جمعہ, مئی 23, 2008

مانگا اور توهین قران

عرب میڈیا میں اس بات کا انکشاف کیا گیا اور اس بات کا گله بهی کیا گیا که 
اب جاپان بهی ـ ـ ـ ـ
قران اور اسلام کی اهانت کا معامله شروع هوا ہے ایک کارٹون کہانی سے ـ
جاپان میں ٹی وی پر اس بات کا ذکر تها که عرب میڈیا نے اس اس بات کا لکھا ہے که اب جاپان بهی مسلمانوں کی دل آزاری میں ،
اور اس كے بعد اس معاملے كا بتایا گیا تها ـ
مانگا كہتے هیں جاپانی زبان میں كارٹون كہانی كو جو كه كاغذ پر چھپی هو ـ
لیکن ان دنوں جاپانی زبان کا یه لفظ '' مانگا '' دوسری کئی زبانوں میں بهی رائج هو چکا ہے 
مثلاً فرانسیسی اور انگریزی میں کارٹون کہانیوں کی کتابوں کو اب مانگا هی کہتے هیں یا پھر جاپانی سے ترجمه کیا گئی کارٹون کہانیوں کی کتابوں کو تو ضرور مانگا کہتے هیں ـ
جاپان میں مانگا کہانیاں بڑے شوق سے پڑهی جاتی هیں اسی لیے که ان کی مانگ هے جاپان میں مانگا کتابیں بهی بہت چھپتی هیں ـ
اور مزے دار بات ہے که مانگا کی کتابوں کا فوراًهی دنیا کی دوسری کتنی زبانوں میں ترجمه هو جاتا ہے ـ
اس لیے مانگا لکھنے والے فنکار کوشش کرتے هیں که مانگا کے پس منظر میں نظر انے والا ماحول ایسا هی هو جیسا که کہانی میں لکھا جارها هے ـ
ایسا نہیں که کهانی تو هو پیرس کی اور کرداروں نے پہن رکھے هوں شلوار قمیض ـ
یا جیسا که اردو کی کہانیوں میں هوتا ہے صرف کرداروں کے نام پاک کر لیے جاتے هیں اور باقی سار ماحول انگریزی والا هی هوتا ہے ـ
جاپان کے مقبول ترین مانگا میں هے ایک '' ینگ '' نام کا ویکلی میگزین ـ
جاپان میں وی بہت پڑها جاتا ہے 
اور تقریباً ساری هی عمروں کے لوگ اس کو پڑهتے هیں ـ
اس میگزین میں سلسله وار کہانیاں اور مخصوص کردار هوتے هیں ـ
ان میگزینوں میں چپھنے والی مانگا کہانیوں کی اینمیشن فلمیں بهی بنتی هیں ـ
اب مسئکے والے بات یه هوئی که 
ایک سیریز کہانی کے کردار جو جو اور اس کے دوست ساری دنیا کا سفر کرتے ہیں۔
سیریز کی ایک قسط میں جو جو کے دشمن ڈیو کو مصرکے پس منظر میں ایک کتاب پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو دیکھنے میں قرآن جیسی نظر آتی ہے اور اس کے بعد ڈیو جوجو اور اس کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی بات کرتا ہے۔
مانکا لکھنے والے نے کہا ہے که وه مانگا میں ڈیو کو عربی کتاب پڑھتے هوئے دیکھانا چاهتا تها
تاکه مصر کا ماحول نظر آئے 
مگر عربی کو کتاب ڈھونڈ کر لانے والے کو مارکیٹ میں عربی کی جو کتاب ملی وه قران تها 
اور لکھاری نے اسی كا عكس شامل كر دیا ـ
جاپان میں كبهی كوئی انگریزی كی كتاب بهی ڈهونڈنی پڑ جائے تو ٹوکیو تک جانا پڑتا ہے 
اور پھر بهی امید نهیں هوتی که کتاب مل جائے گی 
ایسے ماحول میں عربی کتاب کا نه ملنا واقعی ماننے والی بات ہے 
جاپانی لوگ زبانوں کی تحاریر کو زیادھ نہیں سمجھتے 
ان کے نزدیک جاپانی ، چینی کے علاوھ رومن الفاظ هوتے هیں یا پھر عربی الفاظ 
اس لیے اب اگر ان کو کوئی کتاب عربی کی مل بهی جاتی تو اس پر عراب نه هونے کی وجه سے یه عربی جیسی نہیں لگنی تهی 
کچھ اس لیے بهی
اور کچھ جاپانی لوگ مذهپ کو اهمیت بهی نہیں دیتے مگر 
کسی کی انسلٹ کرنے کو بهی برا سمجھجاتا ہے جاپانی محول میں 
کوئی بڑی خود دار اور اکڑ والی قوم هیں 
یه نه تو کسی کی انسلٹ کرتے هیں اور نه هی اپنی انسلٹ کو بهولتے هیں 
اور اگر نادانسگی میں کسی کی توهین هو هی جائے تو بڑي ندامت کا اظهار کرتے هیں اور اگر توهین زیادھ هی هوجائے تو شرم سے خودکشی هی کرلیا کرتے هیں 
یه مذاق نہیں ایک حقیقت ہے ـ
اسی کی دهائی میں شیطانی آیات نام کی کتاب لکھنے والے رشدی ک معاملے سے بهی جاپان واقف ہیں اور رشدی کی اس کتاب کا ترجمه کرن والے کا نوے کی دهائی میں اباراکی کین کی تسکوبا یونیورسٹی میں قتل اور اس قاتل کا ابهی تک نه ملنا بهی جاپانیوں کو یاد ہے ـ
جہاں تک میرے علم میں هے اور جتنا میں جاپانیوں کو سمجھتا هوں 
میرے خیال میں قران کی بے حرمتی نادانستگی میں هی هوئی هو گي 
جاپانی کبهی بهی اسلام کے خلاف نہیں رہے هیں 
امریکه کا اتحادی هونے کی وجه سے حکومت کی پالیسی ایک دوسری بات هے 
جاپانی تو ہمیشه ترک مسلمانوں کے ساتھ مل کر چلتے رهے هیں ـ
مصر کی الاظہر یونیورسٹی 
کی فتوی کمیٹی کے سربراہ نے
اس کارٹون پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کی کہ اس سے '' اسلام کی اہانت ہوتی ہے کیونکہ اس میں مسلمانوں کو دہشت گردوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے''۔
فتوی دینے والے حضرات کو بهی احتیاط کرنی چاهیے که معالات کو باریکی سے دیکھ لیا کریں 
عملوں کا دارومدار نیتوں پر هوتا ہے 
اس فتوے کو دنینے سے پهلے کیا مصر کی الاظہر یونیورسٹی کے فتاوی نے جاپانی ماحول کی اسٹڈی کی تهی؟؟
یا که ان کو جاپانیوں کا تاریخی پس منظر اسلام دشمن لگا تها ؟؟
آگر آپ کو اللّه نے کچھ ذمه داریاں دی هیں تو ان کا احساس کریں اور ایک ذمه دار بندھ هونے کا ثبو ت دیں ناں که انتشار پھلانے والی هی باتیں ـ
میرے نزدیک اسلام کی توهین هو هی نهیں سکتی
که اسلام ایک سسٹم ہے ناں که 
ایک شخصیت
اللّه اور اس کے رسول کی توهین کرنے والے کو میں بهی سخت سزا دینے کے حق میں هوں ـ
لیکن اسلام کی توهین ؟؟
یه کیا ہے ؟؟
میں نے کچھ کم علم لوگوں کو دیکھا ہے که وه کسی غیر مسلم کا قران کو هاتھ لگانا بهی برداشت نہیں کرتے که اس سے قران کی توهین هوتی هے ان لوگوں کے نزدیک ـ
آگر ایک لوٹے پانی میں پیشاب کا ایک قطرھ گر جائے تو یه پانی ناپاک هو جائے گا 
مگر 
اگر ایک دریا میں ایک بندھ پیشاب هی کردے تو کیا هو گا ؟؟؟
دریا اس پیشاب کو پاک کر دے گا !ـ
ہے که نہیں ؟؟
اسی طرح قران کو ایک لوٹا پانی نہیں هے که کسی غیر مسلم کے هاتھ لگانے سے ناپاک هو جائے گا 
بلکه بے کراں مطہر یه کتاب کسی کو بهی پاک کر دے گی ـ
خود تو قران کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے اب کسی اور کو بهی هاتھ نهیں لگانے دینا چاهتے ـ

5 تبصرے:

Noumaan کہا...

نہایت جامع پوسٹ ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے میں ٹی وی پر کوئی امریکی سیریل دیکھ رہا تھا اس میں دکھایا گیا کہ ایک فیشن ڈیزائنر اپنے ایک صحافی دوست سے بات کررہا ہوتا ہے۔ صحافی دوست اس سے پوچھتا ہے کہ پچھلے سال آپ نے اپنے ملبوسات پر قرآنی آیات استعمال کی جس سے بہت کنٹروورسی کھڑی ہوئی اور آپ کو قتل کی دھمکیاں بھی ملیں۔ تو وہ فیشن ڈیزائنر کہتا ہے میرے نزدیک وہ محض آرٹ تھا۔ بعد ازاں وہ صحافی کو آف دی ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ محض پبلسٹی اسٹنٹ تھا۔

میرا خیال ہے مسلمانوں کے زیادہ شور شرابہ کرنے سے کئی ایسے لوگ بھی اس میدان میں اتر آئیں گے جو شہرت کے بھوکے ہیں۔ اور جنہوں نے کبھی قرآن کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔

ہمیں چاہئے کہ قرآن کو طاقوں سے نکالیں۔ اور اس کی سچائی کو دنیا سے اپنے اعمال کے ذریعے منوائیں۔

اجمل کہا...

السلام علیکم
میں اس معاملہ میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں ۔ میرے ذاتی مطالعہ کے مطابق جاپانی کسی دوسرے کے مذہب کی توہین نہیں کرتے ۔ دوسرے وہ مسلمانوں سے زیادہ قریب رہے ہیں شاید اسلئے اُنہوں نے اسلام کے خلاف کبھی بات نہیں کی ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ یورپی ممالک کے خلاف جنگ میں کئی مسلمانوں نے جاپانیوں کا ساتھ دیا ۔

موجودہ مصری حکومت اور اس کے مقرر کردہ جامعہ الاظہر کے مفتی سب امریکہ نواز ہیں ۔ امریکہ جاپان اور چین کی ترقی سے بہت تنگ ہے اور اِن کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ڈھونڈتا رہتا ہے ۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ انجانے میں غلطی ہو جائے تو وہ غلطی نہیں سمجھی جاتی ۔ اس سلسلہ میں اگر مصنف نے اس کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے تو پھر کسی کا فتوٰی دینا بیکار ہے ۔

Asad کہا...

بہت اچھی اور مثبت تحریر لکھی آپ نے ، آپ کی باتیں واقع میں غور کے قابل ہیں، میں متفق ہوں آپ کی باتوں سے، اگر آپ برا محسوس نہ کریں میں کچھ کہنا چاہوں گا ، میں آپ سے پہلے ہی معذرت طلب کر رہا ہوں کہ میری کسی بات کا برا مت مانئے گا۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا آپ کی تحریر مثبت ہے اور ایسا ہی ہے جو آپ نے جاپانی معاشرے کے بارے میں تحریر کیا۔مگر کچھ باتیں آپ کی تصیح طلب ہیں، جن سے میں بحرحال متفق نہیں ہوں اور آپ کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ اس بارے میں تحقیق ضرور کیجیے گا۔
١ ۔ مثلاُ ۔۔۔ آپ نے لکھا کہ “ “ میں نے کچھ کم علم لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ کسی غیر مسلم کا قران کو ہاتھ لگانا بھی برداشت نہیں کرتے کہ اس سے قران کی توہین ہوتی ہے ان لوگوں کے نزدیک “ “
محترم ، قرآن پاک کی آیت کا مفہوم ہے کہ ، اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں ، یہ صرف میں نے مفہوم بیان کیا ہے ترجمہ نہیں بتایا، دوسری بات کہ بے شمار مستند احادیث موجود ہیں جن میں ناپاک لوگوں کو قرآن پاک کو ہاتھ لگانے سے منع فرمانے کا حکم موجود ہے ، پڑھنے سے نہیں ۔

٢ ۔ آپ نے لوٹے اور دریا میں پانی میں پیشاپ والی مثال پیش کی ہے ،
محترم ، سب سے پہلے تو قرآن کے مقابلے میں کوئی اچھی مثال پیش کی جاسکتی تھی ۔
دوسری بات کہ ،، ٹھرا ہوا پانی جیسے کہ لوٹے میں یا کسی حوض میں ، اگر اس میں کوئی پیشاپ کردے تو وہ واقع میں ناپاک ہو جائے گا اور کوئی چلتا دریا یا کوئی نہر ہو اس میں کوئی پیشاپ کر دے تو وہ پانی ناپاک نہیں کہلائے گا۔
محترم میری باتوں کی تحقیق کر لیجیے گا۔
آخر میں پھر معذرت۔

Safdar Danish کہا...

plz www.bbcone.net

and

www.safdardanish.com

plz visit,latest urdu news site the world

safdar bdanish کہا...

plz visit www.bbcone.net latest urdu news site the world

Popular Posts