اتوار، 3 اگست، 2008

غریبی کا خوف

بی بی سی پر ایک خبر نما مضمون پڑھ کر دل بڑا رنجیدھ هو ا ـ
کیونکه یه خبر میرے علاقے کی ہے
اور کردار بھی اپنے آپنے سے لگتے هیں ـ
انسانی نفسیات ہے که اس کو اپنے نزدیک کی خبر کسی بھی اور خبر سے زادھ ایٹریکٹ کرتی ہے
چک نظام ہمارے گاؤں سے صرف دو هی کلومیٹر کے فاصلے پر ہے
اس گاؤں میں پرائمری تک تو سکول ہے اس کے بعد اس گاؤں کے طالب علموں کو ہمارے گاؤں والے هائی سکول میں آنا پڑتا ہے ـ
یورپ جانے کی کوشش میں مجروح هو جانے والے اس لڑکے کی عمر ابھی صرف بیس سال ہے
اور اگلے مہینےیعنی ستمبر دو هزار آٹھ کی سترھ کو مجھے اپنے گاؤں سے نکلے بیس سال هو جائیں گے
اس لیے اس کو جاننے کا دعوه تومیں نہیں کروں گا
لیکن اس گاؤں کےلوگوں کا ہمارے گاؤں میں اتنا اناجانا ہے که جب تک میں پاکستان میں تھا
اس گاؤں چک نظام کے سارے هی کاروباری لوگ مجھے جانتے تھے ـ
دل رنجیدھ هونے کا سبب یه هے که کسی بھی مجبور پر گذرنے والی ظلم کی واردات مجھے اپنے پر گزری لگتی ہے ـ
اپنی کم مائیگی اور مجبوری کا احساس هوتا ہے که ہم پاکستانیوں کو آپنی غریبی سے نپٹنے کے لیے کیا کیا جتن کرنے پڑتے هیں ـ
میں آپنے هی ملک میں آپنے هی لوگوں میں آپنی هی زمین پر بھی رہنے کے قابل نهیں هوں کیا ؟؟
کسی اور کا کیا جواب هو گا نامعلوم مگر میں کہوں کا
هاں
پاکستان میں اس طرح کے حالات پیدا کر دیے گئے هیں که میں خود سے هی اس ملک سے فرار هونے کی کوششوں میں لگا هوا هوں ـ
انگریزی میں مس فٹ کہتے هیں اور اردو میں فضول اور
پنجابی میں کہیں کے
گھونسلے سے گرا هوا بچہ ـ
اور اگر میں معاشرے کو الزام دوں کو کہوں گا که ہم
پاکستانی معاشرے کے دھتکارے هوئے لوگ هیں ـ
اگر نہیں تو میں اس معاشرے کے بھاگنے کے لیے اتنا تردد کیوں کرتاهوں؟؟ ـ
غربت کے خوف سے !ـ
جی هاں غربت کے خوف سے
لیکن قبرستان کے نزدیک سے گزرنے والے خوف زدھ بچے کی طرح جس کا پیشاب خطا هونے کے قریب هو مگر اپنے دل کی تسلی کے لیے للکارے مارے که
مجھے ڈر نہیں لگ رها ـ
آپنی غریبی کے خوف سے میں لوگ جب باهر جانے کی کوشش کرتے هیں تو کتنی منتیں مانتے هیں
تعویز کرواتے هیں
پیروں فقیروں کے پاس جاتے هیں
ایجنٹوں کے '' ترلے '' اور منتیں کرتے هیں ـ
اگر پیدل یورپ کی سرحدیں هوں تو قدم قدم پر رب کو یاد کرتے هیں اور دعا یه هوتی هے که
پھر اس جہنم میں واپس نه چلے جائیں جس سے نکل کر آئے هیں ـ
ترکی اور یونان کی سرحدوں پر ہماری لاشیں اٹھانے والا بھی کوئی نهیں هوتا ـ
کنٹینروں میں دم گھٹ کر مرنے والے کسی کھاتے میں هی نہیں جاتے ـ
یه سب لوگ اپنی اپنی ماؤں کے
خاور هوتے هیں ـ
ایک احساس کا نام ہے که یه ساری گولیاں جو ترکی کی سرحد پر لگتی هیں مجھے لگتی هیں
اور مشرقی یورپ کے سرد صحراؤں میں بھی میں هی مرتا هوں ـ
اور اگر جاپان جیسے کسی ملک میں جهاں که ائیرپورٹ کے راستے آتے هیں داخلے کی کوشش میں
هم کیا کیا جتن کرتا هوں ؟؟
ڈی پورٹ هونے کے خوف سے مراجاتا هوں ـ
اور اگر یورپ یا جاپان میں انٹر هو بھی جاؤں تو پھر میری زندگی خوف زدھ چوهے که طرح هوتی هے ـ
کونے کھدورں میں چھپ چھپ کر کان کھڑے کرکے چوهے که انکھوں کی پتلیوں هی کی طرح میری انکھوں کی پتلیاں بھی چاروں طرف گھوم رهی هوتی هیں ـ
که کہیں پولیس والے نه دیکھ لیں ـ
پولیس جو که ان غیر پاکستانی معاشروں میں ایک دوست اور مددگار هوتی هے مجھ پاک لوگوں کو یه دشمن نظر اتی ہے ـ
کیونکه مجھے آپنی غریبی کا خوف هوتا ہے ـ
پھر ہم کیا کیا پاپڑ بیل کر ان ملکوں میں رهنے کے اجازت نامے لیتا هوں ـ
کہیں بیمار بن کر اور کہیں اور کهیں سیاسی مظلوم بن کر
ہر جگه میں بھکاری کی طرح بھیک مانکتے نظر اتا هوں ـ
جاپان میں جہاں مجھے ویزے کے لیے شادی کرنی پڑتی ہے
میں ایسی ایسی عورتوں سے شادی رچا لیتا هوں که جو میری ماں کی عمر کی بھی هو سکتی هے یاپھر ذہنی مریض جسمانی معذور بھی هو سکتي ہے اور ریٹائیر جسم فروش
کچھ بچوں کی ماں هو یا خصموں والی
کوئی بات نہیں جی
ویزھ ملنا چاهیے
که پاکستان والی غریبی سے جان بچ جائے ـ
ساری قباهتوں کے بعد جب مجھے ویزھ مل جاتا ہے تو پھر میرے اطوار دیکھنے والے هوتے هیں ـ
مجھے ڈر نہیں لگ رهاہے
کو میں اس طرح بیان کرنے لگتا هوں که جی میں تو خاندانی امیر تھا
اپنی زمینیں تھیں مکان تھے
اور گر کوئی مجھے سے پوچھ لے که تم کو کسی محکمے نے اس ملک یورپ یا جاپان میں انے کا دعوت نامه بھیجا تھا تو میں بجائے شرمندھ هونے کے اس بندے کے خلاف هو جاتا هوں ـ
کینکه یه بندھ میرے اندر کے خوف کی پہچان رکھتا ہے اور ایسے بندے تو مجھے اچھے هی نہیں لگتے ـ
کہیں کوئی چوها شراب کے ڈرم میں گر گیا
جیسے تیسے باهر نکلا
تو نشه هو چکا تھا

اکڑ کرکھڑا هو گیا
اور لگا للکارے مارنے
کهاں هیں بلیاں
نکالوباهر اج میں ان سب کو کچا هی کھا جاؤں گا

جب مجھے ویزھ مل جائے تو میرا بھی یہی حال هوتا ہے
اور جاپان جیسا ملک هو جہان پیسا بھی بہت ہے اور جاپانی لوگ بھی منسکرالمزاج تو مجھے مسخریاں سوجھنےلگتی هیں ـ
ان ساری باتوں کا مطلب یه نهیں که خاور کو اپنی اوقات بھول گئی هوتی هے
اوقات کی یاد هی تو یه سارے ڈرامے کرواتی ہے که
میں اپنی اوقات بھولنا چاهتا هوں
میرا مفلس ماضی جان نهیں چھوڑتا
اور خوف اتا ہے که وه ماضی پھر ناں آجائے ـ
یاروں میں کی کراں ؟؟
میں وه گدها هوں جو نه گھر کا ناں گھاٹ کا
میں وه کوا هو جو هنس کی چال چلنے میں اپنی بھی بھول چکا هوں ـ
یارو کوئی بتائے که میں کیا کروں که مجھے یورپ کی سرحدوں پر ناں مرنا پڑے
مجھے ویزوں کے لیے اپنی اناء کا خون نه کرنا پڑے ؟؟
مجھے اپنی جائیداد کی تفصیل بتا بتا کر
 اپنے رشته داروں کے سیاسی قد بتا بتا کر
 اپنی غریبی کے خوف کو ناں چھپانا پڑے ؟؟

11 تبصرے:

مکی کہا...

یار تم نے تو حد ہی کردی.. ایسا سچ بیان کیا ہے کہ مجھے بھی اپنی اوقات یاد دلا دی..

Muhammad Shakir Aziz کہا...

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔

Rashid Kamran کہا...

سنا ہے غربت کفر تک لے جاتی ہے ۔۔ تو بس اسی لیے غربت اور جہالت سب سے پہلے دور کرنے کا کہا ہے مذہب نے۔۔ کیونکہ صرف غربت دور ہوتی ہے تو پھر وہی صورت حال ہوتی ہے جو آپ نے بیان کی ہے “خاندانی امارت“ والی

ڈفر کہا...

بہت عمدہ
ہمارے معاشرتی رویوں کی نبض پر بالکل صحیح جگہ ہاتھ رکھا ہے

جعفر کہا...

وڈیو، کلیجہ چیر کے رکھ دتا جے۔

عمیر ملک کہا...

سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کہوں۔۔ ایک ایک بات اتنی سچی اور کڑوی ہے کہ بس۔۔۔ ہمیشہ سنتے آئے تھے لوگوں کے ملک سے باہر جانے کیلئے جتن، کوششیں،۔۔۔ خود بھی باہر آ گئے۔ یہاں آ کر جن لوگوں سے آبھی تک ملاقات ہوئی، سوائے طالب علموں کے، سب کے سب اسی خوف کا شکار ہیں۔ اور شاید یہ باتیں بھی ابھی کچھ کم ہوں، یہاں والوں کے خوف وہاں والوں کے خوف سے کئی گنا زیادہ بھیانک ہیں۔ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر وہ لوگ جن سے میں یہاں ملا ہوں، ان میں سے کوئی بلاگ پڑھ لے تو ایک دفعہ تو گزرے ہوئے 12 سال سامنے سے گزر جائیں، اور باتیں کلیجہ پھاڑ دیں۔ ہم ان دکھوں سے نا آشنا ہیں، ہم ڈائرکٹ آنے والے لوگ ہیں لیکن ہم بھی یہاں ایسے ہی خوف پالنا شروع ہو جاتے ہیں۔ غریبی کے، وہاں کی بے بسی کے، وہاں کی زندگی کے۔۔۔ بے شک یہاں گھٹ گھٹ کے مر جائیں!۔

Abdul Qadoos کہا...

غریبی ہی نہیں اور بھی بہت سی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں میں بھی سوچ رہا تھا۔ ایسا کچھ کرنے کو لیکن اب دسمبر تک ملتوی کردیا ہے پلان۔ :ڈ کوئی متبادل راستہ کی تلاش میں

عنیقہ ناز کہا...

لجیئے آج ہی اغواء برائے تاوان کی خبر پڑھ رہی تھی کہ کراچی میں اب متوسط طبقے کے لوگ بھی اغواء کرنے والوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پچھلے چھ مہینوں میں پچاس افراد اس کا نشانہ بنے ہیں۔ جو کہ رپورٹ کیسز ہے۔ اندازہ ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ سوچ رہی تھی کہ ہم تو ہر صورت حال سے راضی برضا ہو کر یہاں پڑے ہوئے تھے کہیں ایسا نہ ہو یہ نیا بھوت ہمیں ڈرا ہی دے۔
بہر حال راشد کامران صاحب کی بات درست ہے۔ حالانکہ یہ بڑی فخر کی بات ہوتی ہے کہ انسان نے کیسی جدو جہد کر کے حالات سے لڑ کر اپنے حالات کو بہتر کر لیا۔ لیکن لوگ اپنی ذاتی کامیابیوں کی داستان سنانے کے بجائے پرکھوں کی داستانیں سنانا شروع کر دیتے ہیں۔
حقیقتاً تو دل کو یہی چیز گرماتی ہے کہ ہم نے کیا کیا۔ باقی سب مایہ ہے۔

Dohra Hai کہا...

اِک تلخ حقیقت کو دِل کی گہرائی سے محسوس کر کے لکھی گئِ تحریر

Raja Iftikhar Khan کہا...

یہ ہی رونا میں بھی رو کر کچھ دن چپ ہوا ہوں جب معلوم ہوا ایک ایک دوست کا نوجوان بھانجا یونان آنے کے چکر میں نہر میں ڈوب کر مرگیا، مگر کسی کا کہنا تھا کہ لوجی آپ تو ایویں ہی روتےرہتے ہو یہ ماں باپ کا قصور ہے جو اپنی اولاد کی قناعت والی تربیت نہیں کرسکے۔

ابھی آپ بھی وہی کچھ سوچ رہے ہو تو کچھ تو بات ہوگی

غلام عباس مرزا کہا...

سچ ہے! لیکن کیا غریبی صرف بھوک ننگ ہے یا پھر اپنے سے امیر شریکوں کے دیئے گے ظاہری یا ڈھکے چھپے دھونس سے پیدا شدہ انتہا پسندی!۔جب معاشرہ پیسے کی کمی کی وجہ سے گھاس نہیں ڈالتا تو انسان پیسے کے لیے انتہائی قدم اٹھانے کی سوچتا ہے۔ اور اکثر وطن چھوڑنے کی کوشش کرنے والے نوجوانوں کا مسلہ روٹی، کپڑا اور مکان نہیں ہوتا۔

Popular Posts