سمحھنے کی کوشش هی ایک اچھا ماحول بنا سکتی ہے ناں که اپنی بات کے صحیع هونے کا زعم

یاسر خوامخواہ جاپانی کہا...

اپنا کوریا بھائی سب سے پہلے تو آپ کو دکھ پہنچانے کی معذرت کرتا ھوں۔میری لسانی یا نسلی تعصب کی تحریر کی نشاندھی کر دیں۔میں کٹوتی کردوں گا۔خاور کیلئے میرے دل میں عزت ھے اور عنیقہ صاحبہ کیلئے میرے دل میں کوئی بغض نہیں ھے۔دونوں کی پرستش نہیں کر سکتا۔اس لئے متفق نہ ھو نے کی صورت میں تنقید کرتا رھوں گا۔

DuFFeR - ڈفر کہا...

یہ ہو گئی سو باتوں کی ایک بات
اور اس بات پہ ہو جائے ایک نعرا
آوے ای آوے
:D

jafar کہا...

نہ تو جی کبھی خاور صاحب نے دعوی کیا ہے کہ جو وہ لکھتے ہیں، وہ وحی ہے لہذا اس پر ایمان لایا جائے
نہ ہی ان کے بلاگ پر نعرہ لکھا ہے کہ
خاور کا جو غدار ہے وہ موت کاحقدار ہے
اس لئے جرات ہوگئی ہماری ان سے اختلاف کرنے کی۔۔۔

Aamir Shahzad کہا...

بلاگنگ کا یہ رخ دیکھ کر افسوس ہوا ): اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

Popular Posts