اتوار, مارچ 29, 2009

سیاست گرم تے موسم ٹھنڈا

یہاں جاپان میں سیاست گرماگرم ہے
لوٹے لوٹنیاں لگا رهے هیں ـ
منافق اصولوں کی باتیں کر رهے هیں
نسلی لوگ حق کی بات کر رهے هیں
فقیر لوگ تماشا دیکھ رهے هیں
پیٹ بھرے لوگوں باتیں هیں که پاؤں کے نیچے سے گرز رهی هیں
میری گاڑی متسبشی کی مینیکا جس کو میں وکٹوریه کها کرتا تھا
اس کا واٹر پمپ لیک کر کيا هے
فجر کی نماز میں جماعت کے ساتھ شامل هونا ناممکن سا هو گیا ہے جب تک که گاڑی نهیں ملتی
ٹرک کا بھی کوئی بیرنگ آواز دے رها ہے
ویسے بھی اس کے ٹوکن مئی میں ختم هونے والے هیں
اللە نیا دے جی
آمین
کاروبار ٹھنڈا چل رها هے که جذبات پر بھی سردی چھائی هوئی هے
آج جی اپنے نون لیگ والوں کا کوئی جلسه سا هے
اس میں جائیں کے لوکاں کی باتاں سنیں گے
کسی کے منه پر سچی کہـ کر پاگل کہلوائیں گے
اگر کوئی گلی گلوچ پر اتر ایا تو جی خاور کی گالیوں کی فیکٹری کچھ نئی گالیاں بنا کر ان کی خدمت میں پيش کردے گی ـ
ھاتھا پائی میں تین چار پر تو بھاری هوں اگر هجوم هو گيا تو مار پڑے گی
مار کھائیں کے بلاک لکھیں گے
اور سمجھیں گے که جی سیانے هیں صرف هم هی زمانے میں باقی کے تو سارے کم علم اور کم عقل هیں
اور اپنی تعلیم هے جی
انڈر میٹرک
انگلش کو انگریزی اور چابی کو کنجی شلوار کو ستھن اور قمیص کو چگا کہتا هوں
اور پنجابی ایسی که اگر کبھی انگریزی کی اخبار پڑھ رها هوں تو لوگ منه پر هی هنسی اڑانے لگتے هیں
میں بھی کیا هوں جی چوں چوں کا مربه
آدھا تیتر ادھا بٹیر
ناں هنسوں میں ناں کوا
ناں پورا پاک لوگ اور ناں پورا جاپانی
پڑھے لکھوں میں ان پڑھ اور انپڑھوں میں پڑھ پڑھ گے پاگل
جیک آف آل کانئنڈ ماسٹر آف نن
یعنی هرفن مولا اور کسی بھی فن کا مولا نهیں هوں جی
بس جی دعا کرو که الله دولت دے
یاں پھر بہت ساری عقل دے دے که دولت ایک ضمنی سی چیز بن کے رھ جائے

4 تبصرے:

jafar کہا...

دولت کی دعا ہی کردیتے ہیں۔۔ زیادہ عقل والے کو تو ہمیشہ سے چھتر ہی پڑتے دیکھے ہیں، گھر والے نکما کہتے ہیں اور باہر والے پاگل۔ آوازے کسنے سے پتھر پڑنے تک کا فاصلہ بہت جلدی طے ہوجاتا ہے۔ اور یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ
عقلاں والے بھکھے مردے، مورکھ کھان جلیب
تو مزے سے جلیب کھائیں ، بھوکے مرنے کیا ضرورت ہے۔۔۔

phrozen-in-tymz کہا...
یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
Ghufran Ali Quresh کہا...

ایسا ہی ہوتا ہے جی'آدمی کوَئی فیکڑی کا مال تو ہوتا نہیں۔بس کچھ اِدھر سے سیکھ لیا کچھ اّدھر سے' تاکہ "ہر موسم میں کام یہ آئے"۔
آج اردو پوائنٹ پہ کہاوت پڑھی
" صرف عقل مند عام طور پر قابلِ رحم ہوتا ہے"/
تو اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو شعور اور بصیرت عطا فرمائے۔
آمین

ڈفرستان کہا...

نءی جی نیی
ایک چیز کیوں؟
دونوں مانگو
دینے والاے نے ایک کی شرط رکھی ہو یا اس کے پاس کمی ہو تو نا
اپنی مرضی کی مانگو اور سب مانگو
اللہ سب کو دے عقل اور دولت
مجھے تو ضرور :D

Popular Posts