بدھ، 9 اپریل، 2014

مولوی کو مسلمان کرو

ماسٹر جی بڑے ہی سیانے اور بیدار مغز انسان ہیں
ماسٹر جی قران کا علم رکھتے ہیں
ماسٹر جی بتا رہے تھے کہ
اس وقت عالم اسلام کے مسائل کا حل صرف ایک چیز میں پوشیدہ ہے
کہ
مولوی کو مسلمان کر دیا جائے!۔
گاما بھی سن رہا تھا
گامے نے لقمہ دیا  کہ ماسٹر جی مجھے اپ کی یہ بات سن کر ایسا لگا ہے کہ جیسے میں
ان چوہوں کی کانفرنس میں بیٹھا ہوا ہوں جنہوں نے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے کا  ائیڈیا نکالا تھا ۔
ماسٹر جی نے گامے کو کہا ، یار غلام ۔ ۔ ۔ یہ تم نے معیوب بات نہیں کر دی ؟
ماسٹر جی میرے منہ میں خاک کہ میں اپ سے کستاخی کروں
مجھے تو اپنا اپ ایک چوہا سا لگا ہے
وہ والا چوہا  جس نے ساری کانفرنس کو یہ کہہ کر لاجواب کردیا تھا
کہ
بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کا کون؟
اسی چوہے کی طرح میں اپ سب سے پوچھتا ہوں
کہ
مولوی کو مسلمان کرے گا کون؟؟
ماسٹر جی ! اپ کو تو علم ہی ہے کہ مکے کے مسلمان جن کو اج ہم مشرکین مکہ کے نام سے پکارتے ہیں
وہ بھی تو مکے کے حج کرتے تھے  صفا مروہ کرتے تھے قربانیاں دیتے تھے
ان کے بھی مولوی تھے ، ماسٹر جی! اور اپ کو علم ہی ہے کہ ان مولویوں کو مسلمان کرنے کے لئے نبی پاک صعلم کو کیا کیا مصائب جھیلنے پڑے تھے؟؟

اتوار، 30 مارچ، 2014

اللہ دتّہ جنتی کمہار


گاؤں کی بڑی مسجد کی تعمیر کا کام تھا ، مولوی صاحب  نے اونچی مسجد کی پرانی  عمارت  کو گرا کر نئی عمارت کا پروجیکٹ دیا تھا ، گاؤں والوں کو !!۔
انیس سو ساٹھ کی دہائی کے   اوّلین سالوں کی بات ہے ۔ معاشرے میں امن اور روادار کا دور دورہ تھا ، دلوں میں محبت تھی  ۔
اللہ دتّہ کمہار ، المعروف جنتی کمیار!۔
مسجد کی تعمیر کے لئے جو چجندہ اکٹھا کیا جارہا تھا  اس پر سب کو یقین تھا کہ اس میں سے اک دانے کا بھی ہیر پھیر نہیں ہو گا ، کہ شائد اس دور میں تو مولوی صاحب پر شک تک بھی نہیں کیا جاتا تھا ۔
گاؤں کے سبھی لوگ بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈال رہے تھے  ، چندے میں رقم اور اناج دیا جا رہا تھا۔
اتنے میں اللہ دتّہ کمہار ایک گدھا لے کر آ گیا
مولوی صاحب میرے گھر میں دینے کو نہ رقم ہے اور نہ اناج ، یہی ایک گدھا ہے  ، مولوی صاحب اس گدھے کو چندے میں رکھ لیں ۔
وہاں موجود سارے ہی لوگ اللہ دتہ کمہار کی سادگی پر ہنسنے لگے ۔
مولوی صاحب اللہ دتے کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتے تھے  ، اس لئے کہنے لگے
اللہ  دتیا!! ہم نے اس کھوتے کا کیا کرنا ہے ؟
بس یار تم سمجھو کہ تمہارا مسجد میں حصہ ہو گیا ہے  ، اللہ تہاری نیت کو قبول فرمائیں  ۔
تم گدھا لے کر گھر جاؤ اور کام کرو  جب اللہ تم کو استعاعت دئیں گے اس وقت تم کچھ لے آنا !!۔
لیکن اللہ دتہ التجاعیہ نظروں سے مولوی صاسحب کا منہ دیکھنے لگا کہ
مولوی صاحب مجھے ریکجیکٹ نہ کرو جی ، گدھا رکھ لو۔
مولوی صاحب بھی پریشان ہو کر پوچھتے ہیں کہ اللہ دتیا ! ہم اس گدھے کا کریں گے کیا؟
تم ہی بتاؤ!؟،
تو اللہ دتے کمہار نے مولوی صاحب کو آئیڈیا دیا کہ  جی میں خود اس گدھے کے ساتھ مسجد کی تعمیر کے کام میں ہاتھ بٹاؤں گا ۔
مولوی صاحب  بھی اللہ دتے کمہار کے خلوص کے سامنے لاجئواب ہو گئے ۔
پھر زمانے بھر نے دیکھا کہ  اللہ دتّہ کمہار  مسجد کی تعمیر کے لئے ہر روز دن بھر کام گا رہتا ہے ۔
مسجد کی تعمیر میں مہینوں لگ گئے ، موسم بدلے دھوپ کہ بارش گرمی ہو کہ سردی اللہ دتے کمہار کی لگن میں کمی نہیں
آئی ۔
اللہ دتے کمہار کی لگن ، محنت اور خلوص  کو دیکھ کر مولوی صاحب کے منی سے نکل گیا کہ اللہ دتّہ کمہار جنتی ہے  جی جنتی ۔
زبان خلق نقارہ خدا ، کہ گاؤں بھر میں اللہ دتہ کمہار اللہ  دتہ جنتی کے نام سے مشہور ہو گیا ۔
اللہ دتّہ جنتی کمہار

وقت گزرتا رہا مسجد کی تکمیل کو بھی سالوں گزر گئے  نئی نسلوں کو اللہ دتہ کمہار کا نام  “اللہ دتّہ “ تو یاد ہی نہ رہا ۔
بلکہ اس کا نام ہی جنتی کمہار پڑ گیا ۔جی جنتی کمہار !!۔
گوجرانوالہ سے مشرق کی طرف کے گاؤں دیہات میں سینکڑوں ہی گاؤں دیہات میں لوگون نے اللہ دتے کو دیکھا ہو کہ نہ لیکن اس کا نام ضرور  سنا ہو گا “ جنتی کمہار”۔
جنتی کمہار نے پسرور روڈ پر زمینیں ٹھیکے پر لے پر ان میں “شٹالہ” نامی گھاس بونی شروع کر دی ۔
عالقے کے سبھی کمہاروں کی طرح دوسری تجارت بھی  یعنی اناج کی خرید و فروخت  بھی جاری رکھی ۔
گوجرانوالہ سے پسرور تک کے گاؤں دیہاتوں کے لوگ یہاں سے بسوں ویگنوں پر گزرتے تھے ۔
اگر کسی نے پوچھا کہ یہ فصلیں کس کی ہیں ؟
تو اس کو بتایا گیا
“ جنتی کمہار کی”!!!۔
 جنتی کمہار کی ایمانداری پر یا جنتی کے کاروباری معاملات پر کبھی کسی کو اعتراض کاموقع نہیں ملا ۔

پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے ، زمانہ بدل گیا ہے
مجھے خود زمانے میں خجل ہوتے ربع صدی گزر گئی ہے ۔
جنتی کمہار جب ہم نے ہوش سنبھالا تو اس وقت بھی ہمارے محترم بزرگ تھے ۔
گزرے کل کی بات ہے کہ
میں برادری کی ایک شادی میں شامل تھا۔
فائیو سٹار ہوٹلوں کی طرز پر لگی ہوئی  میزوں پر لوگ بیٹھے تھے ۔
ایکڑوں میں لگے تنبوؤں  میں یہ میزیں لگی تھیں ۔
اپنے لوگوں سے بچھڑے سالوں سے سیلانی کی طرح کی زندگی گزارتے ہوئے  میرا بھی یہ حال ہو چکا ہے کہ
برادری کی کسی شادی میں شمولیت کا یہ موقع مجھے کوئی تیرہ سال بعد ملا تھا
اس لئے ایک میز پر بیٹھا تھا اور اپنے بیٹوں کو کہہ رہا تھا کہ
بیٹا جی نزدیک ہی رہنا کہ مجھے بتاتے رہنا کہ کو ن ! کون ؟ ہے ۔
کہ
بابے جنتی کو دیکھا !!۔
میں تو یہ سمجھے بیٹھا تھا کہ
بابا جنتی گزر چکا ہو گا
بابے کو حیات دیکھ ایک خوش ہوئی  ، اور بابا بھی اس پارٹی میں خود کو اجنبی سے ماحول میں محسوس کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ اس کے “اپنے” کہاں بیٹھے ہیں ۔
میں جلدی سے اتھ کر گیا ! اور بابے جنتی کو سنھبال کر اپنے ساتھ میز پر لے آیا !!۔
بابے نے میرا چہرہ دیکھا  ، مجھے پہچاننے کی کوشش کی ،
میں نے خود ہی اپنا تعارف کروایا !!۔
بابا ! میں ہوں تہڑوائی کا بڑا پوتا!!۔
بابے جنتی نے پہچان لیا
اوئے ! ۔ پاء اسماعیل تہڑوائی  کے بڑے پوتے ہو؟
جی بابا جی!۔
تم وہی ہو نہ ، جس نے ساری دنیا پھری ہے؟
کس ملک میں ہوتے ہو ان دنوں ؟ تمہاری آوارہ کردی نئیں ختم ہوئی ابھی ؟ کام کیا کرتے ہو؟
تم گھر کیوں نہیں پلٹتے  اؤئے؟
بابے نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر دئے ۔
اس کے بعد بابے جنتی سے “تلونڈی کے کمہاروں “ کی بڑی باتیں سنیں ۔
میں ! جو کہ خود بھی تلونڈی کے کمہاروں میں سے ایک کمہار ہوں ۔
بابے جنتی کی باتیں میرے لئے ایک سرمایہ ہیں ،۔
انے والے دنوں میں بابے جنتی کمہار کی بتائی ہوئے باتیں بھی لکھتا رہوں گا ۔

سوموار، 24 مارچ، 2014

پیار کا آمرت



جاپان میں  ایک اہم واقعہ پیش آیا ہے ( ہو سکتا ہے کہ صرف مجھے ہی آہم لگ رہا ہو!)۔
ساتیتاما کین  میں آج  ، فٹ بال کا ایک میچ “بغیر تماشائیوں” کے ہو اہے ۔
کیونکہ ! ٹیم کے سپوٹروں نے “غیر ملکیوں “ سے نفرت کا اظہار کیا تھا
معاملہ کچھ یوں ہوا
کہ

جاپان کی فٹ بال آرگنائیزیشن “ جے لیگ” کی ایک ٹیم ” اوراواریڈ”نام بھی ہے ۔
ساتیتما کین کے شہر سائیتاما کے “اوراوا وارڈ”  کی ٹیم !!۔ “اوراوا” جو کہ تین شہروں کے اختلاط سے بننے والے سائیتاما شہر سے پہلے ایک شہر کی حثیت رکھتا تھا ۔
اس شہر کی ٹیم کے سپوٹروں نے ،سٹیڈیم میں ایسے پرچم لہرانے شروع کر دئے تھے ، جن پر لکھا ہوتا تھا کہ “ صرف جاپانیوں کے لئے۔
اس قسم کے نسلی امتیاز کرنے والے بینر لہرانے کو معیوب سمجھنے والوں نے جب ٹیم کے سرکردہ افراد سے جب یہ پوچھا کہ کیا یہ کام اپ کے علم میں ہے ؟
تو ان ذمہ دار افراد نے اقرار کیا کہ ہاں ان کے علم میں ہے !۔
جس پر میڈیا نے اس بات کے معیوب ہونے کا چرچا شروع کر دیا ، اور جاپانی معاشرت میں ایسی بات ہے بھی معیوب ، کہ کسی سے صرف اس کے رنگ ، نسل یا نظریات کی وجہ سے نفرت کی جائے ۔
اس لئے “جے لیگ” نے فیصلہ کیا کہ اوراوا کی ٹیم اگلا میچ بغیر تماشائیوں  کےکھیلے گی ۔
اوراوا ریڈ اور شیمیز ایس پلس کے درمیان ہونے والا یہ میچ ایک ایک گول کے ساتھ  برابر رہا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک میرے وطن کا معاشرہ ہے کہ
جس کو تعلیم ہی نفرت کی دی گئی ہے ۔
دوسروں کے مذاہب ، مسالک ، زبانوں سے نفرت کی رسم اب چلتے چلتے ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہے اور بھائی بھائیوں سے بھی نفرت کرنے لگے ہیں ۔
پاکستان پر ایک عفریت کا قبضہ ہے ۔
ایسی باتوں کو “ فگر آؤٹ” کرنے کے لئے بھی “علم” کی ضرورت ہوتی ہے
اور اس “عفریت “ نے پاکستان میں تعلیم کو ہی عنقا کر کے رکھ دیا ہے ۔ اور جو تعلیم میسر ہے ؟
اس میں مغالطوں اور مبالغوں کا زہر ملا کر رکھ دیا ہے ۔
انسان کے اندر کہیں دور ، گہرائیوں میں اس بات کا احساس تو موجود ہے
کہ نفرت ایک زہر ہوتا ہے 
اور
باہمی پیار قوموں کے لئے آمرت!!۔
لیکن مغالطوں اور مبالغوں کی پانچ دہایوں کی تعلیم نے ہمارے اندر پائی جانے والی ایک  آفاقی حقیقت کو بھی دھندلا کے رکھ دیا ہے ۔

ہفتہ، 15 مارچ، 2014

تیرا کیا بنے گا؟


کیپیٹل ازم ( دجالی) ہی ایک مکمل ترین ضابطہ حیات ہے!!۔
اس کے مقابلے میں کوئی مذہب کوئی کلچر کوئی نظام مکمل ترین ہونے کا دعوہ اگر کرتا بھی ہے تو ، یہ دعوہ خام ہے ۔

کیپیٹل ازم   نے کبھی بھی ایم مذہب ہونے کا دعوہ نہیں کیا ہے ، اور نہ ہی اس مذہب کا کوئی نبی یا “فونڈر” ہونے کا دعوے دار ہے ۔
لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے سبھی مذاہب ، اس مذہب کی مخالفت کرتے ہیں ، اور سبھی مذہب اس کیپیٹل ازم  سے مغلوب بھی ہو چکے ہیں ،۔
کیپیٹل ازم ( دجالی) ہی ایک مکمل ترین ضابطہ حیات ہے!!۔
انسان کی اور انسانی معاشرے کی سبھی ضرورتوں کا تعین کر کے ان ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال یہ مذہب اج کی دنیا کی ضرورت بن چکا ہے ۔
افراد کے حقوق و فرائض ایک ایسا نظام ہے کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔
اس مذہب میں عبادات کا بڑا مربوب نظام ہے ۔
ہر بندے کو جاب نامی عبادت کرنی ہی پڑتی ہے ، اور اس جاب نامی عبادت میں مراتب و مقامات بھی ہوتے ہیں ، جو کہ تعلیم نامی عبادت کی قلت یا کثرت سے متعین ہوتے ہیں ۔
جو بندہ تعلیم نامی عبادت  جتنے خلوص اور لگن سے کئے گا ، اس کو تعلیم کے بعد کی عبادت “جاب “ میں اعلی مقام عطا کیا جائے گا ،۔
اور جو بندہ کیپٹل ازم کےدین میں جاب نامی عبادت جتنی لگن اور محنت سے کرئے گا  ، اس کو اتنی ہی زیادہ “نیکیاں “ ملیں گی ۔ لیکن کیپٹل ازم نے ان “ نیکیوں “ کا نام “ کرنسی “ رکھا ہوا ہے ۔ اور جاب نامی عبادت کے ایک خاص مرحلے پر عبادت گزار کو یہ کرنسی ادا کر دی جاتی ہے ۔
اور کرنسی سے سہولیات خریدی جاتی ہیں ۔

جاب نامی یہ عبادت روایتی مذاہب کی عبادات کی طرح نہیں ہوتی کہ ہر کوئی ایک ہی جیسی حرکات کرئے اور اس کو عبات کا نام دے کر نیکیوں کی امید پر کرتا ہی چلا جائے بلکہ
جاب نامی عبادت ، ہر بندے کا ایک ایسا عمل ہے جو کہ دوسروں کی سہولت کا باعث بنتا ہے ۔
اس طرح دیگر عبادات اور ان کے اجر ہیں ۔
ان سب باتوں پر دفعتاً فوقتاً روشنی ڈالی جاتی رہے گی ۔
لیکن ان باتوں کو کیپیٹل ازم کی تبلیغ نہ سمجھا جائے ۔
اگر کسی کو کیپیٹل ازم سے نفرت ہے تو ؟
اس نظام کی رسیاں ٹروا کر اگر نکل سکتا ہے تو نکل جائے ۔
دنیا بھر کے مذاہب اس نظام کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں ۔
لیکن ان کی یہ جو جہد اسی طرح ہے ، جیسے کوئی نابینا بندہ کسی جن سے گتھم گتھا ہو ، کہ اس جن کو بچھاڑ کر چھوڑوں گا۔
پہلی بات تو یہ کہ اس جن سے جیتنا ہی مشکل ہے
اور
اگر
اس جن کو بچھاڑ ہی لیا تو ؟
کریں کے کیا؟
اس بات کا کسی بھی مذہب نے سوچا   ہی نہیں
کہ
بنکنگ ، ٹرانسپورٹ ، مواصلات، قوانین ، اور خوارک کی ترسیل کے اس مرطوب نظام اور دیگر کے مقابلے میں کسی بھی مذہب کے پاس کچھ نہیں ہے ۔

اتوار، 2 مارچ، 2014

پستے بادام اور فارمی مرغیاں


قلفی کھوئے ملائی والی اے ، پستے بادام والی اے !!۔
یہ آوازیں اپ میں سے بہت سوں نے سنی ہوں گی ۔
یا کہ کھانے والی چیزوں کو پر کشش بنا کر پیش کرنے کے لئے ، مکھن کے پیڑے ، ملائی والے  یا کہ کوئی بھی ایسی چیز جس میں سے چکنائیوں کی امید ہو ، ایسی چیزوں کے نام تقریباً سبھی نے سنے ہوئے ہیں ۔
تر نوالہ ، چپڑی اور دو دو ! ۔
ذہنیتیں ! مدتیں  لگتی ہیں تیار ہونے میں ، چکنائیاں ! برصغیر میں  محنت سے حاصل ہونے والی چیزیں تھی ، اور محنت ہی چکنائیوں کا خرچ بھی ہے ۔
بھوک کے متعلق کہانیاں ہیں ، بھوک کا ایک فلسفہ ہے ، بھوک پر لکھنے والوں کی پر اثر تحاریر سے  دینا بھر کی زبانوں کے ادب میں بے بہا خزانہ اکٹھا ہے ۔
ہمارے یہاں ایسی بھوک تو نہیں تھی کہ جیسی  کہ “ہند “ پر حملہ آور ہونے والی اقوام میں تھی
لیکن ایسی بہتات بھی نہیں تھی کہ لوگوں پر چربی کی تہیں چڑہی ہوئی ہوں ۔
دینا بھر کے معاشروں میں خوراک کے لئے جد و جہد کرنے کی کہانیاں ہیں ۔
لیکن
محققین کے مطابق ۔
اج ہم جس دور میں سے گزر رہے ہیں ۔
اج کا دور ! انسانوں کی معلوم تاریخ میں سے ایسا دور ہے کہ جس میں خوراک کی بہتات ہے ۔
بہتات سی بہتات ! کہ لوگ خوراک کیا کھائیں کے اج خوراک ان کو کھائے جا رہی ہے ۔
پنجابی کے اس محاورے کے مطابق ،۔
بندہ ! روٹی کھاندا اے  ، تے بہتی روٹی بندے نوں کھان لگدی اے۔
زمین پر انسانوں کی بڑہتی ہوئی ابادی کے متعلق اور اس بڑہتی ہوئی ابادی سے پیدا ہونے والے خوراک کے بحران کی باتیں کرنے والے بھی بہت ہیں ۔
لیکن جن لوگوں نے اس بات کے مشاہدے کو یاد رکھا ہے کہ اج سے چالیس سال پہلے ان کے گھروں میں کھانے پینے کی مقدار اور اج کے زمانے میں مقدار  کا کیا فرق ہے
وہ لوگ جانتے ہیں کہ
پچھلے پچاس سالوں میں زمین پر رزق کی بہتات ہوئی ہے ۔
پاکستان میں ، مہنگائی کا واویلا کر کے “ باہر” سے پیسے منگوانے والے بچوں کی بات چھوڑیں ۔ “ اباجی” لوگوں سے پوچھ لیں کہ
گوشت کا سالن ، کس تسلسل سے پکتا تھا ۔
خشک میووں کے نام پر “مونگ پھل” کے علاوہ کیا ہوتا تھا ؟
پھر دیکھتے ہیں دیکھتے ! کمائی “باہر “ کی تھی کہ”اندر” کروانے والی تھی یا کہ “عام “ سی تھی ْ۔
رزق کی بہتات سبھی نے دیکھی ہے ۔
انسانیت کی معلوم تاریخ میں رزق کی اس بہتات میں کھادوں کا ہاتھ ہے
جو زمیں کو دی جاتی ہیں
اور جو گوشت کو دی جاتی ہیں ۔
کھاد
جو گوشت کو دی جاتی ہے ۔
پاؤل سے گال !! ایک سائینسدان تھا ، جو کہ جانوروں کی سائینس “ذووالوجی “ کا ماہر تھا ۔ امریکہ کی ریاست ورجینیا کے رہنے والے اس سائینس دان نے 1957ء میں برائلر چکن تیار کیا تھا ۔
اسی نے مالیکیولوں کا ایسا علاماتی چارٹ تیار کیا تھا ، جس نے ایک عام سے پرندے کو فارمی جانور بنا دیا ۔
اسی کی تحقیق سے یہ ممکن ہو سکا کہ پیدا ہونے سے لے کر “گوشت” کی عمر تک پہنچے کے لئے جس پرندے کو چھ ماہ لگتے تھے اب وہی پرندہ چھ ہفتے میں تیار ہوجاتا ہے اور اس کا وزن یعنی کہ گوشت کی مقدار بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
فارمی مرغی کی ہسٹری کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے
اس کو دینا میں آئے ہوئے ابھی آدھی صدی ہی ہوئی ہے
اس کو تیار  کرنے میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ گوشت جلد سے جلد تیار ہو کر مارکیٹ میں پہنچایا جا سکے ۔
اور میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے پچیس سال میں انسانوں میں بھی گوشت کی بڑہوتی کی سپیڈ کو ایکسیلیٹر لگا ہوا ہے ۔
بڑھے ہوئے پیٹ ، فارمی مرغی کی طرح کے ملائم ملائم مسل !۔
انسانی تاریخ میں فلک نے شائد پہلی بار  دیکھے ہوں گے۔
فارمی سوروں اور فارمی  مرغیوں کی  خوراک میں جو ایکسیلیٹر ان کے گوشت کو بڑہانے کے لئے لگایا گیا ہے ۔
وہ ایکسیلیٹر ! اب اس گوشت کو کھانے والے انسانی جسموں تک پہنچ چکا ہے ۔
گوشت بڑھانے کے اس ایکسیلیٹر کی کارگردگی  کی سب سے عمدہ مثال امریکہ اور پاکستانی معاشرہ ہے ۔
جہاں فارمی مرغیوں کی طرح  ملایم ملائم اور پھولے ہوئے مسلوں والے انسان نما گھوم رہے ہیں ۔

ہفتہ، 1 مارچ، 2014

غیرت ، بے غیرت

غیرت! بڑی اہم چیز ہے ۔
اور غیرت کا معیار ،اقوام کا اپنا اپنا ہی ہوتا ہے ۔
ہمارے پٹھان لوگوں میں سے اگر کسی کا بھری محفل میں پد نکل جائے تو ؟
اس کے لئے مرجانے کا مقام ہوتا ہے ۔
خواتین کے متعلق غیرت کا معیار ، برصغیر کی ساری کی اقوام میں ملتا جلتا ہے ۔
کہ اگر کسی کی بہن ، بیٹی نے کوئی غلطی کر لی
یا کہ کسی نے ورغلا لیا تو ؟
قتل !!!۔
جاپان میں غیرت کا معیار یہ ہے کہ
اگر کسی کا جھوٹ پکڑا جائے ، یا کہ کاروبار میں وعدہ خلافی کر لے ، یا ملاوٹ کر لے یا کہ فراڈ کر لے !،
تو اس بندے کا بھی غیرت سے مرجانے کا ہی مقام ہوتا ہے ۔
اور جاپانی مر بھی جاتے ہیں ۔
جیسا کہ جاپانیوں کی خود کشیوں کی تعداد کا سبھی کو علم ہے ۔
اب یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ جاپانیوں کی غیرت اپنی خواتین کے متعلق کیا ہے ؟
جاپانیوں کا خواتین کے متعلق معاشرتی رویہ یہ ہے کہ
بیٹی نے جنوائی کے گھر جان اہی جانا ہے ،اس لئے اگر اپنی زندگی کا ساتھی وہ خود جن لیتی ہے تو والدین کا فرض یہ بنتا ہے کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ لڑکی کا فیصلہ کہیں غلط تو نہیں ؟
لڑکی کا منتخب کیا گیا لڑکا نکھٹو تو نہیں ۔
اور اس طرح بہن کے متعلق بھایئوں کا رویہ ہوتا ہے ۔
ورنہ شادیاں یہاں جاپان میں بھی ارینج میرج ہی ہوتی ہیں ۔
جاپانیوں کا اپنی غیرت کو قایم رکھنا ایک بڑی بات ہے بھی اور نہیں بھی کہ
ان کے غیرت کھانے والے کام ایسے ہیں کہ ان سے بندہ بچ سکتا ہے ۔
مثلا ، جھوٹ ! کوئی بھی انسان تھوڑی سی کوشش سے سو فیصد جھوٹ سے بچ سکتا ہے ۔
تھوڑی سی کوشش سے کاروباری وعدہ خلافیوں سے سو فیصد بچا جا سکتا ہے ۔
ملاوٹ یا فراڈ یا کہ کام چوری یا کہ طاقت کا بے جا استعمال ،ایسی ہی چیزیں ہیں کہ کوئی بھی بندہ تھوڑی سی کوشش کر کے ان چیوں سے سو فیصد بچ سکتا ہے ۔
اس لئے کوئی بھی جاپانی غیرت مند اپنی ساری زندگی بڑی غیرمت مندی سے گزار دیتا ہے
اور
ناں اس کو کسی کے سامنے شرمندہ ہونا پتا ہے اور ناں ہی خود اپنے ظمیر کے سامنے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔
لیکن
کیا کسی بھی انسان کا اس بات کا امکان ہے کہ وہ پد مارنے سے سو فیصد بچ سکے ؟
یاکہ
اپنی غیرت کو سو فیصد بچا کر رکھ سکے کہ
نہ تو بہن کسی بہنوئی کو دے اور نہ ہی بیٹی کسی جنوائی کو؟
یا کہ
اپنی پیدایش کے مراحل میں ماں بات کے کردار پر کوئی قدغن لگایا جاسکتا ؟
وہ لوگ جو احساس رکھتے ہیں
اور جاپان اور پاکستان جیسے معاشروں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں ۔
اوہ لوگ دو انتہاؤں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں ۔ْ
ایک کنفیوزن سا ہے کہ ایسے لوگ کیا ہیں ؟
غیرت مند ؟ یا کہ بے غیرت ؟

جمعہ، 14 فروری، 2014

جاپانی لوک کہانی ، بیمبو گامی

جاپان کی لوک کہانیوں میں “ بینبو گامی”  یعنی غریبی کا دیوتا کا ذکر ملتا ہے ۔
غریبی کا دیوتا جس گھر میں آ جائے وہاں پھر مفلسی ہی مفلسی ہوتی ہے ، اس دیوتا کا ایمج کچھ اس طرح کا ہے کہ جس طرح چوہے لکڑی کے گھروں کی چھتوں کے درمیان رہتے ہیں اسی طرح یہ غریبی کا دیوتا  بھی چھتوں  میں یا کونے کھدوں میں بس جاتے ہیں ۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ
کہیں کسی گاؤں میں ، میاں بیوی رہتے تھے ، ان کے گھر میں بھی غریبی کے دیوتا کا بسیرا تھا، کھیتوں میں محنت کر کر کے بھی غریب ہی تھے کہ  ان کی اگائی ہوئی سبزیاں کمزور سی ہوتی تھیں  ، کوئی ان کا مول ہی نہیں دیتا تھا ۔ مونجی کے کھیتوں میں چاول اتنے ہی اگتے تھے کہ پیٹ کا جہنم بھرنا مشکل تھا ۔
سال ہا سال اسی طرح گزر گئے ،
ایک دن  بڑہیا نے باباجی کو کہا کہ شہر جا کر کچھ کمانے کی کوشش ہی کر لو!۔
دونوں میاں بیوی نے بڑی محنت سے بنائی ہوئی پرالی کی جوتیاں  ، بابا جی باندھ لیں کہ ان کو بیچ کر کچھ کما کر لاتے ہیں ،۔
شہر میں سارا دن جوتیاں بیچنے کی کوشش میں ہانکیں لگاتا لگاتا بابا تھک گیا لیکن کسی نےکوئی جوتی نہیں خریدی۔
رات  کو کسی دوکان کے ٹھڑے کے نیچے سونے کے لئے گھسا تو ، وہاں ایک اور بندہ لیٹا تھا ،
جو کہ کسی گاؤں سے کوئلے بیچنے کے لئے آیا ہوا تھا۔
گرمی کے موسم میں اس کے کوئیلوں کا بھی کوئی خریدار نہیں تھا،۔
دونوں مایوس لوگ رات بھر ایک جگہ گزارنے کے بعد اس فیصلے پر پہنچے کہ اپس میں ایک دوسرے کے مال کا تبادلہ کر لیتے ہیں ۔
بابا جی کوئلے لے کر گھر پہنچے ، کوئلے کسی کونے میں رکھے اور غربی کے دیوتا کے زیر سایہ مفلسی کی زندگی کے شب و روز گزارتے رہے !!۔
اسی طرح سردیاں آ گئیں ، سال کے اخری دن کی رات کو نئے سال کی  آمد کا استقبال ! لیکن کھانے کو کچھ بھی نہیں تھا ۔
کہ بابے کو یاد آیا کہ کوئیلے پڑے ہیں ، اور کچھ نہیں تو آج آگ ہی تاپ لیتے ہیں ۔
بابے نے کوئلے کی آگ دھکا دی ، بڑہیا نے لوہے کے برتن میں پانی ڈال کر اس پر رکھ دیا کہ گرم پانی میں پتے ڈال کر چاء بنا لیں ۔
کوئلے کی آگ اور لوہے کی گرمی سے ، اس گھر میں بسیرا کیے ہوئے غریبی کے دیوتا کو بڑی گرمی لگی
اس گرمی سے گھبرا کر دیوتا نے وہاں سے کوچ کیا اور کہیں اور چلا گیا ۔
نئے سال کی آمد پر نئے دیوتا ادھر ادھر نکلے!، تو ان میان بیوی کے گھر میں بھی ایک “سکھ” کا دیوتا آن بسا۔
جی کہانی بیان کرنے کا مقصد ہے کہ
جاپانی معاشرت میں غریبی کے دیوتا( بیمبو گامی) کو بھگانے کا طریقیہ یہی بتایا گیا ہے کہ کوئلے کی آگ دھکے گی اور اس آگ پر لوہا گرم ہو گا تو؟
غریبی بھاگ جائے گی۔
غریبی کے دیوتا کی عبادت کیا ہے ؟
کہ
غریبی کے دیوتا کو ٹھنڈی آہیں  بہت سکون پہنچاتی ہیں ۔
جس گھر میں بھی غریبی کا دیوتا بستا ہے اس کے مقینوں کو ٹھنڈی آہیں بھرنے سے ہی فرست نہں ملتی اور غیریبی کا دیوتا بھی ان کی اس عبادت کو قبول کر کے خوش ہوتا ہے ۔
حاصل مطالعہ
کہ جس گھر میں یا ملک میں کوئلے پر لوہا گرم ہو گا
اور اس گھر کےیا ملک کے لوگ
ٹھنڈی آہیں بھرنا چھوڑ کر لوہا کوٹنے لگیں گے وہاں سے غریبی کا دیوتا کوچ کر جائے گا ۔

جمعہ، 7 فروری، 2014

معاشرتی باتیں


ابھی زمانہ اتنا ایڈوانس نامی جنگل نہیں بنا تھا ،ترقی کے نام پر بد نظمی ابھی معاشرے میں عود کر کے نہیں آئی تھی ۔
ریسکائکلنگ کا ایک نظام تھا جو صدیوں سے چلتا آ رہا تھا۔
کچے گھروں کے صحنوں کی صفائی نمی والی خاک پھلا کر جھاڑو دی جاتی تھی ، یہ خاک باہر “ روڑی” پر چلی جاتی تھی ، روڑی کی خاک کھیتوں میں کھاد کے طور پر چلی جاتی تھی ۔
مکئی ، جوار، اور کماد کی جڑوں کو کھیتوں میں سے نکالنے کے لئے سارے گاؤں کے لوگ لگے ہوے تھے کہ
ان جڑوں کو جلا کر ایندھن کا کام لیا جاتا تھا ۔
چاول کے پودے کی پرالی اور گندم کے پودے کی توڑی اگر جانوروں کے کھانے کے کام  آتی تھی تو لیپا پوتی میں یہ چیزیں وہی کام کرتی تھی جو اج فائبر گلاس کی بنی چیزوں میں روغن میں مل کر فائبر کے ریشے کرتے ہیں ۔
درختوں کی کانٹ جھانٹ  ہر سال سردی کے موسم کا ایندھن بنتا تھا،
بھینسوں کا گوبر جہاں ایندھن کے لئے کام آتا تھا ، وہیں  چکنی مٹی میں ملا کر  پانی سے پتلا کر لیا جاتا تھا ، اس مکسچر کا لیپ کچے گھروں کے صحنوں میں ایک وقتی سی “لئیر” سی بن جاتا تھا جو کہ دھول اڑنے  سے بچاتا تھا ۔
اسی طرح ایک لمبی بات ہے کہ ہم نے وہ زمانہ دیکھا کہ
ہمارے معاشرے میں بغیر کسی حکومت کے ایک معاشرتی نظم پایا جاتا تھا۔
کہتے ہیں کہ یہ نظم راجہ بکرم اجیت کے زمانے سے ہند میں چلا آتا تھا ۔
راجہ بکرم اجیت جس کا زمانہ عیسی علیہ سلام کی پیدائش سے بھی کوئی آدھی صدی پہلے کا زمانہ تھا ۔

آج پاکستان میں ٹوائلٹ کے حالت پر ایک لطیفہ یاد آیا
کہ
کہیں شہر میں دیوار کے ساتھ گاغ ہونے کے لئے ایک بندہ بیٹھا تھا کہ
پولیس والوں کی نظر پڑی کہ چلو کچھ خرچا پانی بناتے ہیں
اس لئے فاغ ہونئ کی کوشش میں مبتلا بندے کو عین موقع واردات سے پکڑ لیا
جب اس بندے کو لے کر چلنے لگے تو
اس نے آواز لگائی
اوئے قانوں کے رکھوالو! جرم کا ثبوت تو اٹھا کر ساتھ لے لو!!،

ابھی اگلے دن کی بات لگتی ہے
جب ہم لوگ ٹوائلٹ کے لئے کھیتوں میں جایا کرتے تھے۔
ہم اس کو جاڑہے بیٹھنے جانا کہتے تھے ۔
شام کے ہلکے اندہیرے میں  گانؤں (گاؤں) کی عورتوں  گروہ در گروہ “باہر بیٹھنے” جایا کرتی تھیں ۔
شہروں میں بسنے والے ہو سکتا ہے کہ یہ سمجھیں کہ
پینڈو جاڑہے بیٹھا ہو اور  آوارہ کتا آ جائے تو پینڈو “لکدی  چک” کر بھاگتا ہو گا
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوتا تھا
کیونکہ صفائی کے لئے “وٹوانی” کا ڈہیلا ، اگر کھینچ کر مارا جائے تو ، نسلی ترین کتے کی بھی ٹیاؤں ٹیاؤں نکل جاتی ہے ۔

قصبے کے اندورنی گھروں میں  میں ٹٹی خانوں کا رواج تھا
لیکن ان گھروں کی عورتیں اور مرد صبح  شام “باہر “ ہی بیٹھنے جاتے تھے ۔
گھر پر گند ، ناگزیر حالات میں ڈالا جاتا تھا۔
ٹٹی خانوں میں چولہے کی خاک بچھائی ہوئی ہوتی تھی ، تاکہ چھوٹے پیشاب کو “ کنڑرول “ کر کے رکھ سکے ۔

پھر ہم نے ترقی کرنی شروع کر دی ، فلیش سسٹم جو کہ یورپ میں کوئی تین صدیاں پہلے ایجاد ہوا تھا
ہمارے گھروں میں چلا آیا
اور پھر یہ ٹوائلٹ گھروں تک ہی محدود ہو کر رہ گیا
کہ
ہمیں معاشرتی زندگی کا شعور ہی اتنا ہے کہ
ہم ابھی تک صرٖف گھریلو ہی ہوئے ، شہری نہیں !، اسی لئے ہمارے حکمران بھی ہمیں عام تو کہتے ہیں ، پاکستان کے شہری نہیں  کہتے۔
اج ہمارے شہروں کا یہ حال ہے کہ اگر کسی کو پیشاب آ جائے تو ؟
کھائے خصماں دا سر ! ۔
تے سانوں  کی؟؟
بازاروں میں سونے کا بازار ہو کہ کپڑے کا منیاری کا بازار ہو کہ  متھائی کا ، کروڑوں کا کاربار ہو رہا ہے ، رنگ برنگے پیرہن پہنے لوگ چل پھر رے ہیں
لیکن کہیں بھی ، کسی منظم ٹوائلٹ کا انتظام نہیں ہے ۔
اصلی میں ایسی گندی چیزوں کا ذکر تک کرنا ، ان کو تحریر میں لانا ، اس قسم کی باتیں کرنا پاکستان جیسے پاک معاشرے میں “ناپاک” سی چیز لگتی ہے ۔
اب میں بھی جو یہ بلاگ پوسٹ لکھ بیٹھا ہوں تو کئی لوگوں کی “نفیس” طبیعت پر بڑی کثیف سی گزرے گی
لیکن میں کیا کروں کہ میں ایک انسان ہوں  جس کو “پوٹی” بھی اتی ہے اور سو سو بھی !۔
لیکن میرے شہروں کا یہ حال ہے کہ سارے کے سارے شہر ٹوائلٹ بنے ہوئے ہیں ،۔
جس کو “ڈاڈہی “ آ جائے وہ کیا کرے؟
کا کیا ہے کہیں بھی کر لے۔ سارا پاکستان ہی ٹوائلٹ ہے ۔
لیکن
اس گند میں ،ایک کاروبار کا آئیڈیا ہے
کہ
اگر کوئی بندہ ، گوجرانوالہ میں بازاروں کی عقبی گلیوں میں ، مارکیٹوں کے پچھواڑے میں اگر مکان خرید کر ان میں ٹوائلٹ بنا کر ، ان پر کچھ چوہڑے اور پلمبر رکھ کر ایک نظام بنا لے تو۔

بڑا پیسہ ہے جی اس کام میں ، کہ میرے جیسے انسانوں کو جب ڈاڈہی  آتی ہے تورقم خرچ کر ہی لیتے ہیں ۔

اس پوسٹ کے لکھنے پر نفیس طبع لوگوں سے بہت ہی معذرت ، ۔


منگل، 4 فروری، 2014

طالبان کی دو قسمیں


طالبان کا موضوع بڑا ہی سنجیدہ اور ذمہ داری سے بات کرنے کا طالب ہے ،۔
اج کے حالات میں ایک ام آدمی کیسے محسوس کر رہا ہے یا کہ اس کو کیسا محسوس کروایا جا رہے ہے ، اس کے متعلق تو لوگ لکھ ہی رہے ہیں ۔
اور انے والے زمانوں کا تاریخ دان  ان کی تحاریر سے جو نتائج اخذ کرئے گا ، وہ پڑے الجھے ہوئے ہوں گے، اگر کسی کو ہماری تاریخ  مرتب کرنے کی دلچسپی محسوس ہوئی تو !!!ْ۔
جہاں تک میں نے محسوس کیا ہے ، اپنے محدود سے مطالعے اور مشاہدے سے ، کہ طالبان  ! جن کو ہم ان دنوں  دوہزار چودا میں طالبان کہتے ہیں ۔، ان کو دو کیٹاگری میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے ،
ایک افغان طالبان ،
اور دوسرے پاکستانی طالبان ۔
افغان طالبان کی پدائش ہمارے سامنے ہوئی ہے ، نوے کی دہائی کے دوسرے “ہاف” میں ،  افغانستان سے غیر متوقع طور پر سویت یونین کی فوجوں کے انحلا سے  پیدا ہونے والے طاقت کے خلا سے جو انارکی پیدا ہوئی تھی ،اس کے نتیجے میں کو طاقت پیدا ہوئی یا کہ پیدا کی گئی وہ تھی طالبان، ۔
ان دنں کے حالات پر نظر رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ افغانستان ایک قسم کا اکھاڑا بنا ہواتھا ، جہاں مختلف قبائل اپنی اپنی طاقت کے مطابق زمین اور وسائل پر قبضے کے لئے قتل و غارت گری میں مشغول تھے ،۔
ان حالات میں پاک فوج کی کوشش سے ایک حکومت کے قیام کے لئے طالبان کو تیار کیا گیا ۔
جو طالبان بعد میں سامہ بن لادن کی وجہ سے امریکہ کے معتوب  ٹہرئے!!۔
تو  پاک فوج  امریکہ کی حمایت میں طالبان کے بھی خلاف کمر بند ہوئی ۔
لیکن افغان طالبان نے کبھی بھی پاکستان کے خلاف نہ تو کوئی بیان دیا اور نہ ہی کوئی حرکت کی ۔
پاکستانی طالبان!!۔
وہ لوگ ہیں  جو کہ افغانی طالبان کو پاکستان میں پناھ دینے کی پاداش  میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنتے رہتے ہیں ۔
افغانی طالبان کو پاکستان میں پناھ دینے والے لوگ ان کو طالبان سمجھ کر نہیں بلکہ کئی رشتون اور ناتوں کی وجہ سے پناھ دیتے ہیں ۔
لیکن جب ڈورون حملہ کرتا ہے تو
بقول شخصے ۔ چنوں کے ساتھ گھن بھی  پس جایا کرتا ہے ۔
تو جی پاکستانی طالبان وہ ہیں جو “جبر “ کی پیدا وار ہیں ، اور یہ لوگ جبر کے خلاف جدوجہد میں “ مبتلا” ہیں ۔
یہ لوگ پاکستان کے حکومتی اداروں پر فوج پر اور پولیس اور دیگر پر حملے کرتے ہیں ۔
تیسری طاقت!!۔
ان دو طالبان کے علاوہ ایک تیسری طاقت بھی ہے ، اس کو اپ کوئی بھی نام دے لیں ، میں ان کو فرشتے کہتا ہوں ۔
یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستانی طالبان کو بدنام کرنے کے لئے “عوامی” مقامات پر حملے کرتے ہیں ۔
پاکستان میں پاکستانی طالبان ، افغانی طالبان اور تیسری طاقت کو اس طرح خلط ملط کر کے دیکھایا جا رہا ہے کہ پوری قوم ایک کنفیوژن کا شکار بنی ہوئی ہے ۔
میں نے سبھی دہشت گرد “چیزوں “ کا لکھ دیا ہے
اب
اپ خود فیصلہ کریں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے

منگل، 28 جنوری، 2014

جاپان اور جتین شاھ صاحب

 جاپان کی اون لائیں اردو اخبار ، روز نامہ اخبار پر یہ خبر دیکھی
کہ یہ کسی تالاب کی صفائی میں سینکڑوں سائکلیں ، تہہ میں غرق کی ہوئی ملی ہیں ۔ تو مجھے یاد آایا کہ یہان جاپان میں سائیکل ایک ایسی چیز ہے کہ ہر کسی کو حاصل ہے ۔
یہاں جاپان کے دیہاتی علاقے ، اباراکی ، سائیتاما ، توچی گی اور گنماں کی ڈویژنوں کے سنگم پر ،اپ کو کئی سائکلیں ادھر ادھر کھیتوں کے کنارے یا کسی نشیب میں پڑی مل جائیں گی ۔
انیس سو اٹھاسی یں جب میں پہلی بار جاپان ایا تو اس وقت تو عام سی بات تھی کہ اسٹیشن کے سامنے ، کسی سنٹر پر یا کسی گھر کے سامنے پڑی سائیکل کو تالا نہیں لگا ہو گا۔
میری نسل کے زایدہ تر پاکستانی ، اس زمانے میں جاپان میں کمائی کے لئے انر ہوئے تھے ۔
اتھاسی سے پہلے  جو پاکستانی یہان تھے وہ زیادہ تر بھیک مانگا کرتے تھے ، بھیک مانگنے کا طرقہ یہ تھا کہ ، خود کو سٹوڈنٹ ظاہر کرکے کسی ٹرین میں ، کوئی چیز فروخت کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ ، یہ چیز خرید کر ایک غریب طالب عکم کی مدد کریں !۔ لیکن جاپانی لوگ پیسے بھی دے دیتے تھے اور چیز بھی نہیں لیتے تھے ۔
پھر گوجرانوالہ کے کچھ لوگوں نے نئے آنے والوں سے ڈالر لے کر ان کو فکٹریون میں کام پر لگوانے کا کام شروع کردیا  تھا۔
میں خود وحدت کالونی والے منیر کو پانچسوڈالر دے کر کام پر لگا تھا۔
اس قت بھی منیر نے میرے لئے سائکل کا انتظام مفت میں کر کے دیا تھا۔
ایک بڑی دلچسپ بات ان دنوں کی مجھے یاد ہے ، بات کہہ لیں یا کہ ان دنوں کا میرا ایک احساس ۔
کہ جب بھی کوئی جاپانی منیر ایجینٹ سے منلے آتا تھا تو ایک شاھ صاحب کا بہت ذکر ہوتا تھا، “ جتین شاھ” صاحب کا ،۔
کچھ تو ان دنوں کوجرانوالہ کے ایک شاھ صاحب کی ایجینٹی کا بھی بڑا نام تھا اور کچھ ، جاپان میں کچھ شاھ صاحب فیملیاں بھی تھیں ، اور کچھ شاھ صاحبان  کے نام بھی  ہم “پینڈو” لوگوں کے لئے عجیب ہوتے ہیں ، اس لئے میں سوچا کرتا تھا کہ کوئی بہت ہی مشہور شاھ صاحب ہیں جن کا ذکر بہت زہادہ ہو رہا ہے ۔
لیکن بعد میں پتہ چلا کہ “ جتین شاھ” جاپانی میں سائکل کو کہتے ہیں ۔
بلکہ ہر چلنے والی چیز کو شاھ کا لاحقہ لگاتے ہیں ۔
پاکستان میں ہم جو لفظ “ رکشہ” استعمال کرتے ہیں ، کم ہی لوگوں کو علم ہو گا کہ یہ لفظ بھی جاپانی زبان کا ہے۔
جاپانی میں “ریڑھی” جس کو انسان کھینچتے ہیں ، اس کو “جِن ریک شاھ”کہتے ہیں ، جو کہ تین الفاظ جِن رِیک اور شاھ کا مرکب ہے ۔ جن بمعنی انسان ، ریک بمعنی کشش یا طاقت اور شاھ ! تو جی ہر چلنے والی چیز کو کہتے ہیں ۔
جن ریک شاھ ہمارے زبان میں پہنچتے پہنچتے صرف رکشہ رہ گیا ۔

جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں معیار زندگی میں امیر غریب کا فرق نہ ہونے کے برابر ہے۔
میں نے دنیا گھومی ہے ، یورپ جس کی کشش کا ایک زمانہ دیانہ ہے ، وہاں میں  نے امیر غریب کا اتنا فرق دیکھا ہے کہ، کچھ لوگ ساری زندگی اپنے بچوں کے لئے ایک سائکل تک نہیں خرید سکتے اور کچھ لوگوں کے ذاتی ہائی اور بحری جہاز ہیں ۔
لیکن جاپان میں ، امیر غریب کا فرق ، ان کی بنک سٹیٹمنٹ کی کاپی پر موجود ہندسوں تک  ہی محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ ورنہ ہر جاپانی کے گھر میں بنیادی سہولیات زندگی موجود ہیں ۔
ہم پاکستانیوں کی یہ عادت ہے کہ
بقول ایک شاعر کے
تم نے تو عادت ہی بنا لی ہے منیر آپنی
جس شہر میں بھی رہنا ، اکتائے ہوئے رہنا
لیکن دو ممالک میں رہنے والے پاکستانی اپنے پناہ دینے والے ملک کے معترف رہتے ہیں ۔
ایک جاپان اور دوسرا جرمنی!۔
میں بھی اس ملک جاپان میں اپنی غریبی کے ہاتھوں مجبور ایا تھا ۔
اج اللّٰہ کی مہربانی ہے کہ مں نے اس ملک سے پیسا تو جو کمانا تھا کمایا ، یہان سے سچائی کی راہ بھی پائی ہے ،
یہ وہ ملک ہے جہاں آپ بغیر جھوٹ بولے ، بغیر کسی کو دھوکا دئے ، بغیر کسی دھکم پیل کے بڑی ہی آسان زندگی گزار سکتے ہیں ،
بات شروع ہوئی ھی سائکلوں کی بہتات سے اور کہاں کی کہاں پہنچ  گئی ۔
یہں صرف سائکلوں کی ہی نہیں بہت سی چیاوں کی بہتات ہے ، جاپان میں جو پاکستانی لوگ بہت بڑے بڑے بزنس میں بنے ہوئے ہیں ۔
یہ صرف اتنا ہی کر رہے ہیں کہ جاپان کے کوڑے کو ٹھکانے لگا رہے ہیں ۔
ٹرک ، بسیں ، کاریں ، مشنری ، کمپیوٹر یا سرور ، ایک زمانہ تھا کہ جاپانی پیسے دے کر اٹھواتے تھے ۔
اس کوڑے کو ٹھکانے لگا لگا کر زیادہ تر پاکستانیوں کی سفید پوشی بنی ہوئی ہے ۔
لیکن مزے کی بات ہے کہ جاپانی معاشرہ ہمیں عزت دیتا ہے ۔
لیکن یہ عزت ہر کسی کو حاصل نہیں ہے ۔
جاپانی بڑے مردم شناس لوگ ہیں ۔
کھوچل اور چالاک لوگوں کو کونے لگا دیتے ہیں
اور
اصلی والے سچے اور بھلے مانس کو سر انکھوں پر بٹھاتے ہیں ۔
 جو لوگ اس ملک جاپان میں جتنے اچھے ہیں ، جاپان ان کے جنت نما ہے ۔
ہم نے دیکھا ہے کہ برے لوگ اس ملک سے ختم ہوتے چلے گئے اور اچھے لوگ یہان مستقل ہوتے چلے گئے۔
لیکن
مذہب کے نام پر گند ڈالنے والوں کا کوئی علاج ابھی تک یہ معاشرہ نہیں کر سکا ۔
منیر نیازی کے کہا تھا

شیطان کولوں تے میں بچ ویساں
منافقاں کولو مینوں ، رب بچائے۔