بدھ، 28 جنوری، 2015

معجزہ اور انسان

بنی اسرائیل کے انبیاء کو  اللہ نے طرح طرح کے معجزات عطا فرمائے تھے ۔
جن میں سے ایک معجزہ یہ تھا کہ ، اس زمانے کے نبی کو اللہ تعالی نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ
ان کے پاس ایک زنجیر تھی  جو کہ ایک حجرے میں  چھت سے لٹکی ہوئی تھی ،  اگر کوئی بندہ اس زنجیر کو پکڑ کر جھوٹ بولتا تھا تو ! زنجیر اس بندے کو جکڑ لیتی تھی ۔
چوری کے معاملے میں مشکوک بندے کو یا کہ کسی بھی لین دین کے معاملے میں  مشکوک بندے اور مدعی  کو اس زنجیر کو یہ زنجیر پکڑ کر قسم کھانے کا کہا جاتا تھا ۔
اس دور میں ایک واقعہ ہوا کہ  ایک شخص کہیں سفر پر جانے سے پہلے ، قیمتی پتھروں اور موتیوں کی ایک مالا  ، کسی دوسرے شخص کے پاس امانت رکھ کر سفر پر چلا جاتا ہے ۔
سالوں بعد جب اس شخص کی سفر سے واپسی ہوتی ہے تو ، وہ اپنی امانت کی واپسی کے تقاضے کے ساتھ ، جب پہنچتا ہے تو ؟
وہ بندہ اس بات سے انکار کر دیتا ہے کہ اس کے پاس کسی قسم کی امانت رکھی گئی تھی ۔
یاد کرانے پر وہ شخص یہ موقف  اپناتا ہے کہ ، مالا اس کے پاس لائی گئی تھی لیکن اس نے وہ مالا  مسافر کو واپس کر دی تھی ۔
یہ معاملہ وقت کے نبی کے پاس جاتا ہے ۔
دونوں فریق  زنجیر والے حجرے میں پہنچ جاتے ہیں گاؤں کے کئی اور لوگ بھی تماشا دیکھنے آ جاتے ہیں ۔
پہلے مدعی ، زنجیر کو پکڑ کر کہتا ہے ۔
میں خدا کو  حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے دوست کے پاس اپنا ہار امانت رکھا تھا  ، اب وہ یہ ہار واپس کرنے سے انکاری ہے ۔
مدعی سچا تھا ، اس لئے زنجیر سے جکڑا نہیں گیا ۔
واپس آ کر مجمع میں شامل ہوتا ہے ۔
اب ملزم کی باری ہے  ، ملزم عمر رسیدہ بندہ چھڑی کے سہارے چلتا تھا ، ملزم نے اپنی چھڑی مدعی دوست کو تھمائی  کہ اسے سنبھالو ، میں بھی قسم اٹھا لوں ۔
چھڑی مدعی دوست کو تھما کر ، ملزم  زنجیر کے پاس جاتا ہے ، زنجیر کو پکڑ کر قسم کھاتا ہے ۔
کہ
میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے  وہ ہار واپس کر دیا تھا جو کہ میرے پاس امانت رکھوایا گیا تھا ۔
ملزم  کو بھی زنجیر نہیں جکڑتی  کیونکہ ملزم سچ بول رہا تھا ۔
ملزم واپس مجمع میں آتا ہے ، اپنی چھڑی مدعی دوست سے ہاتھ میں لیتا ہے اور چلتا بنتا ہے ۔
شہر میں شور مچ جاتا ہے کہ   مدعی کا مدعا بھی سچ ہے اور ملزم  کا تردیدی بیان بھی سچ ہے تو ؟
ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی بھی پریشان ہو جاتے ہیں کہ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ملزم بھی سچا ہو اور مدعی بھی ! تو پھر دعوے کا ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی کے پاس پیغام آتا ہے کہ
ملزم نے اپنی چالاکی سے معجزے والی زنجیر کو بھی دھوکا دیا ہے ۔
ملزم نے اس طرح کیا ہے کہ
بانس کی چھڑی میں کھوکھلی بانسری میں ہار ڈال کر لاتا تھا ۔
جب مدعی نے قسم  دی اور واپس آیا تھا تو  ؟
وہ چھڑی جس کی کھوکھلی بانسری میں ہار تھا ، وہ مدعی کو تھما کر قسم کھانے چلا گیا ۔
تکنیکی طور پر اس وقت جب ملزم قسم کھا رہا تھا تو ، ہار مدعی کے ہاتھ میں تھا ۔
یعنی کہ ہار واپس پہنچ چکا تھا ۔
اپنی بریّت کی  سچی قسم اٹھا کر ، ملزم ہار سمیت چھڑی لے کر چلتا بنا ۔
حاصل مطالعہ
جنہوں نے حرام کھانا ہوتا ہے ، ان کے پاس تکنیکیں بھی بہت ہوتی ہیں ،۔

سوموار، 12 جنوری، 2015

چارلی ایبدو

فرانس کے شہر پیرس میں ، ایک جریدے “ چالی ایبدو” کے دفتر پر ہونے والے حملے اور اس میں مارے جانے والے بارہ افراد کے متعلق بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ
یہ ایک ظالمانہ کام ہوا ہے  ۔
غیر مسلم ممالک میں پناھ گزین مسلمان بھی   اپنے محافظ ممالک کے لوگوں کی ہمدریاں سمیٹنے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
اسلام  قتل کے خلاف ہے ، کوئی مسلمان ایسا کر ہی نہیں سکتا ۔
منافقت !!۔
منافقت کر رہے ہیں ۔
میں منافق نہیں ہوں سیدھی اور کھری بات کروں گا ۔

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
یہ الفاظ سننے میں بڑے پیارے لگتے ہیں ۔
لیکن آزادی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
جاپان کے معاشرے میں جہاں میں پناھ گزین ہوں ، یہ آزادی ہے ، حقیقی آزادی ، اور اس آزادی کے بھی کچھ اصول ہیں ۔
مثلاً ، اپ کے دونوں ہاتھ آزاد ہیں ،۔ جہاں تک چاہیں پھیلا سکتے ہیں
لیکن
دوسرے کی ناک یا گریبان کے حدود سے اِدھر تک !!۔
آپ کی آزادی کی حدود دوسرے کی انسانوں کی حدود میں داخل ہونے کا نام نہیں اگر اپ دوسروں کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو دوسروں کی آزادی پر حرف آتا ہے ۔
بات کرنے میں بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
نظریات پر تنقید کریں ،واقعات پر بھی تنقید کریں کہ واقعات جذبات پر اثر کرتے ہیں اچھا یا برا ، خوشی کا یا دکھ کا !۔
لیکن شخصیات پر بات کرتے ہوئے خیال رہنا چاہئے کہ کہیں کسی کی تذلیل نہ کریں ،۔
کسی کو گالی نہ دیں ۔
یا پھر اگر گالی دینی ہی ہے تو اپ کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ اپ کسی کو دشمن ڈکلئیر کر کے اس کے غصے کو ابھار رہے ہیں ۔
یہ تو کسی کی ماں بہن یا باپ کی گالی تک کا معاملہ ہے ۔
جب  کوئی اللہ کے رسول ﷺ کو گالی دیتا ہے
تو
اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ، اسلام زمین پر پہلا مذہب ہے جو کچھ حدود کے بعد لڑائی کو فرض کردیتا ہے ۔
اللہ کے رسولﷺ کی انلسٹ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

فرانس کے اس جریدے “ چارلی ایبدو” نے جو گالی دی تھی ،اس کے ردعمل میں جن کے جذبات کی توہیں ہوئی تھی انہوں نے اس گالی کا بدلہ لے لیا ۔
فرانس نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے جرم میں ان لوگوں کو قتل کردیا ۔
اب اگر فرانس یہ چاہتا ہے کہ ہم بدلہ لینے والوں کی مذمت کریں تو ؟
“ دیزولے” ( سوری) میں اس کی کبھی بھی مذمت نہیں کروں گا ۔
بدلہ لینے والوں کے جذبات مجروع کئے گئے تھے ۔
دوسروں پر تحقیر کرنے والے لوگوں کو اس بات کااحساس ہونا چاہئے کہ ،ان کے عمل کا ردعمل بھی ہو گا ، جس کی شدت کا بھی ادراک ہونا چاہئے ۔
بدلے کے لئے حملہ کرنے والے ان جوانوں کے حلمے سے پہلے دنیا کے کتنے ہی شہروں میں کتنے ہی لوگوں نے مظاہرے کر کر کے اپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ ،چارلی ایبدو والوں نے ایک معیوب کام کیا ہے
اس کی معافی مانگیں لیکن اپ لوگوں نے

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
کے نام پر لوگوں کے جذبات کا مذاق اڑایا تھا ۔

اتوار، 28 دسمبر، 2014

پھانسی کی سزا


پھانسی کی سزا کے خلاف دنیا بھر میں کچھ تنظیمیں آواز اٹھاتی ہیں ،۔
جاپان میں بھی پھانسی کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنظیمں ہیں ، جن کے اثر سے یہ ہوا ہے کہ اب جاپانی عدالتیں موت کی سزا صرف ان کیسوں میں دیتی ہیں جن میں بہیمانہ قتل کئے گئے ہوں اور قتل بھی ایک سے زیادہ افراد کے ہوں ۔
اور جن مجرمان کو پھانسی دی بھی جاتی ہے ان کو بہت خفیہ رکھا جاتا ہے ۔
جاپان جیسے معاشرے میں جہاں کیمرہ ایک عام سی بات ہے وہاں اپ کو کبھی بھی کسی کو پھانسی دی جانے کی فوٹو یا ویڈیو نہیں ملے گی ۔

صنعتی انقلاب کے پہلے دور میں مجرموں کو گولی مارنے کی سزا بھی دی جاتی تھی ۔
گولی مارنے کے عدالتی حکم کے بعد ، اس سزا کا ایک طریقہ کار متعین تھا ،۔
گولی مارنے والے نشانے باز جلاد بھی انسان ہی ہوتے ہیں ، اور کسی انسان کی جان لینا اگرچہ کہ اپنے فرض کی ادائیگی ہی کیوں نہ ہو انسان کی نفسیات کو مےاثر کرتا ہے ۔
اس لئے گولی مارنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ
ایک مجرم کو گولی مارنے کے لئے گیارہ نشانے باز جلاد ہوں گے ، جن کے سامنے گیارہ گولیاں رکھی جائیں گی کہ ان میں سے ایک ایک اٹھا لیں ،۔
ان گیارہ گولیوں میں صرف ایک گولی اصلی ہو گی ، باقی کی دس گولیاں صرف پٹاخہ ہوں گی ۔
بہترین نشانے باز گیارہ بندے ، حکم دینے والی کی آواز پر یک دم گولیاں چلا دیں گے ۔
مجرم کی موت کس کی گولی سے ہوئی ہے ؟ اس بات کا کسی کو بھی علم نہں ہے ۔
ہر نشانے باز جلاد یہی سمجھا رہے گا کہ وہ مجرم میری گولی سے نہیں مرا ہو گا ، اس بات کا “ شک” بڑھاپے میں ، یا کہ
سردیوں کی لمبی راتوں میں ، کسی کی جان لینے دکھ آ آ کر تنگ نہیں کرئے گا ۔

میرے علم کے مطابق یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں پھانسی تو کجا موت کی سزا بھی نہیں ہے ۔
امریکہ کی کچھ ریاستوں میں موت کی سزا ہے لیکن وہاں بھی پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا ، بلکہ بجلی کی کرسی اور زہر کے ٹیکے کے ساتھ سلا دیا جاتا ہے ۔
کم عقل لوگوں کی آگاہی کے لئے ، ایک بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ
پھانسی کی سزا کے خلاف آواز ، موت کی سزا کے خلاف اواز نہیں ہے ۔
پھانسی کی سزا کے خلاز آواز اٹھانے والے لوگوں کو موقف یہ ہوتا ہے کہ بہیمانہ سزاؤں کو ختم ہونا چاہئے ۔
ہاں ! اس کے بعد موت کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنطیمیں اور ممالک بھی ہیں جیسے کہ یورپی یونین میں سزائے موت نہیں ہے ۔
بے عقل معاشروں میں ، قانون کے نام پر ، امن کے نام پر یا کہ دہشت کردی کے نام پر جو قتل گولیاں مار مار کر کئے جاتے ہیں
کھیتوں میں پہاڑوں میں گلیوں اور چوکوں میں !۔
ایسے قتلوں کو ختم ہونا چاہئے ۔
 پھانسی کی سزا میں بھی مجرم کے منہ پر کالا غلاف چڑھایا جاتا ہے ۔
جو کہ مجرم کی موت واقع ہونے کے بعد پھانسی سے اتار کر ،لٹانے تک نہیں اتارا جاتا ۔
لیکن پاکستان میں ، ہونے والی حالیہ پھانسیوں  کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ، کن میں مجرم کے منہ پر کوئی غلاف نہیں ہے ، اور پھانسی پر  لٹکی ہوئی انسانی لاشوں کی فوٹو بڑے فخر سے دکھائی جا رہی ہیں ۔

جمعرات، 25 دسمبر، 2014

کھلی کچہریاں

نام تو اس کا شمس تھا لیکن فرانس میں  وہ چوہدری جمی کے نام سے جانا جاتا ہے ،۔
ہاں ہاں وہی جمی جو ائر ہوسٹس بیوی کو قتل کر کے جیل بھگت چکا ہے ۔
اس نے ایک دفعہ ایک واقعہ سنایا تھا کہ
اس کے ایک جج دوست کے سامنے بندے کو مجروح کرنے کا ایک کیس لایا گیا ۔
ایک فوجی حکومت کے دور کی بات ہے اور  ملزمان جنرل صاحب کے رشتے دار تھے ۔
جج کو صرف فیصلے کے لئے بلایا تھا اور کچہری بھی کھلی کچہری تھی ۔
جج صاحب کے ساتھ چار جرنیل بھی بیٹھے تھے ،۔
اور جج صاحب کو کہا گیا تھا ملزمان کو بری کر دینا ہے ۔
میز پر سرخ اور سفید کارڈ پڑے تھے  ۔
جج صاحب کو حکم تھا کہ سب باتیں سن کر ، آخر میں سفید کارڈ اٹھا کر دیکھا دینا ۔
بس اتنا سا کام ہے ۔
اب معاملہ یہ تھا کہ
ملزمان نے ایک بندے کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر  ، اس کی انکھیں بھی نکال دی تھیں اور زبان کی بھی کاٹ دی تھی ۔
جمی ! یہاں تک بتا کر کہتا ہے
یار خاور ! تم خود ہی بتاؤ کہ اب یہ بندھ تو نہ ہوا “ ٹنڈ” ہوا ناں جی ٹنڈ !!۔
بندہ مرنے سے تو بچ گیا تھا ، اور زخم بھی بھر چکے تھے  ۔

کہتا ہے جب یہ عدالت نما ڈرامہ چل رہا تھا ۔
تو کیا ہوا کہ مجروح کے گاؤں کے مراثی نے اس مجروح کو ٹوکرے میں ڈال کر عدالت  یعنی کہ کھلی کچہری میں لے آیا۔
اور مراثی جج صاحب کو مخاطب کر کے کہتا ہے ۔
جج صاحب اے ویکھ لو ، تے فیصلہ کر دیو! جان تساں وی رب نوں دینی اے ۔

جج بتاتا ہے کہ یہ وہ لمحات تھے جب میں نے فیصلے کا کارڈ دیکھانا تھا ۔
ٹوکرے میں پڑے اس ٹنڈ نما بندے کو دیکھ کر میرے رونکھٹے کھڑے ہو گئے ، ایک عجیب سے احساس کی لہر میرے جسم میں سے گزر گئی
 میرا ہاتھ خود بخود ہی سرخ کارڈ پر جا پڑا اور میں نے بے اختیار سرخ کارڈ اٹھا دیا ۔

جرنل صاحب نے اپنے سگوں کو کسی ناں کسی طرح بچا ہی لیا تھا ۔
اور مجھے بھی نوکری چھوڑنی ہی پڑی تھی کہ  جرنل صاحب بڑے ہی طاقت ور تھے ۔
یہاں تک بتا کر چوہدری جمی  کہتا ہے ۔
جج نے مجھے پوچھا کہ چوہدری اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟
میں نے جواب دیا تھا کہ میں بھی  یہی کرتا  جو آپ نے کیا ہے ۔
پھر چوہدری جمی مجھے پوچھتا ہے
خاور اگر تم ہوتے تو کیا کرتے ؟
میں چوہدری جمی کے سوال کا جواب نہیں دے سکا تھا
کیونکہ مجھے اپنی غربت  اور کم مائگی  کے احساس نے خاموش کردیا تھا ۔

بدھ، 17 دسمبر، 2014

سولہ دسمبر ، پشاور میں بچوں کا قتل


پشاور میں ہونے والا بچوں کا قتل ایک ایسا سانحہ ہے کہ جس نے دل کو چیر کر سکھ دیا ہے ۔
میرے بھی بچے ہیں ، اور اپ بھی جن کے بچے ہیں ،زرا ان کے منہ دیکھ کر بتائیں کہ کیا ان کی عمر ہے کہ ان کو قتل کر دیا جائے ؟
فوج نے جو جیش ، لشکر اور جتھے بنا کر قوم کی بغل میں دئے ہوئے ہیں ناں   ۔
ان کی جو فصل تیار ہو رہی ہے اس کا پھل ہے ۔
پاکستان کے مسائل کا گڑھ ہی فوج ہے ،۔
نظریہ ضروت سے لے کر عدالتی نظام کس نے تباھ کیا ؟
تعلیم میں زہر کس  گھولا؟
طاقت کے بے جا اظہار کی راہیں کس نے قوم کو دیکھائیں ۔
ملک میں مسائل پیدا کر کے ، بشمول مسئلہ کشمیر فوج کے ناگزیر ہونے  کا پروپیغینڈا اور اس کی اوجھل میں چھاؤنیوں کی لگژری لائف   کون انجوائے کر رہا ہے ۔
طاقت سے اداروں کے آڈٹ جیسی بنیادی رسم کس نے ختم کی ہے ؟
دوستو! فوج کی حمایت میں بات کرنے سے پہلے سوچ لو
کہ اس فوج کی  حمایت جھوٹ کی حمایت ہے ۔
اور جس بندے کو رب نے عقل دی ہو وہ جھوٹ کی حمایت نہیں کیا کرتا ۔

پاکستان کی سیاست اب ،اج اس دور سے گزر رہی ہے  ، کہ جس میں سیاستدانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہوا ہے کہ اب فوج کی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالا جائے گا ۔
اگر چہ کہ یہ سیاستدان بھی  فوج ہی کی پیداوار ہیں ۔
لیکن ایک قدرتی سیاستدان نے ان کو یہ راھ دکھلا دی ہے کہ
جس جس نے فوج کی غلطیوں پر پردہ ڈالا  ، وہ ہی مارا گیا ۔
اکہتر سے پہلے کے سیاستدان  باری باری خفیہ طور پر ٹھکانے لگا دئے گئے ، باقی کو کونے لگا کر بنگال کو علیحدہ ہی کر دیا  ، اس غلطی پر بھٹو نے پردہ ڈالا ، اور مارا گیا ۔
گارگل کے پہاڑوں سے نواز شریف نے ان کی جانیں بچائیں تو اس کو بے عزت کیا گیا ۔
زرداری کی بیوی ، سالے  کو قتل کر کے  قاتل تک غائب کر دئے گئے ۔
 تو اب اگر  آپریشن ضرب عضب کو کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے تو اس لئے کہ سیاستدان قوم کی فوج کا وہ چہرہ دیکھا دینا چاہتے ہیں جو کہ اس بھگیاڑ کا اصلی چہرہ ہے ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے یک دم نہیں ہوا کرتے

کوؤئیں کے پانی کو پاک کرنا ہے تو؟
پہلے اس میں سے کتا نکالنا ہو گا ۔
اداروں کو ان کی حدود اور فرائض کا علم جاننا ہو گا ۔
اور خود پر اخلاقی قدغن لگانے ہوں گے ، شتر بے مہار  کو کوئی نہ کوئی کہیں ناں کہیں یا تو قتل کر دیتا ہے یا پھر نتھ ڈال دیتا ہے ۔
اور اگر یہ دونوں کام نہ بھی ہو سکیں تو خود ہی کسی گڑھے میں گر جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سولہ دسمبر ہے ۔
آج کے دن ،  انیس سو اکہتر میں پاکستان  ٹوٹ گیا تھا ، پاکستان ٹوٹ چکا ہے ۔
لوگوں کا پاکستان ، انیس سو باون (1952ء) میں چوری ہو گیا تھا ۔
اکہتر میں انہی چوروں کے ہاتھوں سے گر کر پاکستان ٹوٹ گیا تھا ۔
جوروں کے اس ٹولے کو چوری کرنے کی عادت پڑ چکی ہے ۔
الیکشن چوری کر کے  دیتے ہیں ، رقبے اور اعزاز چوری کر کے رکھ لیتے ہیں ۔
چوروں کے اس بکٹیریا کا ایک ہی تریاق ہے ۔
وہ ہے انصاف!۔
صرف اور صرف خالص انصاف کی فضا ہی  میں ان کا دم گھٹ سکتا ہے ، کہ جس سے ان  چوروں کی موت واقعی ہو سکتی ہے ۔

منگل، 16 دسمبر، 2014

مائکرو بلاگنگ ،فیس بک کے کچھ اسٹیٹس ۔


میں نے ، آج تک  کوئی ایسا گھر ، نہ دیکھا نہ  سنا ہے
کہ
جہاں “فارن” سے ائے ہوئے “کماؤ” سے کھانے کی مد میں پیسے نہ نکلوائے جاتے ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے ، آج تک  کوئی ایسا گھر ، نہ دیکھا نہ  سنا ہے
کہ
جہاں “فارن سے آئے ہوئے “کماؤ”  کی دس دن مہمانوں کی طرح خدمت کر کے یہ احساس دلایا جاتا ہو
کہ جو کمائی تم بھیج چکے ہو اس کمائی سے ہم “خود انحصار” ہو چکے  ہیں ۔

جاپان میں اپ کسی بھی اسٹیشن یا سٹور کے مردانہ ٹوائلٹ میں ،پیشاب کر کے اس ٹوائلٹ کو جھک کر  ادب دیں اور کہیں کہ مہربانی ۔
ٹوائلٹ اپ کے پیشاب کو پانی چھوڑ کر بہا دے گا۔
اپ اس کو بے شک ٹوائلٹ کی تمیز سمجھ لیں  ۔
لیکن یہ جاپان کی تکنیک کا کمال ہے ۔

گندی جگہوں پر شیاطین کا تو اپ نے پڑھا سنا ہی ہو گا؟
جاپان کے ٹوایلٹ ، اپ کوئی بٹن دبائیں یا نہ دبائیں “ گند” کو ٹھکانے لگا کر اپ کے استنجے میں بھی مدد کرتے ہیں ۔
یہ کسی پیرمجیب سنگھ  کا کمال نہیں ہے کہ اس نے شیاطین کو قابو میں کر کے “کام “ پر لگایا ہوا ہے ۔
یہ جاپان کی تکنیک کا کمال ہے۔

آپ ٹوٹنی کے سامنے پاتھ کرتے ہیں ،اور پانی کی دھار نکل کر اپ کے ہاتھ چوم لیتی ہے ۔
ساتھ میں ایک ٹوٹنی ہے اس اگے ہاتھ کریں ، یہ صابن کی پچکار مار کر اپ کی کثافتوں کو دور کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔
یہ سارا کمال کسی  پیر ٹوٹنی سنگھ سائیں کی کرامات کا نہیں ہیں ۔
یہ جاپان کی تکینک کا کمال ہے ۔

ٹیچر بتا رہا تھا ،  آکسیجن انسانی زندگی کے لئے بہت ضروری چیز ہے جس سے ہم سانس لیتے ہیں ، آکسیجن 1773ء میں دریافت کی گئی تھی ۔
جیدو ڈنگر نے یہ  سن کر کہا۔ ربّا تیرا شکر اے ، میں 1773 کے بعد پیدا ہوا ، ورنہ میں نے تو مر ہی جانا تھا ۔


بیوی ، خاوند سے ! میں تم سے بات نہیں کرنا چاہتی !۔
خاوند : ٹھیک ہے ۔
بیوی : وجہ نہیں پوچھو گے ؟
خاوند: نئیں ! میں تمہارے فیصلے کی  قدر کرتا ہوں ، اور کے صحیع ہونے کا یقین کرتا ہوں ۔

گامے نے خان کو بتایا ، مجھے الہ دین کا چراغ ملا ہے ۔
میں نے اس جن کو کہا کہ میرے خان کی عقل کو دس گنا کر دو!۔
ریڈی میڈ خان نے اشتیاق سے پوچھا ،تو؟ اس نے کیا جواب دیا ؟
جن کہتا ہے ریاضی کی رو سے صفر پر ضرب کا اصول لاگو نہیں ہوتا ۔

گاما بتا رہا تھا کہ
جب بھی بیوی خاوند کی اٹینشن( توجہ ) چاہتی ہے تو بیمار اور پریشان بن جاتی ہے ۔
لیکن اگر خاوند بیوی کی توجہ چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ
اچھے کپڑے پہن کر خوشبو لگائے اور خود کو خوش خوش ظاہر کرئے ۔
بیوی خود ہی پوچھ لے گی ۔
کیڑی سوکن کول چلا ایں ؟؟

انڈیا میں ہونے والے میچ میں پاکستان کی جیت پر اسٹیڈم میں چھا جانے والی خاموشی  !۔
تین کے مقابلے میں چار  گول ، ایک زیادہ گول سے چھا جانتے والے خاموشی کو ایک  “انگل “ نے توڑا ۔
اور ایسا توڑا کہ ایک طوفان بد تمیزی برپا ہے ۔
اچھے کھیل پر دشمن کو بھی داد دینے والے سپورٹ مین سپرٹ  ،اسٹیڈیم میں کسی ایک بھی بھارتی میں اگر نہیں تھی تو؟
انگل کی تکلیف کی برداشت ہی پیدا کر لیتے ۔

غیر شادی شدہ لڑکوں کو اس “ ایپلی” کا کم ہی علم ہے۔
جس کے ایکٹو ہوتے ہی سسٹم کی ساری ویب سائیٹس  بند ہو جاتی ہیں ، سارے چاٹ روم ہائڈ ہو جاتے ہیں ، سبھی ضروری فولڈر کچرا اور وال  پیپر پر بیوی کی فوٹو لگ جاتی ہے ۔
اس ایپلی کو شادی کہتے ہیں ۔

دنیا میں ، اونچی ترین پہاڑ کی چوٹی، ایوریسٹ ہے ۔
سب سے لمبا دریا ، دریائے نیل ہے ۔
سب سے لمبا ہائی وے روڈ کناڈا میں ہے جس کی لمبائی آٹھ ہزار کلومیٹر ہے ۔
ورڈ بنک کا ہیڈ کواٹر واشنگٹن ڈی سی (امریکہ ) میں ہے ۔
بین القوامی عدالت ، ہیوگ ( ہالینڈ) میں ہے ۔
سعودی عرب  دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں کوئی بھی قدرتی ندی یا دریا نہیں ہے  ۔

جمعہ، 28 نومبر، 2014

جیدو ڈنگر

جیدو ڈنگر! گھر جنوائی تھا ، امیر بیوی کو گامے کے گھر سے نکلتے دیکھ کر بھی اس کے گھر پہنچے تک کچھ نہیں کہا ۔
گھر پہنچ کر جیدو ڈنگر کی نظریں الٹی پہنی شلوار کی سلائی میں الجھ کر رہ گئیں  ۔
جیدو ڈنگر نے ڈرتے ڈرتے جب سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے
اس دن سے جیدو کی بیوی نے جیدو کی زندگی حرام کئے ہوئی ہے کہ
تم مجھ پر شک کرتے ہے ، یہ دشمنوں کی سازش ہے
ہمارے گھر کا سکون  تباھ کرنے کی  ۔
جیڈو ڈنگر کی بیوی کہتی ہے کہ  کسی بھی گھر کا سکون تباھ کرنے کے لئے اس گھر کی بیوی کے کردار کو مشکوک کرنے والے ہی اس گھر کے اصلی دشمن ہوتے ہیں ۔
جیدو ڈنگر تو تھا ہی اب اس پر شکی مزاج اور دشمنوں کا “لائی لگ “ ہونے کا لیبل بھی لگ گیا ہے ۔

نوٹ : یہ ایک فکشن کہانی ہے ، کسی فرد یا ادارے کے کردار سے مطابقت محض اتفاقیہ ہی ہو سکتی ہے ۔

اتوار، 26 اکتوبر، 2014

لیبل


سرکے کی بوتل پر سردائی کا لیبل لگادینے سے بھی سرکے کی ترشی پر کوئی فرق نہیں پڑتا  ۔
لیکن ہماری قوم کا عمومی رویہ یہ بن چکاہے کہ اپنے اندر کی اصلیت کو چھپانے کے لئے اپنے لیبل بدل رہے ہیں ۔
دھوکہ دہی کہ یہ کوشش وہ دوسروں سے کم اور اپنے اپ سے زیادہ کر رہے ہیں  ۔
بڑی کوشش کر کے اپنے پر لگانے کے لئے ایک لیبل کسی مستند حکومت سے لے لیتے ہیں ۔
برطانیہ سے امریکہ سے فرانس سے جاپان سے ، بڑی ہی کوشش کر کے پاسپورٹ کا لیبل لے لیتے ہیں ۔
اس لیبل کو نیشنیلٹی ( قومیت) کہہ کر خود پر چپکا لیتے ہیں ۔
لیکن کیا برٹش پاسپورٹ سے اپ انگریز ، ویلش یا اسکاٹ ہو جاؤ گے ؟
جہاں جہاں اپ کو اپنا لیبل دیکھانے کی ضروت پڑے گی  ،وہاں وہاں دیکھنے والا دل میں سوچے کا “ سرکے کی بوتل پر سردائی کا لیبل “ ۔

اسی طرح  کیا خود پر ملک ، شیخ ، رحمانی  وغیرہ کا لیبل لگانے سے  کیا اپ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اب اپ کے باپ دادا کا پیشہ بھول گئے ہیں ؟
خود فریبی میں مبتلا ایسے معاشرے میں  ، اگر کوئی بندہ   اپنے اپ پر وہی لیبل لگا لے جو کہ اس بندے کے اندر ہے تو؟
ہر بندہ دیکھ کر چونک چونک جاتا ہے ۔
جب کوئی مجھ سے پوچھتا ہے
آپ کا تعلق پاکستان میں کس جگہ سے ہے ؟
جی میں تلونڈی کا کمہار ہوں !!۔
یقین جانیں کہ اج تک میں نے ایک بھی بندہ ایسا نہیں دیکھا  جو یہ سن کر چونکا نہ ہو ۔
اپنی اصلیت کو ٹائٹل میں چھپائے ہوئے میرے مخاطب کو  ایسے لگتا ہے کہ خاور نے اس کو ننگا کر دیا ہے ۔
ہر بوتل کے لیبل کو دیکھ کر  بوتل کے اندر جھانکنے کی عادی قوم  ، جب ہر لیبل کے کی بوتل کے اندر مختلف مال دیکھتی ہے
تو ایسی عوام کو  اصلی چیز دیکھ حیرانی ہوتی ہے ۔

اتوار، 19 اکتوبر، 2014

منظم کتوں کی کہانی ۔

ستر کی دہائی کے اخری سالوں میں سے کسی سال کی بات ہے ۔
ہمارے گاؤں میں  ایک کتے نے  تین اور کتے ساتھ ملا کر ایک ٹولی بنا لی تھی  ۔
لیڈر کتے  کی قیادت میں  یہ چار کتوں کے ٹولے کا گاؤں والوں کو اس وقت احساس ہوا جب ان کتوں نے جوگیوں کا عید پر قربانی کے لئے لیا ہوا  بھیڈو لیلا پھاڑ کھایا ۔
جوگیوں کے گھر کے سامنے ہی  پسرور روڈ کے دوسری طرف ، پرانی والے چوہدریوں کے کھیتوں میں ، کتوں کی اس واردات کو دیکھنے والے لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی ۔
بھیڑ اس لئے لگی کہ کتوں کو  بھیڈو پر حلمہ کرتے دیکھ کر پہلے پہنچنے والے  لوگوں لوگوں نے جب کتوں کو ڈرا کر بھگانے کی کوشش کی تو ، کتے بجائے ڈرنے کے ،  غرا کر ان لوگں پر بھی لپکے  ، جس سے ڈر کر لوگ ایک فاصلے پر کھڑے ہو گئے  اور دوسروں کو بھی نزدیک جانے سے منع کرنے لگے ۔
سارے گاؤں میں ان کتوں کی دلیرانہ واردات کے چرچے ہونے لگے  ۔
دوسرے ہی دن ان کتوں نے فقیروں کی کھوئی کے اوپری طرف ، کمہاروں کے  بھیڈو لیلے کو پھاڑ کھایا ۔
چاروں کا یہ ٹولہ  پسرور روڈ پر بڑی منظم اور دھلکی چال میں چلتا ہوا گاؤں کے شرقاً اور غرباً  گشت کرنے لگا ۔
قصائیوں کے پھٹوں کے نزدیک بڑے  دلیرانہ انداز میں بیٹھ جاتے تھے اور جب تک یہ چار کا ٹولہ ہوتا تھا  کسی اور کتے کو قصائی کے پھینکے ہوئے چھچھڑے کی طرف لپکنے کی جرآت نہیں ہوتی تھی ۔
لیکن منگل بدھ کے دن جب کہ قصائی گوشت کا ناغہ کرتے ہیں ۔ یہ چار کا ٹولہ کسی نہ کسی کی بھیڑ یا بکری پھاڑ کھاتے ۔
دو تین ہفتے گاؤں میں انہی کے چرچے اور باتیں ہوتی رہیں ، ۔ بڑی عمر کے مردوں کے ہاتھ میں چھڑیاں نظر انے لگیں کہ جب یہ کتے سڑک پر چل رہے ہوتے تھے  تو سامنے سے انے والے انسانوں کو طرح دے کر گزرنا پڑتا تھا ، ورنہ منظم کتے، دانت نکوستے ہوئے پاس سے گزرتے تھے تو بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا تھا ۔
دین دار لوگوں نے ایک دفعہ  ڈانگیں لے کر منظم ہو کر ان کتوں پر حملہ کیا  ،  پہلے تو کتے ڈٹ گئے  لیکن آدمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے غراتے ہوئے بڑی اکڑ سے پسپا ہوتے ہوئے کھیتوں میں فرار ہو گئے ،لیکن چند ہی گھنٹوں کے بعد پیپل والی ٹیوب ویل موٹر کے پاس ٹہل رہے تھے ۔
گوشت کے ناغے کے ، منگل بدہ کے روز طھی ان کتوں نے واردات ڈالی اور گاؤں میں قربانی کے لئے پالے ہوئے دو جانور اور کم ہو  گئے ۔
دین داروں کے ڈانگ بردار ناکام حملے کے بعد  خوشی محمد فقیر  کی قیادت میں  رائفل اور ڈانگوں کے ساتھ کتوں کو قتل کرنے کی مہم نکلی ۔ خوشی محمد فقیر رائفل لئے گھوڑے پر سوار تھا  اور ساتھ میں ڈانگ بردار دین دار ہانکا کرنے اور گھیرنے کے لئے شامل تھے ۔
ان لوگوں نے چار کے ٹولے کتوں کو” ہوئے والی” (گاؤں) اور تلونڈی کے درمیانی کھیتوں میں  گھیر لیا ، راجباھ ( سوئے ) کی طرف فرار ہوتے کتوں میں سے  تین کتے خوشی محمد فقیر نے رائفل کے فائیر کر کے مار گرائے ، لیکن لیڈر کتا فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا  ۔
لیڈر کتا کئی دن تک گاؤں میں نظر نہیں آیا ۔
کوئی دو ہفتے بعد یہ لیڈر کتا گاؤں میں پھر نظر انے لگا ، لیکن اب یہ کتا بڑا مسکین سا بنا ہوا  سڑک کے درمیان چلنے کی بجائے  مکانوں کی دیواروں کے ساتھ ساتھ چلتا تھا ۔
قصائیوں کے پھٹے کے پاس چھیچھڑوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے کتے اس کو دیکھ کر اس کے لئے جگہ چھوڑ دیتے تھے  ۔
اس لیڈر کتے  نے بھی دوسرے کتوں اور انسانوں پر غرانا چھوڑ دیا تھا ۔
اس کتے کو پھر ساری زندگی کوئی ٹیلنٹ والے کتے نہ مل سکے جس لئے یہ لیڈر کتا ایک اور ٹولہ نہ بنا سکا ۔
یہ کتا مدتوں زندہ رہا  ۔ گاؤں میں لوگ اس کی طرف اشارے کر کے بتایا کرتے تھے ۔
یہ ہے وہ کتا جو ساتھی کتوں کے ساتھ مل کر لوگوں کے جانور پھاڑ کھایا کرتا تھا ۔

جمعرات، 25 ستمبر، 2014

تکّے فیل ، صوفی

یہود نصاری کی ترقی سے مرعوب جاہلوں کا کوئی علاج نہیں ہے
رائٹ برادرز نے سائکلوں کے پرزے لگا کر جو جہاز بنایا تھا
وہ ابھی کل کی بات ہے
ان جاہلوں کو معلوم نہیں  کہ داتا گنج بخش  نے کئی صدیاں پہلے اپنی کھڑاواں اڑا کر دیکھا دی تھیں ۔
صوفی کی باتیں سن کر گامے کے منہ سے سوال نکل گیا
اچھا؟ وہ کیسے ہوا تھا؟
تم بھی جاہل ہی ہو  تم یہ بھی معلوم نہیں کہ لاہور میں دودہ لینے والے جوگی  کے دودہ میں داتا صاحب نے “انگل “ ڈال دی تھی جس پر جوگی غصے میں داتا صاحب سے مقابلہ کرنے آ گیا تھا
اور جوگی  ہرن کی کھال پر سوار اڑتا ہوا  ایا تھا
داتا صاحب نے اپنی کھڑاواں کو حکم دیا تھا جو اڑ کر جوگی کے سر پر لگنے لگی تھیں ۔
گاما :اس طرح تو فیر داتا صاحب کی فلائی  ترقی سے بھی پہلے جوگی کی فضائی ترقی ہو گئی ناں جی ؟
اوے گامیا بد بختا  تم ایک ہندو کو داتا صاحب پر ترجیع دے رہے ہو ؟
تم بھی یہود نصاری کی ترقی سے مرعوب جاہل ہو جاہل ۔
صوفی صاحب ، ہندو مریخ پر پہنچ گئے ہیں ، لیکن اپ کی فلائی ترقی کہاں گئی کہ طالبان پر جب فضائی حملے ہوئے تھے تو کھڑاواں والی تکنیک  والے کہاں تھے ؟
اور یہ جو تئیس  ستمبر سے امریکیوں نے خلافت اسلامیہ پر فضائی حملے شروع کئے ہیں ۔
یہاں بھی کوئی کھڑاواں لے کر آؤ،!۔
صوفی صاحب علم وہ ہوتا ہے جس پر عمل کی تحقیق ہو کر ترقی کرئے یہ کیسا علم ہے کہ
کھڑاواں ایک ہی دفعہ اڑی تھیں ، اس کے بعد کیا کھڑاواں کے تکے فیل ہو گئے ہیں ؟
ایک عام سا مستری سائکل کے تکے ٹھیک کر لیتا ہے
تم صوفیوں نے صدیوں میں ایک بھی ایسا  ولی پیدا نہیں کیا جو کھڑاواں کے تکے ہی ٹھیک کر لیتا ۔