جمعہ، 29 مئی، 2015

دوہزار پندرہ مئی جون کے فیس بک کے چٹکلے


اخرت میں بخشش ، تو بڑی دور کی بات ہے ۔
اپنے  *مذہبی * صاحب کا بس چلے تو؟
کسی جاپانی کو اوکشن کی ممبر شپ تک  کی “اجازت “ نہ  دیں ۔
(^.^)
جس طرح اپ ،اپنے مذہبی سکالر کی عقیدت اور علمی قابلیت کے معترف ہیں ۔
اسی طرح ، قادیانی ، مرزا غلام احمد کے ، مولوی طاہر کے قادری لوگ اپنے اپنے بڑے کے علم کے معترف ہیں ۔
بریلوی ، دیو بندی ، اہل حدہث ، اہل تشیع ، بلکہ ہندو ، سکھ ، کیتھولک  لوگوں کا بھی  یہی حال ہے ۔
اس لئے اگر اپ کو قران کی باتیں کرتا خاور  عجیب لگتا ہے تو ؟ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ، بلکہ ! تکنیکی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے۔
کیونکہ
 اپنا اپنا کمپیوٹر سسٹم ہے جس میں دوسرے سسٹم کا فائل فارمیٹ   چلانے پر ایرر آ جاتا ہے ۔
(^.^) ��

بیوی ،اچھو سے پوچھتی ہے ، سونے  کی چین کب لے کر دو گے ؟
اچھو .، جب مجھے چین سے سونے دو گی !!!۔
(^.^) ��

ایک پارٹی میں  ، گانے چل رہے تھے ، ڈی جے نے نیا گانا لگانے سے پہلے کہا ۔
ایک ڈانس کرنے والا میوزک لگا رہا ہوں ، جس جس کو ڈانس نہیں کرنا ،وہ جا کر اپنی  بھینس چرائے !!۔
گامے نے یہ سن کر اپنی بیوی کو کہا ۔ چل بھلئے لوکے  میں تمہیں کھانا کھلاؤں  ۔
(^.^) ����

دماغ اگر پرنٹر ہوتا تو ؟ میں اپنے خیالات کو  تصاویر میں مجسم  کر لیتا۔
دل  میں اگر بلیو ٹوتھ ہوتا تو دل  کی دل سے راہیں نکال لیتا ۔
سکھ اگر  میموری سٹک ہوتے تو ؟ میں ان کا بیک اپ لے لیتا ۔
ہائے کاش کہ زندگی  ایپل کے کمپیوٹروں کی طرح  ہسٹری کا اپشن رکھتی  ، تو میں اپنے بچپن کی فائیلیں  ہی کھولے رکھتا  ۔
لیکن
یہ سب ممکن نہیں ہے اس لئے میں زندگی کو سچائی سے گزارنے کے مشن پر لگا ہوا ہوں ۔
اس لئے میرے خیالات  مجسم نہ بھی ہو بد بو نہیں دیتے ۔
میرا دل اپنے جیسوں کے دلوں سے راہ نکال ہی لیتا ہے
اور سکھ میری زندگی میں دکھوں پر چھائے ہوئے سے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔
اور بچپن ؟ 
چھڈو پراں ، ساری عیاشیاں تو فطرت مہیا ہی نہیں کرتی ۔
(^.^) ��

میں ایسے بندے کو جانتا ہوں  ، جس نے ایک چھوٹا سا ویلڈنگ پلانٹ سائکل کے پیچھے رکھا ہوا ہوتا تھا
 اور گاؤں گاؤں گھوم کر آواز لگاتا تھا
ٹوٹی ہوئی چیزیں ویلڈ کرا لو !!!۔
جس گھر میں کام نکلتا تھا ، وہ بندہ اسی گھر کی بجلی لے کر  ، فی راڈ کے پیسے چارج کرتا تھا،۔
اور اپنے گھر کو چلا رہاتھا
حاصل مطالعہ
محنتی لوگوں کے پاس بے روزگاری کے بہانے نہیں ہوا کرتے ۔
(^.^) ��

آئی لوّو یو ! آئی لوّو یو سو مچ!!!۔
یہ کہنا چاہتا تھا
رانجھا ، ہیر سلیٹی کو
لیکن
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔۔
بارہ سال بھینسیں چراتے گزر گئے ، ہیر کو کھیڑے لے گئے ۔
رانجھے کو “ انگریزی “ کا یہ  فقرہ  کہنا نہ آیا !!!۔
(^.^) ��


پھندو فقیر کہا کرتا تھا
خاور پائی ، رب نے یہ انگلیوں کے درمیان جو گیپ رکھا ہے ناں اس میں  قدرت کی بڑی  رمز اور حکمت پوشیدہ ہے ۔
اگر کوئی پوچھ لیتا تھا کہ اخر وہ رمز یا حکمت ہے کیا ؟
تو!۔
پھندو بتایا کرتا تھا ، حکمت یہ ہے کہ
کسی دن
کوئی
بندہ پھندو کے نزدیک آئے اور
چرس بھرا سگریٹ دے کر کہہ سکے کہ
لے پھندو یار سوٹا لاء ۔
(^.^)

گامے کے گھر پر پولیس کی ریڈ ہو گئی ، گامے کو پکڑ کر پولیس نے صحن میں بٹھا لیا ۔
اوئے گامیا! پولیس کو اطلاع ملی ہے کہ تم نے اپنے گھر میں ایک خطرناک دہشت گرد کو چھپا رکھا ہے ۔
گاما: تھانیدار صاحب ! اطلاع تو اک دم صحیح اور پکی ہے
لیکن
کل سے وہ اپنے میکے گئی ہوئی ہے ۔
(^.^)

گامے کی سالگرہ پر اس کی بیوی پوچھتی ہے
اجی اپ کے برتھ ڈے پر گفٹ دینا چاہتی ہوں ، آپ کو کیا چاہئے؟
گاما یہ سن کر بہت خوش ہوا
اور کہنے لگا
نئیں ، بھلئے لوکے  چیز کوئی نہیں چاہئے ،
بس تم مجھے پیار کرو، مجھے عزت دو، اور میرا کہنا مانو!! بس یہی کافی ہے ۔
بیوی کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی !!۔
نئیں ! میں تو گفٹ ہی دوں گی !!!!۔
(^.^)

ذاتی  مفادات اور مالی فوائد کے لئے ، جماعت اسلامی کا نام لینے والے لوگ !۔
یہاں جاپان میں اپنی “ خامیاں “ چھپانے کے لئے تین اوزار استعمال کرتے ہیں ۔
ایک : مذہب
دو : داڑھی
تین: محراب ( ماتھے والا!۔
جو زیادہ ہی زہریلے ہیں وہ چوتھا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔
خود کو عربی نسل کا ( سید) بنا کر پیش  کرتے ہیں ۔
(^.^) ��

جج: تمہارا نام کیا ہے ؟
ملزم: غلام ، گاما حضور ، گاما!!۔
جج: تم پر الزام ہے کہ تم نے سال ہا سال سے اپنی بیوی کو ڈرا کر ، دھمکا کر ، دبا کر،  اس کو اپنے کنٹرول میں رکھا ہوا ہے ۔
گاما : گگیاتے ہوئے ، حضور ، وہ ۔ ۔ ۔!۔
جج گامے کی بات کاٹتے ہوئے ، صفائی کی ضرورت نہیں ہے ،
طریقہ بتاؤ طریقہ؟؟
(^.^)

پاگل خانے کا ڈاکٹر ایک پاگل سے پوچھتا ہے ، کیسے ہو ؟
پاگل : میں نے پانچ سو صفحوں کی ایک کتاب لکھی ہے
ڈاکٹر : اچھا کیا لکھا ہے ؟
لکھا ہے کہ میں کمائی کر کے اپنے گھر کی غربت مٹانے کے لئے جاپان آیا ، میں نےاپنے گھر کی  غریبی مٹائی ، جاپان کی نیشنیلٹی لے  لی ، اور  صحافتی کارنامے کرنے لگا ۔
ڈاکٹر ، یہ تو ایک صفحے کی کہانی ہے باقی کیا لکھا ہے ؟
باقی کے صفحات میں کیا لکھا ہے ؟؟
پاگل :  باقی کے صفحات میں ، میں یہہ ، میں وہ ، وہ برا ، میں اچھا  کی تکرار ہے ۔
ڈاکٹر: اس کتاب کو پڑھے گا کون؟
پاگل : چھپوا کر بانٹتا رہوں گا ، کوئی نہ کوئی میرے جیسا ، پڑھ ہی لے گا!!!۔
(^.^)

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
گر سو برس بھی جیتے  یہی انتظار ہوتا
،،،،،،،،،،
اچھو ڈنگ اس شعر کی تشریح کر رہا تھا
کہ
شاعر کا کوئی یار بہت مارلدار اور لاولد  ہے ۔
جس کے انتقال فرما جانے پر اس کی جائیداد اور مال شاعر کو مل جانا ہے
لیکن وہ یار بہت صحت مند ہے اور  اس کے وصال کی خبر  انے کی کوئی امید نہیں ہے
اس بات سے مایوس شاعر کے دل کا دکھ زبان پر  آگیا ہے کہ
گر سو برس بھی انتظار کریں گے تو  انتظار ہی کرتے رہیں گے ۔
(^.^)

کسی  گانؤں ( اج سے گاؤں کو ایسے ہی لکھا جائے گا)  میں  بجلی انے والی تھی ۔
اس گانؤں کے لوگ بہت خوش تھے  ، خوشی سے ناچ گا رہے تھے
ان میں کتا بھی تھا جو کہ زیادہ ہی خوشی کا اظہار کر رہا تھا
کسی نے پوچھا ، تمہیں کیا کہ بجلی آئے نہ آئے ؟
تم کیوں خوش ہو ؟
پگلے ! جب بجلی آئے گی تو گانؤں میں کھنبے بھی تو لگیں گے ناں ؟؟؟
(^.^)

ایک عورت نے نماز کے بعد دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور فوراً ہی نیچے کر لئے ۔
اس کا خاوند دیکھ رہا تھا۔
خاوند نے پوچھا دعا کیوں نہیں مانگی ؟
بیوی نے کہا: میں یہ دعا مانگنے لگی تھی کہ
اللہ اپ کی سب مشکلات دور کر دے
لیکن پھر مجھے ڈر لگا کہ اس دعا سے کہیں مجھے ہی کچھ نہ ہو جائے !!!۔
(^.^)

عجب دستور  زباں بندی ہے تیری محفل میں
کہ یہاں بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
۔
 خلاصے ، ٹیٹ پیپر اور گیس پیپر  ، اپ کو امتحان تو پاس کراوا دیتے ہیں  ، جیسے بوٹی اور نقل
لیکن اگر
تعلیم حاصل کرنی ہے تو نصاب کی کتابوں کا علم حاصل کرنا ہوتا ہے  ۔
لکھنے والوں کی باتیں ، بھی خلاصے ، ٹیسٹ پیر اور گیس پیپر ہی ہوتے ہیں ۔
اور سنی ہوی تقریریں ؟ ایسے ہی ہیں جیسے بوٹیاں  اور چلاکیاں!!۔
اگر ، “ تعلیم” حاصل کرنی ہے تو ؟ نصاب کی کتاب  اللہ کا کلام ہے  ۔
(^.^)

اس  کے والد صاحب کی طبعت خراب رہتی تھی ۔
وہ اپنے والد صاحب کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا ۔
ڈاکٹر صاحب نے  “ اس “ کے والد کو دیکھ کہا ۔
اپ کے والد صاحب کے کچھ “ٹیسٹ “ کروانے ہوں  ۔
یہ سن کا “ اس “ کا تراھ نکل
اور ڈاکٹر صاحب کی منت کرتے ہوئے کہنے لگا
ڈاکٹر صاحب ، ابا جی کی عمر زیادہ ہے
ان سے ٹیسٹ نہ کروائیں ، “ ون ڈے “ یا “ ٹونٹی ٹونٹی “ سے کام چلا لیں ۔
 (^.^)

جاپان میں اس پرندے کو گرمیوں کا پرندہ سمجھا جاتا ہے، جسے “سوبا مے” کہتے ہیں ۔ اور پاکستان میں اس کو سردیوں کا پرندہ ، اور اس کو ابابیل کے نام سے پکارتے ہیں  !!۔
جاپان میں یہ پرندہ انڈے بچے جننے کے لئے آتا ہے ،۔ آکست اور ستمبر میں بہت نظر آتا ہے ۔
جگہ جگہ اس پرندے کے گھونسلے نظر اتے ہیں ، کئی دفعہ تو گھروں کی بیٹھک یا کہ لوگوں کی روز مرھ کی زندگی میں روکاوٹ سی بھی پیدا ہوجاتی ہے  ۔
لیکن جاپانی لوگ  ، فطری طور پر  بچوں کا تحفظ کرنے والے ہوتے ہیں ۔
اس لئے  چند دن کی بات ہے کا کہہ کر  ابابیل کے انڈے بچوں  کی پرورش اور بقا میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالتے ۔
جاپانی لوگ اپنے بچوں کو  “جاپان “ ہونے کا یقین رکھتے ہیں ۔
اس لئے ہر فرد ہر کسی کے بچے کے تحفظ کا خیال رکھتا ہے ۔
اسی لئے یہاں سب لوگ محفوظ ہیں  ۔
حتیٰ کہ غیر محفوظ ممالک کے پناھ گزین لوگ  بشمول پاکستانی  بھی خود کو یہاں محفوظ خیال کرتے ہیں ۔
(^.^)

مغربی دنیا میں لوگ
 شادی
 پر خوشیاں مناتے ہیں ۔
پاکستان میں شادی  پر؟
پھوپیاں اور چاچیاں  مناتے ہیں  ۔
(^.^) ����

مجھے دوسروں  کے اندر کے شیطان  پر حملے کرنے کا کوئی شوق نہیں  ۔
میں اپنے اندر کے شیطان کو کچلنے میں مصروف ہوں ۔
لیکن جب کس کا شیطان میرے مفادات یا عزت نفس پر حملہ کرتا ہے تو ؟
میں  شیطانی کرنے والے کے شیطان  کو آئینہ ضرور دیکھاتا ہوں ۔
شیطان  کہیں کے  ۔
(^.^)

جھگڑالو بیویوں سے نپٹنے کے لئے
 سیانے خاوندوں نے کچھ اصول بنا رکھے ہیں  ۔
اور وقت پڑنے پر یہ سب اصول فیل ہو جاتے ہیں  ۔
(^.^)

خوش قسمتی مٹھی میں بند ریت کی مانند ہوتی ہے ،
کوشش کے باوجود کھسک  کر نکل جاتی ہے ۔
یاں یہی ریت  دعا کی طرح پھلائے  ہاتھوں پر ٹکی رہتی ہے  ۔
(^.^)


برے دن سدا نئیں رہندے ،
برے دن  تہانوں ، تجربہ دے کے ، تے تہاڈی زندگی دی کتاب تے دستخط کر کے ٹر جاندے نیں  ۔
مولا خوش رکھے ،
(^.^)

میری زندگی میں شامل واحد جھوٹ !
یہ جھوٹ  جو کہ میں خود  سے بولتا ہوں
اور اکثر بولتا ہوں ۔
وہ ہے یہ سوچ
کہ
بعد میں لکھ لوں گا  ، کیونکہ مجھے یہ بات یاد رہے گی  ۔
(^.^)

لوکی تے  بڑے ای لج پاڑ نیں  ۔
اٹھے پہر حسد تے شرارت تے تلّے ہوندے نئیں  ۔
میرا رب ! بڑ لجپال اے ،۔
ایس دے وچ کوئی شک ای نئیں
ایسے لئی تے میں بچیا ہویا واں ۔
(^.^)

کوئیز محفل میں سوال تھا ، وہ کون سی چیز ہے جو سخت سردی میں بھی گرم رہتی ہے ؟
پاڈے مغل نے ہاتھ لمبا کر کے اٹھا دیا ۔
اینکر نے مائک پاڈے مغل کے سامنے کر دیا ۔
مغل کا جواب تھا  : گرم مصالحہ!!!۔
اینگر نے کہا ، ہاں ایک طرح سے  تمہارا جواب بھی درست ہی ہے ۔
مغلپاڈے نے پانچ فٹے قد کی ایڑہیاں اٹھا کر اور توند سے پچکے ہوئے سینے کو تان کر کہا
میں تو جینئس ہوں ، ویسے ہی مجھے غرور کرنے کی عادت نہیں ہے  ۔

ہفتہ، 16 مئی، 2015

پھر دوسری دفعہ کا ذکر ہے

دوسری دفعہ کا ذکر
کہ
خان ، مغل اور سید نامی بندوں  نے جسم کی فضول چربی  سے تنگ جس سے ان کے جسم ڈھلکے ہوئے تھے  گامے کو کہا کہ ہم کو بھی  کبھی ہائیکنگ  پر لے کر چلو  ، ہم بھی شائد تمہاری طرح  نائس باڈی  نظر آنے لگیں ۔
گاما ان سب کو لے کر پہاڑوں پر ہائکنگ کے لئے  پہنچ گیا ۔
فارمی مرغیاں کھا کھا کر  بیماریوں سے ہلکان ،  تینوں صالحین کی سہولت کا خیال کرتے ہوئے  گامے نے پہاڑ بھی  اسان سا چنا تھا کہ ایک دن میں  پہاڑ کر سر کرکے رات گھر پر گزاریں گے ۔
پہاڑ پر چلتے چلتے  ایک چھوٹا سا بادل بارش برساتا گزرا تو سب صالحین نے نزدیکی کھوہ میں پناھ لی ۔
لیکن بد قسمتی کہ زلزلے کے جھٹکے بھی اسی وقت انے تھے کہ ایک پتھر  لڑھک کر کھوہ کے منہ پر آ ٹکا اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا  ۔
خود کو تنگ جگہ پر مقید پا کر صالحین کے  رنگ فق ہو گئے  ، اور لگے واویلا کرنے ، گاما ان سب کا منہ دیکھ رہا تھا ۔
سید نامی  بندے کو حکایت صالحین کی وہ کہانی یاد آ گئی جس میں ان ہی کی طرح کچھ لوگ غار میں پھنس گئے تھے اور انہوں نے  اپنی اپنی زندگی کی نیکیاں خدا کو جتلا جتلا کر غار کے منہ پر اٹکا ہوا پتھر سرکا لیا تھا ۔
سب سے پہلے مغل نے اپنی زندگی کی نیکیاں جتلانی شروع کیں
کہ کس طرح اس نے مسجد کی خدمت  کر کر کے  کیا کیا نیکیاں کی ہیں
لیکن پتھر زرا بھر بھی نہ سرکا !!،۔
اس کے بعد خان نے اپنی نیکیاں جتلانی شروع کیں کہ کس طرح اس نے جرگوں میں  مظلوموں کو صبر کی تلقین  اور ظالموں کو درگزر کے واعظ کئے تھے  ۔
لیکن پتھر پھر بھی ذرا بھر نہ سرکا ۔
اس کے بعد سید صاحب نے اپنے سید ہونے کی  مسجد کے متولی ہونی کی اور بھیک مانگ مانگ کر مسجد پر لگانے کی نیکیاں بڑے رقت بھرے انداز میں جتلائیں ۔
لیکن پتھر پھر بھی نہ سرکا ۔
ان سب کی یہ حرکات دیکھتا ہوا گاما ، گویا ہوا
اوئے منافقو !!۔
خود سے بھی جھوٹ بولتے ہو ، اور خدا سے بھی جھوٹ بولتے ہو ،؟
اوئے منافقو ، میں بھی تو تم لوگوں کو دیکھتا رہتا ہوں ۔ بھیک مانگتے ہو ، سود کھاتے ہو ، باعزت لوگوں کی عزت اچھالتے ہو ،۔
اور پھر کہتے ہو کہ  کیونکہ جس کا باپ بڑا کاروباری ہے وہ معافی نہیں مانگے گا ۔
بد بختو !۔
جس پر سب صالحین نے یک آواز کہا کہ اچھا تو تم بتاؤ اپنی نیکیاں
کہ ان سے شائد   پتھر  سرک جائے !!۔
ان کی یہ بات سن کر
گامے نے  جیب سے جدید ترین ماڈل کا آئی فون نکالا اور ریکسیو والوں کو فون کیا کہ میرے فون کو ٹریس کر کے میری مدد کو پہنچو
میں یہان کھوہ میں پھنس گیا ہوں ۔
اور تھیلے سے کافی کا ٹین نکالا اور کھول کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر چسکیاں لینے لگا اور گنگنانے لگا ۔
ہیر آکھدی جوگیا ، جھوٹ بولیں
وے کون وچھڑے یار مالاوندا ای !!!۔

جمعہ، 15 مئی، 2015

چینی زبان میں الفاظ کی کمی

چین ! جہاں پچھلی کتنی نسلوں سے ایک بچہ پیدا کرنے کی پابندی تھی ، شائد اب بھی ہے ۔
وہاں ، کئی دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ زبان میں زخیرہ الفاظ کی کمی کا واقع ہوا ہے  ۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ ابادی کی کمی سے زخیرہ الفاظ کی کمی کیا تعلق ؟
معاملہ اس طرح ہوا ہے کہ
ایک بچہ پیدا کرنے کی پابندی کی وجہ سے شہر کے شہر گانؤں  کے گانؤں  ایسے  بن گئے کہ ہر گھر میں ایک ایک بچی یا بچہ  تھا ۔
جب یہ بچہ اور بچی جوان ہوئے تو ان کی شادیاں بھی ہو گئیں ،۔
شادی کے بعد  عورت کو ملے ایک ساس سسر  اور خاوند کو بھی ملے ساس سسر  !۔
لیکن بیوی کو ، نند ، دیورانی ،جیٹھانی ، یا جیٹھ ، دیور  ، نام کے رشتوں کا علم ہی نہیں ہے کہ اس بیچاری کے ساتھ ساتھ اس کی ساری سہلیاں بھی   ان سبھی رشتوں سے محروم ہیں ۔
خاوند کو  سانڈو   ، نامی رشتے کا تصور ہی نہیں ہے کہ  اس کے اردگرد اس کے کسی بھی دوست کا سانڈو  ( ہم زلف)  ہے ہی نہیں ۔
ان جوڑے کی جو اولاد ہوئی  ان کو ، ماموں ، ممانی ، خالہ ، خالو ، چاچا ، چاچی  ،  تایا ،  تائی  نامی رشتوں کا ادراک ہی نہیں ہے  ۔
بہن بھائی ، بھائی بہن  نامی رشتے  تو ناپید ہوئے ہی تھی کئی اور رشتے بھی ناپید ہو گئے ۔
چینی زبان جو کہ ایک وسیع زبان ہے  رشتوں کے معاملے سکڑتی چلی گئی ۔ کتابوں میں اگر ان رشتوں کا کہانیوں میں قصوں میں  کہیں  ذکر بھی ہو تو
کیا ان قارین کا تصور ان کو ان رشتوں کے ہونے کا ادراک دے گا ؟
نہیں !!۔
اور انے والے چینی زبان کے ادب میں ان رشتوں کا ذکر بھی نہیں ہو گا کیوں کہ  پچھلی جار دہایوں میں پرورش پانے والے  چینوں نے یہ رشتے نہ دیکھے ہیں اور نہ محسوس کئے ہیں  ۔
اس لئے ان کے لکھنے والے بھی وہی لکھیں گے جو انہوں نے دیکھا ہے ۔
الفاظ کی کمی کا احساس اگر ایک دو صدی بعد پیدا  بھی ہوا تو ، ہو سکتا ہے کہ اس زمانے کا چینی یہ سوچے کہ چینی زبان رشتوں کے معاملے میں ایک غریب زبان ہے
اور اس کو ان رشتوں کے نام لینے کے لئے دوسری زبانوں کا محتاج ہونا پڑے  ۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2015

دوسری دفعہ کا ذکر ہے


دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ
کہیں کسی جنگل میں   بلو نامی خرگوش اور جوجی نامی کچھوے میں ریس کی ٹھن گئی ۔
شرط یہ لگی کہ جو بھی پہلے برگد کے بڑے پیڑ کے پاس  پہنچے گا ، وہ بعد میں انے والے کی پیٹھ پر سارا دن سواری کرئے گا ،۔
 جوجی نامی کچھوا جب منزلیں مارتا ہوا برگد کے پیڑ کے نیچے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ
وہاں خرگوش  بچوں کا ایک غول کھیل رہا ہے
اس نے پوچھا کہ اوئے بچو ! کیا تم بلو نامی  خرگوش کو جانتے ہو ۔
سارے خرگوش بچے اکھٹے ہو گئے اور پوچھنے لگے
کیا اپ جوجی انکل ہو ؟؟
ہاں ہاں ، میں جوجی ہوں
تو خرگوش بچوں نے جوجی کو بتایا کہ بلو دادا ہمارے دادا ابو تھے انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ جب بھی کبھی جوجی نامی کچھوا یہاں پہنچے ، اس کے شرط ہارنے کی پاداش میں تم سب اس کی پیٹھ پر سواری کرنا۔
حاصل مطالعہ
زمانہ بدل گیا ہے ، سائیکل اور جہاز کی ٹکر ہونا ناممکن ہے ۔


دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ
پیاسا کوّا جب ڑتے اڑتے گھڑے کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا
کہ پانی کم ہے اور چونچ کی پہنچ سے دور ہے ،
اس نے بھی حکائت صالحین  کی پیاسے کوّے والی کہانی پڑہی ہوئی تھی ، اس لئے اس نے کنکروں کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ،اس کو ککری ( اینٹوں کا چورا) کی ڈھیری نظر آئی ، اس نے ککری اٹھا اٹھا کر گھڑے میں ڈالنی شروع کر دی ، پھیرے لگا لگا کر پیاس سے نڈھال کوّے نے جب گھڑے میں نظر ڈالی تو
ککری سارا پانی چوس چکی تھی ،
کوّا غش کھا کر گرا اور مر گیا ،۔

اتوار، 22 فروری، 2015

چودہری لوگوں کے معاملات


شہر کی غلّہ منڈی میں  ، چودھری ظفر ،آڑھتی سے  گندم کی قیمت طے کرنے آیا ہوا تھا ، آڑھتی نے چائے منگوا لی ،چائے کی چسکیاں لے رہا تھا کہ اس کے علاقے کے دو اور زمین دار بھی وہیں پہنچ گئے ۔
غلہ منڈی میں آڑتھی کی دوکان بھی دیہاتی زمین داروں کے لئے ایک قسم کا  چوپال ہی ہوتا ہے ،۔
جہاں چایے پانی ، روٹی اور رقم  بھی مل جاتی ہے ۔
بات چل نکلی کماد کی فصل کے متعلق!۔
اس  ، سال تیسرے ضلع کے چوہدریوں نے نئی نئی شوگر مل لگائی تھی ،  چوہدریوں نے اعلان کیا تھا کہ   دوسری کسی مل کے نواح کے  زمین دار اگر کماد ان کی مل پر لائیں گے تو ان کو کماد کی دوگنی قیمت ادا کریں گے ۔
ٹریکٹر ٹرالی کا کرایہ تو کنڈے سے اترتے ہی  کماد اتارنے سے پہلے ادا کر دیتے تھے ۔
اس سال گنے کی فصل بہت اچھی اٹھی  تھی جس سے کہ سارا علاقہ واقف تھا ۔
چوہدر ظفر کی فصل کے چرچے بہت دور تک گئے تھے اور اس نے اپنی ساری فصل تیسرے ضلعے کے چوہدریوں کی مل پر  بیچی تھی ۔
اس لئے علاقے میں اس بات کا تاثر پایا جاتا تھا کہ اس سال چودھری ظفر نے بہت کمائی کی ہے ۔
آڑھتی کی دوکان پر علاقے کے دوسرے زمین داروں نے جب رشک بھرے انداز میں  ، اس سال فصل کے معاملے میں چوہدری ظفر کی فصل کو سلاہا تو ؟
چوہدری گویا ہوا کہ یارو ! میں ایک طرف تو بہت خوش قسمت نکلا کہ میری گنے کی فصل  اڑوس پڑوس سے بہتر ہو ئی لیکن ایک معاملے میں معاملے میں بدقسمتی کہ میں مرتے مرتے بچا ہوں ۔
سب کے کان کھڑے ہو گئے ۔
باؤ کمیار ، آڑھتی نے  نے تاسف سے کہا ، اللہ خیر کرئے چودھری کیا ہوا تھا؟
ہوا یہ تھا کہ
چودھری گویا ہوا  کہ ، جب میں کماد کی رقم کے کر مل سے نکلا تو  کوئی چار کلو میٹر بعد ہی ڈاکوؤں نے میری کار روک لی ، کلانشکوف کی خوفناک نالیوں کے منہ میری طرف تھے ، درد کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی ۔
ابھی خدا کی دی ہوئی زندگی باقی تھی کہ ڈاکو لوگوں نے صرف رقم چھین کر مجھے جانے دیا ۔
ایک کروڑ سے زیادہ کی رقم تھی ، کلاشنکوف کے خوفناک منہ دور ہوتے ہیں ، کچھ اوساں بحال ہوئے تو احساس ہوا کہ بہت بڑی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں ۔
اس وقت تھ نزدیکی ڈیرے سے کچھ کسان بھی آ چکے تھے کہ ویران جگہ کار کھڑی کئے یہ بندہ کیا کر رہا ہے ۔
کسی نے پولیس میں جانے کا مشورہ دیا ، شوگر مل والے چوہدری ،ان دنوں  ہیں ! ۔ اپ سب کو تو پتہ ہی ہے اور انہوں نے اپنے علاقے میں پولیس چوکیوں کا بھی جال بچھا رکھا ہے  ۔
میں نے جب نزدیکی چوکی پر جا کر رپورٹ لکھنے یا کہ ڈاکؤں کا پیچھا کرنے کا کہا تو؟
حوالار منشی نے مجھے مشورہ دیا کہ رہورٹ وغیرہ لکھنے بھی کچھ نہیں ہو گا ، پولیس کے پاس بھی کو اللہ دین چراغ نہیں ہے کہ ڈاکوؤں کا پتہ چلا لے ۔
تم اس طرح کرو کہ بڑے چوہدریوں کے ڈیرے چلے جاؤ ، ہو سکتا ہے کہ ان کے تعلقات سے  وہ ڈاکو لوگوں سے تمہاری رقم واپس دلوا دیں ۔
بات میرے دل کو لگی ۔
میں وہاں سے سیدھا شہر میں چوہدریوں کے ڈیرے پر پہچ گیا خوش قسمتی سے بڑے چوہدری صاحب ڈیرے پر ہی تھے ۔
ڈیرے پر لوگوں  کی آمد رفت سے بڑی رونق لگی ہوئی تھی۔
چوہدری صاحب بڑے مصروفتھے لیکن  پھر بھی
میری شکل دیکھتے ہیں چوہدری صاحب نے اپنی روایتی مہمان داری  نبھاتے ہوئے نوکو کو آواز دی اور “ روٹی شوٹی” کا انتظام کر ْ۔
روٹی کہاں حلق سے اترنی تھی اور ناں اس وقت مجھے روتٰی کا خیال تھا ۔
میری چہرے سے عیاں میری پریشانی کو بھانپ کر چوہدری صاحب نے بڑی شفقت سے پوچھا ،
کی گل اے بھایا ظفر ؟ کوئی پریشانی لغدی اے ( کیا بات ہے بھائی ظفر کوئی پریشانی لگتی ہے )۔
میں نے جب سارا معاملہ بتایا تو وڈے چوہدری صاحب بھی پریشان ہو گئے کہ ،ان ڈاکوؤں نے بہت تنگ کیا ہوا ہے ۔
ویسے کتنی رقم تھی ؟ میں نے بتایا کہ اپ بے شک مل سے کنفرم کر لیں ایک کروڑ بیس لاکھ تھی ۔
اوئے بھائی ظفر اب تم کیا ہم سے جھوٹ بولو گے ، اگر تم نے کہہ دیا ایک کروڑ بیس لاکھ تو رقم اتنی ہی ہو گی ۔
کر لیتے ہیں کچھ
تم روٹی شوٹی کھاؤ۔
روٹی کہاں کھائی جانی تھی ، بس کچھ زہر مار کیا کچھ پانی سے نگلا ، اور روٹی ختم کرنے کی ایکٹنگ کر کے منجی پر پریشان بیٹھا تھا کہ  چوہدری صاحب کا کارندہ ایک بریف کیس لے کر حاضر ہو گیا ۔
وڈے چودہرہ صاحب نے مجھے پاس بلایا اور بڑی شفت سے مجھے کہنے لگے ، دیکھو یات تم اپنی برادری کے بھی ہو اور ہمارے علاقے میں لوٹ لئے گئے ہو ۔
اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم تمہارے لئے کچھ بھی ناں  کریں ۔
انہوں نے بریف کیس مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ دیکھو اس بریف کیس میں ساٹھ لاکھ کی رقم ہے ، بس یوں سمجھو کہ ساٹھ لاکھ کا تمہارا نقصان ہو گیا اور ساٹھ لاکھ کا ہی ہمارا نقصان ہو گیا ۔
دیکھو یار ظفر ! اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔
اس کے بعد وڈے چودہری صاحب نے اپنے بندے میرے ساتھ کئے ، جو کہ کلاشکوفون سے مسلح تھے  جو مجھے اپنے ضلعے کی حدیں پار کروا کر گئے تھے ۔
بس یارو ! میں تو وڈے چوہدری صاحب کا احسان مند ہوں کہ انہون نے بچا لیا ورنہ اس سال تو  گنے کی فصل تو گئی تھی ڈاکوؤں کی جیب میں ۔
چوہدری ظفر بات ختم کر کے دوسرے زمین داروں کا منہ دیکھتا ہے کہ کیا تاثرات دیتے ہیں ،
لیکن وہ دونوں منہ کھولے حیرانی سے چودہری ظفر کا ،نہ دیکھ رہ تھے ۔
چودہری ان سے پوچھتا ہے ۔
تو دونوں کو کیا ہوا ہے ؟
وہ دونوں زمین دار منماتی آواز میں بولے ۔
بکل یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا
لیکن ہم نے شرمندگی سے کسی کو بتایا نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے!!۔
یہ باتیں سن کر باؤ کمیار ( آڑھتی) نے جو کہا ۔
 اس کو سن کر ان تینوں زمین داروں کو چپ ہی لگ گئی تھی ، اور کئی ہفتوں تک لگی رہی تھی ۔
باؤ کے منہ سے نکلا تھا
یعنہ کہ  وڈے چوہدریوں  کماد کی قیمت دوگنی دینے کا صرف اعلان ہی کیا تھا  ۔
دیتے سب کو وہی  “ قیمت “ رہے ہیں جو دوسرے دے رہے تھے۔

جمعرات، 19 فروری، 2015

ننگے

ہم لوگ ، تہمند ( لکدی) باندھنے والے لوگ تھے ، ہاں ہاں وہی تہمند جو حج عمرے میں احرام میں باندہتے ہیں ،۔
جوان لڑکے تہمند کے " لڑ " لمبے کر کے باندہتے تھے ، جس سے گھٹنے ننگے ہو جاتے تھے ۔ بندہ عجیب لچا سا لگتا تھا ،
 اس لئے
بڑے بزرگ لوگوں کو یہ کہتے سنا ، اور بہت دفعہ سنا ۔
 اوئے منڈیا ! گٹے کج !!۔

سعودی ریال ،مودودی کے افکار اور جرنل ضیاع کا نظام مصطفے !!۔
 لڑکوں کے لباس   مہذب شلوار قیمض ہوئے ! ۔  پھر ہم نے سنا اور بار بار سنا ۔
اوئے منڈیا گٹے ننگے کر ،اوئے گٹے ننگے !!!۔

ہمارے دیکھتے ہیں دیکھے ہر چیز تبدیل ہو گئی ، امن ، تحفظ ، کمائی میں برکت اور دلوں میں محبت ، کی جگہ لڑائی ، خوف کرنسی کی ہوس کدورتیں عام ہوئیں ۔
سعودی اور مودودی نے گٹھنے کیا ننگے کروائے ، ہمارے معاشرے کو ہی ننگا کر کے رکھ دیا ہوا ہے ، اور ابھی یہ مشن مکمل نہیں ہوا ہے ، مشن جاری ہے ،بلکہ جاری اور ساری ہے ۔

اتوار، 1 فروری، 2015

سود اور سور

عیسائیت میں بھی سور کا گوشت کھانا حرام ہے ۔
لیکن یورپ کے  عیسائی سور کا گوشت کھاتے ہیں ۔
کیوں ؟
کیونکہ ان کے  علماء نے کوئی شک نکال کر سور کو بھی جائز کر دیا ہوا ہے ۔
کیپسئین کے سمندر کےشمالی  ممالک میں رہنے والے اور بہت سے ایرانی بھی مسلمان بھی سور کا گوشت کھاتے ہیں ۔
یہودی جہاں بھی ہوں سور کا گوشت نہیں  کھاتے ، برصغیر کے مسلمان جہاں بھی ہوں سور کا گوشت نہیں کھاتے ۔
ان چیزوں کو  سمجھنے کے لئے ان اقوام کا مزاج سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں ۔
برصغیر میں ہندو اور بدہ لوگ گوشت کھاتے ہی نہیں تھے ،۔
جب یہاں اسلام آیا تو  مسلمان ہونے والوں کو صدیون تک گوشت کھانے میں تامل رہا ، اور جب کھانے بھی لگے تو پلید اور پاک کا بہت سختی سے خیال کیا ۔
یہودی ، ایک نسل ہیں ، خاندان ہیں ، جن کا اصلی وطن  شام کے اردگرد  کا ہے ۔ گرم موسمی حالات  میں سور کھانے سے ہونے والی بیماریوں کی  قباحت نے ان  کو سور کھانے سے باز رکھا ، صدیون سے بنی عادات ،ٹھنڈے ممالک میں جا کر بھی قائم رہیں اور انہوں نے سور “ کم “ ہی کھایا  ۔
لیکن یورپی معاشروں میں سور ایک عام سی چیز تھی ، جب یہان عسائیت پہنچی تو ؟ سور کی پلیدگی کا یہ لوگ تصور ہی نہیں کر سکے کہ ، جو گوشت روز مرہ میں مسلسل کھا رہے ہیں وہ ایک دم پلید کیسے ہو گیا ؟
جس کے لئے انہوں نے کوئی شک نکال کر سور کے گوشت کو ویسے ہی  کھاتے رہے جیسا کہ صدیوں سے کھا رہے تھے ۔
سور کا گوشت نہ کھانے والے یہودی اور  “ ماس “ سے گریزاں ہندو ! ۔
ہر دو اقوام  “ سود”  ضرور کھاتی رہی ہیں ۔ بلکہ سود کا ایک منظم انتظام رکھتی ہیں ۔
ہند میں جو علاقے اج پاکستان میں شامل ہیں یہاں ، ساہوکار کو “ شاھ” کہا جاتا تھا ۔
شاھ جی یہی ٹرم ہے جو سود خود کے لئے استعمال کی جاتی تھی ، اور  بعد میں خیرات کو حق سمجھ کر وصول کرنے والے مذہبی  لوگوں کو بھی شاھ جی ہی کہا جاتا ہے ۔
قران میں سور کے گوشت کو حرام قرار دیا گیا ہے
اور سود کی امدن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔
برصغیر کے مسلمان ، اپنے سبزی خور “پچھوکڑ” کی وجہ سے سور کے گوشت سے تو نفرت کرتے ہیں ۔
لیکن
شاھ جی ( ساہوکار) لوگوں کی قابل رشک   لائف کے کمپلکس کی وجہ سے
 سود کی رقم کو کھانے کی کوئی نہ کوئی توجیع نکال ہی لیا کرتے ہیں ۔

مائکرو بلاگنگ ، فیس بک والے اسٹیٹس ۔


 جیدو ڈنگر ، اپنی ماں کے ساتھ کلینک میں داخل ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اچھو بیٹھا رو رہا ہے اور اچھو کی ماں اس کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی ہے  ۔
کی ہویا ؟
اوئے جیدو ِ میرا خون دا ٹیسٹ ای ، ڈاکٹر نے سوئی مار کر خون نکالنا ای۔
جیدو ڈنگر  نے ہائے او ربا کہا، اور رونا شروع کر دیا ۔
اچھو پوچھتا ہے
اوئے تینوں کی ہویا اے ؟
اوئے میرا  “موتر” دا ٹیسٹ ای ! میں تے مرجاواں گا ۔

وہ ائرفورس میں کام کرتا تھا ، وہ بتا رہا تھا کہ اس کے بیٹے سے جب بھی کوئی پوچھتا تھا کہ  “ ابا کام کیا کرتا ہے ؟” تو اس کا بیٹا جواب دیتا تھا ۔ “ فوجی “ !۔
میں نے اس کو سختی سے منع کیا کہ بے کا فوجی ہونا نہ بتایا کرئے ۔
بیٹا ،پہلی کلاس میں داخل ہوا، داخلہ فارم کی ایک کاپی مجھے بھی ملی ،  داخلے کے فارم پر ابے کے کام کے خانے میں  لکھاتھا ۔
معلوم نہیں ، لیکن یہ بات پکی ہے کہ باپ فوجی نہیں ہے ۔

جیدو ڈنگر ! بڑا بن ٹھن کے گامے دے کول آیا
تے گامے نوں اپنا کیمرا دے کے ، کہندا اے ۔
یار ! میری اک سلیفی تے بنا دے !۔



دو قومی نظریہ ۔
اس ملک میں دو قومیں پائی جاتی ہیں ۔
ایک قوم
اور دوسری  عوام۔
عوام مرے یا اس کے بچے ،کوئی بات نہیں قوم  کے وقار پر حرف نہیں آنا چاہئے ۔


 مولوی صاحب کہا کرتے تھے ، جن والدین کے نو عمر بچے مر جاتے ہیں ، ان کے والدیں کو جنت کے محل عطا ہوں گے ۔
پشارو کے آرمی سکول میں مرنے والے بچوں کے جنت کے محلوں کا انتظام ناپاک طالبان نے کیا ہے
اور  پچھلے دس سال سے پاک فوج اس سے کہیں زیادہ تعداد کے والدیں کو جنت کے محلوں کا حق دار بنا چکی ہے  ۔

یا اللہ ! مجھے اتنی زیادہ طاقت دے کہ میں اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو معافی مانگنے پر مجبور کرنے کے قابل ہو جاؤں۔
ورنہ ، گولی تو افیمی ، چرسی اور فوجی بھی مار سکتے  ہیں ۔

کسی سیانے کا قول ہے کہ نیچ سے نیچ بات کی حمایت میں بھی کچھ نہ کچھ لوگ نکل ہی آتے ہیں ۔
فوج کا پیشہ ہوتا ہے  “جنگ” اور پاک فوج کو جنگ میں جو مشکلات ہیں ۔
آپریشن کرو، آبادی کا انخلا نہ کرائو تو بمباری اور گولہ باری سے نقصان ہوگا، انخلا کرائو تو جو نقشہ آپ نے کھینچا، وہ بنے گا۔ آپریشن نہ کرو تو وہ علاقہ دہشت گردی کا مسکن بنا رہے گا، اآپریشن کرو، انخلا کرائو اور چیک پوسٹوں پر چیکنگ نہ کرائو تو پھر اس انخلا کا فائدہ کوئی نہیں تھا،

ان کا بھی ذکر ہونا چاہئے
لیکن یہ بھی تو ہونا چاہئے کہ  کوئی اتھارٹی کوئی وزارت ، کوئی عہدھ  کوئی بندہ  فوج کی پیشہ ورانہ کوالٹی کو چیک کرنے والا ہے ہی نہیں ۔
جنگ کہ جس ہنر میں فوج یکتا ہے
ڈھاکہ میں ہو یا کہ وزیرسان میں یا کہ بلوچستان میں ، فوج کے ہنر کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔

اور جو کام فوج نے بڑی خلوص نیت سے کیا ہے  یعنی کہ حکومت پر قبضہ ( ڈاےریکٹ یا ان ڈائریکٹ) کیا ہوا ہے ۔
 انیس سو باون سے ، اس ہنر کے فن پارے تو تاریخ دان لکھے ، آج کا لکھنے والا اور وہ جو پاکستان میں ہے وہ نہیں لکھ سکتا ۔
اگر لکھے گا تو “ مسنگ پرسن “ ہو جائے گا ۔
ویسے اس ہنر میں بھی فرشتے ، تکتا ہیں ۔

کالی تتری کمادوں نکلی
تے اڈدی تو باز بئے گیا۔
۔
فوجی عدالتون کا قیام ۔


پھانسی کی سزا کے خلاف دنیا بھر میں کچھ تنظیمیں آواز اٹھاتی ہیں ،۔
جاپان میں بھی پھانسی کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنظیمں ہیں ، جن کے اثر سے یہ ہوا ہے کہ اب جاپانی عدالتیں موت کی سزا صرف ان کیسوں میں دیتی ہیں جن میں بہیمانہ قتل کئے گئے ہوں اور قتل بھی ایک سے زیادہ افراد کے ہوں ۔
اور جن مجرمان کو پھانسی دی بھی جاتی ہے ان کو بہت خفیہ رکھا جاتا ہے ۔
جاپان جیسے معاشرے میں جہاں کیمرہ ایک عام سی بات ہے وہاں اپ کو کبھی بھی کسی کو پھانسی دی جانے کی فوٹو یا ویڈیو نہیں ملے گی ۔

صنعتی انقلاب کے پہلے دور میں مجرموں کو گولی مارنے کی سزا بھی دی جاتی تھی ۔
گولی مارنے کے عدالتی حکم کے بعد ، اس سزا کا ایک طریقہ کار متعین تھا ،۔
گولی مارنے والے نشانے باز جلاد بھی انسان ہی ہوتے ہیں ، اور کسی انسان کی جان لینا اگرچہ کہ اپنے فرض کی ادائیگی ہی کیوں نہ ہو انسان کی نفسیات کو مےاثر کرتا ہے ۔
اس لئے گولی مارنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ
ایک مجرم کو گولی مارنے کے لئے گیارہ نشانے باز جلاد ہوں گے ، جن کے سامنے گیارہ گولیاں رکھی جائیں گی کہ ان میں سے ایک ایک اٹھا لیں ،۔
ان گیارہ گولیوں میں صرف ایک گولی اصلی ہو گی ، باقی کی دس گولیاں صرف پٹاخہ ہوں گی ۔
بہترین نشانے باز گیارہ بندے ، حکم دینے والی کی آواز پر یک دم گولیاں چلا دیں گے ۔
مجرم کی موت کس کی گولی سے ہوئی ہے ؟ اس بات کا کسی کو بھی علم نہں ہے ۔
ہر نشانے باز جلاد یہی سمجھا رہے گا کہ وہ مجرم میری گولی سے نہیں مرا ہو گا ، اس بات کا “ شک” بڑھاپے میں ، یا کہ
سردیوں کی لمبی راتوں میں ، کسی کی جان لینے دکھ آ آ کر تنگ نہیں کرئے گا ۔

میرے علم کے مطابق یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں پھانسی تو کجا موت کی سزا بھی نہیں ہے ۔
امریکہ کی کچھ ریاستوں میں موت کی سزا ہے لیکن وہاں بھی پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا ، بلکہ بجلی کی کرسی اور زہر کے ٹیکے کے ساتھ سلا دیا جاتا ہے ۔
کم عقل لوگوں کی آگاہی کے لئے ، ایک بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ
پھانسی کی سزا کے خلاف آواز ، موت کی سزا کے خلاف اواز نہیں ہے ۔
پھانسی کی سزا کے خلاز آواز اٹھانے والے لوگوں کو موقف یہ ہوتا ہے کہ بہیمانہ سزاؤں کو ختم ہونا چاہئے ۔
ہاں ! اس کے بعد موت کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنطیمیں اور ممالک بھی ہیں جیسے کہ یورپی یونین میں سزائے موت نہیں ہے ۔
بے عقل معاشروں میں ، قانون کے نام پر ، امن کے نام پر یا کہ دہشت کردی کے نام پر جو قتل گولیاں مار مار کر کئے جاتے ہیں
کھیتوں میں پہاڑوں میں گلیوں اور چوکوں میں !۔
ایسے قتلوں کو ختم ہونا چاہئے ۔
 پھانسی کی سزا میں بھی مجرم کے منہ پر کالا غلاف چڑھایا جاتا ہے ۔
جو کہ مجرم کی موت واقع ہونے کے بعد پھانسی سے اتار کر ،لٹانے تک نہیں اتارا جاتا ۔
لیکن پاکستان میں ، ہونے والی حالیہ پھانسیوں  کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ، کن میں مجرم کے منہ پر کوئی غلاف نہیں ہے ، اور پھانسی پر  لٹکی ہوئی انسانی لاشوں کی فوٹو بڑے فخر سے دکھائی جا رہی ہیں ۔

بدھ، 28 جنوری، 2015

معجزہ اور انسان

بنی اسرائیل کے انبیاء کو  اللہ نے طرح طرح کے معجزات عطا فرمائے تھے ۔
جن میں سے ایک معجزہ یہ تھا کہ ، اس زمانے کے نبی کو اللہ تعالی نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ
ان کے پاس ایک زنجیر تھی  جو کہ ایک حجرے میں  چھت سے لٹکی ہوئی تھی ،  اگر کوئی بندہ اس زنجیر کو پکڑ کر جھوٹ بولتا تھا تو ! زنجیر اس بندے کو جکڑ لیتی تھی ۔
چوری کے معاملے میں مشکوک بندے کو یا کہ کسی بھی لین دین کے معاملے میں  مشکوک بندے اور مدعی  کو اس زنجیر کو یہ زنجیر پکڑ کر قسم کھانے کا کہا جاتا تھا ۔
اس دور میں ایک واقعہ ہوا کہ  ایک شخص کہیں سفر پر جانے سے پہلے ، قیمتی پتھروں اور موتیوں کی ایک مالا  ، کسی دوسرے شخص کے پاس امانت رکھ کر سفر پر چلا جاتا ہے ۔
سالوں بعد جب اس شخص کی سفر سے واپسی ہوتی ہے تو ، وہ اپنی امانت کی واپسی کے تقاضے کے ساتھ ، جب پہنچتا ہے تو ؟
وہ بندہ اس بات سے انکار کر دیتا ہے کہ اس کے پاس کسی قسم کی امانت رکھی گئی تھی ۔
یاد کرانے پر وہ شخص یہ موقف  اپناتا ہے کہ ، مالا اس کے پاس لائی گئی تھی لیکن اس نے وہ مالا  مسافر کو واپس کر دی تھی ۔
یہ معاملہ وقت کے نبی کے پاس جاتا ہے ۔
دونوں فریق  زنجیر والے حجرے میں پہنچ جاتے ہیں گاؤں کے کئی اور لوگ بھی تماشا دیکھنے آ جاتے ہیں ۔
پہلے مدعی ، زنجیر کو پکڑ کر کہتا ہے ۔
میں خدا کو  حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے دوست کے پاس اپنا ہار امانت رکھا تھا  ، اب وہ یہ ہار واپس کرنے سے انکاری ہے ۔
مدعی سچا تھا ، اس لئے زنجیر سے جکڑا نہیں گیا ۔
واپس آ کر مجمع میں شامل ہوتا ہے ۔
اب ملزم کی باری ہے  ، ملزم عمر رسیدہ بندہ چھڑی کے سہارے چلتا تھا ، ملزم نے اپنی چھڑی مدعی دوست کو تھمائی  کہ اسے سنبھالو ، میں بھی قسم اٹھا لوں ۔
چھڑی مدعی دوست کو تھما کر ، ملزم  زنجیر کے پاس جاتا ہے ، زنجیر کو پکڑ کر قسم کھاتا ہے ۔
کہ
میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے  وہ ہار واپس کر دیا تھا جو کہ میرے پاس امانت رکھوایا گیا تھا ۔
ملزم  کو بھی زنجیر نہیں جکڑتی  کیونکہ ملزم سچ بول رہا تھا ۔
ملزم واپس مجمع میں آتا ہے ، اپنی چھڑی مدعی دوست سے ہاتھ میں لیتا ہے اور چلتا بنتا ہے ۔
شہر میں شور مچ جاتا ہے کہ   مدعی کا مدعا بھی سچ ہے اور ملزم  کا تردیدی بیان بھی سچ ہے تو ؟
ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی بھی پریشان ہو جاتے ہیں کہ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ملزم بھی سچا ہو اور مدعی بھی ! تو پھر دعوے کا ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی کے پاس پیغام آتا ہے کہ
ملزم نے اپنی چالاکی سے معجزے والی زنجیر کو بھی دھوکا دیا ہے ۔
ملزم نے اس طرح کیا ہے کہ
بانس کی چھڑی میں کھوکھلی بانسری میں ہار ڈال کر لاتا تھا ۔
جب مدعی نے قسم  دی اور واپس آیا تھا تو  ؟
وہ چھڑی جس کی کھوکھلی بانسری میں ہار تھا ، وہ مدعی کو تھما کر قسم کھانے چلا گیا ۔
تکنیکی طور پر اس وقت جب ملزم قسم کھا رہا تھا تو ، ہار مدعی کے ہاتھ میں تھا ۔
یعنی کہ ہار واپس پہنچ چکا تھا ۔
اپنی بریّت کی  سچی قسم اٹھا کر ، ملزم ہار سمیت چھڑی لے کر چلتا بنا ۔
حاصل مطالعہ
جنہوں نے حرام کھانا ہوتا ہے ، ان کے پاس تکنیکیں بھی بہت ہوتی ہیں ،۔

سوموار، 12 جنوری، 2015

چارلی ایبدو

فرانس کے شہر پیرس میں ، ایک جریدے “ چالی ایبدو” کے دفتر پر ہونے والے حملے اور اس میں مارے جانے والے بارہ افراد کے متعلق بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ
یہ ایک ظالمانہ کام ہوا ہے  ۔
غیر مسلم ممالک میں پناھ گزین مسلمان بھی   اپنے محافظ ممالک کے لوگوں کی ہمدریاں سمیٹنے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
اسلام  قتل کے خلاف ہے ، کوئی مسلمان ایسا کر ہی نہیں سکتا ۔
منافقت !!۔
منافقت کر رہے ہیں ۔
میں منافق نہیں ہوں سیدھی اور کھری بات کروں گا ۔

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
یہ الفاظ سننے میں بڑے پیارے لگتے ہیں ۔
لیکن آزادی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
جاپان کے معاشرے میں جہاں میں پناھ گزین ہوں ، یہ آزادی ہے ، حقیقی آزادی ، اور اس آزادی کے بھی کچھ اصول ہیں ۔
مثلاً ، اپ کے دونوں ہاتھ آزاد ہیں ،۔ جہاں تک چاہیں پھیلا سکتے ہیں
لیکن
دوسرے کی ناک یا گریبان کے حدود سے اِدھر تک !!۔
آپ کی آزادی کی حدود دوسرے کی انسانوں کی حدود میں داخل ہونے کا نام نہیں اگر اپ دوسروں کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو دوسروں کی آزادی پر حرف آتا ہے ۔
بات کرنے میں بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
نظریات پر تنقید کریں ،واقعات پر بھی تنقید کریں کہ واقعات جذبات پر اثر کرتے ہیں اچھا یا برا ، خوشی کا یا دکھ کا !۔
لیکن شخصیات پر بات کرتے ہوئے خیال رہنا چاہئے کہ کہیں کسی کی تذلیل نہ کریں ،۔
کسی کو گالی نہ دیں ۔
یا پھر اگر گالی دینی ہی ہے تو اپ کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ اپ کسی کو دشمن ڈکلئیر کر کے اس کے غصے کو ابھار رہے ہیں ۔
یہ تو کسی کی ماں بہن یا باپ کی گالی تک کا معاملہ ہے ۔
جب  کوئی اللہ کے رسول ﷺ کو گالی دیتا ہے
تو
اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ، اسلام زمین پر پہلا مذہب ہے جو کچھ حدود کے بعد لڑائی کو فرض کردیتا ہے ۔
اللہ کے رسولﷺ کی انلسٹ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

فرانس کے اس جریدے “ چارلی ایبدو” نے جو گالی دی تھی ،اس کے ردعمل میں جن کے جذبات کی توہیں ہوئی تھی انہوں نے اس گالی کا بدلہ لے لیا ۔
فرانس نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے جرم میں ان لوگوں کو قتل کردیا ۔
اب اگر فرانس یہ چاہتا ہے کہ ہم بدلہ لینے والوں کی مذمت کریں تو ؟
“ دیزولے” ( سوری) میں اس کی کبھی بھی مذمت نہیں کروں گا ۔
بدلہ لینے والوں کے جذبات مجروع کئے گئے تھے ۔
دوسروں پر تحقیر کرنے والے لوگوں کو اس بات کااحساس ہونا چاہئے کہ ،ان کے عمل کا ردعمل بھی ہو گا ، جس کی شدت کا بھی ادراک ہونا چاہئے ۔
بدلے کے لئے حملہ کرنے والے ان جوانوں کے حلمے سے پہلے دنیا کے کتنے ہی شہروں میں کتنے ہی لوگوں نے مظاہرے کر کر کے اپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ ،چارلی ایبدو والوں نے ایک معیوب کام کیا ہے
اس کی معافی مانگیں لیکن اپ لوگوں نے

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
کے نام پر لوگوں کے جذبات کا مذاق اڑایا تھا ۔