اتوار، 10 اگست، 2008

سلام بازار

سلام بازار!ـ
جی یہاں جاپان میں پاکستان ایمبیسی کے زیر اهتمام ایک میله سا تھا
یا یه کہـ لیں که مل بیٹھنے کا ایک بہانه سا تھا !ـ
سلام ،آداب، مرحبا، ست سری اکال ، کونی چیحا، هیلو یاپھر نمستے کہـ لیں
بس جی اداب کے طریقے هوتے هیں ہر مذهب اور معاشرے کے لیکن مقصد سب کا ملتا جلتا ہے که ملنے والے دوسرے پر سلامتی کا پیغام ـ
یہاں ایک باریکی کی بات ہے که یه
سلام بازار تھا
ناں که
اسلام بازار!!!!ـ
اسلام کو بازار لگا کر پیچنا ایک اور بات ہے اور سلام بازار لگا کر اس بات کو اجاگر کرنا که کاروباری سب کی سلامتی مانگتے هیں ایک اوربات ہے هے ـ
اس کو جاپانی میں
کونی چی ھا بزار کہـ لیں یا
پھر انگریزی میں
ہیلو بزار ـ
اردو نیٹ پوڈ کاسٹ
والے زبیر صاحب کی میل سے مجھے معلوم هوا که طوکیو کے مشہور پاک وینو پارک میں سلام بازار کا اهتمام کیا هے پاکستان ایمبیسی نے
یه پارک میرا جانا پہچانا هے
اس لیے میں کسی سے پوچھے بغیر هی اج صبح یہاں پہنچ گیا
ویسے تو كافی بڑا پارک ہے
یه ہے جی اس بازار کو سامنے سے تصویر

اس تصویر میں
سامنے والے تنبو کے پیچھے درختوں کی قطار میں جو چخت نظر ارهی هے وه ہے
طوکیو کا نیشنل میوزیم ـ
موسیقی کا پروگرام تھا

جس میں یه فنکار لوگ
پاکستان سے تشریف لائے تھے میرے زیادھ هی سویرے پہنچ جانے کی وجه سے میں ان کی فارغ بیٹھے هوؤں کی ایک تصویر بنا لی

یه تھا جی پاکستان ایمبیسی کا
سٹال
جس میں فروخت کے لیے رکھے هوئے تھے جی
یه والے
آلو چھولے اور کباب ـ
یه ایک ریسٹورینٹ والوںکا سٹال تھا
جس میں خاتون
سیلز گرل بڑی عجیب سی لگ رهی تھی کیونکه ابھی جاپان مین پاکستانی خواتین کام کرتی نظر نہیں آتییں
اور اس تصویر میں ایک خاتون جاپانی لوگوں کو
مہندی لگا رهی هے
جاپانی معاشرےمں مہندی ایک انوکھی چیز ہے
مہندی سے جاپانی پچخلی دو دهائیوں هی میں واقف هوئے هیں ـ
هو سکتا ہے که تاریخ کے کسی اور دور میں بھی جاپانی اس چیز سے واقف هوں مگر هم نے جب جاپان میں قدم رکھا تو انہوں کو مہندی سے ناواقف هی پایاتھا ـ
یه ایک
تصویر که
میں نے بچپن میں اپنے نصاب میں کہیں دیکھی تھی اب یاد نہیں که چوتھی جماعت میں تھی غالباً؟
بازار کے داخلے کے فوراً بائی طرف طوکیو کا چڑیا گھر ہے
اس تصویر میں
میں نے پاکستانی جھنڈے کے ساتھ چڑیا گھر کو اس لیے دیکھیا ہے که جب هم جاپان مین ائے تھے تو اور سٹے هوا کرتے تھے اس وقت کبھی سوچا بھی نهیں تھا که ہم اس لائق هو جائیں گے که یہاں کوئی پروگرام کر لیں
نیچے والی تصاویر میں ڈانسر اپنے فن کا مظاهرھ کر هو هیں
پس منظر میں
فوارھ چل رها ہے


یہاں شرو بھی ایا هواتھا
شیرو
کے متعلق میں اپنی ایک
یہاں پر
تفصیل سے ذکر کرچکا هوں

یه صاحب هیں جی کیمرے کے ساتھ ان کا نام ہے
شیخ فیاض حسین
یه صاحب جب بھی تصویر بناتے تھے اپنا هیٹ کسی کو پکڑوادیتے تھے
غالباً عام طور پر ان کے ساتھ ہلپر هوتا ہے لیکن اس دن شیخ صاحب اکیلے تھے
دو تین دفعه میں نے بھی ان کا هیٹ سنبھامنے کا شرف حاصل کیا ہے

یه جی مفت مشروبات کی سبیل لگائی هوئی تھی شہزاد علی بہلم صاحب نے اور اس پر کھڑے تھے
طلعت بیگ اور بٹ صاحب
لیکن یه بٹ صاحب اصل میں خواجه صاحب تھے اور بٹ صاحب نہیں کهلوانا جاهتے تھے
طلعت بیگ صاحب پاکستان ایسوسی ایشن (منتخبه)کے نائب صدر هیں ـ
ان کو گله تھا که ایمبیسی والے کچھ لوگوں کو کچھ لوگوں پر ترجیع دیتے هیں
جو که نہیں هونا چاهیے
ایمبیسی والوں کو سب هی لوگوں کو ایک انکھ سے دیکھنا چاهیے
اور جی هیں
زبیر بھائی صاحب
ان کا تعلق ہے صحافت سے
جاپان سے یه انٹر نیٹ اون لائین پوڈکاسٹ نیوز نکالتے هیں
زبیر بھائی اردو کو نستلیق میں هی لکھنا پسند کرتے هیں اس لیے ان کی سائٹ ایمجیز کی شکل هوں هوتی ہے
ان کی سائٹ دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں
یه ایک ویڈیو جی ذرا ہلا گلا کا میرے کیمرے سے کچھ ایسا هی بنتا ہے

امید ہے که اپ پسند کریں گے

4 تبصرے:

رضوان کہا...

بہت عمدہ خاور صاحب
لیکن یہ پاکستان ایمبیسی کو کیا ہوگیا ہے؟ جاپانی پانی کا اثر ہے یا پھر کسی بابے کی بد دعا لگ گئی ہے کہ کام کرنا پڑ گیا ہے۔ گلف میں پاکستانی ایمبیسی سے پانچ سال میں ایک دفعہ واسطہ پڑتا ہے اس کے لیے بھی بندہ واسطے تلاش کرتا ہے۔

بدتمیز کہا...

کیا مجھے درست نظر آ رہا ہے؟
دو سو ین کے دو کباب؟

خاور کھوکھر کہا...

جی رضوان صاحب
کبھی کبھی ایسا بھی هو جاتا ہے
کیوں؟؟
اندرونی کہانیاں عام لوگوں کے لیے نہیں هوتیں
بدتمیز صاحب
جی هاں دو کباب دوسو ین میں یعنی دو ڈالر امریکی میں

فیصل کہا...

خواتین کا ناچنا کچح اچھا نہیں لگا، پتا نہیں یہ کونسے پاکستان کی ثقافت ہے، میرے پاکستان کی تو نہیں۔

Popular Posts