ہفتہ, مئی 9, 2009

امیر لوگ

پنجابی کا محاورھ یا طنز کہـ لیں
اج رجی تے میری جد رجی
معنی هیں که میں جو امیر هوں تو هم خاندانی امیر هوا کرتے هیں
وهاں فرانس میں وه سب لوگ جن کے پاس فرانس میں قیام کا اجازت نامه تھا وه سب لوگ خاندانی امیر تھے
میرے پاس بھی قیام کا اجازت نامه تو تھا مگر میں خاندانی امیر نهیں تھا
اس لیے جب بھی لوگ اپنی خاندانی امارت کے پر رعب قصے سنایا کرتے تھے تو مجھے اپنی غریبی کا بڑا احساس هوا کرتا تھا
سب ااپنی اپنی سنا چکتے تھے تو میرا منه دیکھتے تھے که
اب کچھ تم بھی چھوڑو ؟
تو میں اپنی غریبی کے رونے رونے لگتا تھا
کیونکه فرانس میں صرف میں اکیلا هی تو تھا جو خاندانی امیر نہیں تھا
وھاں گجرات کے ایک بٹ صاحب هوا کرتے تھے جن کا ایک چھوٹا بھائی بھی یہیں تھا اور اس کے پاس ویزھ نهیں تھا
ایک دن یه چھوٹا بھائی اپنی غریبی کی باتیں بتانے لگا که کیسے ان کے اباجی کماکر لاتے تھے تو چولھا جلتا تھابڑی تفصیل سے اس نے بات کی که اپنی حالت پر خوشی هوئی که هماری حالت اتنی بری نهیں تھی
نچلے متوسط طبقے کی حالت سے بھی بری حالت کا بتایا جی اپنے چھوٹے بٹ صاحب نے ـ
کچھ دن هی کے بعد کی بات ہے که وھان ان چھوٹے بٹ صاحب کا بڑا بھائی بیٹھا تھا جس کے پاس ویزھ بھی تھا اور اپنا کاروبار بھی کرتا تھا
ان صاحب نے اپنی خاندانی امارت کی باتیں شروع کردی اور ایسے منطقی دلائیل دئے که جی دل گارڈن گارڈن هو گیا
آپنے دادا جی کے کاروبار اور ان کی بازار میں دوکانیں اور پھر فیکٹروں کی تعداد اور مقامات
ان میں کام کرنے والے ملازمین اور ان کے نام اور عادات کو بڑی هی تفصیل سے بتایا
اس کے بعد اباجی کی سیکسس بھری لائف کو اتنی تفصیل سے بتایا که جی
مجھے اپنا اب تک کا سارا علم کافور هوتا نظر آیا
که ٥٨ کے سال سے پہلے کشمیریوں کو گھر بنانے کی بھی اجازت نهیں هواکرتی تھی
ان کو پہاڑیے اور ھاتو کہا کرتے تھے
وه سعادت حسن منٹو نے ایک افسانے ميں جو لوٹ مار کے دوران ایک کشمیری ھاتو کا لکھا ہے که آٹے کی بوری چوری کرتے ٹانگ پر پولیس کی گولی سے جب گر کر گرفتار هو جاتا ہے تو
اپنے مزدور هونے کا رونا رو کر اٹے کی بوری اٹھانے کی مزدوری کا هی تقاضا نما درخواست ڈال دیتا ہے
بس جی خاندانی امیر لوگ تو امیر هی هوا کرتے هیں ناں جی
همارا کتابی علم یا مشاھدھ کیا اور هم کیا؟
یہان جاپان ميں حالانکه پاک لوگ فرانس والوں کی نسبت امیر هیں که ملک هی بہت اچھا ہے
لیکن خاندانی امیر لوگ کم هی هیں کیونکه یهاں اڑوس پڑوس کا کوئی یاد کروا دیتا ہے
یہان ایک شاھ جی هیں که ایک دن بڑا اداس تھے اور اپنے گھر والوں کے گلے شروع هو گئے
کہنے لگے که میں نے اپنے گھر کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا
یه لوگ بھول گئے هیں
میں نے شاھ جی کی هاں میں ھاں ملائی که جی واقعی جی هم سب غریب لوگ تھے جاپان کی مہربانی سے کروڑوں پتی هو گئے هیں
اتنا سننا تھا که جی شاھ صاحب کو فوراً کچھ یاد آگیا ور کہنے لکے که ناں ناں ناں جی هم بڑے امیر هوا کرتے تھے
اسی کی دھائی میں همارا کروڑوں کا کاروبار تھا
وغیرھ وغیرھ بس جی میں نے کھسک جانے میں غنیمت جانی
شاھ جی اور خاندانی امارت کے دعوے دار
اب اگر ان کی کسی بات پر تنقید کی تو ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
بس جی دعا کریں که میں بھی امیر هو جاؤں کم از کم میرے بچے تو خاندانی امیر کہلواسکیں ناں جی
هم تو ٹھرے سیلف میڈ
اور میرے خیال میں خاندانی امیر هونے سے سلف میڈ هونا زیادھ فخر کا باعث ہے
آپ کا کیا خیال ہے جی بیچ اس بات گے ؟؟؟

6 تبصرے:

Jafar کہا...

میرا خیال ہے کہ خاندانی امیر ہو یا خاندانی غریب
امیر کو اپنی امارت کا باجا نہیں بجانا چاہئیے
اور اگر غریب محنت کرکے اچھے مقام پر پہنچ گیا ہے تو
اسے اپنی گزشتہ غربت کے رونے نہیں رونے چاہئیں
اور سرکار سیلف میڈ ی بھی دماغ کو چڑھ جاتی ہے اکثر اوقات
بندہ کا دماغ اٹھارہویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے کہ ”میں“ نے یہ کیا اور ”میں“ نے وہ کیا
سیلف میڈ ہونا، خاندانی امیر ہونے سے بہت ہی اچھا ہے اگر دماغ قابو میں رہے تو!

میرا پاکستان کہا...

ہم جعفر کی بات سے متفق ہیں اور سیلف میڈی کا بھی دھیان رکھنا بہت ضروری ہوتاہے۔
ہمیں ایسے امیروں سے واسطہ نیویارک میں پڑتا رہتا تھا۔ سارا دن ٹیکسی اور گیس سٹیشن پر کام کر کر کے حلیہ بگڑا ہوتا تھا مگر جب نہا دھو کر کھانے کی میز پر بیٹھتے تھے تو کوئی ڈیرے سے چھوٹی بات ہی نہیں کرتا تھا اور ڈیرہ بھی ایسا جہاں گلٹریے کتے رکھے ہوتے تھے۔

خاور کھوکھر کہا...

جعفر صاحب کی بات سے بہت سی باتیں میری نظر میں گھوم گئیں
سب سے پہلے تو یه که کہیں میں هی تو گم راھ نہين هو گیا که اپنی غربت کا ڈھنڈورا پیٹ کر لوگوں کی همدردیاں چاھتا هوں
یا که اپنی کامیابیوں کا چرچا چاھتا هوں
ان کی باتوں کو مدنظر رکھنا جاھیے
اگر سیلف میڈ بندھ بھی میں میں کرنے لگے تو جی اس کو نودولتیا کہتے هیں
آپنے گریبان میں جھانکنے کی سوچ پیدا کرنے والے تبصرے کے لیے بہت شکریه

گمنام کہا...

very nice comments brother jafar ...

asma کہا...

آپکے بلاگ کافی عرصے سے پڑھتی ہوں اور مجھے بڑا اچھا لگتا ہے آپ ان حقيقتوں کو الفاظ ميں ڈھال ديتے ہيں جو دوسرے کم ہی ہمت کرتے ہيں مثلا عرصہ پہلے جو بلاگ آپ نے والدين کے بارے ميں لکھا ميں سو فيصدی اس سے متفق ہوں پاکستان ميں اکثريتی والدين ويسے ہيں جيسے آپ نے لکھا مگر کہنے لکھنے کا حوصلہ کوئی کوئی کر پاتا ہے فرانس ميں ميرا بھی خاندانی امير لوگوں سے واسطہ پڑا ہے ايک پاکستانی آئنٹی جن کی کرايہ داری کا شرف مجھے حاصل ہوا ہر روز اپنے کپڑوں کا مقابلہ ميرے کپڑوں سے کرتيں زيور نہ ہونے کے طعنے ديتيں آٹھ جوان بچوں اور دو نواسے نواسی کی موجودگی ميں اپنے آپ کو ميرا ہم عمر ثابت کرنے پر تلی رہتيںاپنے بچوں سے بات کرتی تو يوں اوئے ٹہہ کيوں گيا ويں دس ايرو (يورو) نی پينٹ گندی کر ديتی آ، چلو نی کڑيوں کار چلو مچھلی دے کباب بناؤ ، روز آکر ميرے گھر بشمول کچن کی صفائی چيک کرتيں جب سب صاف ملتا تو کہتيں تم لوگ کچھ پکاتے بھی ہو يا نہيں ايک دن صفائی نہ ہونے پر اتنی باتيں کيں فرمانے لگيں پاکستان ميں بھی کسی کو صفائی کا ڈھنگ آتا ہے يا نہيں دل تو کيا کہوں کہ نہيں آپ دونوں مياں بيوی ہی پاکستان ميں جمعدار لگے ہوئے تھے آپکے آنے کے بعد سے گزشتہ بيس سالوں سے ايسا گندا پڑا ہے پاجستان فرما رہی تھيں تم پاکستانيوں کو پتہ ہے کارپٹ کيا ہوتا ہے

asma کہا...

سوری ميرا تبصرہ آپکے بلاگ سے بڑا ہو گيا پر کيا کروں آپ کے بلاگ نے بہت سی باتيں جو ياد کروا دی ہيں نا جی

Popular Posts