سوموار، 6 اپریل، 2009

جگالی اور مولوی سرمے دانی

ایک پڑھے لکھے بنگالی نے کہاتھا جی که بندے کی یادوں کو گائے کی جگالی سے تشبیح دی جاسکتی هے هے که ایک سیانا کیا کرتاہے که یادیں بنائے جاتا هے
که جیسے گائے چارھ کھاتے هوئے بس چارا پیٹ میں ڈالتی جاتی هے
اور جب واپس اپنے جگه پر آتی هے تو اس چارے کو اگل کر مزے لے لے کر چباتی هے اور پھر اس کو لطف اندوز هو کر کھاتی ہے
جس کو جگالی کرنا کهتے هیں
تو اس طرح جی سیانے بندے یه کرتے هیں که کتابیں پڑھتے جاتے هیں اور زمانے کو کتاب سمجھ کر مطالعه کرتے جاتے هیں
که سیکھتے رهتے هیں جی اور جب ان کو کبھی فرصت ملے تو اپنی ان یادوں کو
نکال کر ان کی جگالی کرتے هیں
که لطف اندوز هوتے هیں که کبھی کرب محسوس کرتے هیں
که کبھی اضطراب
گائے چکالی کرکے ٹھوسی دیتی هے
اور بکری جگالی کرکے مینگنیاں
اور اسی طرح جگالی کرنے والے جانور کچھ ناں کجھ دیتے هیں
دیتے تو جی جگالی ناں کرنے والے بھی هیں لیکن اس کی بات بعد میں لکھتا هوں
سوچوں کی جگالی کرنے والے سیانے بندے دیتے هیں جی تحاریر اور فلسفه اور معاشرتی اصول
آپ آگر جانتے هیں تو آپ نے دیکھا هو گا که سب جگالی کرنے والوں کا جو فضله بھی هوتا هے اس کو کسی بھی دھرم میں مذهب میں اتنا ناپاک نهیں سمجھا جاتا که جتنا ناپاک جگالی ناں کرنے والوں کے گند کو سمجھا جاتا ہے
کیونکه جی جگالی کرنے والوں کا فضله بھی بد بودار نهیں هوتا که ناگوار گذرے لیکن جی
جگالی ناں کرنےوالوں کا گند تو جی گند هوتا هے ناں جی
اسی طرح سوچوں کی جگالی کرنے والے جو نکالتے هیں
وه کچھ کام کاهوتا هے
اس میں بد بو نهیں هوتی هے
هوسکتا ہے که جگالی کا طعنه دینے والے خود کو عظیم سمجھتے هوں
مگر جی جگالی ناں کرنے والے جانوروں کو تو جی اسمانی مذہب کھانا بھی پسند نهیں کرتے جی

چھڈو جی اج هم آپ کو بات بتاتے هیں جی اپنے مولوی سرمه دانی کی
ان کا حلیه بلکل جی سرمے دانی سے ملتا هے
چھوٹی سی گردن پر چھوٹا سا سر اور اس نے نیچے بڑی سی مٹکے جیسی مٹکے سے بھی بڑی توند
اور اس کے نیچے چھوٹی چھوٹی سی ٹانگیں جی
بلکل سرمے دانی جی
مولوی صاب کے ابا جی بھی مولوی هوا کرتےتھے اور ان کے اباجی کے اباجی بھی
مولوی صاحب کانام تو کچھ اور تھا مگر کیونکه مسجد میں صفحیں درست کروانے میں بڑے ایکٹیو هوا کرتے تھے اس لیے ان کا نام صف دار سرمے دانی پڑ کيا تھا
سوچیں اور خیالات بھی کالے کالے که سرمے دامی سے سرمه هی نکلے گا ناں جی
لیکن جی یه صاحب کالک کو بھی حسن سمجھتے تھے جی اور اگر کبھی کوئی ان کے خیالات پر تبصرھ کردے تو جی اس کو ایسا بے عزت کرتے تھے که بندے کو کالک میں بھی چمک دیکھا دیتے تھے جی
سرم دانی صاحب کو ان کے اباجی نے پڑھایا بہت تھا
لیکن پڑھایا صرف وهی تھا جو که ان کے اپنے هی مسلک کا تھا
سرمے دان صاحب کے اباجی کے کچھ واقعات بڑے مشہور هیں
جب سرمے دانی نیانیا پڑھ کر ایا تو اباجی نے کہا که پتر جی اگر میں کهیں غلطی کرجاؤں تو تم کھنگورامار دیا کرنا
اباجی تھے تقریر میں مبالغے سے کام لینے والے
اتنا که صرف دیہاتی لوگ هی برداشت کرسکیں
ایک دن کہنے لگے که ایکسانپ هوا کرتا تھاکه میلوں لمباجس کے بڑے بڑے دانت تھے
ابھی یہیں پہنچے تھے که سرمے دانی کا گلے کی خارش کی وجه سے کھنگورا نکل گیا
ابا جی سمجھے که سانپ کی لمبائی کچھ زیادھ هو گئی ہے اس لیے کہنے لگے که
که سانپ کی لمبائی تھی جی ایک میل
مووی سرمے دانی نے کھنگورا مارا که میں نے اعتراض نهیں کیا هے مگر اباجی کو سمجھ لگی که سانپ کی لمبائی کچھ اور کم کرنی هے
اسی طرح کرتے کرتے جب پانچویں بار سرمے دانی نے کھنگورا مارا تو مولوی صاحب ممبر سے اتر آئے که اب تم هی سنبھالو جی مسیت
بس اس دن سے سرمے دانی بن گیا جی مولوی سرمے دانی
ان کے اباجی کا یک اور واقع هے که ایک دفعه کہنے لگے که جنت میں جو کیلے هوں کے ناں وه مسیت کے مینار سے بھی بڑے بڑے هوں کے
اور تو اچھو ڈنگر کے منه سے نکل گیا که جی پھر ان کیلوں کو کھانے والے منه کتنے بڑے بڑے هوں کے ؟
تو مولوی سرمے دانی کے ابا جی نے اچھو کو جھڑک دیا تھاکه تم هو هی ڈنگر کے ڈنگر تمهیں کیا معلوم که ازاد شاعری کیا هوتی هے ـ
سرمے دان کے بڑے بزرگ کسی افغانی حمله اور کے ساتھ لوٹ مار کے لیے آئے تھے لیکن یہان رزق کی فراوانی دیکھ کر یهیں کے هو گئے
اور عزت بنانےکے لیے انهوں نے فیصله کیا تھا که جیسے یہاں ھندوؤں کے برھمن هونتے هیں هم لوگ مسلمانوں کےبرھمن بن کر رهیں کے اس لیے سید گهلوائیں کے
سرمے دانی کہلوانے کے پيچھے بٍھی یہی بات هے که سارے سید بننے والے کسی ناں کسی وسط ایشیا کے گاؤں یا شہر کے کہلواتےهیں
انهوں نے واهاں کوئی گاؤں تھا جی سرم دان جس کی نسبت سے سرمے دانی کہلوائے
مولوی صاحب کو اپنی مشہوری کا بڑا شوق هے اس لیے انهوں نے بھی اپنی ایک سائیٹ بنائی هے
لیکن پته نهن کیوں دوسروں کی سائیٹوں کو برداشت نهیں کرتے
ابھی پچھلے دنوں ایک مستری لڑکے کی کسی بات پر اس کو جھاڑ رہے تھے که جس کے بھی پاس ڈیڑھ دوسو ڈالر آجاتا ہے سائیٹ بنا کر بیٹھ جاتا ہے
میں تو جی ڈرا هوا هوں که اگر ان کو معلوم هوگیاکه کمهاروں کا لڑکا بھی بے لاگ لکھتا ہے تو ان کے دل پر کیا گزرے کی
لیکن جی یقین کریں که میں سید لوگوں کی عزت کرتاهوں

8 تبصرے:

دوست کہا...

ہاہاہاہاہاہاہاہا
واہ کیا نقشہ کشی کی ہے آپ نے مولوی سرمے دانی اور ان کی ویب سائٹ کی. سبحان اللہ

راشد کامران کہا...

آپ واقعی بے لاگ لکھتے ہیں اور میری طرف سے سلام ہے آپ کو اس بات پر۔

محمد وارث کہا...

قبلہ سیدوں کی ہم بھی بہت عزت کرتے ہیں بلکہ ان سیدوں کی زیادہ جن کے سید 'بننے' پر ساری دنیا گواہ ہوتی ہے :)ؕ

اجی واہ صاحب کیا خوب لکھتے ہیں آپ، لاجوابؕ

jafar کہا...

او جیہڑا کہندے نیں کہ کَم تِی تے کر دتّا۔۔۔
بس اوہی کیتا جناب تسی۔۔۔
:mrgreen:

بدتمیز کہا...

مولوی سرمہ دانی کو خوب رگڑا دیا ہے۔ وہ بالکل سرمہ دانی ہی لگتا ہے

Shazel Sameer کہا...

کیا بات ہے واہ
ذرا توجہ اپنے بلاگ پر بھی کییجئے اس کا حلیہ بدل کر مسلمان کرلیجئے

DuFFeR - ڈفر کہا...

میں تو جی مولوی کو جانتا نہیں
غائبانہ تعارف ہی ہوا ہے بس
لیکن ڈیڑھ دو سو والی بات پہ مجھے بھی بڑے تپ تھی
چنگی کی ہے مولوی کی
دل خوش ہو گیا پڑھ کر
:D

ماوراء کہا...

بہت مزے کا لکھا ہے۔ ایک تو آپ کے لکھنے کا انداز بھی بہت اچھا ہے اور پھر سب کچھ لکھ دیتے ہیں۔:D:D

Popular Posts