ہفتہ، 7 مارچ، 2015

دوسری دفعہ کا ذکر ہے


دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ
کہیں کسی جنگل میں   بلو نامی خرگوش اور جوجی نامی کچھوے میں ریس کی ٹھن گئی ۔
شرط یہ لگی کہ جو بھی پہلے برگد کے بڑے پیڑ کے پاس  پہنچے گا ، وہ بعد میں انے والے کی پیٹھ پر سارا دن سواری کرئے گا ،۔
 جوجی نامی کچھوا جب منزلیں مارتا ہوا برگد کے پیڑ کے نیچے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ
وہاں خرگوش  بچوں کا ایک غول کھیل رہا ہے
اس نے پوچھا کہ اوئے بچو ! کیا تم بلو نامی  خرگوش کو جانتے ہو ۔
سارے خرگوش بچے اکھٹے ہو گئے اور پوچھنے لگے
کیا اپ جوجی انکل ہو ؟؟
ہاں ہاں ، میں جوجی ہوں
تو خرگوش بچوں نے جوجی کو بتایا کہ بلو دادا ہمارے دادا ابو تھے انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ جب بھی کبھی جوجی نامی کچھوا یہاں پہنچے ، اس کے شرط ہارنے کی پاداش میں تم سب اس کی پیٹھ پر سواری کرنا۔
حاصل مطالعہ
زمانہ بدل گیا ہے ، سائیکل اور جہاز کی ٹکر ہونا ناممکن ہے ۔


دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ
پیاسا کوّا جب ڑتے اڑتے گھڑے کے پاس پہنچا تو اس نے دیکھا
کہ پانی کم ہے اور چونچ کی پہنچ سے دور ہے ،
اس نے بھی حکائت صالحین  کی پیاسے کوّے والی کہانی پڑہی ہوئی تھی ، اس لئے اس نے کنکروں کے لئے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو ،اس کو ککری ( اینٹوں کا چورا) کی ڈھیری نظر آئی ، اس نے ککری اٹھا اٹھا کر گھڑے میں ڈالنی شروع کر دی ، پھیرے لگا لگا کر پیاس سے نڈھال کوّے نے جب گھڑے میں نظر ڈالی تو
ککری سارا پانی چوس چکی تھی ،
کوّا غش کھا کر گرا اور مر گیا ،۔

اتوار، 22 فروری، 2015

چودہری لوگوں کے معاملات


شہر کی غلّہ منڈی میں  ، چودھری ظفر ،آڑھتی سے  گندم کی قیمت طے کرنے آیا ہوا تھا ، آڑھتی نے چائے منگوا لی ،چائے کی چسکیاں لے رہا تھا کہ اس کے علاقے کے دو اور زمین دار بھی وہیں پہنچ گئے ۔
غلہ منڈی میں آڑتھی کی دوکان بھی دیہاتی زمین داروں کے لئے ایک قسم کا  چوپال ہی ہوتا ہے ،۔
جہاں چایے پانی ، روٹی اور رقم  بھی مل جاتی ہے ۔
بات چل نکلی کماد کی فصل کے متعلق!۔
اس  ، سال تیسرے ضلع کے چوہدریوں نے نئی نئی شوگر مل لگائی تھی ،  چوہدریوں نے اعلان کیا تھا کہ   دوسری کسی مل کے نواح کے  زمین دار اگر کماد ان کی مل پر لائیں گے تو ان کو کماد کی دوگنی قیمت ادا کریں گے ۔
ٹریکٹر ٹرالی کا کرایہ تو کنڈے سے اترتے ہی  کماد اتارنے سے پہلے ادا کر دیتے تھے ۔
اس سال گنے کی فصل بہت اچھی اٹھی  تھی جس سے کہ سارا علاقہ واقف تھا ۔
چوہدر ظفر کی فصل کے چرچے بہت دور تک گئے تھے اور اس نے اپنی ساری فصل تیسرے ضلعے کے چوہدریوں کی مل پر  بیچی تھی ۔
اس لئے علاقے میں اس بات کا تاثر پایا جاتا تھا کہ اس سال چودھری ظفر نے بہت کمائی کی ہے ۔
آڑھتی کی دوکان پر علاقے کے دوسرے زمین داروں نے جب رشک بھرے انداز میں  ، اس سال فصل کے معاملے میں چوہدری ظفر کی فصل کو سلاہا تو ؟
چوہدری گویا ہوا کہ یارو ! میں ایک طرف تو بہت خوش قسمت نکلا کہ میری گنے کی فصل  اڑوس پڑوس سے بہتر ہو ئی لیکن ایک معاملے میں معاملے میں بدقسمتی کہ میں مرتے مرتے بچا ہوں ۔
سب کے کان کھڑے ہو گئے ۔
باؤ کمیار ، آڑھتی نے  نے تاسف سے کہا ، اللہ خیر کرئے چودھری کیا ہوا تھا؟
ہوا یہ تھا کہ
چودھری گویا ہوا  کہ ، جب میں کماد کی رقم کے کر مل سے نکلا تو  کوئی چار کلو میٹر بعد ہی ڈاکوؤں نے میری کار روک لی ، کلانشکوف کی خوفناک نالیوں کے منہ میری طرف تھے ، درد کی ایک لہر ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی ۔
ابھی خدا کی دی ہوئی زندگی باقی تھی کہ ڈاکو لوگوں نے صرف رقم چھین کر مجھے جانے دیا ۔
ایک کروڑ سے زیادہ کی رقم تھی ، کلاشنکوف کے خوفناک منہ دور ہوتے ہیں ، کچھ اوساں بحال ہوئے تو احساس ہوا کہ بہت بڑی رقم سے ہاتھ دھو بیٹھا ہوں ۔
اس وقت تھ نزدیکی ڈیرے سے کچھ کسان بھی آ چکے تھے کہ ویران جگہ کار کھڑی کئے یہ بندہ کیا کر رہا ہے ۔
کسی نے پولیس میں جانے کا مشورہ دیا ، شوگر مل والے چوہدری ،ان دنوں  ہیں ! ۔ اپ سب کو تو پتہ ہی ہے اور انہوں نے اپنے علاقے میں پولیس چوکیوں کا بھی جال بچھا رکھا ہے  ۔
میں نے جب نزدیکی چوکی پر جا کر رپورٹ لکھنے یا کہ ڈاکؤں کا پیچھا کرنے کا کہا تو؟
حوالار منشی نے مجھے مشورہ دیا کہ رہورٹ وغیرہ لکھنے بھی کچھ نہیں ہو گا ، پولیس کے پاس بھی کو اللہ دین چراغ نہیں ہے کہ ڈاکوؤں کا پتہ چلا لے ۔
تم اس طرح کرو کہ بڑے چوہدریوں کے ڈیرے چلے جاؤ ، ہو سکتا ہے کہ ان کے تعلقات سے  وہ ڈاکو لوگوں سے تمہاری رقم واپس دلوا دیں ۔
بات میرے دل کو لگی ۔
میں وہاں سے سیدھا شہر میں چوہدریوں کے ڈیرے پر پہچ گیا خوش قسمتی سے بڑے چوہدری صاحب ڈیرے پر ہی تھے ۔
ڈیرے پر لوگوں  کی آمد رفت سے بڑی رونق لگی ہوئی تھی۔
چوہدری صاحب بڑے مصروفتھے لیکن  پھر بھی
میری شکل دیکھتے ہیں چوہدری صاحب نے اپنی روایتی مہمان داری  نبھاتے ہوئے نوکو کو آواز دی اور “ روٹی شوٹی” کا انتظام کر ْ۔
روٹی کہاں حلق سے اترنی تھی اور ناں اس وقت مجھے روتٰی کا خیال تھا ۔
میری چہرے سے عیاں میری پریشانی کو بھانپ کر چوہدری صاحب نے بڑی شفقت سے پوچھا ،
کی گل اے بھایا ظفر ؟ کوئی پریشانی لغدی اے ( کیا بات ہے بھائی ظفر کوئی پریشانی لگتی ہے )۔
میں نے جب سارا معاملہ بتایا تو وڈے چوہدری صاحب بھی پریشان ہو گئے کہ ،ان ڈاکوؤں نے بہت تنگ کیا ہوا ہے ۔
ویسے کتنی رقم تھی ؟ میں نے بتایا کہ اپ بے شک مل سے کنفرم کر لیں ایک کروڑ بیس لاکھ تھی ۔
اوئے بھائی ظفر اب تم کیا ہم سے جھوٹ بولو گے ، اگر تم نے کہہ دیا ایک کروڑ بیس لاکھ تو رقم اتنی ہی ہو گی ۔
کر لیتے ہیں کچھ
تم روٹی شوٹی کھاؤ۔
روٹی کہاں کھائی جانی تھی ، بس کچھ زہر مار کیا کچھ پانی سے نگلا ، اور روٹی ختم کرنے کی ایکٹنگ کر کے منجی پر پریشان بیٹھا تھا کہ  چوہدری صاحب کا کارندہ ایک بریف کیس لے کر حاضر ہو گیا ۔
وڈے چودہرہ صاحب نے مجھے پاس بلایا اور بڑی شفت سے مجھے کہنے لگے ، دیکھو یات تم اپنی برادری کے بھی ہو اور ہمارے علاقے میں لوٹ لئے گئے ہو ۔
اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ ہم تمہارے لئے کچھ بھی ناں  کریں ۔
انہوں نے بریف کیس مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ دیکھو اس بریف کیس میں ساٹھ لاکھ کی رقم ہے ، بس یوں سمجھو کہ ساٹھ لاکھ کا تمہارا نقصان ہو گیا اور ساٹھ لاکھ کا ہی ہمارا نقصان ہو گیا ۔
دیکھو یار ظفر ! اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔
اس کے بعد وڈے چودہری صاحب نے اپنے بندے میرے ساتھ کئے ، جو کہ کلاشکوفون سے مسلح تھے  جو مجھے اپنے ضلعے کی حدیں پار کروا کر گئے تھے ۔
بس یارو ! میں تو وڈے چوہدری صاحب کا احسان مند ہوں کہ انہون نے بچا لیا ورنہ اس سال تو  گنے کی فصل تو گئی تھی ڈاکوؤں کی جیب میں ۔
چوہدری ظفر بات ختم کر کے دوسرے زمین داروں کا منہ دیکھتا ہے کہ کیا تاثرات دیتے ہیں ،
لیکن وہ دونوں منہ کھولے حیرانی سے چودہری ظفر کا ،نہ دیکھ رہ تھے ۔
چودہری ان سے پوچھتا ہے ۔
تو دونوں کو کیا ہوا ہے ؟
وہ دونوں زمین دار منماتی آواز میں بولے ۔
بکل یہی معاملہ ہمارے ساتھ بھی ہوا تھا
لیکن ہم نے شرمندگی سے کسی کو بتایا نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے!!۔
یہ باتیں سن کر باؤ کمیار ( آڑھتی) نے جو کہا ۔
 اس کو سن کر ان تینوں زمین داروں کو چپ ہی لگ گئی تھی ، اور کئی ہفتوں تک لگی رہی تھی ۔
باؤ کے منہ سے نکلا تھا
یعنہ کہ  وڈے چوہدریوں  کماد کی قیمت دوگنی دینے کا صرف اعلان ہی کیا تھا  ۔
دیتے سب کو وہی  “ قیمت “ رہے ہیں جو دوسرے دے رہے تھے۔

جمعرات، 19 فروری، 2015

ننگے

ہم لوگ ، تہمند ( لکدی) باندھنے والے لوگ تھے ، ہاں ہاں وہی تہمند جو حج عمرے میں احرام میں باندہتے ہیں ،۔
جوان لڑکے تہمند کے " لڑ " لمبے کر کے باندہتے تھے ، جس سے گھٹنے ننگے ہو جاتے تھے ۔ بندہ عجیب لچا سا لگتا تھا ،
 اس لئے
بڑے بزرگ لوگوں کو یہ کہتے سنا ، اور بہت دفعہ سنا ۔
 اوئے منڈیا ! گٹے کج !!۔

سعودی ریال ،مودودی کے افکار اور جرنل ضیاع کا نظام مصطفے !!۔
 لڑکوں کے لباس   مہذب شلوار قیمض ہوئے ! ۔  پھر ہم نے سنا اور بار بار سنا ۔
اوئے منڈیا گٹے ننگے کر ،اوئے گٹے ننگے !!!۔

ہمارے دیکھتے ہیں دیکھے ہر چیز تبدیل ہو گئی ، امن ، تحفظ ، کمائی میں برکت اور دلوں میں محبت ، کی جگہ لڑائی ، خوف کرنسی کی ہوس کدورتیں عام ہوئیں ۔
سعودی اور مودودی نے گٹھنے کیا ننگے کروائے ، ہمارے معاشرے کو ہی ننگا کر کے رکھ دیا ہوا ہے ، اور ابھی یہ مشن مکمل نہیں ہوا ہے ، مشن جاری ہے ،بلکہ جاری اور ساری ہے ۔

اتوار، 1 فروری، 2015

سود اور سور

عیسائیت میں بھی سور کا گوشت کھانا حرام ہے ۔
لیکن یورپ کے  عیسائی سور کا گوشت کھاتے ہیں ۔
کیوں ؟
کیونکہ ان کے  علماء نے کوئی شک نکال کر سور کو بھی جائز کر دیا ہوا ہے ۔
کیپسئین کے سمندر کےشمالی  ممالک میں رہنے والے اور بہت سے ایرانی بھی مسلمان بھی سور کا گوشت کھاتے ہیں ۔
یہودی جہاں بھی ہوں سور کا گوشت نہیں  کھاتے ، برصغیر کے مسلمان جہاں بھی ہوں سور کا گوشت نہیں کھاتے ۔
ان چیزوں کو  سمجھنے کے لئے ان اقوام کا مزاج سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں ۔
برصغیر میں ہندو اور بدہ لوگ گوشت کھاتے ہی نہیں تھے ،۔
جب یہاں اسلام آیا تو  مسلمان ہونے والوں کو صدیون تک گوشت کھانے میں تامل رہا ، اور جب کھانے بھی لگے تو پلید اور پاک کا بہت سختی سے خیال کیا ۔
یہودی ، ایک نسل ہیں ، خاندان ہیں ، جن کا اصلی وطن  شام کے اردگرد  کا ہے ۔ گرم موسمی حالات  میں سور کھانے سے ہونے والی بیماریوں کی  قباحت نے ان  کو سور کھانے سے باز رکھا ، صدیون سے بنی عادات ،ٹھنڈے ممالک میں جا کر بھی قائم رہیں اور انہوں نے سور “ کم “ ہی کھایا  ۔
لیکن یورپی معاشروں میں سور ایک عام سی چیز تھی ، جب یہان عسائیت پہنچی تو ؟ سور کی پلیدگی کا یہ لوگ تصور ہی نہیں کر سکے کہ ، جو گوشت روز مرہ میں مسلسل کھا رہے ہیں وہ ایک دم پلید کیسے ہو گیا ؟
جس کے لئے انہوں نے کوئی شک نکال کر سور کے گوشت کو ویسے ہی  کھاتے رہے جیسا کہ صدیوں سے کھا رہے تھے ۔
سور کا گوشت نہ کھانے والے یہودی اور  “ ماس “ سے گریزاں ہندو ! ۔
ہر دو اقوام  “ سود”  ضرور کھاتی رہی ہیں ۔ بلکہ سود کا ایک منظم انتظام رکھتی ہیں ۔
ہند میں جو علاقے اج پاکستان میں شامل ہیں یہاں ، ساہوکار کو “ شاھ” کہا جاتا تھا ۔
شاھ جی یہی ٹرم ہے جو سود خود کے لئے استعمال کی جاتی تھی ، اور  بعد میں خیرات کو حق سمجھ کر وصول کرنے والے مذہبی  لوگوں کو بھی شاھ جی ہی کہا جاتا ہے ۔
قران میں سور کے گوشت کو حرام قرار دیا گیا ہے
اور سود کی امدن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔
برصغیر کے مسلمان ، اپنے سبزی خور “پچھوکڑ” کی وجہ سے سور کے گوشت سے تو نفرت کرتے ہیں ۔
لیکن
شاھ جی ( ساہوکار) لوگوں کی قابل رشک   لائف کے کمپلکس کی وجہ سے
 سود کی رقم کو کھانے کی کوئی نہ کوئی توجیع نکال ہی لیا کرتے ہیں ۔

مائکرو بلاگنگ ، فیس بک والے اسٹیٹس ۔


 جیدو ڈنگر ، اپنی ماں کے ساتھ کلینک میں داخل ہوتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اچھو بیٹھا رو رہا ہے اور اچھو کی ماں اس کو چپ کرانے کی کوشش کر رہی ہے  ۔
کی ہویا ؟
اوئے جیدو ِ میرا خون دا ٹیسٹ ای ، ڈاکٹر نے سوئی مار کر خون نکالنا ای۔
جیدو ڈنگر  نے ہائے او ربا کہا، اور رونا شروع کر دیا ۔
اچھو پوچھتا ہے
اوئے تینوں کی ہویا اے ؟
اوئے میرا  “موتر” دا ٹیسٹ ای ! میں تے مرجاواں گا ۔

وہ ائرفورس میں کام کرتا تھا ، وہ بتا رہا تھا کہ اس کے بیٹے سے جب بھی کوئی پوچھتا تھا کہ  “ ابا کام کیا کرتا ہے ؟” تو اس کا بیٹا جواب دیتا تھا ۔ “ فوجی “ !۔
میں نے اس کو سختی سے منع کیا کہ بے کا فوجی ہونا نہ بتایا کرئے ۔
بیٹا ،پہلی کلاس میں داخل ہوا، داخلہ فارم کی ایک کاپی مجھے بھی ملی ،  داخلے کے فارم پر ابے کے کام کے خانے میں  لکھاتھا ۔
معلوم نہیں ، لیکن یہ بات پکی ہے کہ باپ فوجی نہیں ہے ۔

جیدو ڈنگر ! بڑا بن ٹھن کے گامے دے کول آیا
تے گامے نوں اپنا کیمرا دے کے ، کہندا اے ۔
یار ! میری اک سلیفی تے بنا دے !۔



دو قومی نظریہ ۔
اس ملک میں دو قومیں پائی جاتی ہیں ۔
ایک قوم
اور دوسری  عوام۔
عوام مرے یا اس کے بچے ،کوئی بات نہیں قوم  کے وقار پر حرف نہیں آنا چاہئے ۔


 مولوی صاحب کہا کرتے تھے ، جن والدین کے نو عمر بچے مر جاتے ہیں ، ان کے والدیں کو جنت کے محل عطا ہوں گے ۔
پشارو کے آرمی سکول میں مرنے والے بچوں کے جنت کے محلوں کا انتظام ناپاک طالبان نے کیا ہے
اور  پچھلے دس سال سے پاک فوج اس سے کہیں زیادہ تعداد کے والدیں کو جنت کے محلوں کا حق دار بنا چکی ہے  ۔

یا اللہ ! مجھے اتنی زیادہ طاقت دے کہ میں اپنے دشمنوں اور مخالفوں کو معافی مانگنے پر مجبور کرنے کے قابل ہو جاؤں۔
ورنہ ، گولی تو افیمی ، چرسی اور فوجی بھی مار سکتے  ہیں ۔

کسی سیانے کا قول ہے کہ نیچ سے نیچ بات کی حمایت میں بھی کچھ نہ کچھ لوگ نکل ہی آتے ہیں ۔
فوج کا پیشہ ہوتا ہے  “جنگ” اور پاک فوج کو جنگ میں جو مشکلات ہیں ۔
آپریشن کرو، آبادی کا انخلا نہ کرائو تو بمباری اور گولہ باری سے نقصان ہوگا، انخلا کرائو تو جو نقشہ آپ نے کھینچا، وہ بنے گا۔ آپریشن نہ کرو تو وہ علاقہ دہشت گردی کا مسکن بنا رہے گا، اآپریشن کرو، انخلا کرائو اور چیک پوسٹوں پر چیکنگ نہ کرائو تو پھر اس انخلا کا فائدہ کوئی نہیں تھا،

ان کا بھی ذکر ہونا چاہئے
لیکن یہ بھی تو ہونا چاہئے کہ  کوئی اتھارٹی کوئی وزارت ، کوئی عہدھ  کوئی بندہ  فوج کی پیشہ ورانہ کوالٹی کو چیک کرنے والا ہے ہی نہیں ۔
جنگ کہ جس ہنر میں فوج یکتا ہے
ڈھاکہ میں ہو یا کہ وزیرسان میں یا کہ بلوچستان میں ، فوج کے ہنر کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔

اور جو کام فوج نے بڑی خلوص نیت سے کیا ہے  یعنی کہ حکومت پر قبضہ ( ڈاےریکٹ یا ان ڈائریکٹ) کیا ہوا ہے ۔
 انیس سو باون سے ، اس ہنر کے فن پارے تو تاریخ دان لکھے ، آج کا لکھنے والا اور وہ جو پاکستان میں ہے وہ نہیں لکھ سکتا ۔
اگر لکھے گا تو “ مسنگ پرسن “ ہو جائے گا ۔
ویسے اس ہنر میں بھی فرشتے ، تکتا ہیں ۔

کالی تتری کمادوں نکلی
تے اڈدی تو باز بئے گیا۔
۔
فوجی عدالتون کا قیام ۔


پھانسی کی سزا کے خلاف دنیا بھر میں کچھ تنظیمیں آواز اٹھاتی ہیں ،۔
جاپان میں بھی پھانسی کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنظیمں ہیں ، جن کے اثر سے یہ ہوا ہے کہ اب جاپانی عدالتیں موت کی سزا صرف ان کیسوں میں دیتی ہیں جن میں بہیمانہ قتل کئے گئے ہوں اور قتل بھی ایک سے زیادہ افراد کے ہوں ۔
اور جن مجرمان کو پھانسی دی بھی جاتی ہے ان کو بہت خفیہ رکھا جاتا ہے ۔
جاپان جیسے معاشرے میں جہاں کیمرہ ایک عام سی بات ہے وہاں اپ کو کبھی بھی کسی کو پھانسی دی جانے کی فوٹو یا ویڈیو نہیں ملے گی ۔

صنعتی انقلاب کے پہلے دور میں مجرموں کو گولی مارنے کی سزا بھی دی جاتی تھی ۔
گولی مارنے کے عدالتی حکم کے بعد ، اس سزا کا ایک طریقہ کار متعین تھا ،۔
گولی مارنے والے نشانے باز جلاد بھی انسان ہی ہوتے ہیں ، اور کسی انسان کی جان لینا اگرچہ کہ اپنے فرض کی ادائیگی ہی کیوں نہ ہو انسان کی نفسیات کو مےاثر کرتا ہے ۔
اس لئے گولی مارنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ
ایک مجرم کو گولی مارنے کے لئے گیارہ نشانے باز جلاد ہوں گے ، جن کے سامنے گیارہ گولیاں رکھی جائیں گی کہ ان میں سے ایک ایک اٹھا لیں ،۔
ان گیارہ گولیوں میں صرف ایک گولی اصلی ہو گی ، باقی کی دس گولیاں صرف پٹاخہ ہوں گی ۔
بہترین نشانے باز گیارہ بندے ، حکم دینے والی کی آواز پر یک دم گولیاں چلا دیں گے ۔
مجرم کی موت کس کی گولی سے ہوئی ہے ؟ اس بات کا کسی کو بھی علم نہں ہے ۔
ہر نشانے باز جلاد یہی سمجھا رہے گا کہ وہ مجرم میری گولی سے نہیں مرا ہو گا ، اس بات کا “ شک” بڑھاپے میں ، یا کہ
سردیوں کی لمبی راتوں میں ، کسی کی جان لینے دکھ آ آ کر تنگ نہیں کرئے گا ۔

میرے علم کے مطابق یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں پھانسی تو کجا موت کی سزا بھی نہیں ہے ۔
امریکہ کی کچھ ریاستوں میں موت کی سزا ہے لیکن وہاں بھی پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا ، بلکہ بجلی کی کرسی اور زہر کے ٹیکے کے ساتھ سلا دیا جاتا ہے ۔
کم عقل لوگوں کی آگاہی کے لئے ، ایک بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ
پھانسی کی سزا کے خلاف آواز ، موت کی سزا کے خلاف اواز نہیں ہے ۔
پھانسی کی سزا کے خلاز آواز اٹھانے والے لوگوں کو موقف یہ ہوتا ہے کہ بہیمانہ سزاؤں کو ختم ہونا چاہئے ۔
ہاں ! اس کے بعد موت کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنطیمیں اور ممالک بھی ہیں جیسے کہ یورپی یونین میں سزائے موت نہیں ہے ۔
بے عقل معاشروں میں ، قانون کے نام پر ، امن کے نام پر یا کہ دہشت کردی کے نام پر جو قتل گولیاں مار مار کر کئے جاتے ہیں
کھیتوں میں پہاڑوں میں گلیوں اور چوکوں میں !۔
ایسے قتلوں کو ختم ہونا چاہئے ۔
 پھانسی کی سزا میں بھی مجرم کے منہ پر کالا غلاف چڑھایا جاتا ہے ۔
جو کہ مجرم کی موت واقع ہونے کے بعد پھانسی سے اتار کر ،لٹانے تک نہیں اتارا جاتا ۔
لیکن پاکستان میں ، ہونے والی حالیہ پھانسیوں  کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ، کن میں مجرم کے منہ پر کوئی غلاف نہیں ہے ، اور پھانسی پر  لٹکی ہوئی انسانی لاشوں کی فوٹو بڑے فخر سے دکھائی جا رہی ہیں ۔

بدھ، 28 جنوری، 2015

معجزہ اور انسان

بنی اسرائیل کے انبیاء کو  اللہ نے طرح طرح کے معجزات عطا فرمائے تھے ۔
جن میں سے ایک معجزہ یہ تھا کہ ، اس زمانے کے نبی کو اللہ تعالی نے یہ معجزہ عطا فرمایا تھا کہ
ان کے پاس ایک زنجیر تھی  جو کہ ایک حجرے میں  چھت سے لٹکی ہوئی تھی ،  اگر کوئی بندہ اس زنجیر کو پکڑ کر جھوٹ بولتا تھا تو ! زنجیر اس بندے کو جکڑ لیتی تھی ۔
چوری کے معاملے میں مشکوک بندے کو یا کہ کسی بھی لین دین کے معاملے میں  مشکوک بندے اور مدعی  کو اس زنجیر کو یہ زنجیر پکڑ کر قسم کھانے کا کہا جاتا تھا ۔
اس دور میں ایک واقعہ ہوا کہ  ایک شخص کہیں سفر پر جانے سے پہلے ، قیمتی پتھروں اور موتیوں کی ایک مالا  ، کسی دوسرے شخص کے پاس امانت رکھ کر سفر پر چلا جاتا ہے ۔
سالوں بعد جب اس شخص کی سفر سے واپسی ہوتی ہے تو ، وہ اپنی امانت کی واپسی کے تقاضے کے ساتھ ، جب پہنچتا ہے تو ؟
وہ بندہ اس بات سے انکار کر دیتا ہے کہ اس کے پاس کسی قسم کی امانت رکھی گئی تھی ۔
یاد کرانے پر وہ شخص یہ موقف  اپناتا ہے کہ ، مالا اس کے پاس لائی گئی تھی لیکن اس نے وہ مالا  مسافر کو واپس کر دی تھی ۔
یہ معاملہ وقت کے نبی کے پاس جاتا ہے ۔
دونوں فریق  زنجیر والے حجرے میں پہنچ جاتے ہیں گاؤں کے کئی اور لوگ بھی تماشا دیکھنے آ جاتے ہیں ۔
پہلے مدعی ، زنجیر کو پکڑ کر کہتا ہے ۔
میں خدا کو  حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے دوست کے پاس اپنا ہار امانت رکھا تھا  ، اب وہ یہ ہار واپس کرنے سے انکاری ہے ۔
مدعی سچا تھا ، اس لئے زنجیر سے جکڑا نہیں گیا ۔
واپس آ کر مجمع میں شامل ہوتا ہے ۔
اب ملزم کی باری ہے  ، ملزم عمر رسیدہ بندہ چھڑی کے سہارے چلتا تھا ، ملزم نے اپنی چھڑی مدعی دوست کو تھمائی  کہ اسے سنبھالو ، میں بھی قسم اٹھا لوں ۔
چھڑی مدعی دوست کو تھما کر ، ملزم  زنجیر کے پاس جاتا ہے ، زنجیر کو پکڑ کر قسم کھاتا ہے ۔
کہ
میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے  وہ ہار واپس کر دیا تھا جو کہ میرے پاس امانت رکھوایا گیا تھا ۔
ملزم  کو بھی زنجیر نہیں جکڑتی  کیونکہ ملزم سچ بول رہا تھا ۔
ملزم واپس مجمع میں آتا ہے ، اپنی چھڑی مدعی دوست سے ہاتھ میں لیتا ہے اور چلتا بنتا ہے ۔
شہر میں شور مچ جاتا ہے کہ   مدعی کا مدعا بھی سچ ہے اور ملزم  کا تردیدی بیان بھی سچ ہے تو ؟
ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی بھی پریشان ہو جاتے ہیں کہ
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ملزم بھی سچا ہو اور مدعی بھی ! تو پھر دعوے کا ہار کہاں گیا ۔
وقت کے نبی کے پاس پیغام آتا ہے کہ
ملزم نے اپنی چالاکی سے معجزے والی زنجیر کو بھی دھوکا دیا ہے ۔
ملزم نے اس طرح کیا ہے کہ
بانس کی چھڑی میں کھوکھلی بانسری میں ہار ڈال کر لاتا تھا ۔
جب مدعی نے قسم  دی اور واپس آیا تھا تو  ؟
وہ چھڑی جس کی کھوکھلی بانسری میں ہار تھا ، وہ مدعی کو تھما کر قسم کھانے چلا گیا ۔
تکنیکی طور پر اس وقت جب ملزم قسم کھا رہا تھا تو ، ہار مدعی کے ہاتھ میں تھا ۔
یعنی کہ ہار واپس پہنچ چکا تھا ۔
اپنی بریّت کی  سچی قسم اٹھا کر ، ملزم ہار سمیت چھڑی لے کر چلتا بنا ۔
حاصل مطالعہ
جنہوں نے حرام کھانا ہوتا ہے ، ان کے پاس تکنیکیں بھی بہت ہوتی ہیں ،۔

سوموار، 12 جنوری، 2015

چارلی ایبدو

فرانس کے شہر پیرس میں ، ایک جریدے “ چالی ایبدو” کے دفتر پر ہونے والے حملے اور اس میں مارے جانے والے بارہ افراد کے متعلق بہت سے لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ
یہ ایک ظالمانہ کام ہوا ہے  ۔
غیر مسلم ممالک میں پناھ گزین مسلمان بھی   اپنے محافظ ممالک کے لوگوں کی ہمدریاں سمیٹنے کے لئے کہہ رہے ہیں ۔
اسلام  قتل کے خلاف ہے ، کوئی مسلمان ایسا کر ہی نہیں سکتا ۔
منافقت !!۔
منافقت کر رہے ہیں ۔
میں منافق نہیں ہوں سیدھی اور کھری بات کروں گا ۔

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
یہ الفاظ سننے میں بڑے پیارے لگتے ہیں ۔
لیکن آزادی کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
جاپان کے معاشرے میں جہاں میں پناھ گزین ہوں ، یہ آزادی ہے ، حقیقی آزادی ، اور اس آزادی کے بھی کچھ اصول ہیں ۔
مثلاً ، اپ کے دونوں ہاتھ آزاد ہیں ،۔ جہاں تک چاہیں پھیلا سکتے ہیں
لیکن
دوسرے کی ناک یا گریبان کے حدود سے اِدھر تک !!۔
آپ کی آزادی کی حدود دوسرے کی انسانوں کی حدود میں داخل ہونے کا نام نہیں اگر اپ دوسروں کی حدود میں داخل ہو رہے ہیں تو دوسروں کی آزادی پر حرف آتا ہے ۔
بات کرنے میں بھی کچھ اصول ہوتے ہیں ۔
نظریات پر تنقید کریں ،واقعات پر بھی تنقید کریں کہ واقعات جذبات پر اثر کرتے ہیں اچھا یا برا ، خوشی کا یا دکھ کا !۔
لیکن شخصیات پر بات کرتے ہوئے خیال رہنا چاہئے کہ کہیں کسی کی تذلیل نہ کریں ،۔
کسی کو گالی نہ دیں ۔
یا پھر اگر گالی دینی ہی ہے تو اپ کے ذہن میں یہ ہونا چاہئے کہ اپ کسی کو دشمن ڈکلئیر کر کے اس کے غصے کو ابھار رہے ہیں ۔
یہ تو کسی کی ماں بہن یا باپ کی گالی تک کا معاملہ ہے ۔
جب  کوئی اللہ کے رسول ﷺ کو گالی دیتا ہے
تو
اس کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ ، اسلام زمین پر پہلا مذہب ہے جو کچھ حدود کے بعد لڑائی کو فرض کردیتا ہے ۔
اللہ کے رسولﷺ کی انلسٹ سے دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

فرانس کے اس جریدے “ چارلی ایبدو” نے جو گالی دی تھی ،اس کے ردعمل میں جن کے جذبات کی توہیں ہوئی تھی انہوں نے اس گالی کا بدلہ لے لیا ۔
فرانس نے قانون کو ہاتھ میں لینے کے جرم میں ان لوگوں کو قتل کردیا ۔
اب اگر فرانس یہ چاہتا ہے کہ ہم بدلہ لینے والوں کی مذمت کریں تو ؟
“ دیزولے” ( سوری) میں اس کی کبھی بھی مذمت نہیں کروں گا ۔
بدلہ لینے والوں کے جذبات مجروع کئے گئے تھے ۔
دوسروں پر تحقیر کرنے والے لوگوں کو اس بات کااحساس ہونا چاہئے کہ ،ان کے عمل کا ردعمل بھی ہو گا ، جس کی شدت کا بھی ادراک ہونا چاہئے ۔
بدلے کے لئے حملہ کرنے والے ان جوانوں کے حلمے سے پہلے دنیا کے کتنے ہی شہروں میں کتنے ہی لوگوں نے مظاہرے کر کر کے اپ لوگوں کو توجہ دلائی تھی کہ ،چارلی ایبدو والوں نے ایک معیوب کام کیا ہے
اس کی معافی مانگیں لیکن اپ لوگوں نے

آزادی اظہار ،۔
freedom of speech
言論の自由
کے نام پر لوگوں کے جذبات کا مذاق اڑایا تھا ۔

اتوار، 28 دسمبر، 2014

پھانسی کی سزا


پھانسی کی سزا کے خلاف دنیا بھر میں کچھ تنظیمیں آواز اٹھاتی ہیں ،۔
جاپان میں بھی پھانسی کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنظیمں ہیں ، جن کے اثر سے یہ ہوا ہے کہ اب جاپانی عدالتیں موت کی سزا صرف ان کیسوں میں دیتی ہیں جن میں بہیمانہ قتل کئے گئے ہوں اور قتل بھی ایک سے زیادہ افراد کے ہوں ۔
اور جن مجرمان کو پھانسی دی بھی جاتی ہے ان کو بہت خفیہ رکھا جاتا ہے ۔
جاپان جیسے معاشرے میں جہاں کیمرہ ایک عام سی بات ہے وہاں اپ کو کبھی بھی کسی کو پھانسی دی جانے کی فوٹو یا ویڈیو نہیں ملے گی ۔

صنعتی انقلاب کے پہلے دور میں مجرموں کو گولی مارنے کی سزا بھی دی جاتی تھی ۔
گولی مارنے کے عدالتی حکم کے بعد ، اس سزا کا ایک طریقہ کار متعین تھا ،۔
گولی مارنے والے نشانے باز جلاد بھی انسان ہی ہوتے ہیں ، اور کسی انسان کی جان لینا اگرچہ کہ اپنے فرض کی ادائیگی ہی کیوں نہ ہو انسان کی نفسیات کو مےاثر کرتا ہے ۔
اس لئے گولی مارنے کا طریقہ کار یہ تھا کہ
ایک مجرم کو گولی مارنے کے لئے گیارہ نشانے باز جلاد ہوں گے ، جن کے سامنے گیارہ گولیاں رکھی جائیں گی کہ ان میں سے ایک ایک اٹھا لیں ،۔
ان گیارہ گولیوں میں صرف ایک گولی اصلی ہو گی ، باقی کی دس گولیاں صرف پٹاخہ ہوں گی ۔
بہترین نشانے باز گیارہ بندے ، حکم دینے والی کی آواز پر یک دم گولیاں چلا دیں گے ۔
مجرم کی موت کس کی گولی سے ہوئی ہے ؟ اس بات کا کسی کو بھی علم نہں ہے ۔
ہر نشانے باز جلاد یہی سمجھا رہے گا کہ وہ مجرم میری گولی سے نہیں مرا ہو گا ، اس بات کا “ شک” بڑھاپے میں ، یا کہ
سردیوں کی لمبی راتوں میں ، کسی کی جان لینے دکھ آ آ کر تنگ نہیں کرئے گا ۔

میرے علم کے مطابق یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں پھانسی تو کجا موت کی سزا بھی نہیں ہے ۔
امریکہ کی کچھ ریاستوں میں موت کی سزا ہے لیکن وہاں بھی پھانسی پر نہیں لٹکایا جاتا ، بلکہ بجلی کی کرسی اور زہر کے ٹیکے کے ساتھ سلا دیا جاتا ہے ۔
کم عقل لوگوں کی آگاہی کے لئے ، ایک بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ
پھانسی کی سزا کے خلاف آواز ، موت کی سزا کے خلاف اواز نہیں ہے ۔
پھانسی کی سزا کے خلاز آواز اٹھانے والے لوگوں کو موقف یہ ہوتا ہے کہ بہیمانہ سزاؤں کو ختم ہونا چاہئے ۔
ہاں ! اس کے بعد موت کی سزا کے خلاف کام کرنے والی تنطیمیں اور ممالک بھی ہیں جیسے کہ یورپی یونین میں سزائے موت نہیں ہے ۔
بے عقل معاشروں میں ، قانون کے نام پر ، امن کے نام پر یا کہ دہشت کردی کے نام پر جو قتل گولیاں مار مار کر کئے جاتے ہیں
کھیتوں میں پہاڑوں میں گلیوں اور چوکوں میں !۔
ایسے قتلوں کو ختم ہونا چاہئے ۔
 پھانسی کی سزا میں بھی مجرم کے منہ پر کالا غلاف چڑھایا جاتا ہے ۔
جو کہ مجرم کی موت واقع ہونے کے بعد پھانسی سے اتار کر ،لٹانے تک نہیں اتارا جاتا ۔
لیکن پاکستان میں ، ہونے والی حالیہ پھانسیوں  کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ، کن میں مجرم کے منہ پر کوئی غلاف نہیں ہے ، اور پھانسی پر  لٹکی ہوئی انسانی لاشوں کی فوٹو بڑے فخر سے دکھائی جا رہی ہیں ۔

جمعرات، 25 دسمبر، 2014

کھلی کچہریاں

نام تو اس کا شمس تھا لیکن فرانس میں  وہ چوہدری جمی کے نام سے جانا جاتا ہے ،۔
ہاں ہاں وہی جمی جو ائر ہوسٹس بیوی کو قتل کر کے جیل بھگت چکا ہے ۔
اس نے ایک دفعہ ایک واقعہ سنایا تھا کہ
اس کے ایک جج دوست کے سامنے بندے کو مجروح کرنے کا ایک کیس لایا گیا ۔
ایک فوجی حکومت کے دور کی بات ہے اور  ملزمان جنرل صاحب کے رشتے دار تھے ۔
جج کو صرف فیصلے کے لئے بلایا تھا اور کچہری بھی کھلی کچہری تھی ۔
جج صاحب کے ساتھ چار جرنیل بھی بیٹھے تھے ،۔
اور جج صاحب کو کہا گیا تھا ملزمان کو بری کر دینا ہے ۔
میز پر سرخ اور سفید کارڈ پڑے تھے  ۔
جج صاحب کو حکم تھا کہ سب باتیں سن کر ، آخر میں سفید کارڈ اٹھا کر دیکھا دینا ۔
بس اتنا سا کام ہے ۔
اب معاملہ یہ تھا کہ
ملزمان نے ایک بندے کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر  ، اس کی انکھیں بھی نکال دی تھیں اور زبان کی بھی کاٹ دی تھی ۔
جمی ! یہاں تک بتا کر کہتا ہے
یار خاور ! تم خود ہی بتاؤ کہ اب یہ بندھ تو نہ ہوا “ ٹنڈ” ہوا ناں جی ٹنڈ !!۔
بندہ مرنے سے تو بچ گیا تھا ، اور زخم بھی بھر چکے تھے  ۔

کہتا ہے جب یہ عدالت نما ڈرامہ چل رہا تھا ۔
تو کیا ہوا کہ مجروح کے گاؤں کے مراثی نے اس مجروح کو ٹوکرے میں ڈال کر عدالت  یعنی کہ کھلی کچہری میں لے آیا۔
اور مراثی جج صاحب کو مخاطب کر کے کہتا ہے ۔
جج صاحب اے ویکھ لو ، تے فیصلہ کر دیو! جان تساں وی رب نوں دینی اے ۔

جج بتاتا ہے کہ یہ وہ لمحات تھے جب میں نے فیصلے کا کارڈ دیکھانا تھا ۔
ٹوکرے میں پڑے اس ٹنڈ نما بندے کو دیکھ کر میرے رونکھٹے کھڑے ہو گئے ، ایک عجیب سے احساس کی لہر میرے جسم میں سے گزر گئی
 میرا ہاتھ خود بخود ہی سرخ کارڈ پر جا پڑا اور میں نے بے اختیار سرخ کارڈ اٹھا دیا ۔

جرنل صاحب نے اپنے سگوں کو کسی ناں کسی طرح بچا ہی لیا تھا ۔
اور مجھے بھی نوکری چھوڑنی ہی پڑی تھی کہ  جرنل صاحب بڑے ہی طاقت ور تھے ۔
یہاں تک بتا کر چوہدری جمی  کہتا ہے ۔
جج نے مجھے پوچھا کہ چوہدری اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا کرتے ؟
میں نے جواب دیا تھا کہ میں بھی  یہی کرتا  جو آپ نے کیا ہے ۔
پھر چوہدری جمی مجھے پوچھتا ہے
خاور اگر تم ہوتے تو کیا کرتے ؟
میں چوہدری جمی کے سوال کا جواب نہیں دے سکا تھا
کیونکہ مجھے اپنی غربت  اور کم مائگی  کے احساس نے خاموش کردیا تھا ۔

بدھ، 17 دسمبر، 2014

سولہ دسمبر ، پشاور میں بچوں کا قتل


پشاور میں ہونے والا بچوں کا قتل ایک ایسا سانحہ ہے کہ جس نے دل کو چیر کر سکھ دیا ہے ۔
میرے بھی بچے ہیں ، اور اپ بھی جن کے بچے ہیں ،زرا ان کے منہ دیکھ کر بتائیں کہ کیا ان کی عمر ہے کہ ان کو قتل کر دیا جائے ؟
فوج نے جو جیش ، لشکر اور جتھے بنا کر قوم کی بغل میں دئے ہوئے ہیں ناں   ۔
ان کی جو فصل تیار ہو رہی ہے اس کا پھل ہے ۔
پاکستان کے مسائل کا گڑھ ہی فوج ہے ،۔
نظریہ ضروت سے لے کر عدالتی نظام کس نے تباھ کیا ؟
تعلیم میں زہر کس  گھولا؟
طاقت کے بے جا اظہار کی راہیں کس نے قوم کو دیکھائیں ۔
ملک میں مسائل پیدا کر کے ، بشمول مسئلہ کشمیر فوج کے ناگزیر ہونے  کا پروپیغینڈا اور اس کی اوجھل میں چھاؤنیوں کی لگژری لائف   کون انجوائے کر رہا ہے ۔
طاقت سے اداروں کے آڈٹ جیسی بنیادی رسم کس نے ختم کی ہے ؟
دوستو! فوج کی حمایت میں بات کرنے سے پہلے سوچ لو
کہ اس فوج کی  حمایت جھوٹ کی حمایت ہے ۔
اور جس بندے کو رب نے عقل دی ہو وہ جھوٹ کی حمایت نہیں کیا کرتا ۔

پاکستان کی سیاست اب ،اج اس دور سے گزر رہی ہے  ، کہ جس میں سیاستدانوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہوا ہے کہ اب فوج کی غلطیوں پر پردہ نہیں ڈالا جائے گا ۔
اگر چہ کہ یہ سیاستدان بھی  فوج ہی کی پیداوار ہیں ۔
لیکن ایک قدرتی سیاستدان نے ان کو یہ راھ دکھلا دی ہے کہ
جس جس نے فوج کی غلطیوں پر پردہ ڈالا  ، وہ ہی مارا گیا ۔
اکہتر سے پہلے کے سیاستدان  باری باری خفیہ طور پر ٹھکانے لگا دئے گئے ، باقی کو کونے لگا کر بنگال کو علیحدہ ہی کر دیا  ، اس غلطی پر بھٹو نے پردہ ڈالا ، اور مارا گیا ۔
گارگل کے پہاڑوں سے نواز شریف نے ان کی جانیں بچائیں تو اس کو بے عزت کیا گیا ۔
زرداری کی بیوی ، سالے  کو قتل کر کے  قاتل تک غائب کر دئے گئے ۔
 تو اب اگر  آپریشن ضرب عضب کو کرنے کی آزادی ملی ہوئی ہے تو اس لئے کہ سیاستدان قوم کی فوج کا وہ چہرہ دیکھا دینا چاہتے ہیں جو کہ اس بھگیاڑ کا اصلی چہرہ ہے ۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثے یک دم نہیں ہوا کرتے

کوؤئیں کے پانی کو پاک کرنا ہے تو؟
پہلے اس میں سے کتا نکالنا ہو گا ۔
اداروں کو ان کی حدود اور فرائض کا علم جاننا ہو گا ۔
اور خود پر اخلاقی قدغن لگانے ہوں گے ، شتر بے مہار  کو کوئی نہ کوئی کہیں ناں کہیں یا تو قتل کر دیتا ہے یا پھر نتھ ڈال دیتا ہے ۔
اور اگر یہ دونوں کام نہ بھی ہو سکیں تو خود ہی کسی گڑھے میں گر جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سولہ دسمبر ہے ۔
آج کے دن ،  انیس سو اکہتر میں پاکستان  ٹوٹ گیا تھا ، پاکستان ٹوٹ چکا ہے ۔
لوگوں کا پاکستان ، انیس سو باون (1952ء) میں چوری ہو گیا تھا ۔
اکہتر میں انہی چوروں کے ہاتھوں سے گر کر پاکستان ٹوٹ گیا تھا ۔
جوروں کے اس ٹولے کو چوری کرنے کی عادت پڑ چکی ہے ۔
الیکشن چوری کر کے  دیتے ہیں ، رقبے اور اعزاز چوری کر کے رکھ لیتے ہیں ۔
چوروں کے اس بکٹیریا کا ایک ہی تریاق ہے ۔
وہ ہے انصاف!۔
صرف اور صرف خالص انصاف کی فضا ہی  میں ان کا دم گھٹ سکتا ہے ، کہ جس سے ان  چوروں کی موت واقعی ہو سکتی ہے ۔