پیر, مئی 4, 2009

یه جاپان ہے ، اھل علم کی زمین

پنجابی کےشاعر جناب میان محمد بخش نے کہا تھا
خاصاں دی گل عاماں اگے ، تے نہیں مناسب کرنی
دودھ دی کھیر پکا محمد ، تے کتیاں اگے رکھنی
معنی
که اھل علم کی علم بھی باتیں بے علموں کو بتانا ایسا هی ہے جیسا که دودھ کی کھیر بنا کر کتے کے آگے رکھ دینا
جو که کچھ روکھی سوکھی کھا کر بھی مطعمن هے
اور هندی کا ایک شعر کے
سیکھ تاء کو دیجیے
جاء کو سیکھ سبھائے
سیکھ ناں دیجیو بندارں
جو بیجڑے کا گھر دھائے

هنر اس کو سکھاؤ جو ھنر کو سنبھالنے کا ظرف رکھتا هوں
ناں که بندر کو سکھا دو که بیجڑے (ایک پیلی چڑیا جو که سرکنڈ کے لٹکتے هوئے گھونسلے بناتی هے) کا گھر توڑنے لگے
لیکن وھ هوتا ہے ناں جی که
که اھل علم کو بھی علم کی بات بتانے کا بڑا شوق هوتا ہے
اس کو اھل نظر کہتے هیں که
اھل ثروت بخل پر مائل هوتے هیں
اور اھل علم
سخاوت پر
دولت والوں کا تو کوئی رشته دار بھی ملنے آجائے تو سمجھتے هیں که پیسے لینے آگیا ہے
اور اھل علم هیں که لیباٹریوں میں تحقیق کررهے هیں
اور اس محنت کا حاصل کتابیں لکھ کر لوگوں کو بانٹ رهے هیں
لے لو جی لے لو یه انمول خزانے که مالک خود بانٹ رهے هیں
آپ نے وکی پیڈیا پر لکھنے والے دیکھے هیں
ان کے خلوص نیت پر رشک آتا ہے
که بنا کسی لایچ کے کام کیے جارہے هیں
لیکن یارو
اگر علم بندروں کے ھاتھ لگ جائے تو پھر نقصان کا بھی احتمال هوتا ہے
مجھے یه بات اس لیے یاد آئی که
جاپان کی ایک مقبول اخبار یومی اوری شنبن کے تجزیے کے مطابق شمالی کوریا کے میزائیل پروگرام میں جاپانی ٹیکنالوجی اور جاپان سے اسمگل کیے کئے پرزھ جات استعمال کیے جانے کا شبه ہے
شمالی کوریا وھ ملک ہے جو که جاپان کے امن کے لے خطرھ ہے
ایسے ملک کے تکنیک حاصل کرنے پر دکھ هوا ہے
میں نے اس کالم کا ایک سمری ترجمعه کیا هے
اخبار لکھتا ہے
جاپان کی ایک مقبول اخبار یومی اوری شنبن کے تجزیے کے مطابق شمالی کوریا کے میزائیل پروگرام میں جاپانی ٹیکنالوجی اور جاپان سے اسمگل کیے کئے پرزھ جات استعمال کیے جانے کا شبه ہے

انٹرنیشنل اورگنائیزیشن اور پولیس کی تحقیقات کے مطابق اس بات کا بہت زیادھ امکان ہے که شمالی کوریا کے میزائیلوں میں جاپان کے بنائے هوئے پرزھ جات استعمال هوتے هیں جو که جاپان میں کسی اور مقصد کےلیے بنائے گئے هوتے هیں
وھ پرزھ جات کو که میزائل بنانے کی ٹیکنالوجی میں استعمال هو سکتے هیں ایسے پرزوں کو ملک سے باھر لے جانے پر میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول کے قانون کے تحت ایک خاص پرمیشن کی ضرورت هو تی هے
لیکن خیال کیا جاتا ہے که شمالی کوریا نے کسی تیسرے ملک کے راستے یه پرزھ جات اور ٹیکنالوجی منگوائی هو گی
٢٠٠٣مں شمالی کوریا سے فرار هو کر امریکه میں پناھ گزین ایک شمالی کورین انجنئیر نے بتایا تھا که ٩٠ فیصد پرزھ جات جو که شمالی کوریا کے میزائل میں استعمال هوتے هیں وه جاپان کے بنے هوتے هیں
اس نے یه بھ بتایاتھا که یه چیزیں ایک ایک بحری جہاز پر لائی جاتی تھین جو که هر دوسرے یا تیسرے هفتے جاپان کی بندر گاھ پر لگتا تھا
اس نے نشاندھی کی تھی که
گونگ بونگ ٩٢ نام کی فیری جو که شمالی کوریا سے جاپان کی بندرگاھ نیگاتا پر باقاعدھ جایا کرتی تھي
جس فیری کو ٢٠٠٦ میں نارتھ کوریا کے نیوگلئیر ٹیسٹ کے بعد جاپان انے سے روک دیا گیا تھا
پر یه چیزیں اسمگل هوتی تھیں

طوکیو میٹرو پولیٹن پولیس نے اس بات کا پته چلایا تھا که
ٹوکیو کی ایک مشین مینوفیکچر کمپنی نے غیر قانونی طور پر ایک جیٹ مل نارتھ کوریا کو ایکسپورٹ کیا تھا جو که شمالی کوریا کے میزائیل میں مائع فیول کو تیز کرتا ہے جب میزائیل کو لانچ کیا جاتا ہے

اکتوبر ٢٠٠٣ میں فوکوکا پولیس نے ایک گاڑیوں کی ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کے صدر کو گرفتار کیا تھا جو که ایک ایسا ٹریلر شمالی کوریا بھیج رها تھا جس پر میزائیل ٹرانسپورٹ کیا جاسکتا ہے

جنوری ٢٠٠٤ میں کھاناگاوا کین کی پولیس نے نیگاتا کین کے ایک کمپنی صدر کو اس بات پر گرفتار کیا تھا که اس نے ایک خاص قسم کا فریکونسی انورٹر جو که میزائیل ٹیکنالوجی میں اسلحے کو ڈویلپ کرنے کے کام اتاہے نارتھ کوریا کو ایکسپورٹ کیا تھا

٢٠٠٢ میں اکنامیاور ٹریڈ منسٹری نے بہت سی چیزوں کو کنٹرول کرنے کا طریقه جکار اپنایا تھا که یه چیزیں اسلحه بنانے والے ممالک کے لیے ترغیب رکھتی هیں
منسٹری نے ٧٠ نارتھ کورین کمپنیوں پر پابندی لگائی تھی
جن میں کوریا مننگ کارپوریشن ، کوریا پوگان ٹریڈنگ ، شامل تھیں
اگست ٢٠٠٧ میں تائیوان ميں یہان کی لوکل ایجنسیوں نے ایک کمپنی کے مالک کو اس بات بر گرفتار کیاتھا که اس نے ایک جاپان کا بنا کمپیوٹر کوریا کو بیچا تھا جو که صعنتی استعمال میں آتا ہے

جون ٢٠٠٧ میں کھاناگاوا کین کے شہر سوگامی ھارا میں کمپنی مالک کو اس بات پر گرفتار کیا گياتھا که اس نے ایک خاص قسم کا ویکم پمپ نارتھ کوریا کو براسته تائیوان ایکسپورٹ کیاتھا جو که یورینیم کو افزودھ کرنے کے کام اتا ہے
اصل سٹوری پڑھنے کے لیے کلک کریں

کوئی تبصرے نہیں:

Popular Posts