جمعہ، 8 اگست، 2014

گریس ہوٹل بنکاک

آتش بھی کہیں جوان ہی ہو گا ،
لیکن آتش ضرور جوان تھی ، جذبوں کی امنگوں کی  کچھ کرنے کی  یا کہ کر گزرنے کی  ۔
لیکن پیسے اپنے اپنے گھر کے حلات کے مطابق تھے لیکن تھے سب کے  پاس کم ہی ۔
کچھ لوگ ایجینٹ افورڈ کر سکتے تھے  ، جاپان جانے کے لئے اور کچھ خود کو سیانے سمجھنے والے براستہ تھائی لینڈ  خود ہی جاپان پہنچنے کے لئے یہاں ڈیرے ڈالے بیٹھے تھے ۔
ڈی پورٹ ہو کر ، دوبارہ ٹرائی کرنے اور کروائے جانے کی امید میں یہاں بنکاک کے جنرل پوسٹ آفس ( پسنی کان) کے اردگرد کے مکانوں ہوٹلوں میں بسے ہوئے تھے ۔
ہوٹلوں میں محفلوں میں جاپان کی انٹری کی تکنیکوں پر بحژیں ہوتی تھیں ، اپنے اپنے ایجنٹ کی سیانفوں کی باتیں ، کسی کے لٹے جانے کی کہانیاں لذت لے لے کر اس تسکین کے لئے کہی جاتی تھیں کہ
میں بچ گیا !!!۔
کچھ وہ بھی تھے جو شراب پی کر اپنی کوالٹی بتا رہے ہوتے تھے کہ
مینوں نشہ نئیں ہوندا!۔
اور دلیلیں ساری ایسی کہ نشہ ہر حرکت سے عیاں ۔
اپنی اپنی ریزرو کنجری کو گرل فرینڈ کا نام ہوتا تھا ۔
ایک بٹ صاحب کی گرل فرینڈ جب آتی تھی تو
دروازے کی چوکھٹ پر کونی ٹکا کر  پنجابی کہتی تھی ۔
بٹ صاحب ! آؤ ناں میری ۔ ۔ ۔  مارو!!!۔
اور بٹ صاحب بڑے فخر سے دوستوں کے چہرے دیکھتے اور بتایا کرتے تھے ،۔
اینہوں پنجابی سکھائی ہوئی اے ۔
سوکمیتھ روڈ کے سوئے نانا ( سات نمبر گلی) کے کلبوں سے لڑکی کے مغالطے میں خسرا لے کر کمرے میں پہنچنے والے کی خجالت اگلے دن دیکھنے والی ہو تی تھی ۔
جب دوست پوچھتے تھے ۔
اوئے کردا کی رہیاں ایں ساری رات ؟
ساتھ میں کوئی لقمہ دیتا تھا ۔
اوئے اینے کی کرنا سی “ اوہ” ای کچھ کردا رہا ہوئے گا ۔
شریف گھرانوں میں پلے بڑھے زندگی میں پہلی بار باہر نکلے ہوئے زیادہ تر لوگوں کے لئے عورت ایک اسرار تھا ، جو یہاں عیاں ہونے کے قریب تھا ۔
ہر ہر بندے نے یہاں اس اسرار  کو پانے کی بساط بھر کوشش کی ہے ۔
پاکستان کی ایمبیسی کے قریب گریس ہوٹل ہی وہ ہوٹل تھا جہاں “ڈسکو “ بھی تھا ۔
دوسرے ڈسکو بھی ہون گے لیکن داخلے کی فیس ادا کرنے کی بساط نہ رکھنے والے گلیوں میں پھرنے کی بجائے گریس کو ترجیع دیا کرتے تھے کہ ہوٹل کی لابی میں بیٹھے یا گھومتے دیکھ کر کوئی یہ ہی سمجھے گا کہ یہاں کسی کمرے کا کرایہ دار ہے ۔
بڑی رونقیں ہوتی تھیں ہہاں ، گریس میں ، یہاں لابی کے صوفوں پر بیٹھے ہوئے نوجوان دلوں میں جاپان کی کمائی کے ارمان لئے ، گرسنہ نگاہوں سے کنجریوں کو تاڑ رہے ہوتے تھے،۔
اور بنکاک کی جسم فرشی کی تاریخ میں “ان” لوگوں نے بھی پہلی بار ایسے لوگ دیکھے تھے جو مال کو دیکھتے ہی رہتے تھے ، اگے بڑھ کر بات کرنے کی ہمت   نہیں کرتے تھے ۔
اگر کسی لڑکی نے ہی بڑھ کر بات شروع کر لی تو ، دائیں بائیں دیکھنے لگتے تھے اور چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی تھیں
کہ
ہن کی کرئیے؟
ایجنٹوں کی کوشش ہوتی تھی کہ منڈے کو کسی نہ کسی کے ساتھ کچھ کروا دیں تاکہ اگر منڈا جاپان نہ پہنچا تو یم از کم اس کی رقم تو واپس نہ کنا پڑے ۔
کہ اگر منڈے نے رقم کی واپسی کا تقاضا کیا بھی تو اس کو بتایا گیا کہ
دساں تینوں ؟ پیسے کتھے گئے ؟اوئے گریس وی تے توں ای جاندا ہوندا سیں ناں ؟

جمعہ، 25 جولائی، 2014

مسلمان بنو! انتہا پسند نہیں

ہمارے یہاں ، پرانوں سے ایک تہوار ہوا کرتا تھا ، لوڑی ( لوہی) ! اسلام کے انے کے بعد بھی ہند میں ، ہمارے بڑے بزرگ یہ تہوار مانتے رہے ہیں ، کیونکہ یہ تہوار کسی غیر اللہ کے نام سے نہ تو وابسطہ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی مشرکانہ بات تھی ۔ اسی تہوار کو ہالوین کہہ کر امریکیوں نے بھی اپنایا ! ۔
جس میں لڑکے بھالے جانور کا بہروپ بھر کر ناچتے گاتے مختلف گھروں جاتے ہیں اور وہاں سے ان کو میٹھی چیزیں ملتی ہیں  ۔
پاکستان بننے کے بعد بھی یہ تہوار منایا جاتا رہا ہے ۔
پھر؟ وقت بدلا ! بقول شخصے ، چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
پاکستان میں سرمے والی سرکار نے مودودی کا سلام "نازل" کر دیا ۔
ہر معاشرتی ایکٹویٹی بدعت اور ہندوانہ چیز بن کے رہ گئی ۔
کلاشنکوف مومن کا زیور ہوا ، منافقت مومن کی فراست قرار پائی ۔
ہر طرف اسلام اسلام ہوا ۔
اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ
اسلام کے قلعے میں  بھی اسلام خطرے میں ہے ۔
اللہ بچائے ۔ پاکستان میں تفرقہ کی انتہا ہے ۔
اور ہر تفرقے باز کو اپنی اپنی شرارت  “ عین اسلام “ لگتی ہے اور دلیل اس بھی “اسی رائیٹر کی کتاب “ سے ملتی ہے جس کتاب سے اس کے مخالف تفرقے باز نے لی ہوتی ہے  ۔
ہندو کی مخالفت ۔ “ان” کی لگژری کی ضمانت ہے ۔
اور “ان” کے مذہبی ونگ والے اس مخالفت میں اتنے اگے چلے گئے ہیں کہ
پنجابی کے محاورے
گرو جنہاں دے ٹپنے
چیلے جان شڑپ
ہر علاقائی روایت کو رسم کو  “ ہندوانہ” کہہ کر مخالفت کرنے والے مذہبی لوگوں “فکر” کرنے کا ٹائم ہی نہیں ہے ۔
عربوں کے پیسے سے ہر چیز کو عربی ہی کرتے چلے جا رہے ہیں
میں نے پنجاب میں دیہاتی عورتوں سے سنا ہے
ہائے ہائے ! نی عربی لوک ، ۔
نی او تے اپنیاں دھیاں نو ویچ دے نی ۔
جیہڑا بہتے پیسے دے ، اپنی دھی دا ویاہ اوس نال کردے نی۔
ہند کی شادی بیاھ کی رسموں کے پیچھے صدیوں کا تجربہ ہے کہ
لڑکے لڑکی کو اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ تم لوگ ایک بہت ہی اہم رشتے میں بندھنے والے ہو۔
یہ رشتہ تم دو افراد کا نہیں ہو گا ، بلکہ دو خاندانوں کا ہو گا ،۔ یہ ڈھولک پر کئی ہفتے ۔ ماہیے ، ٹپے ، لوگ گیت کانے والی برادری کی خواتین  ، اور شادی بہاھ کے کام کرنے ولاے “ لاگی” لوگوں کے اس کام کو مٹی میں نہیں ملانا ، صلح سلوک سے رہنا ہے ، اس رشتے کو توڑ نہیں دینا ہے ْ
۔

پاکستانیوں  نے اپنا اپنا اسلام پال رکھا ہے
اسلام نہ ہوا بٹیرا ہو گیا
جس طرح شوقین لوگ بٹیرے لڑایا کرتے تھے
پاک لوگ اپنا اپنا سلام لڑاتے ہیں ۔
بٹیرے والے کہا کرتے تھے
میرا بٹیرا پنجا مار کر دھرتی ہلا دیتا ہے  ۔
بٹیرے کا پنجا کیا اور بٹیرے کی اوقات کیا!۔

جمعہ، 11 جولائی، 2014

کمہار

کمہار کو پنجاب میں اکثر گھمیار بهی کہا جاتا هے ـ
 یه کوزه گر اور اینٹیں پکانے والا هے ـ
 حصار اور سرسا میں اس کی کافی تعداد ملی ـ وهاں اوردامن کوه اور وسطی اضلاح میں وه اکثر کاشتکار هے ـ
زیریں دریائے سنده پر ان کی کچھ تعداد نے آپنا اندراج بطور جٹ کرایا ـ
 کمہار رواجی معاوضه لے کرخدمات سر انجام دینے والا حقیقی خدمت گذار ہے جن کے بدلے میں کمہار گھریلو استعمال کے لئیے مٹی کے تمام برتن اور (جہاں رہٹ استعمال هوتا هے)مٹی کی ٹنڈیں بهی فراہم کرتا ہے ـ
پنجاب کي ذاتوں میں صرف کمہارہی گدهے پالتا ہےاور گاؤں کي حدود میں اناج کی نقل حمل کرنا اور اس کے بدلے میں اپنے موّکلوں سےدیگر اشیاء مثلاَ بیج یا کهانا لے کر آنا اس کا کاروبار هے ـ لیکن کمہار اناج گاؤں کے باہربلا معاوضه لے کر نہیں جاتا ـ گاؤں اور قصبات میں کمہار چهوٹا موٹا حمال هے ـ
 بعد میں وه مٹی کهاد کوئله اور اینٹیں بهی لادنے اور لے کر جانے کا کام کرنے لگا ـ
 اس کا مذہب علاقے کاغالب مذہب هی نظر آتا هے ـ کمہار کی سماجی حثیت بہت پست ہےهی ـ کیونکه گدهے جیسے ناپاک جانور کے ساتھ اس کا موروثی تعلق اس کو بهی آلوده کر دیتا هےـ گدها چیچک کی دیوی سیتلا کا مقدس جانور ہے ـ
اس طرح کهاد اور کوڑا کرکٹ لے جانے پر اس کی آمادگی بهی اس کم حثیت بنانے کا سبب ہے ـ
وه پنجاب کا خشت ساز بهی ہے کیونکه صرف وهی بھٹوں کا کام سمجهتا هے ـ
کوزے اور اینٹیں پکانے کے لئے بطور ایندهن جلانے میں کوڑاکرکٹ استعمال هونے کی وجه سے اس کا تعلق غلاظت سے بهی هو گیا هے ـ  مجهے یقین ہے که کمہار سانچے والی اینٹیں بهی بناتا هے لیکن سوکهی مٹی سے گاؤں میں تیار کی جانے والي عام اینٹیں عموماَقلی یا چمار بناتا ہے ـ
 کوزه گر بهی کہا جاتا هے ـ(Kiln burner)کمہار کو پزاواگر اور موخرالذکر اصطلاح کا استعمال عام طور پر صرف ان کے لئیے ہوتا ہےجو نہایت عمده قسم کے برتن بناتے هیں ـ
 سرحد پر کمہار گلگو نظر آتا هے ـ ہندو اور مسلمان کمہار دونوں پائے جاتے هیں ـ ہندو کمہار کو پرجا پتی یعنی خالق دیوتا بهی کہاجاتا ہے ـ کیونکه کمہار مٹی سے چیزیں تخلیق کرتا هے ـ
 نابها میں کمہار برہما کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے هیں ـ
ہندی کی ایک روایت
 رام ذات کا رانگڑ ، کرشن ایک آهیر ،برہما ایک کمہار اور شیو ایک فقیر ـ
 کہانی یوں هے که
 ایک مرتبی برهما نے آپنے بیٹوں میں کچھ گنے تقسیم کئے ـ
 کمہار کے سوا سب نے آپنے آپنے حصے کا گنّا کها لیا ،لیکن کمہار نے اسے ایک مٹی بهرے برتن میں لگا کر پانی دیا جس نے جڑ پکڑ لی ـ
کچھ ریز بعدبرهما نے بیٹوں سے کنّے بارے پوچها تو صرف کمہار هي اسے گنّا دینے کے قابل هو سکا ـ
 تب برهما نے خوش هو کر کمہار کو پرجا پتی یعنی دنیا کی شان کا لقب دیا ـ
 لیکن برهما کے دیگر ٩ بیٹوں کو بهی خطابات ملے ـ ایک روایت بهگت کُبا کو کمہاروں کا جدامجد بتاتی هے ـ دہلی کے کمہار سبهی دیوتاؤں اور اولیاء کی عبادت کرتے هیں ـ وه شادیوں کے موقع پربهی پیروں کو کچھ نذر کرتے هیں ـ
 ڈیره غازی خان کے کمہار ،جوسب کے سب مسلمان هیں ،تونسه پیر کو مانتے هیں ـ لاہور کے کمہار ہولی کا تہوار دیگر ذاتوں هي کي طرح دهوم دهام سے مناتےهیں ـ مسلمان کمہاروں کے دو علاقائی گروپ بهی هیں جنڈ نابها اور ملیر کوٹله میں دیسي اور ملتانی ـ دیسی عورتیں سیتلا کو مانتی هیں لیکن ملتانی عورتیں نہیں ـ
 گورداس پور میں پنجابی اور کشمیری کمہار ، سیالکوٹ اور گجرات میں کشمیری اور دیسی کمہار هیں ـ مسلمان کمہاروں کے کوئی ذیاده اهم پیشه ورانه گروپ نہیں هیں ، ماسوائے گجرات کے کلالوں کے جو پیشے کے اعتبار سے گانے ناچنے والے هیں اور کمہاروں کي شادیوں پر خدمات انجام دیتے هیں ـ
 آگرچه دیگر کمہار انہیں به نظر حقارت دیکهتے هیں ،مگر انہیں آپني بیٹیوں کے رشتے بهی دے دیتے هیں ـ میانوالی کے کمہار برتن سازی کے ساتھ ساتھ کاشت کاری بهی کرتے هیں،اور چند ایک کوّیے اور زمیندار قبیلوں کے مغنی بهی هیں ـ
 لیّه کے کمہار جلال باقری کی نسل سے هونے کا دعوی کرتے هیں ـ گوجرانواله میں کمہار پیغمبر دانی ایل پر یقین اور کام شروع کرنے سے پہلے اسی کا نام لیتے هیں ـ
لباس کے حوالے سے بهی مختلف علاقوں کے کمہاروں میں فرق پایا جاتا ہے ـ
 کانگڑا میں ہندو دیسی کمہار عورتیں سونے کی نتهلی پہنتی هیں ـ مالیر کوٹله میں مسلمان ملتانی کمہار عورتیں آپنے پاجاموں کے اُوپرایک لمبا چولا زیب تن کرتی هیں جو کمر تک آتا هے ـ ملتان میں همدو اترادهی خواتین ناک میں نتھ پہننے کی عادی هیں ـ مسلمان ذیاده تر ملتانی کمہار عورتیں ساری ذندگی پیراہن یا چولا پہنتی هیں ـ میانوالی تحصیل میں لڑکیاں شادی کے بعد چولا پہنتی هیں ـ
موجودہ دور میں کمیار قوم نے بہت ترقی کی ہیں خاص طور پر پنجاب کے ضلع لاہور میں انکی کافی تعداد پائی جاتی ہے اور کاروباری پیشہ سے منسلک ہیں

بدھ، 9 جولائی، 2014

کفر

جاپانی لوگ بڑے خود دار ہوتے ہیں ۔
اس لئے نہیں کہ ان کے ملک کے اقتصادی حالات بہتر ہیں ۔
بلکہ اس لئے کہ ان کی خود اداری نے ان کے حالات بھی بہتر کر دئیے ہیں ۔
اپ کسی جاپانی کو کوئی چیز مفت میں دینے کی کوشش کریں تو ، وہ قبول نہیں کرئے گا
یا پھر اس کی قیمت ادا کر کے چھوڑے گا ،
یا ہھر اگر اپ کا نزدیکی دوست ہے تو چیز لے کر اس کے متبادل اپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرئے گا ۔
میں خود بھی ایک خود دار انسان ہوں ۔
اگر کوئی سخی بندہ ایسے ہی مجھے کہیں کھڑا کر کے رقم نکال کر کہے کہ “ رکھ لو” ! تو میرے لئے شرم کا مقام ہے کہ اس نے مجھے سمجھا کیا؟ بھکاری !۔
کیوں ؟ میں کیوں رکھ لوں ؟ ایک ایسی رقم یا چیز جو کہ میری نہیں ہے جو میری کوشش سے یا محنت سے حاصل نہیں ہوئی ہے  ۔
یہ نہیں کہ جاپان میں لوگ مجبور نہیں ہو جاتے ۔ مجبوریاں انسان  کے مقدر میں ہیں ، کوئی بھی انسان مجبور ہو سکتا ہے  ۔
لیکن جاپانی بھیک نہیں مانگتے ۔
کاروبار میں نقصان کر کے گھر سے بے گھر ہوجانے والا ایک ہوم لیس ، بھی کہیں کسی پارک میں پڑ کر سو رہتا ہے اور وقت کے وقت اپنے مخصوص کردہ ریسٹورینٹ کے پچھلے دروازے پر دستک دیتا ہے ۔
ریسٹورینٹ سے کوئی بندہ نکلتا ہے جو کہ اس ہوم لیس سے انکھیں بھی نہیں ملاتا کہ کہیں ہوم لیس کو شرمندی نہ ہو ، اور اس کو کھانے کا پیکٹ پکڑا دیتا ہے  ۔
پاکستان میں بھکاری کلچر کچھ اس طرح کا ہماری رگوں تک میں بس چکا ہے کہ جو جتنا بڑا بھکاری ہے وہ اتنا بڑا لیڈر ہے ۔
بھیک اکٹھی کر کے ایک ہسپتال بنا لیتا ہے  ۔
اور پھر اپنے اس ہسپتال کے سامنے چھوٹے بھکاریوں کی لائینیں لگی دیکھ کر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے  ۔
بھیک مانگ کر لنگر کھول دیتا ہے
اور پھر جھولیاں پھلائے  کھانے کے لئے دھکم پیل کرتے کیڑے مکوڑوں کو دیکھ  نفس  کا حجم بڑھاتا ہے ۔
پھر کیا ہونا چاہئے؟
ہونا یہ چاہئے کہ قوم میں انا اور خود داری کی خو پیدا کرنی چاہئے ۔
ہر بندہ اپنے پیسے سے کھانا کھائے اور اپنے پیسے سے اپنا علاج کروائے ۔
جس کے لئے بیمے ہوتے ہیں انشورنس ہوتی ہیں ۔
لیکن انشورنس اور بیمے کو فراڈ کے طور پر اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر بندے کی یہ سوچ ہے کہ
پاکستان میں یہ نظام چل ہی نہیں سکتا ۔
خرابی در خرابی ، نقص در نقص ، بیماری در بیماری ۔ مغالطےاور مبالغے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ
یقین کریں
میں پاکستان سے مایوس ہو چکا ہوں ۔
اللہ مجھے اس کفر سے بچائے کہ
مایوسی کفر  ہوتی ہے

جمعہ، 4 جولائی، 2014

پاک بول چال اور پاک ٹیلنٹ


سکول میں ٹیچر نے بچوں سے کہا کہ
کل کلاس کا گروپ فوٹو ہو گا ، اس لئے سب بچے پچاس پچاس روپے لے کر آئیں ۔
اور اچھے سے کپڑے پہن کر انا ہے ۔
چلو اب چھٹی ۔
سکول سے باہر آ کر ، گاما ، اچھو سے کہتا ہے ۔
یار یہ سب مادر چود سکول ٹیچروں کی  چالاکی ہے ۔
ایک فوٹو کے باہر بیس روپے لگتے ہیں ،اور یہ ہم سے پچاس پچاس منگوا رہے ہیں ۔
مطلب یہ کہ ایک بچے سے کوئی تیس تیس روپے بچائیں گے ۔
یعنی کہ ایک کلاس سے کوئی اٹھارہ سو اور پورے سکول سے کوئی دس ہزار روپے !!!۔
ان بہن چودوں نے کھلی لوٹ مچا کر رکھ دی ہے ۔
اچھو نے لقمہ دیا ، ہاں ہاں یہ سارا کمیشن کا چکر ہے ، ہیڈ ماسٹر  بہن چود کی کمیشن کا !۔
گاما ٖغصے سے کہتا ہے
اور بعد میں یہ یہ ماں کے لوڑے سٹاف روم میں بیٹھ کر سموسےکھائیں گے ، اور ہمیں لن ملے گا ۔
اچھو گامے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے کہتا ہے
چل چھڈ یار ماں کو چود ، ہیڈ ماسٹر کی ، گھر چل کر ماں سے پیسے مانگتے ہیں ۔
ہر دو ، گامے اور اچھو نے گھر جا کر اپنی اپنی ماں سے کہا
کل سکول میں گروپ فوٹو ہے !۔
ماسٹر نے سو سو روپے لانے کو کہا ہے !!!۔

.
.
گامے کی ماں ، اسی دن سعودیہ فون کر کے اپنے خاوند کو بتاتی ہے ۔
یہاں مہنگائی بہت ہو گئی ہے ۔
ماسٹر حرام زادے نے گروپ فوٹو کے دو دو سو روپے منگوائے ہیں ۔
تمہاری کمائی میں جس تنگی ترشی سے میں گزارا کر رہی ہوں یہ میں ہی جانتی ہوں یا میرا رب ۔

منگل، 1 جولائی، 2014

یادیں اور کمہار گھیری


بھٹی بھنگو روڈ سے ہمارے گھر کی طرف مڑیں تو ، سیدہے (دائیں ) ہاتھ پر خراس ہوا کرتا تھا ، بلکل ہمارے گھر کے سامنے ۔
خراس آٹا پیسنے کی اس چکی کو کہتے تھے جو بیلوں کی جوڑی کے ساتھ چلتا ہے ۔
پانچ دہائیاں پہلے عام گھروں میں ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکیاں ہوا کرتی تھیں  ۔
لیکن بڑے قصبوں کے مستری لوگ خراس بھی لگا کر دیتے تھے   ، آٹا پیسنے کے خواہشمند اپنی گندم اور اپنے بیل لے کر آ جاتے تھے ۔ اور خراس والے کو بھاڑے کی  مد میں اناج یا آٹا دیا جاتا تھا ۔
ہماری معاشرت کے اچھے دن تھے ، کہ جب کوئی زمنیدار اپنے بیل خراس میں جوتتا تھا تو
عام گھروں کے لوگ بھی اپنی گندم لے کر آ جاتے تھے کہ ساتھ ہی پس جائے گی ۔
ہمارے ہوش سنبھالنے تک خراس کے ساتھ ہی مستری شفیع  جن کو میاں جی کہتے تھے انہوں نے بجلی سے چلنے والی چکی لگا لی تھی ۔ اور خراس پر ہم بچے لوگ کھلا کرتے تھے ۔ یا کہ جہاں تک میری یادیں ساتھ دیتی ہیں کوئی ایک دو بار ، بھرو والئے  جاٹوں کو اپنے  بیلوں کے ساتھ آٹا پیستے ہوا دیکھا ہے ۔
یہاں خراس پر کھیلتے ہوئے مجھے ایک دفعہ بھڑوں نے کاٹا تھا ، کاٹتی کیوں ناں کہ میں نے بھی تو اندھیرے میں بھڑوں کی کھکھر کو کوئی لاٹو نما سوئچ سمجھ کر مٹھی میں بھینچ ہی لیا تھا !۔
میاں شفیع کی کی مشین جو کہ بعد میں میرے دادا نے خرید لی تھی اس کے سامنے ہی  اور میرے گھر سے جڑی ہوئی  احمدیوں کی مسیت ہے ۔
احمدیوں کی مسیت اور قصبے کے ہائی سکول کے درمیاں لوہاروں کے تین گھر ہیں ۔
سکول کے ساتھ جڑے ہوئے گھر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اردو کے مشہور اور محمور شاعر
عبدالحمید  عدؔم  اس گھر کے رہائیشی تھے ۔
لوہاروں کے گھروں کے سامنے روڑی ہوا کرتی تھی 
جس کو باجوہ صاحب سے خرید کر میرے دادا محمد اسماعیل صاحب کے  میرے چاچاؤں کے لئے گھر بنائے ، ۔
روڑی کے اگے اور سکول کے سامنے کی جگہ کو ہم کھتے کہا کرتے تھے
کھتے بمعنی چھوٹے کھیت !۔
کھتوں کے جنوب اور مشرق میں ڈسپنسری ہوا کرتی تھی ۔
ڈسپنسری سے جڑے ہوئے دو کھتے  یوسی ( محمد یوسف لوہار) کے ابا جی کے تھے اور سکول کے سامنے وال کھتا  چوہدری رحمت کا تھا
چوہدری رحمت اور یوسی کے خاندان کے کھتوں کے درمیان درختوں کی ایک دیوار بنی ہوئی تھی جو کہ انگریزی کے لفظ ایل کی طرح کی تھی ۔
یوسی میرا وہ دوست ہے کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اس کو اپنے ساتھ پایا ۔
میری یادیں جہان تک میرا ساتھ دیتی ہیں ۔
میں سکول میں ٹاٹ پر یا کہ گھر سے لائی ہو بوری پر اس کو ہمیشہ اپنے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھتا ہوں ۔
ڈسپنسری کی عمارت کی جنوبی طرف والی چاردیواری ، جو کہ پسرور روڈ کے ساتھ ملتی تھی اور جہاں ڈسپنسری کا مین گیٹ تھا ۔
یہاں ایک پیلو کا درخت ہوا کرتا تھا ۔
سرخ رنگ کی پیلو جب پک کر تیات ہو جاتی تھی تو میٹھی لگتی تھیں ۔
لیکن مجھے کبھی بھی لذیذ نہیں لگیں ، بس میٹھی لگتی تھیں ۔
اس پیلو کے درخت کے نیچے میں نے پہلی بار “کمہار گھیری” ( کمہار کی شکار گاہ ) دیکھی تھی ۔


لمبڑو ،  جو کہ ہم سے بڑی عمر کا تھا اور مھؒے کے لڑکوں کا رنگ لیڈر سا تھا  اس کے ساتھ یہاں کھیلتے ہوئے اس نے زمین پر بنے ہوئے “ کھتھی “ نما ان سوراخوں کے متعلق بتایا کہ  ان کو کمہار گھیری کہتے ہیں ۔ اس  سوراخ کی تہہ میں ایک کیڑا چھپا بیٹھا ہوتا ہے ، جس کو کمہار کہتے ہیں ۔
اگر اس سوراخ میں  چیونٹی کو ڈالیں تو مٹی کے نیچے سے نکل کر کمہار اس کیڑی کو کھا جاتا ہے ۔
اسی وقت لمبڑو نے ایک کیڑی کو پکڑ کر اس سوراخ میں ڈالا اور گانے لگا “ کمہارا ، کمہارا ، کیڑی تیرے پانڈے پن گئی آ “
کمہار او کمہار چیونٹی تمہارے برتن توڑ رہے ہے ۔
لمبڑو کا گانا سنتے ہیں زمین سے ایک کیڑے کی ٹانگیں نکلیں اور چیونٹی کو لے کر زمین میں چھپ گئیں ۔
لمبڑو نے ریت میں اس سوراخ کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر سوراخ کو الٹ دیا
اور ہم نے دیکھا کہ ایک پیلے سے رنگ کا مکڑی نما کیڑا ۔ وہاں پڑا تھا ۔
لمبڑو نے کہا دیکھنا دیکھنا یہ کیڑا جس کو کمہار کہتے ہیں ، جب چلے کا تو الٹی طرف چلے گا ۔
اس کیڑے کی ساخت ہی ایسی ہے کہ لگتا ہے کہ  منہ کی سیدھ کی بجائے پیٹھ کی سیدھ میں چل رہا ہے ۔
وقت گزرنے پر علم ہوا کہ یہ کیڑا اپنے گھر بناتا ہی وہاں ہے جہاں چیونٹیوں کی بہتات ہوتی ہے ۔

جاپانی میں اس کیڑے کے گھر کو “آری نو جی کوک” کہتے ہیں ۔
جس کے معنی ہیں ،۔ چیونٹی کا جہنم ۔
اس سوراخ کی ریتلی ساخت ہی اس طرح کی ہوتی ہے کہ اگر کوئی  چیونٹی اس سوراخ میں گر جائے تو  نکل نہیں سکتی ۔ ریت ، پھسل پھسل کر چیونٹی کو باہر نہیں نکلنے دیتی اور اس دوران وہ کیڑا نکل کر چیونٹی کو دبوچ لیتا ہے ۔
چند دن پہلے میں نے یہاں  جاپان میں اپنے یارڈ  میں ایک درخت کے نیچے کمہار کے کگر والے سوراخ دیکھے  تو ان کی تصاویر بناے لگا۔
تنزانیہ سے آئے ہوئے سلیم نامی کالے نے دیکھا تو کہنے لگا کہ سواحلی میں اس کو کیا کہتے ہیں یاد نہیں لیکن ، اگر اس سوراخ کو پلٹ دیں تو ایک کیڑا نکلتا ہے جو کہ پیٹھ کی سیدھ میں چلتا ہے ۔
مں نے اس کو بتایا کہ ہاں مجھے بھی اس بات کا علم ہے
اور یہ چیزیں میری بچپن کی یادوں میں در آتی ہیں ۔
اسی لئے میں اس سوراخ کی فوٹو لے کر اور ویڈیو بنا کر اپنے بلاگ پر لگانا چاہتا ہوں
تاکہ میرے وطن کی نئی نسل کو بھی علم ہو کہ ایسی چیزیں بھی گاؤں دیہات میں پائی جاتی ہیں  ۔

اس ویڈیو میں اپ ایک چیونٹی کو کمہار گھیری میں گرتے اور کیڑے کا شکار ہوتے دیکھ سکتے ہیں ۔

ہفتہ، 21 جون، 2014

حالات حاضرہ


مولوی طاہر نے اپنا سیکرٹریٹ بنایا ہوا ہے ۔ جس کے سامنے اپنا وجہکا بنانے کے لئے بیرئیر کھڑے کئے ہوئے ہیں ۔
جس طرح شہباز شریف کو ناجائیز تجاوزات ہٹانے کا دورہ پڑتا رہتا ہے ۔ اسی طرح اس روٹین کے دورے میں ، مولوی کی تجاوزات بھی زد میں آ گئیں ۔
جب عملہ ان تجاوزات کو ہٹانے کے لئے گیا تو مولوی صاحب نے اپنے امتیوں کو لڑنے مرنے اور اپنی وفاداری کا یقین دلانے کا ثبوت مانگ لیا ۔
جوشیلے امتیوں  نے "ایٹاں ،وٹے" مارنے شروع کر دئے ۔
غیر تربیت یافتہ اور احمق پولیس جن کو ایسے معاملے ایٹند کرنے کا ڈھنگ ہی نہیں آیا ! پولیس بھوتر گئی۔
مولوی طاہر جو کہ خود بھی اتفاق فونڈری کے ڈھلے ہوئے  ، موجودہ زمانے کے مرزا غلام احمد ہیں ۔
جہاد کی کینسلیشن  کی کوشش میں خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لئے ، کچھ لاشوں کے ضرورت مند تھے ۔
ان کو اپنی سیاست کے لئے لاشیں مہیا کر دی گئیں ہیں ۔
اب مولوی صاحب اور ان کے امتی ، شریفین کو "کوسنے " دیتے رہیں گے ۔
اور شریفین کے مریدین ، مولوی کے امتیوں کو طعنے طنز کرتے رہیں گے ۔
باقی کی قوم کی :بغل " میں "بٹ " دے دیا گیا ہے ۔ْ
“بٹ “ تو سمجھتے ہیں ہیں ناں جی آپ ؟
بندوق کی پیٹھ کو کیا کہتے ہیں ؟
بٹ !!۔
ہاں وہی بٹ !  جرنل ضیاء کی  بندوق کا “بٹ “  شریفین !!۔
یہاں سے اپ انگریزی کے “بٹ” کے معنی انجوائے کریں ۔
http://khawarking.blogspot.jp/2007/06/blog-post_11.html
اور اگر پاکستان میں ہیں تو اپنی اپنی بٹ کی حفاظت کا خود انتظام کریں ۔

بدھ، 21 مئی، 2014

نالج اور فن

ویت نامی سے سائیکلوں کا سودا کیا تھا  ،سائیکل اٹھانے کے لئے گئے ، یہ سائیکل افریقہ کو بھیجنے ہیں ۔
جب ہم سائیکل ٹرک پر لادھ چکے تو ،اسی وقت دو جیٹل مین لباس میں جاپانی ، سامنے والی لانڈری کی پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے ویت نامی کے یارڈ پر آ گئے ۔
میں نے ویت نامی کو رقم دی اور اس کو کہا کہ رسید بنا کر بقایا رقم دو۔
دونوں جاپانیوں نے اسی دوران ویت نامی کو گاڑی کے نمبروں کی تصویورں والے کاغذ دیکھا کر ، غیر قانونی پارکنگ کے جرمانے کا تقاضا شروع کر دیا ۔
ویت نامی نے حیرانی کا اظہار کیا کہ مجھے آپ لوگوں نے کوئی خط وغیرہ یا کہ جرمانے کا بل نہیں بھیجا اس لئے میں ادا نہیں کر سکا
لیکن حکومتی لوگوں نے اس کو بتایا کہ ہم ، چھ دفعہ تم کو خط لکھ چکے ہیں ۔
ایک جاپانی ویت نامی کے دفتر میں اس سے رقم وصولنے لگا تو
دوسرے سے میں نے پوچھا کہ
آپ لوگ کس محکمے کے ہو؟
تو اس نے پولیس والی آئی ڈی نکال کر دیکھائی کہ ایک طرح سے میں ہوں تو پولیس والا لیکن میرا شعبہ جرمانے وصول کرنے کا ہے ۔
اس ویت نامی نے وہاں میتو شہر میں ایک جگہ “نو پارکنگ” والی جگہ میں گاڑی کھڑی کی تھی ، ہم اس کے جرمانے کی وصولی کے لئے آئے ہیں ۔

اس نے بتایا کہ جاپان میں پولیس مین ، رقم کے لین دین کا معاملہ نہیں کر سکتا ، ڈیوٹی کے دوران پولیس والے کا رقم کو ہاتھ لگانا غیر قانونی کام ہے ۔
لیکن ایک مخصوص شعبے کے لوگوں کو ہمارے گورنر نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ رقم  کی وصولی کا کام کر سکتے ہیں ، جن میں سے ایک میں بھی ہوں ۔
میں ابھی اس بات پر ہی غور کر رہا تھا کہ جاپانیوں نے کرپشن  سے پاک معاشرے کے لئے کیسی دانشمندی سے اصول وضع کئے ہوئے ہیں ۔
کہ
وصولی والا بندھ وصولی کر کے واپس آ گیا اور وہ دونوں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے ،۔
میرے ساتھ والے افریقیوں نے پوچھا کہ یہ کیا معاملہ تھا؟
میں نے اپنی سمجھ کے مطابق ان کو بتایا کہ ویت نامی کو نوپارکنگ کا جرمانہ ہوا تھا
لیکن شائد یہ ویت نامی جرمانے سے جان چھڑانے کے لئے ، جرمانے کے خطوط کو نظز انداز کرتا رہا ہے ۔
اور اج “ وہ “ خود ہی وصولی کے لئے آ گئے ہیں ۔
اسی وقت ،ویت نامی بھی وہیں آ گیا !۔
میں نے اس سے پوچھا کہ معاملہ کیا تھا
تو اس نے بتایا کہ وہاں میتو شہر میں ایک جگہ گاڑی کھڑی کرنے پر مجھے جرمانے کی ٹکٹ ملی تھی ۔
اگر میں وہ رقم ادا کر دیتا تو قانون نے میرے ڈارئیونگ لائیسنس کے ڈیڑھ پوائنٹ  کاٹ لینے تھے ۔
اس لئے میں جرمانے کے خطوط کو نظر انداز کر کے ، جرمانے کی وصولی کے لئے “ ان “ لوگوں کا انتظار ہی کر رہا تھا ۔
کیونکہ اس طرح صرف جرمانہ ادا کر کے جان چھوٹ جاتی ہے ۔
میں اپنے لائیسنس  کی ریپوٹیشن خراب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
میں اور میرے ساتھ موجود افریقی ، ویت نامی کے نالج اور اس نالج سے فائدہ اٹھانے کے فن پر اس کو دل ہی دل میں شاباش دئیے بغیر نہ رہ سکے ۔

منگل، 13 مئی، 2014

ڈرین کا نظام

میں نے یہ بات بڑی شدت سے محسوس کی ہے کہ
ترقی یافتی اقوام نے " ڈرین" کے نظام کو صدیوں پہلے اپنا لیا تھا۔
اور "نکمی" اقوام کو سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کا نام ترقی بتا کر
ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہوا ہے ۔
پیرس کی تعمیر  میں اس بات کا بھی خیال رکھا گیا ہوا ہے کہ
بارش کے پانی کو بھی دو قسموں میں تقسیم کر کے استعمال کیا جائے گا
عمارتوں کی چھتوں کا پانی پینے کے کام اتا ہے اور سڑکوں کا گندا پانی دریا میں چلا جاتا ہے ۔
واشنگٹن ڈی سی میں ، میں نے دیکھا کہ سڑکوں کے نیچے میٹروں کی گہرائی کی گلیاں بنی ہوئی ہیں ۔
اگر کچھ دن طوفانی بارشیں بھی ہو جائیں تو لاکھون ٹن پانی تو ان گلیوں میں ہی غرق ہو جائے گا۔
لندن کی نالیاں زمین دوز اس طرح کی بنی ہوئی ہیں کہ ان کی انڈرگراؤنڈ ٹرین کے اسٹیشنوں کا پانی تک بھی ٹھکانے لگ جاتا ہے ۔
واشنگٹن چلو نیا شہر ہے (ایک سو کچھ سال) لیکن پیرس اور لندن صدیوں پہلے تعمیر کئے گئے تھے، ڈرین کے فول پروف نظام کے ساتھ!!۔
لیکن
یہاں پاکستان میں کیا ہوتا ہے ؟
سڑکوں کی تعمیر پر حکومتیں نمبر بناتی ہیں ۔
اور لوگوں کے مکان ! سڑک سے نیچے چلے جاتے ہیں ۔
لوگ اپنے مکان اونچے کر تے ہیں ۔
اور
مکانوں کا پانی سڑک پر چڑھ جاتا ہے ۔ کول تار ، ٹھنڈک اور پانی سے سخت ہو جاتی ہے ۔
جس پر چلتی گاڑی کے ٹائیر کی چوٹ لگنے سے سڑک ٹوٹ جاتی ہے ۔
دوسری تیسری گاڑی کے ٹائروں کی چوٹ اس گڑھے کو وسیع کر دیتی ہے
اور ؟
سڑک ٹوٹ جاتی ہے ۔
حکومت پھر اتی ہے اور سڑک کو اونچا کر جاتی ہے ۔
پچھلے کچھ سالوں سے ایک نئی تکنیک جاپانیوں نے پاکستان کو دی ہے کہ
ابادیوں کے اندر سڑک کو کنکریٹ کا بنا دو ۔
پانی سے ٹوٹے گی نہیں ۔
لیکن پانی کے نکاس کے فوائد کا کسی کو علم ہی نہیں ہے ۔
میں نے دنیا کے کتنے ہی غیر ترقی یافتہ ممالک کے افسروں سے بات کر کے دیکھی ہے ۔
ان سب کی سوچ میں سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر ہی ترقی کی معراج ہوتی ہے ۔
اور اس ترقی کے لئے پیسے نہ ہونے کا رونا ہوتا ہے ۔
ابادی کے پانی کا انتظام فول پروف ہو جائے تو؟
کتنی دہایوں تک ۔سڑکوں اور مکانوں کی تعیر پر اٹھنے والی دولت کی بچت کر کے نئی عمارتیں اور سڑکیں بنائی جا سکتی ہیں ۔

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

عاشق لوگ

حکایات انبیاء میں لکھا ہے کہ
سلیمان علیہ سلام کے دربار میں  ، اوپر گنبد میں ایک چڑا  اپنی چڑیا کو منا رہا تھا۔
چڑا چڑیا کو کہتا ہے ، تم مجھے نہیں جانتی ہو ، میں  ! اگر پر ماروں تو یہ گنبد گرا کر ڈھیر کر دوں !!۔
سلیمان علیہ سلام جو کہ جانوروں کی بولی بھی جانتے تھے ، انہوں  نے یہ سنا تو چڑے کو اپنے پاس بلایا ور پوچھنے لگے کہ
یہ تم کیا کہہ رہے تھے ؟
چڑے نے کہا ، حضور ! عاشقوں کی باتیں ایسی ہی ہوتی ہیں ۔
سلیام علیہ سلام نے مسکرا کر کہا ، جاؤ ، لیکن بڑی بڑی نہ چھوڑا کرو!!۔
جب چڑا واپس چڑیا کے پاس پہنچا تو چڑیا نے پوچھا  کہ سلیمان علیہ سلام کیا کہہ رہے تھے؟
چڑے نے چڑیا کو بتایا کہ
کہہ رہے تھے ایسا نہ کرنا ، گنبد گرنے سے بڑا نقصان ہو جائے گا!!!۔
صدیاں گزر گئیں لیکن
اج بھی عاشقوں کا یہ حال ہے کہ
بڑی بڑی چھوڑتے ہیں
لیکن مشعوق اب سادہ نہیں رہے ۔
ایک مرغا کسی مرغی کو کہہ رہا تھا کہ
جان من میں تمہار لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں
مرغی نے ایکسایٹڈ ہو کر پوچھا ہاے میں مار جاوان واقعی ؟؟
ہاں ہاں ! تم کہہ کر تو دیکھو!۔
مرغی نے کہا
اچھا یہ بات ہے تو ؟
انڈہ دے کر دیکھاؤ ، آج میں تھکی ہوئی سی فیل کر رہی ہوں ۔