اتوار، 2 جولائی، 2006

اردو بيچارى كيا كرے؟؟

افراز صاحب وكى پيڈيا كے ايكـ بەت اهم لكهنے والے هيں انهوں نے اردو ميں ايكـ اورنيا لفظ رائج كرنے كے لئيے وكى پيڈيا كے منتظمين سے رائے مانگى هے ـ افراز صاحب لكهتے هيں ـ

اسپیڈ کا متبادل تو رفتار ہے۔ ولاسٹی کا متبادل درکار ہے اگر کوئی یکحرفی متبادل مہیا کرسکے تو مہربانی ہوگی ۔ اگر ایک نا ملا تو پھر مجبورا مجھے ---- سمتار ---- اختیار کرنا پڑے گا جو کہ سمتی رفتار کے لفظ میں شامل سمتی سے سمت اور رفتار سے تار لے کر بنا ہے۔ افراز

خاور كا مشوره


آگرآپ اس لفظ ولاسٹى كو ولاسٹى هى رهنے ديں تو ميرے خيال ميں ٹهيكـ هے ـ
الفاظ وه هوتے هيں جو رائج هو جائيں ـ
يا پهر سمتى رفتار كر ليں كه مجهے سمجهـ لگ رهى هے ـ
يەاں وكى پيڈيا ميں شامل اس وقت كے سارے ممبران كے مقابلے ميں ميں خاور سب سے كم تعليم يافته هوں ـ
اردو ميڈيم لوگوں كى اكثريت ميرے جيسى يا مجهـ سے كم تعليم والے هيں ـ آپ اس انسائكلوپيڈيا ميں مجهے ايكـ كسوٹى بناليں كه جن الفاظ كى مجهے سمجهـ لگ جائے گى پاكستان كے اكثريت لوگوں كو سمجهـ لگ جائے گى
آپ يقين كريں كه آپ كے لكهے هوئے الفاظ ضد ابەام اور فضائے نام كى مجهے تو بلكل سمجهـ نهيں آئى ـ اب اگر آپ ان الفاظ كے متبادل مجهـ سے مانگيں تو ميں اس بات كا اهل نهيں كه آپ كو ان الفاظ كا متبادل دے سكوں مگر اتنا جانتا هوں كه مجهے اور ميرے جيسے لاكهوں لوگوں كو ان الفاظ كى سمجهـ نهيں لگے گى ـ
اور هو سكتا هے كه ميرے جيسے لوگ انٹرنيٹ پر پڑهے الفاظ كے معنى جاننے كے لئے آپنے آپنے گاؤں كے كسى پڑهے لكهے بزرگ سے پوچهتے پهريں كه يه شمارينده كيا هے اور
ان كا جواب هو كه همارے زمانے ميں رسالوں كے شمارے هوا كرتے تهے اور هو سكتا هے كه كسى رسالے نے دو شماروں كے درميانى وقت ميں كوئى چهوٹا سا شمارينده شائع كيا هو گا ـ
ضد ابەام كسى علمى كتاب كا آخرى باب هو سكتا هے جس ميں اس كتاب كو پڑهنے والے قارى كے ذهن ميں پيدا هونے والے ابەام كى وضاحت كى گئى هو ـ
اور فضائے نام ـ كسى نام كو سن كر بننے والى فضاء يعنى كسى بدمعاش كا نام سن كر فضاء پر طارى هونے والى دەشت كسى مقدس هستى كا نام سن كر ايكـ روحانى سى بننے والى فضاء ـ

چينى اور جاپانى


اپنى اپني زبان ميں تعليم كى جب بهى بات هوتى هے تو هم پاكستانى جاپان كى مثال ديتے هيں كه جاپانى آپنى زبان ميں هى تعليم حاصل كرتے هيں ـ مگر كتنوں كو پته هے كه جاپانى زبان كا طريقه تحرير ايسا هے كه وه كوئى بهى نيا لفظ بنا سكتے هيں اور سارى قوم كو اس كى سمجهـ لگ سكتى هے ـ
چين اور جاپان ميں اشكال سے تحرير كا كام ليا جاتا هے ـ
هر چيز اور احساس كے لئيے ايكـ شكل موجود هے ـ
مثلا هاتهـ كے لئيے ايكـ شكل اور گاڑى كے لئيے ايكـ شكل اگر ان كو اكٹها لكيں گے تو هاتهـ گاڑى بن جائے گاـ
تربوز كے لئيے جو لفظ جاپانى ميں استعمال هوتا هے اس كى اشكال هيں ـ ـ مغربى كهيرا ـ ـ اور اس كو وه پڑهتے هيں ـ ـ سويكا ـ ـ جب يه لفظ رائج هوا هو گا تو ايكـ لاعلم شخص بهى ان اشكال كو ديكهـ كر سمجهـ جاتا هو كا كه يورپ سے آئى هوئ كوئى كهيرا ٹائپ چيز هو گى ـ
صبر كے لئيے جو لفظ استعمال هوتا هے اس كى اشكال هيں تلوار كے نيچے دل والا احساس اور اس وه پڑهتے هيں ـ ـ نينتائى ـ ـ تلوار كے نيچے دل كا احساس ! صبر كے اس سےبەتر معنى اور كيا هوں گے ـ مٹى كے تيل كو پتهر كا تيل كى اشكال ميں لكهتے هيں
چائينى ميں هوٹل كو شراب كى بڑى دوكان كى اشكال ميں لكهـ كر هوٹل پڑهتے هيں ـ
منه ميں جا كر دلچسپ كى اشكال كو كوكاكولا پڑهتے هيں ـ
صحيع رّب كى اشكال كو لكهـ كر چينى لوگ اس كو اللّه پڑهتے هيں ـ جى هاں اللّه جوكه اللّه سائيں كا ذاتى نام هے ـ

كيوں؟؟


مگر همارى زبان ميں ايسى بات نهيں هے بلكه هم نے جس زبان كو اپنى قومى زبان بنايا هے يه هے هى رائج الوقت الفاظ كا مجموعه ـ تو كيا ان الفاظ كو جو اج رائج هيں زبان اردو ميں مگر آئے هيں انگريزى سے ان كو اس لئيے قبول نهيں كر سكتے كه هم انگريزى سے تعصب ركهتے هيں ـ اگر انگلش غير ملكى زبان هے تو فارسى اور عربى برصغير كى كون سى گوت يا قبيلے كى زبانيں هيں ـ اگر هم لوگ پرانے زمانے كے غير ملكى آقاؤں كى زبانوں كو اج اردو سمجهـ كر قبول كر سكتے هيں تو آج كے غير ملكى آقاؤں (امريكه)كى زبان انگلش سے نفرت كيوں؟؟


وكى پيڈيا كا مشوروں والا صفحه نئى بات ديكهنے كے لئيے صفحه كے آخر پر جائيں

6 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

ہم آپ کي اس بات سے اتفاق کرتے ہيں کہ اگر عربي فارسي سنسکترت کے الفاظ اردو ميں داخل کۓ جاسکتے ہيں تو پھر انگريزي کے الفاظ بھي اپنانے ميں کوئي اعتراض نہيں ہونا چاہيۓ۔ ہاں آپ انگريزي کے الفاظ کر اردو ميں ڈھالنے کا کوئي خاص طريقہ وضح کر سکتے ہيں۔

Mehar Afshan کہا...

Khawar aap bilkul sahi kah rahay hain,

Muhammad Shakir Aziz کہا...

یرا طریقہ کار یہ ہے کہ جب بھی کوئی مضمون لکھوں اس میں رائج انگریزی اصطلاح کی جگہ جب بھی اردو ترجمہ استعمال کرنے لگوں کم از کم ایک بار “یعنی“ کا لفظ ڈال کر انگریزی بھی لکھ دیتا ہوں بعد میں چاہے بیس بار استعمال کروں اردو ہی چلے گی۔ مگر قاری سمجھ جاتا ہے کہ بات کیا ہے اور اس کے بعد اسے عادی ہونے میں بھی دیر نہیں لگے گی۔
دوستوں کو اس پہلو سے غور کرنا چاہیے۔
ترجمہ وہ ہو جو آسان اور بامعنی ہو۔ورنہ انگریزی چلے۔مگر اسکا مطلب یہ بھی نہیں کہ انگریزی کو اردو کے قواعد میں لکھ کر اردو کا نام دے دیں۔ اردو کے لاکھوں الفاظ جو لغات میں پڑے سڑ رہے ہیں ان کا مصرف کیا صرف شاعری اور دقیق ادبی مضامین اور ادب عالیہ ہی ہے؟؟؟؟؟؟؟؟

میرا پاکستان کہا...

Dear Khawar,
I can help you set up your text align from left to right for urdu writing. Just go to editing tepmplate and in content area change text-align left to right and you will be fine.
I am not home that's why I had to write this message in Egnligh. Please let me know if you need my help.

Madhu کہا...

By typing in Urdu search the web using Yanthram.
http://www.yanthram.com/ur/

ارسلان احمد کہا...

جناب! پہلی گزارش تو یہ ہے کہ آپ کی تحریر ٹھیک طرح سے پڑھنے کے قابل نہیں۔ یا تو آپ کا صفحہ درست طریقے سے اُردو دکھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا ورنہ زیادہ احتمال یہ ہے کہ آپ نے درُست کی بورڈ استعمال نہیں کیا۔ مثلا مجھ کو مجہ لکھا گیا ہے۔ بہت کو بهت لکھا ہے جس میں عربی والا ه استعمال کیا گیا ہے۔ اور ٹھیک کو ٹہيک لکھا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح پورا صفحہ پڑھنا ایک پُر زحمت عمل ہے۔

دوسرا یہ کہ آپ نے جو چینی کی مثال دی ہے۔ علامتی اور ابجدی رسم الخطوں میں صرف یہ فرق ہے کہ ابجدی رسم الخط میں لفظ حروف کی صوتی اکائی سے بنتا ہے لیکن علامتی رسم الخط میں پورے لفظ کی ایک علامت مقرر ہوتی ہے (یہ تصویر کی طرح نہیں ہوتی بلکہ اس کے تلفظ کا رٹّا لگانا پڑتا ہے)۔ آخری نتیجہ وہی ہے کہ ایک لفظ کی ایک علامت بنتی ہے۔ تو علامتی زبانوں والے اگر دو لفظوں کو ملا کر ایک لفظ بنا لیتے ہیں تو ابجدی زبانوں والے بھی بنا سکتے ہیں۔ جیسے 'ہاتھ' ہاتھ کی علامت ہے اور 'ریڑھی' ریڑھی کی۔ تو ان کو ملا کر بنا سکتے ہیں ہتھ ریڑھی۔ پڑھنے والا فورا جان جائے گا کہ ہاتھ سے چلنے والی ریڑھی مُراد ہو گی۔ اسی طرح 'مغربی' اور 'کھیرا' کو ملا کر مغربی کھیرا بن سکتا ہے۔ اور پڑھنے والا فورا سمجھ جائے گا کہ مغرب سے درآمد شدہ کوئی کھیرے جیسی چیز ہو گی۔

مسئلہ یہ نہیں۔ ایک تو انگریزی کا رعب اتنا ہے کہ اردو میں اصطلاحات کے ترجمے کا رجحان نہیں اور دوسرا ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ انگریزی تو ویسے بھی پڑھائی جاتی ہے تو درآمد شدہ لفظ یا اصطلاح کا معنی تو لوگ ویسے ہی جانتے ہوتے ہیں تو پھر ترجمے کی مشقت میں پڑنے کی کیا ضرورت۔ الٹا ایسا کرنے والا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ مثلا فارسی والے سپئر پارٹس کو قطعاتِ یدکی لکھتے ہیں۔ قطع کا مطلب حصہ اور یدکی کا مطلب اضافی۔ لیکن اگر کوئی اُردو والا اضافی پُرزے یا فالتو پُرزے لکھے گا تو اُلٹا اُس پر ہنسی آئے گی۔ حالانکہ اس میں اُردو جاننے والے کیلئے معنی کی گہرائی زیادہ ہے۔ کیونکہ ایک سپئر پارٹس کی دکان والے کو تو سپئر اور پارٹس کا علیحدہ معنی معلوم نہیں ہوتا۔ تو یہ ایک اجتماعی رجحان کی بات ہے۔

اِس اجتماعی رجحان کی موجودگی میں آپ کا مشورہ ہی ماننا پڑے گا۔

Popular Posts