اتوار, مئی 11, 2008

بتؤں (بینگن)ـ

  بتؤں کہتے هیں جی پنجابی میں بینگن کو بتؤں (بینگن) ایک بڑی هی میٹھی چیز هوتی هے 
بتؤں (بینگن) کو دودھ سے تیار کرتےهیں ـ
بتؤں (بینگن) میں ذائقے کے لیے پسته اور بادام بهی ڈالے جاتے هیں ـ
بتؤں (بینگن) کو زبان پر رکھیں تو میٹھی ٹھنڈک کا احساس هوتا ہے 
ان دنوں بتؤں (بینگن) کی کتنی کمپنیاں مارکیٹ آ گئی هیں جن میں پولکا . راکو ، یمی قابل ذکر هیں ـ
باسکن روبنسن ، بین اینڈ جیری ، بلیو بیل ، بروسٹر ، کریول ، میکو ، وغیرھ دنیا کی مشہور بتؤں (بینگن) بنانے کی کمپنیاں هیں ـ
پاکستان میں دیسی طریقے سے بهی بتؤں (بینگن) بنایا جاتاہے 
دودھ کو کاڑھ کر اس میں پسته بادام اور قند ڈال کر اس کو سانچوں میں ڈال کر برف کے صندوق میں رکھ کر بناتے هیں ـ
یہاں تک پڑھ کر اگر آپ سمجیں که خاور کھسک گیا ہے 
تو 
شائد ـ ـ ـ ـ 
لیکن آپ ذرھ تصور کریں که کسی شہر کے لوگ اگر قلفی کو بتؤں (بینگن) کہنے لگیں تو ان کے ماحول میں بتؤں (بینگن) کی ڈیفینیشنز تو یہی بنیں گی ناں جی ؟؟
اور آگر آپ جو که اصلی بتؤں (بینگن) سے واقف هیں ان کو بتؤں (بینگن) کی صحیع تعریف بتانے کی کوشش کریں تو آپ کا کتنا مذاق اڑایا جائے گا جی اس شہر میں ؟؟
ہم جس دنیا میں رھ رہے هیں یہاں کتنے هی احمقوں نے کتنی هی قلفیوں کو بتؤں (بینگن) کا نام دیا هوا ہے ـ
اور 
اور اصلی بتؤں (بینگن) کو جاننے والے ان لوگوں کی محفلوں میں احمق کہلواتے هیں ـ
مثلاً کامیابی نام کی قلفی کو دولت نام کے بتؤں (بینگن) سے جانتے هیں ـ
کامیابی نام دیا هوا ہے لوگوں نے دولت مندی کو ـ
لیکن کیا دولت مند هونا هی کامیاب انسان هونا ہے ؟؟
همارے گاؤں کے کچھ لوگ برطانیه میں هوتے هیں 
ان میں ایک هیں دو بهائی جی قصائیوں کا کام کرتے هیں ـ
ان کے پاس بڑی دولت ہے برطانیه میں کافی جائیداد بهی هے 
وافر مقدار مں پونڈ سٹرلنگ ـ
جب یه بهائی پاکستان آتے هیں تو سونے کی چینیں گلے میں ڈالی هوتی هیں ریشمی کپڑے پہنے هوتے هیں 
اب ان کے بچے بهی بڑے هوئے هیں اور پاکستان آتے هی چرس کے سوٹے کا شوق بهی پورا کرتے هیں 
گاؤں کے سارے چرسی ان کے گرد اکٹھے هوجاتے هی اور یه لوگ کافی سخاوت کا مظاهرھ کرتے هوئے ان بھنگی اور چرسی لوگوں کی لک آفٹر بهی کرتے هیں ـ
علاقے کے بدمعاش لوگ ان سے جگا ٹیکس بهی وصول کرتے رهتے هیں 
لیکن ان پاس دولت هی اتنی ہے بدمعاشوں کو جگا دینے میں کوئی فرق هی نہیں پڑتا 
لیکن ان بدمعاشوں جگا دینے سے انکار کرنے کے لیے اپنی برادری کے غریب قصائیوں کو منه نہیں لگانا چاهتے ـ
یه قصائی کها کرتے هیں که انہوں نے برطانیه جا کر صحیع معنوں میں کامیابی حاصل کی ہے 
اتنی کامیابی که اب یه اپنی برادی کے ناکام لوگوں سے ملنا بهی نہیں چاهتے ـ
دوسرے هیں جی 
غلام ربانی صاحب ہمارے گاؤں سے برطانیه میں مقیم 
ان صاحب کو جوانی میں هی کمر میں چوٹ لگ گئی تهی اس لیے یه صاحب دولت بنانے والا کوئی بهی کام نه کرسکے ـ
بیوی کو نوکری کرواکر اور برطانوی حکومت کی مدد سے ساری زندگی میں ایک مکان هی بنواسکے هیں 
اور باقی سب کچھ بچوں کی تعلیم پر اٹھ گیا ہے 
ان کے تین بچے هیں 
ایک بیٹا اور دو بیٹیاں 
بیٹا انجنئیر هے 
او ر دونوں بیٹیاں ڈاکٹر
اب آپنی عمر کی ساٹھویں دهائی میں هیں اور دھلے هوئے کپڑے پہن کر لوگوں میں بیٹھ کر علمی اور عقلی باتیں هی کرتے رهتے هیں ـ
برطانیه سے نکلنے والے اردو اخباروں میں 
غلام ربانی ریڈ هل 
کے نام سے پنجابی شاعری لکھتے هیں اور کچھ کالم بهی ـ
ان کے پاس دولت نہیں ہے اس لیے یه ناکام لوگ هیں 
اور قصائی کامیاب لوگ ـ
میں جاپان سے تیرھ سال آؤٹ رها هوںاور دنیا میں سیاحت کرکے علم کے پیچھے هی پڑا رها هوں 
اور ان تیره چودھا سالوں میں دولتمند هوجانے والے لوگوں کی نظر میں اج میں ایک ناکام بندھ هوں 
لیکں اگر یه لوگ قلفی کو بتؤں (بینگن) کہـ رهے هیں 
تو هم کیا کرسکتے هیں جی 
دولت سے اگر عقل مل جاتی تو تھوڑي سی تو میں بهی خرید هی لیتا ـ

1 تبصرہ:

Zahoor Solangi کہا...

زور قلم اور زیادہ
براہ کرم ٹیکسٹ کا ڈائریکشن دائیں سے بائی کردیں۔

Popular Posts