جمعرات، 27 اگست، 2015

معاشرہ اور معاشرت

میں ایک بیوہ ہوں ، خاوند کو مرئے کئی سال ہو چکے ہیں ، میرا ایک بیٹا بھی ہے  ، جو کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میرے دیور کا کا بچہ ہے ۔
میرے خاوند کے اس چچا زاد کے گھر کی دیوار سانجھی ہے ناں ، شائد اس لئے  ،۔ میرے بچے کی پیدائش کے ایک ہی سال میں میرا خاوند جوانی میں ہی بیمار پڑ کر  فوت ہو گیا تھا ، محلے میں سبھی یہ کہتے ہیں کہ میں نے دیور کے ساتھ مل کر زہر دے دیا تھا ۔
بچہ چھوٹا ہے ، گھر میں اکیلی ہوتی ہوں ، دیور اور دیگر سسرالی  رشتہ دار  کڑوے گھونٹ کچھ ناں کچھ مدد امداد کرتے ہی رہتے ہیں ۔
پچھلے  کئی ہفتوں سے  رات کو، کوئی  میرے گھر کی باہر سے کنڈی لگا جاتا ہے  ،۔
صبح لوگوں کے جاگنے تک میں رفع حاجت کے لئے بھی نہیں نکل سکتی ، دیوار پھلاند کر باہر جانا  عورت ذات کے لئے  مشکل ہے ۔
بہت ذہن دوڑایا کہ کہ کون ہو سکتا ہے ، کچھ سمجھ نہیں لگی ،۔
اخر ایک رات میں نے ساری رات جاگ کر کنڈی لگانے والےکو پکڑنے کا فیصلہ کر لیا ،۔ میں کوٹھے پر بیٹھ گئی  کہ اج ضرور  شرارتی بندے کو پکڑ کے چھوڑوں گی ۔
ساری رات چھت پر بیٹھے گزر گئی ہے ، اوس سے کپڑے بھیگ چکے  ، سوچوں کی یلغار کہ  لوگ کسی بیوہ کو زندہ کیوں نہیں رہنے دیتے ،۔
دیور بھی اب شادی کر کے پڑوس میں ہی  اپنی بیوی کے ساتھ ہنسی خوشی کر کے میرا دل جلاتا ہے 
بھری جوانی کی اداس راتیں میں نے دیور کے انتظار میں گزار دیں ، ۔
رات ڈھلنے لگی لیکن کوئی بھی بندہ میرے دروازے کے سامنے نہیں گزار ، میں یہ سوچنے لگی کہ شائد آج  میری محنت اکارت جائے ، ، کنڈی لگانے والا بندہ آج ناغہ کرنا چاہتا ہوگا ۔
تہجد کے وقت ہو گیا ، محلے کے صوفی صاحب  کو آتا دیکھ کر میں مایوس ہو گئی کہ اج  شرارت کرنے والا بندہ نہیں آئے گا ۔ اب تو لوگ تہجد کے لئے جاگ گئے ہیں ، اب کون آئے گا  ۔
 صوفی صاحب  کا جانوروں والے باڑے کا راستہ میرے گھر کے سامنے سے گزرتا ہے ۔ میں سوچوں میں گم  خالی نظروں سے صوفی صاحبب کو گزرتے دیکھ رہی تھی کہ  مجھے حیرانی ایک جھٹکا لگا ، صوفی صاحب گلی کے درمیان سے اچانک میرے دروازے کی طرف مڑے اور ایک سیکنڈ کے عرصے میں میرے کواڑ کی کنڈی لگا کر چلتے بنے ۔
 میں نے گالی دی اور صوفی صاحب پر اینٹ پھینک ماری ،۔
صوفی صاحب بڑھاپے میں بھی بہت پھرتیلے نکلے اینٹ کے وار سے بچ کر نکل گئے  ۔
صبح میں میں نے شور مچا کر سارے محلے کو اکٹھا کر لیا ۔
کہ صوفی صاحب نے یہ کام کرتے ہیں ۔
سارے محلے نے مجھے چھوٹا کیا ، ایک بڑی برادری کے بڑے بھائی ،اور  فارن کی کمائی والے بیٹوں کے باپ  صوفی صاحب کو کسی نے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا کہ یہ بیوہ عورت جو کہہ رہی ہے ، اپ کا اس پر کیا موقف ہے  ۔
اگر رسمی طور پر کسی نے صوفی صاحب سے بات کی بھی تو ؟
صوفی صاحب نے کہا
بےچاری  بیوہ ،دیور نے بھی شادی کر کے اپنا گھر بسا لیا ہے ناں اس لئے مرد کی خواہش میں  اب الزامات پر اتر آئی ہے ، ۔
میں اس بات سے ہی مطمعن ہوں کہ اینٹ کا اوچھا ہی سہی وار کرنے سے یہ ہوا کہ اب میرے دروازے کی کنڈی کوئی نہیں لگاتا ۔

ہفتہ، 22 اگست، 2015

عمر رفتہ

کوئی بیس سال بعد اس کو لندن جانے کا اتفاق ہوا ،۔ایک وقت تھا کہ پیریس سے لندن ہر ہفتے کا ویک اینڈ گزرتا تھا ، ہفتے کی شام لندن پہنچ کر ساری رات گلیون کی آوارہ گردی ہوتی یا کسی ناں کسی سہیلی کے روم میں  شب بسری کر کے اتوار کی شام کو پیرس واپس ،۔
یورپ کے شمالاً جنوباً شہروں کے نام  گامے کو  اپنی سہلیوں کے ناموں سے یاد رہتے تھے ۔
پھر یہ ہوا کہ یورپ چھوڑا  ، مشرق میں بسیرا کیا ، مشرق بھی کہ مشرق بعید  جس کو خاور کہتے ہیں فارسی میں  ۔
فجر کی نماز  ، مسجدوں سے زیادہ اسٹیشنوں کے بنچوں پر ادا کرنے والے اس پلے بوائے کو یورپی لوگ مسلمان کہتے تھے اور اس کے اپنے اس کو کافر کہتے تھے اور وہ بھی پیٹھ پیچھے !۔
ایمبارکمنٹ کے اسٹیشن سے جوانی کی عادت کے مطابق پیدل ہی چلتے ہوئے چئیرنگ کراس کے اسٹیشن کے پاس سے گزرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ٹیلی فون کا وہ لال بوتھ جو یہاں کونے میں ہوتا تھا  ، سمارٹ فون کی بہتات میں اپنی بقا کی جنگ ہار گیا ،۔
ٹیلی فون کے لال بکس والی جگہ پر اب کوڑے والوں کا  صفائی کا سامان پڑا تھا ۔
ٹگالگر سکوائیر کے کبوتروں والے فوارے کی بغلی سڑک کی جڑہائی چڑھتے اس کو اپنی عمر  کا احساس بہت شدت سے ہوا کہ یہ بھی کوئی چڑہائی ہے کہ جس میں اج ٹانگوں کے مسل کھچ رہے ہیں ،۔
ٹفالگر کے گرد ادھا چکر کاٹ کر  سیدہے ہاتھ کو مڑتے ہی ماتسکوشی کا براڈڈ چیزوں کا سٹور نظر آیا ۔
یہاں ساتھ ہی آکسفورڈ سٹریٹ کی کتابوں کی وہ دوکان بھی اس کو یاد آ گئی ، جہاں گھنٹوں کھڑے ہو کر کتابیں پڑھا کرتا تھا ، زیبراکراسنگ کے بغر ہی درمیان سے سڑک کراس کر کے جب کونے والی دوکان تک پہنچا تو  ، کتابون کی دوکان ختم ہو چکی تھی اب وہاں گروسری سٹور تھا ۔
جب  ، جس  ملک سے کتابوں کی دوکانیں ختم ہونے لگیں اور کھانے کی دوکانیں بڑھنے لگیں تویہ اس ملک کے علمی انحطاط کی نشانی ہوتی ہے ۔
کسی سیانے کا یہ قول اس کے ذہن میں آیا تو  اس سوچ کی لہر بھی گزر گئی کہ
برطانیہ عظمی بھی علمی انحطاط کا شکار ہو سکتا ہے ؟
ہاں ! کیوں نہیں ، کہ اج علم کے ممبے تو امریکہ سے پھوٹتے ہیں ۔
پکڈلی کے فوارے کے پاس سے گزر رہا تھا کہ نسوانی آواز نے اس کو چونکا دیا جو کہ اس کو نام لے کر پکار رہی تھی ۔
عورت کی سکل دیکھ کر دو لمحے بے تاثر سے گزر گئے کہ عمر رفتہ کے اثار سے اصلی چہرہ نمودار ہوا ۔
ایمی ؟؟
ہاں ایمی ۔ تم مجھے کیسے بھول سکتے ہو ۔ یا کہ تم جتنی مضبوط یادداشت والے ہو  ، ہو سکتا ہے کہ سینکڑوں کی شکلیں اور نام  تمیں یاد ہوں گے ۔
تمہاری طنز کرنے کی عادت نہیں گئی ، کرتی کیا ہو؟
ساتھ چلو ، اکیلی ہی ہوں شوہر سے طلاق لے لی ہے ، بچے شوہر کے پاس ہیں ، نائٹس بریج کے پاس اپارٹ میں رہتی ہوں۔
گاما رات ایمی کے گھر ہی رہا ، صبح  فجر کی نماز  ادا کر رہاتھا کہ ایمی بھی جاگ کر رہیں آ گئی ۔
جوانی میں بھی بغیر غسل کئے نماز ادا کرنے والے سے میں کیسے توقہ کرسکتی ہونکہ وہ بڑھاپے میں  نماز چھوڑ دے گا ۔
گامے نے یہ سن کر بے تاثر سی نظریں اس کے چہرے پر گاڑ دیں ۔
جوانی میں تم سے مل کر پہلی دفعہ علم ہوا تھا کہ مسلمان نماز بھی پڑھتے ہیں ، اور تمہاری  ہر فجر کی نماز کے بعد لازمی وچھوڑے کی تلخ یادیں بھی ہیں ۔
لیکن ہو ہی ہرجائی  ، نہ تم میرے تھے اور ناں کسی اور کے پتہ نہیں کتنی لڑکیون نے تمہاری فجر کی نماز کو  یادوں میں بسا رکھا ہو گا کہ  گاما جب بھی فجر کی نماز ادا کرتا ہے تو پھر شائد ملے کہ نہ ملے ۔
مجھے بھی تو اج رات ، تم کوئی اکیس سال پہلے ادا کی فجر کی نماز کے بعد ملے ہو ۔
،تم نے مجے بوڑھا کہا ہے ۔ کیا میں واقعی بوڑھا ہو گیا ہوں ؟
گامے نے بڑے کرب سے پوچھا ۔
ہاں تم بوڑھے ہو چکے ہو ، تمہاری جوانی کی ہر لڑکی یہ سمجھتی تھی کہ گاما کبھی بوڑھا نہیں ہو گا
اور شائد میں پہلی عورت ہوں جس نے اج کی گزری رات میں تمہارا زور ٹوٹتے محسوس کیا ہے ۔
تم آئیندہ جب کسی پرانی یا نئی سہیلی کے ساتھ ملو گے تو  آئینے میں دیکھنا
تمہاری پیٹھ ڈھلک چکی ہے ۔
ہاں تمہاری پیٹھ کا گوشت ۔
اب تمارے پاس دوسری یا تیسری دفعہ کسی پیاسے کی پیاس بجھانے کی نمی بھی نہیں ہے  ۔
گاما سیڑہیاں اترتے ہوئے سوچ رہا تھا ۔
اب مرنے تک نامعلوم کتنی عورتوں کے طنز سننے پڑیں گے ، وہ عورتیں جن کو وقت گزاری  کا پرزہ سمجھتا رہا وہ بھی گوشت پوست کی انسان تھیں ان کے بھی جذبات تھے جو اب  جب جب بھی سننے کو ملیں گے طنزمیں ہی ملیں گے ۔

منگل، 18 اگست، 2015

اُبون ( ایک جاپانی تہوار) کیا ہے ؟


دوسری جنگ عظیم میں  جنگ پر جانے والے فدائی لوگ  جن کا مشن ہی جان دے کر سرخرو ہونا ہوتا تھا ۔
جب خود کش حلمے کے لئے جاتے تھے تو ان کی طرف سے ایک خط گھر  کو لکھا جاتا تھا ۔
کہ
اے میرے ماں بات ! اپ کو ایک سفید بکس  گھر واپس آ کر ملے گا ،اپ کی اورمیری ملاقات اب یاسکونی   کے روحوں کے مسکن میں ہو گی ۔

جن لوگون کے پیارے  جنگ میں شہید ہو جاتے ہیں  ، ان کی روحیں “یاسکونی” نامی جینجا میں  سکونت کرتی ہیں ۔ ان  کو یاسکونی کے ٹیمپل سے لا کر  گھر میں اُبون  منائی جاتی ہے ۔

جاپان میں “ اُبون” کہ چھٹیاں   سترہ اگست کو ختم ہوئی ہیں ۔ گیارہ سے سولہ آگست تک جاپان میں ابون  منایا گیا ۔
ابون کیا ہے ؟
اُبون  جاپان میں اپنے فوت ہو چکے رشتہ داروں  کی روحون کے ساتھ منایا جانے والاے ایک ہفتہ   ہوتا ہے ۔
اُبون کے شروع میں گھر والے اپنے پیاروں کے مدفون جینجا ( قبرستان کے ساتھ منسلک ٹیمپل) میں   جاتے ہیں ، جہاں سے ایک موم بتی کے  شعلے اور روشنی کے ساتھ ، اپنے بزرگون کی روحوں کو لے کر اپنے گھر لے آتے ہیں ۔
یہ موم بتی گھر میں ایک مخصوص جگہ پر رکھ دی جاتی ہے جہاں سے تقریباً گھر کے سبھی افراد کو دیکھا جاسکے ۔
اُبون کا ایک ہفتہ ( کم و بیش)  دادی دادا ، نانا نانی اور دیگر مرحومین کی روحیں  گھر والوں کے ساتھ گزارتے ہیں  ۔
جاپان میں یہ ایک ہفتہ  دوردراز نوکریاں کرنے والے جوان  بھی اور تعلیم حاصل کرنے کے لئے گھر سے دور طالب علم بھی  گھر پلٹ کر اپنے دن رات اپنے پیاروں کی روحوں کے ساتھ گزارتے ہیں ۔
جاپانی بہت بہادر اور غیرت مند قوم ہیں ، جاپانی اپنے شہیدوں کی بہت قدر کرتے ہیں اور  معاشرے میں ہر سطح پر شہیدوں  کو رسپکٹ دی جاتی ہے  ۔
جاپان کے مختلف دیہات  یا شہروں میں  اُبون  پر روحون کو گھر میں ویلکم کرنے کے لئے اور  وداع کرنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے جاتے ہیں ، ہر طریقے میں گھر والوں کی ، اپنے مرنے والون کے ساتھ خلوص اور عزت کی جھلک واضع نظر آتی ہے ۔
یہاں   جس علاقے میں  یا گاؤں میں راقم کا بسیرا ہے ، یہاں لوگ اُبون کے شروع میں  گھر کے باہر سڑک پر

ویلکم کے لئے ایک تعظیہ سا بناتے ہیں ، اس فوٹو کی طرح کا۔


بینگن اور کھیرے کو لکڑی کی ٹانگیں لگا کر  گھوڑے کی شکل دی جاتی ہے ، فروٹ  شراب اور دیگر کھانوں کی چیزیں رکھی جاتی ہیں ۔
اگر بتیوں کے بنڈل کے بنڈل جال کر ان کو ویلکم کیا جاتا ہے

اور وداع کرتے ہوئے بھی  اس تعظیے کے پاس سے گزارا جاتا ہے ۔
اور اس دن بھی اگر بتیان چلائی جاتی ہیں ،۔
جتنے دن روحیں گھر کے اندر موجود ہوتی ہیں اتنے دن یہ اگر بتیاں ، روحوں سے منسلک روشنی کے سامنے جلائی جاتی ہیں  ۔

منگل، 28 جولائی، 2015

نیکی اوربدی کا تصور


یہ جو نیکی اور بدی کا تصور ہے ناں ؟
اس کے متعلق ،میرے اردگرد کے کم ہی لوگ جانتے ہیں ۔
یہ جو  نیکیاں ہیں ناں جن کے کمانے کے طریقے مولوی لوگ بتاتے ہیں ۔
اور یہ جو گناھ ہیں ناں جن کے معاف ہوجانے کی نوید سناتے ہیں ۔
یہ ساری نیکیاں اللہ کے لئے کی جانے والی نیکیاں ہوتی ہیں اور ، یہ سارے گناھ اللہ کی نافرمانی کے گناہ ہوتے ہیں ،۔
دس گنا کی نیکیاں ، ستر گنا کی نیکیاں اور عام نیکیوں کی مقدار جو بتائی جاتی ہے
ان کی حثیت یہ ہوتی ہے کہ
اللہ کے پاس ایک اکاؤنٹ اپ کے نام کا کھلا ہوا ہے جس میں اپ کی نیکیاں جمع ہو رہی ہیں ۔ عبادات سے اپ اپنے اس اکاؤنٹ کو بھر رہے ہیں ۔
اور گناھ ہیں جو آپ قرضہ لے رہے ہیں ۔
روز محشر اپ کے اکاؤنٹ کا بیلنس کیا جائے گا ، اگر نیکیان زیادہ ہوئیں تو اپ اللہ کی نظر میں سرخرو ہوئے اور اگر گناھ زہادہ ہوئے تو
اللہ کی رحمت اور بخشش کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کی سفارش وغیرہ سے کام چل جانے کی امید ہے ۔
یہ ہو گا اپ کے اللہ کے درمیان معاملہ اور نیکیوں کے اکاؤنٹ کا حسات کتاب ۔

لیکن یارو
اس بات کا کوئی مولوی نہیں بتاتا
کہ
ایک اور آکاؤنٹ بھی کھلا ہوا ہے جس میں انسانوں کے ساتھ کئے گئے معاملات کا حساب کتاب لکھا جا رہا ہے ۔
کس کو کتنی سہولت بہم پہنچائی ، کس کو کتنی دقتیں کھڑی کیں ، کس کو بے عزت کیا اور کسی کی خوشامد کی ، کس کے پیسے مارے اور کس کے پیاروں کو قتل کیا
اس آکاؤنٹ کا کھاتا بڑا الجھا ہوا ہونا ہے
اس میں بڑا وقت لگے گا
اور
اللہ سائیں  اس عدالت کے جج ہوں گے اور جج بھی ایسے کہ چشم دید گواھ  جج !!۔
کوئی معافی نہیں ہو گی کوئی سفارش نہیں ہو گی ، انصاف ہو گا اور کھرا انصاف !!۔
نیکیوں کے اکاؤنٹ بھی خالی ہو جائیں گے اور قرضے پھر بھی باقی ہوں گے ۔
روز محشر جو اس حساب سے سرخرو ہوا
وہی اصلی سرخرو ہوا ۔
حاصل مطالعہ ایک سوال ہے ۔
اس دوسرے حساب کتاب کے لئے بھی کوئی تیاری  کی ہے کہ بس پہلے والا اکاؤنٹ ہی بھرتے چلے جا رہے ہو ؟؟؟

جمعہ، 17 جولائی، 2015

منصوبے ای منصوبے

 مشن ملکی ترقی  و  بی ڈی ممبر ۔ مشن نظام مصطفے  اور بلدیاتی جمہوریت ، مشن  روشن خیالی اور احتساب  !!۔
ان مشنوں کے ساتھ ساتھ  سیاستدانوں کی فارمنگ  کاکام بھی جاری و ساری  تھا  ،۔
مشن کشمیر کی آزادی  تو ملکی تاریخ کا سب سے لمبا مشن بن چکا ہے ۔
اس صدی کی دوسری دہائی میں  میں ملک کے کرپٹ ترین ، بدنام ترین  حادثاتی سیاستدان   نے  مندرجہ بالا سب مشنوں کے مقابلے میں  ایک مشن شروع کیا تھا
مشن جمہوریت  !  اس کرپٹ ، اور بد نام بندے نے چالاکی سے اپنے مخالفوں اور  اور فارمی سیاستدانوں کو بھی ساتھ ملا لیا ،  اپنے مخالفوں کو جو گیڈر سنگھی اس نے سنگھائی  ، گمان غالب ہے کہ اس گیڈرسنگی کا نام بھی جمہوریت  ہی ہے  ۔
مشنوں اور منصوبوں کے ماہرین  ، بد نام بندے کے اس مشن ، مشن جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے لئے سخت جدوجہد کر رہے ہیں ۔
فوج کو اقتدار میں انے سے روکنے کے منصوبے کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے ۔
جس کے خلاف " تبدیلی" اور " انقلاب " میدان میں اتارے کئے ہیں ۔
اگر کرپٹ اور بدنام  کا منصوبہ ، جمہوریت سبوتاژ ہوئے بغیر پندرہ سال چل گیا تو ، ملک ایک ایسی پٹری پر چڑھ جائے گا جو روشن مستقبل کی طرف جاتا ہے ۔
لیکن " وہ " بھی اپنے منصوبہ جات میدان میں اتار رہے ہیں ۔ تبدیلی ، انقلاب ، !!۔
احتساب ، نامی منصوبہ اس دفعہ تبدیلی اور انقلاب کے اثرات کو دیکھ کر چلائے جانے کا نظر آ رہا ہے ۔
دہائیوں کے گزرنے سے منصوبہ سازوں کی کوالٹی میں بھی فرق پڑا ہے اور کچھ عدالتیں بھی خلاف ہو چکی ہیں ۔
اس لئے “ اپنی عدالت “ کا منصوبہ کامیاب کروا لینے کے باوجود جمہوریت کی بد نامی اور ججوں کی بے عزتی کے منصوبہ جات اس سطح تک نہیں پہنچ سکے کی جمہوریت پر شب خون مارا جا سکے
پنجابی کا ایک محاورہ ہے
سنڈہیاں ( سانڈ) دی لڑائی وچ ، کٹیاں ( بچھڑوں) دا برا حال ہوندا اے
اللہ خیر کرئے ان ساندوں کی لڑائی میں کوئی عوام کے بھلے کا راستہ نکل آئے کہ
میرا وطن بھی ایک ملک بن کر ابھرے ۔

بدھ، 15 جولائی، 2015

بابے مراد کا مشورہ


جبری بھرتی یا کہ لام پر جانا کہتے تھے  ، جنگ عظیم  کے لئے فوج جانے کو ۔
ان دنوں کا ایک واقعہ بڑا مشہور ہے کہ
جب جبری بھرتی والی ٹیم  سرگودے کے گاؤں گاؤں گھوم کر جواب بھرتی کر رہی تھی ۔
یہ ٹیم گورے افسر کی سربراہی میں جب ایک گاؤں پہنچی تو اس گاؤں والوں نے گورے صاحب کو بتایا کہ بات کرنی ہے تو بابے مراد سے کر لو !!۔
بابا مراد بھینسیں چرانے  بیلے گیا ہوا تھا ، آدمی دوڑائے گئے کہ بابے مراد کو لایا جائے ۔
بابا مراد جب آیا تو اس کو وہ سب معاملات بتائے گئے کہ ہٹلر ایک ظالم انسان ہے جس کی وجہ سے عالمی امن خطرے میں پڑا ہوا ہے
سرحدیں غیر محفوظ ہیں ، برطانیہ کی شہ رگ جیسے علاقوں پر قبضے کئے ہوئے ہے ، بڑا شرارتی ہے ، شر انداز ہے ، قاتل ہے لٹیرا ، دہشت پسند ہے ، ظالم ہے ۔
بس جی کچھ اس طرح کا نقشہ کھینچا جیسا امریکہ نے طالبان کے متعلق کھینچا تھا
یا کہ صدام حسین کے خلاف کھینچا تھا یا کہ قذافی کے خلاف کھینچا تھا ۔
یا  کہ اپ انڈیا اور پاکستان کی بات کر لیں کہ جیسے کشمیر کے معاملے میں دونوں طرف کے جنگ کی کمائی کھانے والے لوگ کھنیچ رہے ہیں ۔
یہ سب سن کر بابے مراد نے جو جواب دیا تھا
وہ الفاظ بڑے بڑے بورڈوں پر لکھ کر لگانے کے قابل ہیں ،۔ دیواروں پر لکھ کر لگانے کے قابل ہیں ۔
وہ الفاظ تھے
اگر معاملہ ہم پر ہی آ پڑا ہے تو ؟
اس طرح کرو کہ ملکہ معظمہ کو کہو کہ چار بندے درمیان میں ڈال کر ہٹلر سے معاملہ طے کر لے ، ہمارے لڑکے نہ  مروائے ۔
بس جی اسی طرح انڈیا ور پاکستان کی فوجون کو جو معاملے پڑا ہوا ہے
ان کو بھی باے مراد والا مشوہ دینے ولا اگر کوئی ہو تو
کہے کہ
کسی سیانے بندے کو درمیان میں ڈال کر صلح کر لو 
سال ہا سال سے یہ جو دفاع کے نام پر قوم کے سارے سورسز کھا کر ڈکار بھی نہیں لے رہے  اس فضول خرچی کو کچھ کم کرو جی ۔
کچھ اور کام بھی کرنے ہیں ۔ تعلیم ، پانی کا نکاس ، بلڈی سویلین کی روٹی روزی کا انتظام  جیسے اپ کی نظر میں فضول کام  کرنے کی اجازت عطا فرما دیں ۔

اتوار، 12 جولائی، 2015

علوم اور علماء


ہر معاشرت میں لوگ علماء کو پسند کرتے ہیں ۔ کہ یہی انسان کی فطرت ہے ، ۔
جیسا کہ معغربی معاشرت میں میں نے دیکھا ہے ،کسرت کے علوم میں ماہر علماء کو بہت پسند کیا جاتا ہے ، ان میں سے بھی فٹ بال کی کسرت کے علم کے ماہرین علماء کی تو بہت زیادہ پزیرائی کی جاتی ہے ، اسی طرح دیگر علماء کو بھی پسند کیا جاتا ہے ۔
موسیقی کے علماء  کی پذیرائی ان کے کنسرٹ میں ٹکٹ خرید کر شمولیت سے لے کراس کے گانے خرید کر کی جاتی ہے ۔
دیگر علماء ، علم انجنئرنگ ، علم بیالوجی ، علم فزکس وغیرہ کے علماء اتنے مشہور تو نہیں ہوتے لیکن ان کو اچھی خاصی تگڑی تنخواہیں دے کر ان کی عزت کی جاتی ہے ۔
علم سیاست کے علماء جتنی اچھی کوالٹی دیکھائیں ان کو اتنی ہی پرمارمنس کرنے کی مدت بڑھا کر ان کی عزت کی جاتی ہے ۔
علماء سیاست کسی حد تک  علم تقریر کے بھی ماہر ہوتے ہیں ،۔
گپیں مارنے کے ماہرین کو  مواقع مسیر ہیں کہ وہ اپنی لمبی لمبی چھوڑی ہوئی باتون کو “فکشن” کے طور پر لکھ دیں ، اور ان گپی لوگوں کی بھی فکشن رائیٹر کے طور پر اہنی جگہ بہت عزت ہوتی ہے ۔
مخصوص ملموسات پہن کر سٹیج پر مختلف بیانات اور حرکات کے لوگوں کے دلوں کو خوش کرنے والے علماء کو جوکر کہہ کر ان کہ بھی عزت کی جاتی ہے ۔

پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں الفاظ کے معنی تک اور الفاظ کی تاثیر تک میں زہر گھول دیا گیا ہے
اس معاشرے میں علماء صرف اور صرف علم گفتار کے ماہرین کو مانا جاتا ہے ۔
علم تقریر کے یہ ماہرین جب ٹی وی پر آتے ہیں تو  لوگ ان کی بہت واھ واھ رتے ہیں اور ان کی تلقید کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اس تلقید میں ان فنکاروں کے پہنے ہوئے کپڑون کی نقل کرنے کوشش میں بہت پیسا خرچ کرتے ہیں ۔ علم گفتار کے کچھ ماہریں تو مقلدین کی تسکین کے لئے کام ہی کرتوں کی سلائی کا شروع کر لیتے ہیں ۔
پاکستان میں فلم انڈسٹری کے زوال کی وجہ سے  علم ایکٹنگ کے ماہرین ، چھوٹی سکرین  یعنی یو ٹیوب  کی فلموں میں چلوہ افروز ہوتے ہیں ۔
کم خرچ سے بننے والی یہ ویڈوز اگر کہانی اچھی ہو تو بہت چلتی ہیں ۔
مارکیٹ کی مانگ کہہ  لیں کہ ماہرین کی مہارت  ، پاکستان میں مخصوص لباس ، سٹیج پر پرفارمنس اور فکشن  ،تین چار علوم کو مکس کر کے ایک “یونیک “ علم بنا کر اس علم کے علماء کو “ اصلی اور وڈے “ علماء مانا جاتا ہے ۔
گورے کہتے ہیں
جیک آف آل کائینڈ ماسٹر آف نن
لیکن پاکستان میں ایسے جیک آف آل کائینڈز کو ماسٹر آف آل کائینڈ ہونے کا یقین رکھا جاتا ہے

اور ان ماسٹر اف آل کائینڈ  کی پرفارمنس سے معاشرت اس حد تک سدھر چکے ہے کہ
سارے بیوقوف ویزے لے لے کر فارن کو بھاگ رہے ہیں
لیکن جب فارن میں سیٹ ہو جاتے ہیں تو
ان کو ماسٹر آف آل کائینڈز بہت یاد آتے ہیں اور ان کی حمایت میں بہت بحثیں کرتے ہیں ۔
حاصل مطالعہ
پاکستان میں جو جتنا بڑا نبض شناس ہے وہ کمائی کر رہا ہے
اور جو بیماری کی تشخیص کر دے  وہ قابل ملامت ہے ۔
بلکہ واجب القتل ہے ۔

منگل، 7 جولائی، 2015

فیس بک اسٹیٹس مئی جون دوہزار پندرہ


اصول اوارگی
جب ایک جسم کو عشق کا روگ ہوتا ہے تو یہ عمل اس وقت تک جاری رہتاہے جب تک کہ ایک تمانچہ یا کہ سینڈل  ،چٹاخ کر کے نہ لگے ۔
سینڈل یا تھپڑ سے نو اعشاریہ  زیرو آٹھ سیکن پر سیکنڈ کی ولاسٹی  عاشق پیچھے ہٹتا ہے  ۔
اس عامل سے بے عزتی  ہوتی ہے جو کہ فوراً ہی شرمندگی میں بدل جاتی ہے ۔
لیکن قانون بقائے مادہ کے اصول کے تحت   لچر پن  بن کر مادہ قائم رہتا ہے  ۔

اپنے پیر ہاؤس والے پیر صاحب ، گامے کو بتا رہے تھے کہ کل کاروبار سے چھٹی کروں گا اور  میں کتّوں کی ریس میں جاؤں گا
گاما بھی ایک ہی ستم ظریف ہے کہنے لگا
ڈنگیاں لتاں تے پلس مقابلے ! سید صاحب ، صحیح طرح چلا تو اپ سے جاتا نہیں  ریس میں اپ کیا خاک کارگردگی دیکھائیں گے ؟

فیس بک پر پوسٹ کردو کہ
یارو کسی اچھے سے کارنر پلاٹ کا تو بتائیں ۔
جو دو سے تین کروڑ روپے میں مل جائے
اور کچھ ہو ناں ہو
۔
۔
۔
۔
۔
کسی ناں کسی
چاچی یا ماسی کو دل کا دورہ پر جائے گا
اگر یہ نہ ہوا تو
کوئی قرضہ مانگنے آ جائے گا
اگر یہ بھی نہ ہوا تو
کسی نہ کسی رشتے دار کی طرف سے لڑائی تو مسٹ ہے ۔


 ایک مراثی نے چوھدریوں سے بھینس مانگی ، تو چوھدری نے اس کو ایک بھینس عنایت کردی

که یہ بھینس بس '' لگی ہوئی '' ہے اب اس کی ٹہل سیوا کرو کہ جیسے ہی بچہ دے گی تو دودہ پینا ـ

کچھ دن گزرے کہ بھینس پھر ''بول '' پڑی ـ

مراثی اس کو پھر “لگوا” کر لایا

که ایک مہینے کے اندر پھر '' بول '' پڑی

اسی طرح جب تین چار دفعه هوا
کہ بھینس  “ بول “ پڑتی تھی اور مراثی کو سانڈ والوں کے ترلے کر کے پھر “ لگوانی “ پڑتی تھی ۔

کہ
ایک دن چوھدری نے پوچھا

اوئے مراثیا

سناؤ بھینس کا؟؟

تو مراثی ہاتھ جوڑے  اور  کہنے لگا!!۔
 جی چوھدری صاحب ! ۔
اس کو بھینس نہ کہیں ، بھینسیں تو جی هوئیں آپ کی والی ۔
 ہماری والی تو جی گشتی ہے گشتی ـ
#‎BOLkoBolnayDo #‏بول_کو_بولنے_دو


طاقتیں صرف دو ہیں دنیا میں
جن سے سارا نظام جاری ہے
اِک خُدا کا وجود بر حق ہے
ایک عورت کی ذاِتِ باری ہے


سنا ہے وہاں پاک ملک میں پاک لوگوں کے
رمضان میں “ درجات “ بلند کرنے کے لئے
واپڈا والے بہت کوشش کر رہے ہیں ۔


مسجد کی افطاری میں گامے نے شاھ جی سے پوچھا
اوئے شاھ جی
روزہ تو تم رکھتے نہیں ہو ، اور افطاری میں اگے اگے ہوتے ہو؟
شاھ جی نے کڑک کر جواب دیا
چلو جی ، روزہ نہیں رکھتے
تو کیا افطاری بھی نہ کریں ؟
کیا بلکل ہی کافر ہو جائیں !!!۔


وہ جن کے بیٹے ورکشاپ میں “چھوٹے “ ہوتے ہیں ۔
وہ جن کے بچے بھٹے پر اینٹیں تھوپ رہے ہوتے ہیں ۔
جو جن کے بچوں کے نصیب میں سکول جانا نہیں ہوتا ۔
وہ جن کے بچے سکول جانے کی عمر میں گدھے ریڑھے بنا لیتے ہیں ۔
وہ جو فارن کی کمائی اڑاتے ہیں ، اور داڑہی رکھ کر مذہبی کتاب کھول کر فوٹو بنوا بنوا کر بیٹوں کو بھیجتے ہیں ۔
وہ جن کے بچے تاریک راہوں میں مارے گئے ۔
وہ جن کے بچے کبھی بھی پلٹ کر گھر نہ آنے کے لئے فارن چلے گئے ،۔
ان سب باپوں کو بھی
اج “ فادر ڈے “ مبارک ہو !!!۔


اس نے بچپن سے جوانی تک “ ابا جی “ کے پیدا کئے مسائل سے جس طرح نپٹا؟
یہ ایک لمبی اور درد ناک کہانی ہے۔
جب کوئی “اس “ کو یہ کہتا کہ تم اباجی کی خدمت کیا کرو
تو ؟
ٹرخ کر کہا کرتا تھا۔
میں دس ہزار روپیا ماہانہ اپ کو ادا کیا کروں گا
اپ میرے اباجی کو اپنے گھر لے جاؤ۔
اج کل سنا ہے اس نے بڑہتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ، وہ رقم  پندرہ ہزار کر دی ہے ۔


اٹھارہ سو ستاون ، جی ہاں اٹھارہ سو ستاون !!۔
وہی سال ہے جس سال ہم انگریزوں کو قابض ہونے کو روکنے کی اخری کوشش کر رہے تھے ۔
اسی سال کی بات ہے کہ جاپان نے بچوں پر چھ سال کی سکول کی تعلیم فرض کردی تھی۔( جو بعد میں نو سال کر دی گئی) ۔
اور جاپانی اس فرض کو مسلسل ڈیڑھ صدی سے نبھاتے چلے آ رہے ہیں ۔
ہمارا یہ حال ہے کہ ہم پر مردے راج کر رہے ہیں
کہیں ضیاع اور کہیں بھٹو مر کے بھی زندہ ہیں
یاد رکھو
اگر ان مردوں کو مارنا ہے تو ؟
اپنے بچوں کو تعلیم دینی ہو گی !،۔
لیکن مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑے گا کہ
میرے اپنے لوگوں کو اس بات کی بھی تعلیم کی ضرورت ہے کہ تعلیم ہوتی کیا ہے ۔

جمعے کی نماز کے بعد مسجد کے دروازے پر بھکاری کی للکار
اللہ کے نام کچھ دے دے بابا
سن کر اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا
تو بھکاری کا چہرہ کچھ دیکھا ہوا لگا۔
بے ساختہ اس کے منہ سے نکل گیا
میں نے تمہیں کہیں دیکھا ہوا ہے
جی ہاں جی
میں اپ کا فیس بک کا فرینڈ ہوں جی !!۔
بھکاری نے جواب دیا ۔


    •   
    •    کتابیں ، ایک مقدس چیز ہوتی ہیں ، اس لئے ان کو ہاتھ نہیں لگانا چاہئے
    •   
    •    پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ، زمانے میں کریڈٹ کارڈ بھی چلتے ہیں ۔
    •   
    •    پانی کے استعمال میں احتیاط ہونی چاہئے ، پیاس کولا مشروب پی کر بھی بجھائی جا سکتی ہے
    •   
    •    سلاد سبزیاں ، صحت کے لئے مفید ہوتی ہیں ، اس لئے جب صحت خراب ہو گی کھا لیں گے ۔
    •   
    •    خطبے کے دوران شور نہیں مچانا چاہئے ، پچھلی صفحوں میں سونے والوں کی نیند خراب ہوتی ہے ۔
    •   
    •    پڑوس میں رہنے والوں سے محبت ہونی چاہئے ، لیکن احتیاط سے کہ زمانے کو پتہ نہ چل جائے ۔
    •   
    •    سخت محنت کرنے سے کبھی کوئی مر نہیں گیا ، لیکن پھر بھی رسک لینے کی ضروت ہی کیا ہے ۔
    •   
    •    ہر کام آج ہی کرنے کی کیا ضرورت ہے ، ہو سکتا ہے کہ کل کو کوئی اور ہی کر کے دے دے ۔
    •   
    •    ہر مرد کو زندگی میں شادی بھی ضرور کرنی چاہئے کہ زندگی میں خوشیاں ہی ہر چیز نہیں ہوتی ہیں ۔

مردوں کے اخلاق کے اعلی ہونے کے لئے یہ ہی دلیل کافی ہے
کہ
عورتیں دوسری عورتوں کی برائیاں کرتی نہیں تھکتی
لیکن مرد
دوسری عورتوں کی تعریف کرنے میں بخیلی نہیں کرتے ۔
کیا یہ مردوں کی اعلٰی ظرفی نہیں ہے ؟


برطانوی عروج میں  دنیا کو دی گئی تعلیم میں بہت سی چیزوں کو دوام حاصل ہوا ہے
ڈاک ، ٹرین ، ٹریفک ، انشورنس کے علاوہ  بھی!۔  جوانی میں کاما سوترا سے لاعلم بھی ساری مشقیں کر گزرتے ہیں
لیکن ادھیڑ عمری میں صرف “ مشنری پوزیشن “ ہی سب کو بھاتی ہے ۔

بنیادی اخلاقی اصول ہے کہ
کسی کے گھر جاؤ تو اپنی انکھوں کو قابو میں رکھو !!۔
یعنی کہ  “ تاڑنے “ کی عادت بد سے پھیٹی شینٹی بھی لگ سکتی ہے ۔
اس پھیٹی سے اپ کو اپنی  قومی عظمت ، خاندانی وقار اور دیگر عظمتیں یاد آ کر بے عزتی کا واویلا کرواتی ہیں تو ؟
پہلے ہی اپنی انکھیں قابو میں رکھنی تھیں کہ
تمہارے تاڑنے سے کسی اور کی بھی عظمتیں ،وقار خطرے میں پڑ گئے تھے ۔
خود کو اعلی ترین اور پاک ترین سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا  “ آپ “ کو اگر بنیادی اخلاقیات کا ہی علم نہیں تو
غیر ممالک میں جا کر اگر اپ کو جیل ہو جاتی ہے تو ؟
قوم کی بیٹی ، قوم کا بیٹا ، قوم کا وقار کا واویلا کرنے سے پہلے اخلاقیات کی تعلیم لے لیں ۔
ویسے ایک سوال
کہ
پاکستان میں قوم کہتے کس کو ہیں
گجر قوم ، جٹ قوم ، تیلی قوم ، مراثی قوم اور دیکر پاک اقوام میں سے “اصل اور وڈی “ قوم کون  سی ہے ؟؟؟
#قوم


دیکھ اوئے سنتری !۔
تو میرا ہو ؟ اتنی چھوٹی سوچ نہیں میری ۔
یا کہ
میں ، تجھ کو مل جاؤں ؟
ناں پتّر ، اتنی بڑی اپروچ نہیں تیری ۔
#آیان۔علی


میں ایک ڈرپوک بندہ ہوں
کسی بندے میں کسی ادارے میں کسی برادری میں یہ کوالٹی ہو کہ وہ اتنا طاقتور ہو جائے کہ
اس کو کوئی روک ہی نہ سکے اس پر کوئی قدغن ہی نہ لگا سکے تو مجھے اس سے بھی ڈر لگتا ہے
پاک فوج بھی ایسا ادارہ ہے جس کی طاقت کی انتہا ہی نہیں ہے ،
نہ کوئی اس کا آڈٹ کر سکتا ہے نہ کوئی اس کو عدالت میں بلا سکتا ہے
اس لئے مجھے اس ادارے سے ڈر لگتا ہے ۔
#پاکفوج

ویسے یار جی اگر کوئی ہم جنس پرست ہے بھی تو
یہ جرم کوئی اتنا بڑا جرم بھی نہیں ہے کہ اس بندے یا بندی کی زندگی حرام کر دی جائے ۔
میرے خیال میں جھوٹا ہونا اس سے بڑا جرم ہے
پاکستانی قوم جتنی سیکس کی کجیوں کے خلاف ہے اس کے صرف ادھا بھی جھوٹ کے خلاف اتر آئے تو
پاکستان جنت نظیر ملک بن جائے ۔
‪#‎queer‬
..........
اس سے معاشرتی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے
جن معاشروں میں اس چیز کو قانونی کیا جا رہا ہے
وہاں پوزیشن اس طرح کی ہے کہ جیسے ان کو کارنر کیا جا رہا ہے
اس طرح ہم جنس معاشرے میں گھل مل کر کیموفلاج کی بجائے سب کو نظر آئیں گے ۔
اس سے لوگوں کو ان سے تعلقات رکھنے میں اسانی ہو گی کہ جو ان کو ناپسند کرتا ہے ان سے دور رہے اور پسند کرتے ہیں ، وہ اپنی مرضی کریں ۔
پاکستان میں جہاں جھوٹ کا چلن عام ہے وہاں ہم جنس پرست لوگوں کی بات ہی نہیں ہوتی
اور عورتوں کے تعلقات کا تو ہمارے معاشرے کے مردوں کو علم ہی نہیں ہے ۔
ایک کمرے میں دو لڑکیاں ، گھنٹوں کھیلتی رہیں ،کوئی ان کو دیکھنے بھی نہیں جاتا کہ
دو بچیاں اکیلے میں ہیں ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے
بس!!۔


کیہڑا کٹّا سو پیا اے ! اوئے ؟( کون سا بھینسے نے بچہ جنم دے دیا ہے ) ۔
جے کر عمران کے پانجیاں نوں تھوڑی جہی کٹ لگ گئی تے ؟
ایتھے ہر روز لوکی کٹے جاندے نئیں ، غائب کر دتّے جاندے نئیں ، سڑکاں تے ٹانگیاں والے ، چاند گاڑیاں والے ذلیل کیتے جاندے نیں
سارے پاکستان دے لوکاں دی گل کرو جی سارے لوکاں دی
صرف عمران دی بہن دے منڈیاں دی نئیں ۔
منڈے وی تے مامے دے ناں نال اکڑ ویکھاندے ہون گے ناں ؟
انج، اک گل تے دسو ؟
اینہاں منڈیا دا پیئو کوئی نئیں ؟
کوئی اینہاں دے پیو ناں وی لو ۔
سارے لوک مامے دیاں ای گلاں کردے او پئے ۔
#عمران


مغالطے اور مبالغے!!۔
وہاں ایک مولوی بیان کر رہا تھا کہ 
جنت کے کیلے مسجد کے مینار کے سائیز کے ہوں گے ۔
تو ؟
گامے کا تراھ نکل گیا یہ سن کر ، اچھو پوچھنے لگا 
اوئے گامیا ِ توں کیون حیران ہو گیا ایں ؟
میں سوچنا واں پیا کہ او کیلے ، کھان والے منہ کڈے وڈے ہون گے ؟؟


رمضان میں پکوڑے�� سموسے ��،کوئی سنت نہیں ہیں 
لیکن پاکستان ☪ میں یار لوگ ان کو فرض بناتے جا رہے ہیں 
سینے کی جلن کا کیا حال ہے مومنو !!!۔
�� �� ��


قدیم ہندی ادب میں لکھا ہے کہ 
اک عورت اپنے خاوند اور بھائی کے ساتھ سفر کر رہی تھی کہ جنگل میں راکھسش نے حملہ کر کے اس کے بھائی اور خاوند کے سر تن سے جدا کر دئے 
وہ عورت بہت روئی ، اس کی پراتھناؤں سے بھگوان کو ترس آیا اور آواز آئی کہ ان کے سر ان کے جسموں کے ساتھ رکھ کر کپڑا ڈال کر رام نام کا ورد کرو۔
اس عمل سے دونوں جسم زندہ ہو گئے 
لیکن ہوا یہ کہ عورت کی غلطی سے بھائی کا سر خاوند کے جسم سے اور خاوند کا سر بھائی کے جسم کو لگ گیا 
اب اس عورت کو پریشانی ہوئی کہ 
اس کے سہاگ کا کیا ہو گا
اس کا خاوند کون ہو گا ؟
جس کے لئے اس نے سنیاسیوں سے رابطہ کیا 
اس سوال کا جواب کیا تھا ؟
اپ کے خیال میں کیا ہونا چاہئے ؟

جواب: Ghulam Abbas Mirza
جس جسم پر خاوند کا سر ہے اسے بطور خاوند قبول کر لینا چاہیے کیونکہ انسانی شخصیت ذہن سے پہچانی جاتی ہے جسم سے نہیں۔


پنجابی کا ایک محاور ہے
کہ
جو گڑ دے کا مارا جا سکتا ہے اس کو زہر دینے کی کیا ضرورت ہے
اگر خاندان میں کچھ بھائیوں میں انا کی جنگ چل رہے ہے تو؟
بجائے بھائی کو تنگ کرنے کے بھائی پر احسان کر کے “ تھلے “ لگا لو!!۔
انا کی تسکین بھی ہو جائے گی ، بھائی بھی خوش ہو جائے گا ۔

اتوار، 5 جولائی، 2015

اکیلا بھیڑیا


شیر بڑا طاقتور ہوتا ہے، جنگل کے بادشاھ کو  پیٹ کی مجبوریاں  سرکس میں  مسخروں کی مسخریاں بھی سہنی پڑتی ہیں ۔
جرآت اور بہادری  کی مثال شیر ، سرکس میں تماشا کرتا ہے۔
لیکن
کبھی کسی نے بھیڑئے کو بھی سرکس میں تماشا کرتے دیکھا ہے ؟
نہیں ! بھیڑیا انا اور خود داری سے مر جاتا ہے ،غلامی نہیں کرتا۔
جاپانی کاروباری لوگ خود کو بھیڑئے کی مثال دیتے ہیں ۔
بھیڑیا گروہ میں کام کرتا ہے ، بھیڑئے کے شکار کرنے میں ڈسپلن ، اور جارحیت ہوتی ہے ۔ طاقتور شکار  کا سامنا ذہانت سے کرتا ہے ۔
خطرے میں گھرے ساتھی کو بچانے کے لئے جان تک کی بازی لگا دیتا ہے ۔
لیکن بھیڑئے کے متعلق ایک روایت یہ بھی ہے کہ اگر کئی دن تک شکار نہ ملے ، بھوک سے برا حال ہو تو بھیڑئے ایک دائرے میں بیٹھ جاتے ہیں ، نقاہت سے جس  ساتھی کو اونگ آ جائے سب اس پر حملہ کر کے اس کو کھا جاتے ہیں  ۔
انسانی معاشرہ  اج بھی  قبل از تاریخ کے انسان کی طرح شکار کر کے ہی کھاتا ہے ۔
پہلے زمانے میں جنگل میں جانور مار کر کھاتا تھا
آج  ! ابادیوں میں کرنسی  کا شکار کرتا ہے
پرانے زمانے میں جو  فرد جسمانی طور پر جتنا طاقتور  جبلت میں ظالم ہوتا تھا
وہ اتنا کامیاب شکاری اور گروھ کا سردار ہوتا تھا
اج کے دور میں بھی کرنسی کے شکاری لوگوں میں جو جتنا  جسمانی اور ذہنی طور ہر طاقور ہے وہی زیادہ شکار کرتا ہے  ۔
اس کے بعد  انسانوں میں کرنسی کے شکار کرنے میں مختلف جانوروں کی عادات پائی جاتی ہیں ۔
کوئی شیر کی طرح  ،شکار  کیا کھایا ور سستی سے پڑے رہے ، کوئی گیڈر کی طرح جہاں داء لگا مار کے کھا لیا رونہ بزدلوں کی طرح چھپتے پھرے ،۔ کوئی لومڑی کی طرح چھوٹی موٹی چیز مل گئی تو خود سے کر لیا ورنہ کسی بڑے شکاری کا مارا ہوا بچا کھچا  کھا لیا۔
کچھ لوگ گائے بھینسیں ہوتی ہیں ۔
کمیشن، ری سائیکل کا سود اور چندے کی گھاس کھا کر خود کو شیر سمجھنے کے مغالطے میں مبتلا !۔

کمینہ ترین جانور ہوتا ہے لکڑ بھگڑ  ، بہت سے لوگوں کا شکار کا طریقہ اس جانور سے بھی ملتا ہے ۔

بھیڑیا ،جس کے شکار کے طریقے کو جاپانی  اپناتے ہیں ۔
دو چار افراد یا کہ دو چار کمپنیاں مل کر کام کرتی ہیں ۔
ان کمپنیوں اور افراد میں ایک کوالٹی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ یہ لوگ اپنے گروھ کے لوگوں کے ساتھ انتہائی مخلص ہوتے ہیں ۔
پیٹھ پیچے وار نہیں کرتے  دوسرے ساتھیوں کا فائدہ سوچتے ہیں ۔
پیٹھ پیچھے دوستوں کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ۔
لیکن جہاں کسی کمپنی  کو سستی پڑی  وہیں بھیڑئے کی جبلت کہ دوسرے کمپنیاں اس کو اپنے میں مدغم کر لیتی ہیں ۔
اکیلے کاروباری کو  جاپانی اکیلا بھیڑیا کہتے ہیں ۔
اوکامی ایّتتو
اوکامی ایتتو  ، اکیلا کام پر نکلتا ہے  ۔ خود دار اور انا پرست بھی ہو سکتا ہے ۔
جاپانی کاروبای لوگ ایسے بندے  کی بہت رسپکٹ کرتے ہیں ، کوشش کرتے ہیں کہ ایسے بندے کا راستہ نہ کاٹیں ، ایسے بندے کو خود سے طاقتور سا محسوس کرتے ہیں ۔
بھیڑیوں کے ہر گروہ کی امید یہ ہوتی ہے کہ یہ بندہ ہمارے ساتھ مل جائے یا کہ ہمارے ساتھ تعاون کرئے  ۔
یہاں جاپان میں بہت کم ہی سہی
لیکن کچھ پاکستانیوں نے بھی  خود کو “اوکامی اتتو” کی طرح خود کو منوایا ہوا ہے  ۔

ہفتہ، 4 جولائی، 2015

کارٹون سیریز دورائے مون

ٹی وی پر چلنے والی کارٹون سیریز جسکو
پاکستان میں جس کو دورے مون کہتے ہیں
یہ لفظ اصل میں دورائے مون ہے ۔
دورائے مون ایک بلی ہے
روبوٹ بلی جو کہ ٹام مشین پر سفر کرکے مستقبل بعید  سے اس زمانے میں آئی ہوئی ہے ۔
اس کے نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے
کہ اس بلی کو “ دورائی یاکی “ نامی مٹھائی بہت پسند ہے ۔
یہ نام دورائے مون دو الفاظ کو ملا کر ایک بنا ہے
دورا اور مون ۔
لفظ دورا  دورائی یاکی نامی مٹھائی کو پسند کرنے کی وجہ سے
اور مون لفظ کے لئے پس منظر میں ایک کہانی ہے
کہ پرانے زمانے میں ایک بہت بہادر اور جی دار چور گزرا ہے جس کا نام تھا
ایشی کاوا گوئے مون
ایشی کاوا گوئے مون کو لوہے کے ٹب میں ابال کر مار دیا گیا تھا
یعنی کہ اس کو پانی میں ابال کر مارنے کی سزا ہوئی تھی ۔
دورائے مون کے نام کا دوسرا حصہ مون اس گوئے مون سے لیا گیا ہے
جیسا کہ جاپان میں بہت سی چیزوں میں دو ناموں کو جب جوڑ کر پڑہتے ہیں تو دونوں ناموں کا آدھا حصہ سائلینٹ کر جاتے ہیں ۔
جاپانی میں آوارہ کتے یا بلی کو  نورا اینو ( آوارہ کتا ) یا کہ نورا نیکو( آوارہ بلی ) بھی کہتے ہیں ۔
یا کہ کتا یا بلی لگائے بغیر لورا بھی کہہ دیا جاتا ہے ۔
اس لفظ لورا کے وزن پر لفظ دورا  بنا
اور گوئے مون کا مون لگا کر اس کو دورا مون  کا نام دیا گیا ۔
دورائے مون نامی  کارٹون سیزیز
پہلے پہل کارٹون کی شکل میں شائع ہوئی ، انیس سو انہتر کے دسمبر میں   پہلی بار چھ میگزین میں شائع ہوئی ۔
اس کارٹون سیزیز کے خالق کا نام ہے
فوجیکو فوجی او
اس سیریز کی اریجنل سٹوریز ایک ہزار تین سو پنتالیس ہیں ۔
اس  سیزیز کی اصلی میگزین  جاپان کے تویاما کین کی تاکا اوکا سنٹرل لائیبریری میں رکھے ہوئے ہیں ۔
تاکا اوکا جو کہ اس کارٹون سیریز کے خالق کی جائے پیدائش ہے ۔