سوموار، 22 جون، 2009

پیجا حرام دا

بابے نجمی نے لکھا تھا
ایدھر گبھرو لاشاں ڈگیاں ، سینے پاٹے ماواں دے
اودھر ٹھیک نشانے بدلے ، لگدے تغمے تلّے رهے
بابے نے تو اس بات کی اس رنگ میں لکھا تھا که جی همارے تو جوان مارے گئے اور دشمن کی فوج کو اس بات پر بہادری کے انعامات ملے
مگر میں اس کواس رنگ میں لیتا هوں که
که جی غریبوں کے بچے مارے جاتے هیں اور پاک فوج کو تغمے تلے ملتے هیں
پاک فوج کی فتوحات کیا هیں
اس کی کبھی کوئی لسٹ بنی تو اس میں بڑی بڑی طرح دار عورتوں کا نام آئے گا جی
جیسے که پیجے حرام دے کی ماں تھی تیکھے نین نقش والی سیاھ رنگ کی رجو اتنی سیاھ تھی که کوئی یه سمجھے که رجو اپنے حسن کی حفاظت چیری بلاسم والی بوٹ پالش سے کرتی هو گی
بچپن سے سخت محنت سے جسم اتنا متناسب هو گیا تھا که جی که خسرھ بھی دیکھ کر آھ بھرتا که کاش میں اپنا پرزھ کاٹ کر اج یه ناں هوتا
سیاھ رنگت مگر خوبصورت نقش اور سیڈول بدن کی رجو تھی تو غریب گھر کی اور جب بیاھ کر گئی تو خاوند کا گھر چھاؤنی کے پاس تھا اور ساس پہلے هی چھاؤنی ميں کسی گھر میں گھریلو کام کاج کرکے کماتی تھی
پھر جی کچھ ماھ بعد رجو بھی کسی جرنیل کے گھر کام کرنے لگی
اور اس جرنیل نے رجو کو ایک مہم سمجھ کر سر کرنے کی ٹھانی اور بہادری گے وه جوھر دکھائے که
رجو حامله هو گئی
چھوٹی ذات کا بڑے دل والا رجو کا خصم اس بات کو مذاق میں هی ٹال گیا
اور رجو کے بیٹے کو جرنیل پتر کہـ کر پکارتا تھا
لیکن رجو خود اس کو پیجا حرامی کہتی تھی اور سارا پنڈ بھی اس کو پیجا حرامی هی کہتا تھا
آج کل پیجا لندن میں هوتا هے
ایجور روڈ پر پاک لوگوں اور پاک محکموں کے لوگ اگر مل جائیں تو جی ان وه کرتا ہے که حرامی لگتا هی نہیں
ساری باتیں حق کی اور سچ کرجاتا ہے
که کہتا ہے میرا تو صرف نام حرامی هے
اصل حرامی تو وه جرنیل تھا جس نے میری ماں کو گھبن کر کے حرام کیا تھا
کبھی ترنگ میں هوتا ہے تو کہتا ہے که جی میں جرنیل کا پتر هوں
پاک جرنیل کا جن کی فتوحات هی ایسی هوتی هیں
جیسی میری ماں تھی
پاک کے متعلق اس کا کهنا ہے که جس طرح ماهواری والی عورت کو کہتے هیں که اس کو پاکی ائی هوئی ہے حالانکه اس کو پلیدی آئی هوتی هے
اسی طرح یه پاک فوج ، پاک افسر ، پاک حکومت ، کو بھی پاکی آئی هوئی ہے
وهاں پچھلے دنوں ایجور روڈ پر پھر رها تھا که تین ڈشکرے سے بندوں نے اس کو دیسی سے منه والا دیکھ کر پوچھ لیا که جی یهاں مزے والا ریسٹورینٹ کون سا ہے
پیجے حرامی نے ریسٹورینٹ کی نشاندھی کے بعد پوچھ لیا جی آپ پاکستان سے آئے لگتے هیں
یهان یورپ کے رھنے والے نهیں هیں
ویزھ کیسے مل گیا جی آپ کو ؟
وھ کهنے لگے که جی آپ هو سکتا ہے که خلاف هوں
هم جی پاک فوج سےهیں اور یهان یورپ میں بیلجئم میں ایک کانفرنس اٹینڈ کر آئے تھے اور اس بعد لندن دیکھنے کی خواهش یهان لے آئی ہے
پیجا تو جی تپ هی گیا
اور پوچھنے لگا
جی پاک فوج پاک کیوں کہلواتی ہے
کیا سویلین پلید هوتے هیں ؟
ان ڈشکروں میں ایک کرنل اور دوبرگیڈیر تھے
وه کهنے لگے که جی وه بات یه ہے که پاکستان کی فوج هونے کی وجه سے پاک فوج کہلواتی ہے
پیجے نے ایک لمبی سی
اچھا !!!!!!!!!!ـ
کی آواز نکالی اور کہنے لگا که جی برهمن کے بیٹے کی طرح آپ پاک هی رهو گے چاھے کیا بھی کردو کیونکه ملک کا نام پاک هے ؟
پھر پوچھا که جی سنا ہے پہلے زمانے میں پاکستان ایک بڑا ملک هوا کرتا تھا
اس کی حفاظت کے لیے آپ کو بڑے جتن کرنے پڑتے هوں گے ؟
برگیڈو صاحب کہنے لگے که جی وه مشرقی حصه سیاستدانوں کی حماقت سے علیحدھ هوا تھا
پاک فوج نے تو اپنی سی کوشش کو تھی

آپ جی واقعی پاک لوگ هیں اصل اور نسل پاک که اپ کچھ بھی کریں آپ غلطی کر هی نهیں سکتے جی
آپ کا تو قصور هو هی نهیں سکتا
پاک فوج کا قصور هو هی نہیں سکتا چاھے بری فوج کا چیف بغیر لائسنس کے هوائی جہاز اڑا کر ٹی وی پر نمبر بنا رها هو ـ
کوئی اور ملک هوتا تو اب تک کورٹ مارشل هو گيا هوتا
لیکن جی یه پاک فوج هے پاک !ـ
لیکن جی مجھ بے علم کو یه تو بتائیں که اپنے عیوب صاحب نے ایک دھائی کے قبضے کے بعد مقبوضه پاکستان کا قبضه جرنل یہی جاھ کو دیا تھا ناں جی ؟
تو پھر یه سیاستدان بھوسڑی کے کہاں سے گنہگار هو گئے جی ؟؟
ایک افسر کو خیال آیا که باتیں کرتے جارهے هیں نام تو پوچھا هی نهیں
آپ کا نام کیا ہے جی ؟
کاغذاں میں تو پرویز لکھا ہے ویسے لوگ کچھ اور هی کهتے هیں
دیکھیں جی پرویز صاحب ، وه بھٹو صاحب نے کہا تھا ناں جی
ادھر هم ادھر تم

او جی وھ تو اس نے اس وقت کہا تھا جب فوج کو اپریشن شروع کیے وقت بھی گزر چکا تھا اور پاک فوج نے هزاروں هی زنانیاں بھی فتح کرلی تھیں
لیکن چھڈو جی آپ صاحبان یه دسو که آپ پاک کہلوانے والی فوج نے کبھی دشمن کی تو ایک انچ جگه فتح نہیں کی هے اور پاکستان کو رنڈی سمجھ کر روز چڑھ دورتی هے
یه کیا ہے
دیکھیں جی پرویز صاحب آپ حد سے گزر رهے هیں
کرنل نے للکارا مارا
تو پیجا بھی ھتھے سے اکھڑ گیا
اور جی کوئی پرویز صاب نهیں هے میرا نام ہے پیجا حرامی اور میں اولاد هوں جی جرنیل کی
جس نے کچھ اور پاکستانی عورتوں کے علاوھ میری ماں کو بھی فتح کیا تھا
اس کے علاوھ جو گند پیجے نے بولا تھا وھ جی قابل تحریر نهیں هے
اور پاک فوج کے افسران بھی برطانیه عظمی ميں اس کا کچھ نهں بگاڑ سکتے تھے اس لیے دم دبا کر بھاگ گئے
ان کے بھاگ جانے کا مطلب یه نهیں ہے که پاک فوج کے بہادر افسروں کو شکست هو گئی ہے
اس کا مطلب ہے که پیجے کو پڑھانے والے استادوں کا قصور هے که اس کو پاک فوج کے خلاف بھڑکاتے رهے هیں ـ

دوش ناں دیو هواواں نوں سر اڈیاں تمبوواں دا
کلے ٹھیک نهیں ٹھوکے خورے ساتھوں رسے ڈھیلے رهے

6 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

آپ کی تحریریں مزید نکھرتی جا رہی ہیں۔ تنقیدی نظر سے دیکھا جائے تو آپ نے پیچے کے فوجیوں کیساتھ ڈائیلاگ ذرا لمبے کر دیے ہیں جن کی وجہ سے تحریر میں دلچسپی کم ہونے لگتی ہے۔

jafar کہا...

اگر خوشامد نہ سمجھیں تو۔۔۔
(ویسے آپ کی خوشامد کرکے فائدہ تو کوئی نہیں)
منٹو کی یاد آگئی ہے ۔۔۔

گمنام کہا...

کیا اعلی تحریر ہے آپ کے اپنے کلچر اور لوگوں سے جڑی ہوئی :)

Japaki کہا...

Nice post.

گمنام کہا...

پیجے حرام دے کیوں ہوتے ہیں اس نام کا اثر ہو جاتا ہے کیا ۔کنفیوز کامی

DuFFeR - ڈفر کہا...

اس تحریر کو تو ایوارڈ ملنا چاہئے
لیکن چونکہ اردو بلاگروں کو فری ہینٖڈ نہیں دیا گیا اس لئے مشکل ہے
اور ناممکن اس لئے کہ چوہدریوں کے متعلق ایسی باتیں کرنے کی کمیوں کو اجازت نہیں
دارا نے بھی اسی طرح کی ایک پوسٹ لکھی ہے
http://www.dufferistan.com/?p=864
پر
پی ایس: اور وہ فانت والی درخواست یاد ہے نا آپ کو؟
:)

Popular Posts