جمعہ، 12 مئی، 2006

كتّا كون هے؟؟

كسى غريب آدمى كے پاؤں ميں كابلى كيكر كا كانٹا چبهـ كرماس كے اندر ٹوٹ گيا ـ اس كانٹے كى تكليف سے اس غريب كو بخار هو گيا ـ اس آدمى كے گهر والے اس كو بخار سپيسلسٹ حكيم كے پاس لے گئے ـ حكيم صاحب نے اس كو بخار كى دوائياں كهلانى شروع كر دييں ـ بخار هے كه اترنے كا نام هى نهيں لے رها ـ
اصل وجه كانٹا جب تكـ نهيں نكلتا يا جب تكـ كنوئيں سے كتا نهيں نكلتا ـ نه بخار اترے گا اور نه كنؤاں پاكـ هو گا ـ
ميرا بات كرنے كا مقصد تها كه همارے حكومتى افلاطونوں ميں اتنى صلاحيت هى نهيں كه ان كے نظر معاملے كے سارے پەلوؤں كا احاطه كر سكے ـ جس طرح بندوق سے اگر گولياں نكال لى جائيں تو صرف ڈانگ ره جاتى هے اسطرح پاكستان كے بڑے افيسرز ميں سے اگر انگريزى نكال لى جائے تو يه ماجهے گامے سے ذياده كچهـ نهيں ـ
حكومتى لوگوں كا باواآدم هى نرالا هے ـ

امام دين گجراتى كا شعر هے ـ

نه چهيڑ ميرى پنڈليوں كو نه چهيڑ
كه ان ميں هے درد جگر مام دينا

اردو كا ايكـ محاوره
بجے گٹهنا پهوٹے آنكهـ

آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائيں آپ كو كئى چيزيں ايسى نظر ائيں گى كه اس بيمارى كى دوائى كچهـ اور هے اور علاج كچهـ اور كيا جارها هے ـ
اب مەنگائى كا علاج دوكانداروں كى پكڑ دهكڑ اور ان كو ذخيره اندوز كەـ كر كيا جارها ەے ـ
مگر ان عقل كے اندهوں كو اكنامكـ كے بنيادى اصول طلب اور رسد كا بهى پته نهيں ـ
طلب كے مطابق اگر رسد پورى هو جاتى هے تو ـ ـ ـ ـ
هيرو بننے كے شوهين لوگوں كو سستے علاج كا جهانسا دے كر چندے اكهٹے كر كے هسپتالوں كى صورت ميں آپنى جائيداد بنائے جا رهے هيں ـ
انشورنش كى طرح كا امداد باەمى كا كوئى سسٹم متعارف كروا كے سارى قوم كى سەولت كا خيال كسى كو نهيں آتا ـ
شادى بياه پر پچهلے كچهـ سالوں سےپيدا هونے والى رسوم كا رونا سب رورهے هيں
اور ان كے خلاف مضامين لكهے جارهے هيں اور پوليس ايكشن هو رهے هيں
ائيں اس بيمارى كو پيدا كرنے والاكانٹا كەاں چبها ەے
يا كتّا كەاں سے نكالنا چاهئے ـ
آپ سب مجهے بتائيں ـ
آپ سب كے خيالات پرهنے كے بعدميں بتاؤں گا كه كميار اس كے متعلق كيا سوچتا هےـ
سوال يه هے كه
ان رسوم كى پيدائش كى وجه كيا هے؟
ميرا يه سوال خاص طور پر هے ـ
اجمل صاحب
ميرا پاكستان والے
افضل صاحب
جناب شيخو صاحب
آپنا ڈيره والے منير احمد طاهرصاحب
كيفے حقيقت والے ضياء صاحب
اس كے علاوه اردو دان صاحب كا جامعه اور جامع كے تصيح كے لئيے شكريه ـ

10 تبصرے:

میرا پاکستان کہا...

اچھي بحث چھيڑي ہے آپ نے۔ اميد ہے سب حضرات اپنے اپنے خيالات کا اظہار ضرور کريں گے۔
ہمارے خيال ميں ان رسومات کي بنيادي وجہ جہالت ہے۔ بقول آپ کے اگر اکنامک ميں ہم تاک ہوں تو پھر ان رسومات کو ادا کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچا کريں گے۔ وہ اسطرح کہ دولہا يہ سوچے گا کہ وليمے پر لاکھ روپيہ خرچ کرنے سے بہتر ہوگا اگر اس لاکھ کي ايک موٹر سايکل خريد لي جاۓ۔ دلہن والے بھي فضول خرچيوں سے دلہن کي عقلمندي سے بچ سکيں گے اگر وہ سوچے گي کہ لاکھوں روپے کے جہيز کي بجاۓ اپنے ہونے والے دولہا کے زورِ بازو پر انحصار کرے گي اور والدين کو مقروض ہونے سے بچا لے گي۔ يقين مانيں تبديلي تبھي آۓ گي جب پرائمري سکول سے بچوں کو اکنامک کے ساتھ ساتھ اسلام کے ميانہ روي کے اصول کي تربيت دي جاۓ گي۔ يورپ ميں اگر حالات اچھے ہيں تو اس کي سب سے بڑي وجہ ان کي تعليم ہے۔ ہمارے ہاں ٹيچروں ميں بے لوث خدمت کا جزبہ ختم ہو چکا ہے مگر يورپ ميں اب بھي ٹيچر بے لوث ہيں اور اپنے شوق کي وجہ سے اس پيشے سے منسلک ہيں۔ ہمارے ہاں بے لوثي کا خاتمہ ٹيچروں کي کم تنخواہ کي وجہ سے ہے اگر ٹيچروں کي تنخواہ بڑھا دي جاۓ تو وہ بھي دل لگا کر مستقبل کے معماروں کي تربيت کرنے ميں يورپ سے پيچھے نہيں رہيں گے۔

iabhopal کہا...

آپ کے سوال کا جواب انشاءاللہ جلد لکھنے کی کوشش کرونگا ۔ آجکل ميں گھر کی مرمت ميں پھنسا ہوں جو زلزلہ کے باعث ضروری ہو گئی تھی ۔

منیراحمدطاہر کہا...
یہ تبصرہ بلاگ کے ایک منتظم کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
منیراحمدطاہر کہا...

بہت عمدہ جناب، بہت اچھا لکھ رہے ہیں آپ، اللہ زور قلم میں اضافہ کرے۔
بہرحال آپ نے اس نا چیز کو یاد کیا جس کا میں ممنوں و مشکور ہوں۔ آپ کا جواب یہاں حاضر ہے۔
http://www.pkblogs.com/apnadera/2006/05/blog-post_12.html

میرا پاکستان کہا...

مناسب ہوتا اگر سارے صاحبان اسي جگہ پر اس بحث کو سميٹتے تاکہ پڑھنے والے کو کئ ويب سائيٹوں کے چکر نہ لگانے پڑتے اور مظمون کا تسلسل بھي قائم رہتا۔

Khawar کہا...

ميرے خيال ميں اگر هر بلاگر اپنى اپنى جگه ايكـ يا دو پوسٹيں لكهتا هے تو يه بەتر هے ـ
بعع ميں ميں ان سب تحارير كو اكٹها كر كے ايكـ پوسٹ بنا دوں گا اور هر بلاگر كى پوسٹ بهى آپنى جگه قائم رەے گى ــ
كيونكه ميں سمجتا هوں كه كچهـ لوگوں كى تحارير صديوں تكـ بچ جاى هيں اور كچهـ لوگوں كى ضائع هو جاتى هيں ـ اب پته نهيں هم بلاگر ميں سے اللّه كس كس كو يه سعادت ديتا هے ـاس لئے هر دوست كا اپنى اپني لكهتا رهنا ايكـ فطرى سى بات هے ـ
اس دور ميں هم اردو سيارّه كي صورت ميں سب كى تحارير پڑه
سكتے هيں ـ
اس كے علاوه ايكـ وضاحت
ميں نے جن بلاگرز كو نام لكهـ كر دعوت دى هے ميرے خيال ميں ان كى عمر چاليس كےقريب يا اوپر هے كه اس عمر ميں آدمى بخته نظر هوجاتا هے ـ
مگر ميں دوسرے بلاگرز كو بهى درخواست كروں گا كه آپ بهى لكهيں هو سكتا هے كه آپ كا لكها هوا صديوں تكـ ره جائے اور انے والى نسليں اس سے تاريخ مرتب كرسكيں
خاور

منیراحمدطاہر کہا...

بلکل خاور صاحب شادى بياہ كى رسومات والا ایک انتہائی اہم معاشرتی موضوع ہے اس لئے اس اہم اور معاشرتی موضوع کو چند لائینوں میں سمیٹنا زیادتی ہو گی اس کے لئے آپ کو صرف چند دن انتظار کرنا ہو گا ۔۔۔۔ صرف چند دن

Mehar Afshan کہا...

Khawar aap ka shukria kay aap nay dosron ko bhi is mozo per likhnay ki dawat di,hum Afzal sahab(Mera Pakistan)ki baat say itifaaq kertay hain kay sab say pahla or aham masla taleem hay laikin sirf duyawi naheen deeni bhi baray baray masaail jsi main meray nazdeek tasub sare fahrist hay deen ka ilm na rakhnay ki wajah say paida howa hay or is say zaili beemarian guror takabur wagaira, bohat say log jo dunyawi lahaaz say aalim fazil honay kay bawajood galat kaam ker rahay hain woh naheen jantay kay is tarah woh na sirf apnay Rab ko naraz ker rahay hain balkay woh zahar bo rahay hain jo nasal der nasl kata jaay ga,dosri wajah hamari bay hisi hay hum galat kaam kertay howay yeh bhool jatay hain kay hum khod ko dosron ki nazron main gira rahay hotay hain,ho sakta hay kay kuch log yeh sonchain kay is ka mulk kay siasi halaat say bhala kia taluq,taluq hay aam soch yeh hay kay buraai oper say neechay ki taraf aati hay yani oper walay achay hoon gay to neechay kay log khod sahi ho jaain gay laikin hamara KHLIQ is kay bilkul ulat baat kahta hay woh kahta hay kay jaisay tum ho gay tum per waisay hi hukumraan bhi musalat kiay jaain gay to asal masla yeh hay kay humain bahasiat Qoom apnay aap ko durust kerna ho ga,or is ki ibtida humain apni zaat or apnay ird gird say kerna ho gi,
Raha sawal shadi biah ki rasoomat ka to yeh bhi hamara paida kia howa nasoor hay or isay humain khod hi khatam kerna hoga,abhi kuch din pahlay meray khandan main 2 shadian aisi hoeen kay larka or larki walon nay sahibe hasiat honay kay bawajood shadi main jahaiz kay naam per aik tinka lainay say bhi inkaar kerdia,aik larka Navy main achi post per or dosra C.A hay or dono apnay maan baap kay pahlay batay hain,teesri misaal meray bhai ki hay woh bhi C.A kerraha hay or us ka bhi yahi kahna hay kay woh shadi sadgi
say y ga or jahaiz kay naam per tinka bhi na aay ga,is say mera maqsad apni ya apnay khandan ki wah wah naheen hay balkay yeh batana hay kay ager hum kerna chahain to sab mumkin hay sirf thoray hoslay or eemani taqat ki zarorat hay,

یاسر خان کہا...

اجمل چچا
میں آپ کی بات سے 100 فیصد اتفاق کرتا ہوں اصل میں مہنگائی کی ہی اسی لیے گئی ہے تاکہ لوگ پیٹ پوجا سے فارغ ہی نہ ہو پائیں اور ہم اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے روشن خیالی کے جو بیج بو چکے ہیں ان کو تناور درخت بھی بنا سکیں۔۔

مسلہ تو وہیں کا وہیں رہا نہ۔ کیا ہماری بلاگنگ سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟ میں ایک عدد بلاگ بنانا چاہتا ہوں، لیکن میری تحریریں اتنی جاندار نہیں ہوتیں، اور میں اپنے خیالات کی تصویر تحریر میں صحیح نہیں ڈھال پاتا۔ میں آپ کو تو میل کر چکا ہوں، دوسرے تجربہ کار بلاگرز کی مدداور حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔۔

گمنام کہا...

Assalamu alaikum,

Nice blog, the content in this blog is very useful to the people who are looking out for islamic knowledge.

Popular Posts