منگل, اگست 9, 2005

سرخ آندهى

بغداد ميں سرخ آندهى
بى بى سى نے خبر دى هے سرخ اندهى كى ـ
بڑے بزرگ كەا كرتے تهے كه جب كەيں قتل ەوا كرتا تها تو سرخ آندهى آيا كرتى تهى ـ مگر اب اتنے قتل ەوتے ەيں كه سرخ اندهياں بهى تهكـ كر چلنا چهوڑ گئى ەيں ـ اس زمانے ميں خبريں ذبانى سفر كيا كرتى تهيں جب ريڈيو اور ٹى وى نەيں ەوا كرتے تهے ـ سرخ اندهى اس زمانے ميں ظلم ەونے كا اعلان يا خبر ەوا كرتى تهى ـ سرخ اندهى كے بعد دوردورتكـ لوگوں كو پته چل جاتاتها كه كەاں كون قتل ەوا ەے ـ
جب سے ميں نے ەوش سنبهالا ەے ميرے ارد گرد قتل تو كئى ەوئے ەيں مگر ميں نے سرخ اندهى صرف دو دفعه ديكهى ەے ـ آپ يقين كريں كه واقعى ەر طرف ايكـ سرخى سى چها جاتى ەے ـ
كالى اندهى تو تقريبا سب لوگوں نے ديكهى ەو گى گهنگور گهٹايں اپنے جلو ميں ەوا اور بارش كو لے كر چلتى ەيں تو جس طرح اندەيرا چها جاتا ەے اسي طرح سرخ اندهى ميں شام كے وقت شفق كى سرخى كى طرح كى سرخى بادلوں كے سورج كے سامنے آنے سے بنتى ەے اور ەوا ميں اڑنے والے ريت كے ذرات اس سرخى كو منعكس كركے ماحول پر ايكـ سرخى سى طارى كرديتے ەيں ايكـ عجيب طرح كى ەيبت اور رعب ەوتا ەے اس اندهى ميں ـ

پەلى آندهى



ايمن اباد سے جو سڑكـ سيالكوٹ سے ەوتى ەوئى جموں تكـ جاتى ەے يا تهى اس سڑكـ كے قريب بسنے والے لوگ اس كو ديواناں والى سڑكـ كەا كرتے تهے يا اب بهى كەتے هوں گے ـ
يه سڑكـ اتنى چوڑى ەوا كرتى تهى كه ميرى ياداشت كے مطابق ميں نے ٹاەلى كے درختوں كى سات قطاريں گنى تهيں اور ەر دو قطاروں كا درميانى فاصله اب والى پكى سڑكـ سے ڈيڑه گنا تها ـ ان بڑى بڑى ٹاهليوں كى وجه سے يەاں ەلكا سا اندهيرا چهايا رەتا تها ـ
آپ اسے ايمن آباد سے جموں تكـ كا ايكـ چهيدرا سا جنگل سمج ليں ـ
وه اتنے سارے درخت اور اس چوڑى سڑكـ كا رقبعه كيا ەوا ؟
يەاں كيا بندر بانٹ ەوئياور كون كون سے بندر اور بلياں اس بندر بانٹ ميں شامل تهے يه همارا اج كا موضوع نەيں ەے ـ
اس سڑكـ په ايكـ گاؤں دهرم كوٹ نام كا آتا ەے پرانے زمانے ميں اسے دهرم كوٹ تهانه كەا كرتے تهےـ
دهرم كوٹ گاؤں اور تهانے كے درميان اينٹيں پكانے كا ايكـ بهٹه هوا كرتا تها شائد اب ەو مگر دهرمكوٹ تهانه اب دهرم كوٹ چوكـ كەلواتا ەے ـ
تهانے كى بغل ميں اس اينٹوں والے بهٹے په ايكـ عورت كو كچهـ نامعلوم لوگوں نے گينگ ريپ كركے قتل كرديا تها ـ
اس عورت كے قتل كے دوسرے دن سرخ اندهى چلى تهى ـ بزرگوں كا كەنا ەے كه سرخ آندهى ميں شامل مقتول كا خون اس آندهى كو سرخ كر ديتا ەے ـ سرخ آندهياں ظلم كے خلاف قدرت كا ناراضگى كا اظەار ەوتا ەے ـ

دوسرى آندهى



تحصيل گوجرانواله كا ايكـ چهوٹا سا گاؤں ٹور كلاں جسے مقامى لوگ ٹوراں كەتے ەيں كسى بهى سڑكـ پر واقع نەيں ـ
گوجرانواله سے نكلنے والى دو سڑكيں پسرور روڈ اور فيروزواله روڈ ! ان دونوں سڑكوں كے درمياں كتنے ەى چهوٹے چهوٹے گاؤں بغير سڑكـ كے ەيں ـ ٹوراں بهى ان ديەاتوں ميں سے ايكـ ديەـ ەےـ
اس گاؤں ٹوراں كا ايكـ لڑكا رياست ەوا كرتا تها يه لڑكا گورنمنٹ كے كسى محكمے ميں ملازم تها لوگوں كے گهروں ميں ڈى ڈى ٹى كے مفت چهڑكاؤ اور كونين كى كڑوى گولياں بانٹنے كا كام كرتاتها ـ
رياست نام كا يه لڑكا علاقے ميں ٹوراں نام كے گاؤں كى پەچان تها ـ انتەائى ملنسار اور خوش اخلاق رياست كو بهى قتل كرديا گيا تها رياست كے قتل پر اس علاقے ميں جس نے بهى سنا كه رياست قتل هو گيا ەے ـ بے ساخته هر ادمى كے منه سے نكلا كه رياست كو قتل كرنے كى كيا ضرورت تهى ـ
رياست ٹوراں والے كے قتل پر بهى سرخ آندهى چلى تهى ـ
آج بغداد ميں كتنے ەى رياست قتل هو رهے ەيں اور كتنى ەى عورتيں ريپ هو رهى ەيں
پهر سرخ اندهياں تو ائيں گى ـ

3 تبصرے:

SHUAIB کہا...

Good post

WiseSabre کہا...

جناب آپ نہ تو محھے ماضی یاد دلا دیا۔

بچپن میں ،میں نے تھی سرخ آندھی دپکھی تھی۔

مگر میرے بزرگوں نے تہ بتایا کہ یہ جنوں کی بارات ہے۔

iabhopal کہا...

آپ کی یہ پوسٹ نمعلوم میں کیوں پہلے نہ پڑھ سکا ۔ واقعی ہم نے بزرگوں سے لال آندھی کے بارے میں یہی سنا تھا ۔ میں نے بچپن میں ایک بار لال آندھی دیکھی بھی تھی ۔ دیواناں والی سڑک کو صرف وہ لوگ جانتے ہیں جو جموں ۔ شکر گڑھ ۔ پسرور ۔ نارووال ۔ ایمن آباد ۔ گجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ تو گویا آپ کا آبائی علاقہ ان ہی میں سے ہے ۔

Popular Posts