Thursday, June 20, 2013

جھوٹ کا کرب

تاریخ پاکستان
لاہور کے شاہی قلعے کی صرف چند دیواروں اور دروازے تک کی تاریک تاریخ بتا کر شارٹ کٹ مارا جاتا ہے
کہ
بادشاہی مسجد کے ساتھ مفکر پاکستان کی قبر ہے اور یہاں سے لے کر مینار پاکستان تک کا سفر ہی تاریخ ہے۔
راجہ لو سے لے کر مغلوں تک کی ثقافت اور تاریخ تو غرق کی ہی ہے
بادشاہی مسجد سے مفکر پاکستان کے ساتھ راجے رنجیت سنگھ کی مڑی کا کیا کرنا ہے؟
اس مڑی سے جڑی تاریخ کا کیا ہوا ؟؟
ہاہاہاہا
بے چارے لوگ!!!۔
مغالطوں اور مبالغوں سے بھری جھوٹی تعلیم کو لے کر چلے ہیں قوموں کی برادری میں معتبر بننے!!!َ۔

ہاہاہاہا خاور وی پاغل ای اے
کہ خود بھی تو ان میں ہی سے ہے ناں جی ۔ جن کو یہ تعلیم دی جارہی ہے ۔
خاور بھی کیا کرے
کہ اس کوے کی طرح جس نے چونا لگا کر  ہنسوں میں شامل ہونا چاہا تھا
اس کی طرح منافقت نہیں کر سکتا
ہاں خاور ایک مجبور محض ہے کہ
اس کے سارے اپنے لوگ جھوٹ کے کرب میں مبتلا کر دیئے گئے ہیں ۔
لیکن خاور ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔ سوائے اپنا کرب لکھنے کے ۔
جھوٹ کا کرب ہر طرف ہے ہر چیز میں ہے
کہ اب تو لوگ جھوٹ بول کر شرمندہ بھی نہیں ہوتے

Thursday, June 13, 2013

محفلی تکنیک کی باتاں

خاور صاحب !!!۔
اب جب کہ تم لکھتے بھی ہو اور اون لائین اخبار بھی چلاتے ہو تو
تم کو  اب ایسی محفلوں میں بھی جانے کا موقع ملے گا جو کہ ایک عام سے کمہار کو ملنا ناممکن سی چیز ہے۔
سرکاری ملازموں کی دی گئی دعوتیں  ہوں گی۔
سرکاری ملازموں "کو" دی گئی دعوتیں بھی ہوں گی۔
یاد رکھنا کہ طاقت کا محور سرکاری لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ، اور زمین پر خدا بنے سیاستدان بھی ہوتے ہیں جو کہ خود کو رزق کی تقسیم کا ٹھیکدار بنا کر پیش کرتے ہیں۔
ایسی دعوتوں میں تم کو  کسی قسم کے لوگوں سے اور حالات سے پالا پڑ سکتا ہے
اس کے متعلق میں تمہیں دفعتاً فوقتاً بتاتا رہوں گا۔
خاور یاد رکھنا کہ یہاں تم کو  ایسے لوگ بھی ملیں گے
بلکہ ہر محفل میں ایک آدھ دانہ ضرور ہو گا
کہ
جو مہمان خصوصی کے سامنے والی کرسی پر بیٹھے گا۔
مہمان خصوصی کی ساری توجہ کا  خواہش مند یہ دانہ تمہاری انسلٹ کر سکتا ہے
کیسے ؟
اور اس کا حل کیا ہے؟
یہ بندہ تم اگر کسی بات کے لئے جب مہمان خصوصی پاس جاؤ گے تو اس کے سامنے کی کرسی پر ہونے کی وجہ سے جب تم اس کے سر پر کھڑے ہو جاؤ گے تو 
اپنی حثیت کے بچاؤ کے لئے ، یہ بندہ تمہاری انسلٹ کرسکتا ہے
انسلٹ کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ
تمہاری بات کاٹ کر کہے گا کہ تمہارے پاؤں نے میری جوتی کو ٹچ کیا ہے،
یا میرے کپڑے کی استری خراب ہو گئی ہے
یا پھر یہ کہے گا کہ کھانا تو کھا لینے دو۔
اس بندے سے بچاؤ کا طریقہ یہ کرنا ہے کہ
اک قدم پیچھے ہٹ کر دو قدم ایسے رکھنے ہں کہ اس کے سامنے ہو کر اس کی انکھوں میں انکھیں ڈال کر بڑی بڑی تمیز سے پوچھنا ہے کہ
سر جی اپ کا نام کیا ہے؟
اگر یہ بندہ نام بتا دے تو اس کو اگلے فقرے میں " تو" کہ کر مخاطب کرنا ہے
کہ
جب دو معتبر بات کر رہے ہوں بات کو کاٹو نہیں ۔
اور اگر یہ بندہ نام بتانے کی بجائے
کچھ اور تکنیک دیکھائے تو پسپا  ہو جانا کہ اس کو اس تکنیک کا علم ہے اور یہ بندہ پہنچا ہوا خوشامدی اور بڑی دم والا کتا ہے ، اس کے شر سے بچنے کی کوشش کرنا۔

محفل میں اپنے سے بڑے رتبے کے بندے سے زیادہ بے تکلف نہیں ہونا
جیسا کہ بچے بے تکلف ہو جاتے ہیں ۔
اور بچگانہ ذہن کے لوگ بھی ایسا ہی کرتے ہیں 
اگر چہ کہ ان کی عمر کتنی بھی۔
ایسے کسی بندے سے پالا پڑ جائے کہ تمہاری اعلی ظرفی کو تمہاری کوالٹی کی کمی سمجھ لے یا تم کو "چیپ" سمجھ لے تو؟
تم نے اس کو بات کرنے کا موقع دینا ہے ۔
اور یاد رکھنا کہ سیکس  کے متعلق اور عورت مرد کے تعلق کی باتیں صرف بالغوں کے لئے ہوتی ہیں
اور بچہ لوگ ایسی باتوں کے کرنے کو برا ہونے کا احساس رکھتے ہیں ۔
اس لئے جب بھی اس بندے کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس میں عورت کا ذکر ہو تو
ایک دم حیرانی کا اظہار کر کے اس کا منہ دیکھنا ہے اور
پھر اس بات کو پکڑ کر
اس کے بد تمیز ہونے اور اس کی بات کو " گندی بات " ہونے کا کر کے اس پر چڑھ جانا ہے اور اس کو جھاڑ پلا دینی ہے۔
"اس" کے گندی بات ناں کرنے کے احساس کو کیش کروانا ہے۔
میرا خیال ہے کہ تم میری بات کو سمجھ رہے ہو ناں؟
دیکھو میں تم کو ایسی باتیں اس لئے بتا رہا ہوں کہ
ہم جو کہ ذیلدار خاندان کی چوتھی نسل ہیں تو ہم کو یہ باتیں نسل در نسل بتائی گئی ہیں
لیکن
تم
جو کہ ایک عام سے خاندان سے اٹھ کر اب ترقی کرنے لگے ہو تو  ، کیا یاد کرو گے  کہ کسی نے بڑے لوگوں کی محفلوں کی تکنیکیں ہی نہیں بتائی تھیں۔

Saturday, June 08, 2013

چاچا چاپلوس


نام تو اس کا کچھ اور ہی  ہے لیکن اپ اس نام "چاچا" سمجھ لیں ۔چاچے کی عمر اڑتالیس سال ہو چکے ہے اور صحت کی حالت کچھ زیادہ ہے "ماڑی " ہے ۔
چاچے کو دنیا سے بڑا ہی سخت شکوہ ہے کہ دنیا نے اس کی صلاحیتوں  کی قدر ہی نہیں ۔
چاچا ایک شاعر بھی ہے اور نثر نگار بھی ،گلوکار بھی ہے اور ماہر تعلیم بھی بلکہ چاچے کا تعلیم کےساتھ تو کئی نسلوں سے  ناطہ ہے ۔
چاچا انجنئر بھی ہے بلکہ بچپن سے ہی سڑکوں کی تعمیر کا سپر وائزر لگ کیا تھا۔
چاچا ڈاکٹر بھی ہےکیونکہ اس کی کئی کمپوڈروں سے دوستی ہے۔
چاچا جب بھی شعر لکھتا ہے تو پھر کسی کو سنانے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے،
ایک دن اس نے راقم کو شعر سنایا
میں تمہیں پیار کرتا ہوں ، چھوٹے سن سے
کیا تم بھی مجھے پیار کرتی ہو ، کن سن میں ۔
راقم نے سنتے ہی اھ بھر کر کہا کہ اس شعر میں تین بنیادی خامیاں ہیں ۔
یہ بات سنتے ہین چاچا گرم ہو گیا 
کہ کیا 
ردیف قافیہ اور وزن ہی شاعری کا نام ہے؟؟
راقم نے کہا 
نہیں !!!۔
ایک چیز ربط بھی ہوتی ہے۔
چاچے نے گھور کر  کر راقم کرکو دیکھا اور کہا  
یہ نئی بدعت نکل ائی ہے کیا ؟ یہ کیا ہوتا ہے؟
چاچا بہت کچھ بننا چاہتا تھا 
لیکن کچھ بھی ناں بن سکا
چاچے نے شاعری کی کتاب لکھی ۔
خود ہی لکھی خود ہی چپوائی اور خود ہی لوگوں مفت تقسیم کی، بلکہ مبالغہ کرنے والے توکہتے ہیں کہ کسی اور نے پڑہی بھی نہیں ہو گی پڑہی بھی چاچانے صرف خود ہی ہے۔
یہی حال چاچے کی نثر کی کتاب کا بھی ہوا  تھا ۔
اور اپنی ناکامی کی کی وجوہات چاچا یہ بتاتا ہے کہ 
میں نے اج تک کسی کی چاپلوسی نہیں کی اس لئے ترقی نہیں کر سکا
لیکن حقیقت اس کے بلکل الٹ ہے
کہ 
جھوٹ ایسا بولتا ہے کہ جوتوں سمیت انکھوں میں اتر جانے والا۔
کسی "بندے" کو کسی ملک کی مسلم لیگ کا سربراھ بھی لکھ سکتا ہے 
حالنکہ وہ بندہ "اس ملک" میں لوٹا مشہور ہوتا ہے۔
چاپلوسی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے لیکن چاچا کی چیزیں لامحدود ہوتی ہیں۔
چاچا بڑا ٹیکلنیکل قسم کا ڈھیٹھ ہے ۔  "رج" کے کام چور  کہ کام کرنے سے جان جاتی ہے 
لیکن نوکری اس قسم کی چاہتا ہے کہ جہاں تنخواہ جاپان جیسی ہو 
اور کام کوئی دوسرا ہی کرتا رہے۔
لیکن تخیل کی پرواز ہے کہ ہر کام کو اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل قرار دیتا ہے۔
چاچا خود کو ماہر تعلم اس لئے کہتا ہے کہ اس کا ابا جی سکول ماسٹر تھا۔
اب جب بھی کسی پرائویٹ سکول کے مالک کو دیکھتا ہے تو دل میں کڑتا ہے اور گالیان دیتا ہے ۔
چاچا خود کو بڑا سیاح بنا کر بھی پیش کرتا ہے 
اصل میں چاچے کو ایک ایجنٹ نے کچھ لوگوں کو "باہر" کی انٹری دلانے کے لئے ساتھ بھیج دیا کرتا تھا۔
جس سے چاچے کو ہر اس بندے پر بھی بہت غصہ اتا ہے جو خود سے "باہر" پہنچ گیا ہو ۔
اور محفلوں میں اس بات کا ذکر کچھ اس انداز میں کرتا ہے کہ
جیسے وہ بندہ بغیر اجازت چاچے کے ملک  میں "کھس بیٹھیا " ہو ۔
چاچا سب کامیاب لوگوں کو گالیان دیتا ہے اور ان کو جاہل فراڈئے اور خوشامدی کہتا ہے۔
اور کہتا ہے کہ بس میرے بھائی ( وہی ایجنٹجس نے دینا کی سیاحت کروائی ہے) کی طبیعت بن جائے ، جس دن اس نے ساتھ دیا میں ان سب لوگوں سے اگے نکل جاؤں گا ۔
اج کل چاچا انٹر نیٹ کا ماہر اور سوشل میڈیا بنا ہوا ہے۔
اس کے متعلق پھر کبھی سہی!!!۔

Sunday, June 02, 2013

ڈونر اور ڈونیشن

وہ گوری اپنی بیٹی کے دکھوں کا بتانے لگی کہ
ایک کالے سے شادی کی ہے
لیکن  اس کالے کی ایک اور بھی بیوی ہے
چلو جی مسلمان ملکوں میں دوسری بیویوں کو تو اب برداشت کرنا ہی پڑتا ہے
کہ
میری بیٹی کے دوست بھی کبھی کبھی انگلینڈ سے ملنے آ جاتے ہیں ۔
لیکن
میرا نکما جنوائی  میری بیٹی کو تین بچے تو دے گیا ہے لیکن کمائی بلکل بھی نہیں دیتا ہے۔
اب تو بچوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ یہ نکما بندہ ان کا باپ تو ہے لیکن باپ کے فرایض سے بلکل بھی فارغ ہے
اس لئے اب بچوں نے اس کو باپ کہنا ہی چھوڑ دیا ہے
اس نکمے کے بچے اب اس کو ڈونر کہ کر بلاتے ہیں ڈونر!!۔
ڈونر سمجھتے ہو  ناں ڈونر؟؟
میں بھی بس ہنکارے ہے بھرتے رہا کہ اب اس کو کیا جواب دوں ۔
ڈونر کی ڈیفینیشنز کچھ اس طرح سمجھ لیں کہ
گاؤں دیہات میں  جب گائے بھینس کو "لگوانا" ہوتا ہے تو جس بیل کے پاس لے کر جاتے ہیں اس کو ڈونر کہ لیں ۔
کہ اج کل انگریزی میں یہ لفظ کچھ اسی معنوں میں رائج ہے۔
انسانی معاشرے میں یہ ڈونر کا  کام پچھلی کئی دہایوں سے چل رہا ہے۔
اس کی وجہ سے بننے والے مسائل بھی سر اٹھا رہے ہیں اور ان کے حل کا بھی سوچا جا رہا ہے۔
عورت یا مرد  ، جس  کسی ساتھی کی حصیاں کمزور ہوں  اس کے لئے کسی سے ڈونیشن میں خصیاں لے لی جاتی ہیں ۔
عام طور پر ڈونر کوئی مرد ہی ہوتا ہے۔
میڈیکل سائینس کے ایک   ڈاکٹر کو ایک دن کیا سوجھا کہ اس نے اپنے والدین کے ڈی این اے سے اپنے ڈی این اے کا تقابل کرنے کے لئے ٹیسٹ کر لیا۔
ڈی این اے کے گراف میں ماں کے کوڈ میں کئی دفعہ 40 کا ہندسہ اتا تھا جو کہ اس ڈاکٹر کے ڈی این اے کوڈ میں بھی موجود تھا ۔
لیکن باپ والے کوڈ گراف میں جہاں 40 کا یا 41 کا ہندسہ ہونا چاہئے تھا وہاں 10 اور 11 کا ہندسہ تھا ۔
39 سالہ ڈاکٹر کے اعتماد اور فخر کی بنیادیں ہی ہل گئیں
کہ یہ کیا ہوا ہے؟
ڈاکٹر اپنے والدیں سے ملنے کے لئے اپنے گاؤں واپس گیا اور والدیں سے بات کہ کہ یہ کیا ہے؟
تو تب جا کر اس کے والدین نے اس راز سے پردہ اٹھایا کہ
معاملہ اس طرح ہے۔
ایک شخص جس نے ایک بچے کی پرورش اس طرح کی کہ وہ پڑھ لکھ کر میڈیکل سائینس میں ماہر بن کر معاشرے کا ایک مفید فرد بن کر زندگی گزار سکے ، اس کی عظمت کو بھی سلام کہ
اس کو علم بھی تھا کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے
میری بیوی کا بچہ ہے۔
لیکن  اپنی زندگی کی چالیس بہاریں دیکھنے کے بعد اس بات کا افشاں ہونا کہ جس بندے کو باپ سمجھنے کا یقین تھا ، اس بندے کے ساتھ خون کا کوئی رشتہ ہی نہیں ہے۔
ذہنی اذیت ، نفسیاتی مسائل کیا کیا نہیں ہوں گے کہ
عورت اور مرد کے جسمانی تعلق کا تجربہ رکھنے والا ایک تعلیم یافتہ اور ذہین شخص کے دل میں ذہن میں کیا کیا خیالات اتے ہوں گے؟
پاکستان مین اس قسم کے مسئلے پر سوچنا ، لکھنا یا بات کرنا تو دور کی بات ہے
اس قسم کے مسئلے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
لیکن ڈونر کے مسائل اس وقت  دنیا میں موجود ہیں ۔
ان مسائل کا حل یا ہمارے معاشرے میں ہونا یا ناں ہونا سے قطع نظر صرف ایک علم کی بات کے لئے یہ بات تحریر کر رہا ہوں ۔
پنجابی کی مشہور شاعرہ امرتا پریتم کا ایک بیٹا بلکل ساحر لدہانوی کی شکل کا تھا
جون ہونے کے بعد اس نے ایک دن اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا تھا کہ
ماں اگر میں ساحر انکل کا ہی بیٹا ہوں تو بھی مجھے سچ بتا دو کہ میں شک کی اذیت سے نکل سکوں۔
تو امرتاپریتم نے بڑا شاعرانہ جواب دے کر  بیٹے کو مطمعن کر دیا تھا
کہ
بیٹا ۔ یہ میرا عشق تھا ساحر سے کہ میں اس کے ہی تصور میں ڈوبی رہتی تھی
لیکن میرا اس کے ساتھ جسمانی تعلق کبھی بھی نہیں ہوا
تم میرے تصور کی انتہا ہو کہ  تمہاری شکل ساحر سے ملتی ہے۔

Sunday, May 26, 2013

پاک گندگی

افریقہ میں یہ محسوس ہوا کہ
کالے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس قوم کا رنگ جتنا سفید ہے وہ اتنی دولت مند ہے۔
دیسی لوگ یعنی براؤن لوگ افریقہ کے مشرقی ساحلوں کے ممالک میں کاروباری ہیں ۔
جن میں ہندؤں کی تعداد زیادہ ہے لیکن کاروباری ہونے کی وجہ سے عام افریقیوں کی نسبت ممتول ہیں ۔
اس کے بعد کے رنگون کی سفیدی؟
گورے ، اور مشرق بعید کی اقوام کو تو جی پاکستانی بھی امیر سمجھتے ہیں ۔
بھکاری اور بخشیش کے امیدوار یہان بھی ہوتے ہیں
لیکن
ان کی ایک بات بڑی پسند ائی
کہ
جس کو جو بھی دے دو اس پر شکرگزار ہوتا ہے
اگر اپ کہیں کہ یہ کون سی عجیب بات  ہے
ےو
اپ نے پاکستان نہیں دیکھا  ہے۔
پاکستان میں اپ ائیرپورٹ پر ٹرالی والے کو ایک سو ڈلر کا نوٹ بھی دے کر دیکھ لیں ۔
اس کے منہ سے نکلے گا۔
بس اتنے سے ہی۔
سو ڈالر جو کہ امریکہ اور جاپان جیسے امیر معاشروں میں بھی ایک اہمیت رکھتا ہے۔
جاپان اور امریکہ کے باشندوں کی ایک بڑی اکثریت کی ایک دن کی کمائی سو ڈالر سے کم  ہوتی ہے۔
لیکن پاکستان میں انتی رقم کی بخشیش پر بھی " بس اینے کو ای" کا لفظ سن کر میں نے تو ائیر پورٹ پر سے ٹرالی والے کو یا ٹیکسی والے کو کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔
اس لئے نہیں کہ میں بخیل ہوں
اس لئے کہ
میں ان لوگوں کو افورڈ نہیں کر سکتا۔
پاکستان کے پورے معاشرے میں دیکھ لیں کہ
اگر باہر سے کوئی دوست تحفہ لے کر ائے تو
جب تک لیپ ٹاپ کمپیوٹر ناں ہو ۔ اس کو تحفہ ہی نہیں سمجھا جاتا
اور اگر لیپ ٹاپ بھی ہوتا ، وصول کر کے سنا دیا جاتا ہے
کہ
ہاں یہاں پاکستان میں بھی چائینہ والا تیس پینتس میں مل جاتا ہے ۔
افریقہ کے ملک تنزانیہ میں دیکھا کہ
پاکستان کی طرح کچرے کی بہتات نہیں ہے
کاغذوں اور پلاسٹک کا کچرا  بھی نہیں اڑ رہا تھا
اور
انسانی فضلہ تو کہیں دیکھا ہی نہیں ۔
جیسا کہ وہاں پاکستان میں ہوتا ہے
اپ کسی بھی ابادی کے مکانوں کے پچھواڑے چلے جائیں ، گوجرانوالہ میں ریل کی پٹری پر دیکھ لیں۔
پاکستان میں ہر چیز کا نام پاک ہوتا ہے
پاک فوج، پاک روپی،پاک اسلام
اب اس طرح کر لیں کہ پاکستان کی گندگی کو بھی پاک گندگی کہ لیا کریں کہ
پاکستان میں ایسا ہی رواج ہے
پاکستان میں جو بندہ ٹوائلٹ کا کام کرئے گا
وہ زرداری کی طرح امیر ہو سکتا ہے
وہ ائیڈیا کیا ہے
کہ

Thursday, May 16, 2013

صدر کون ہو گا؟

لو جی الیکشن نامی سلیکش کا اختتام ہوا
اگر چہ کہ کراچی کی سلیکشن کے خلاف لوگ دہرنا دینے جارہے ہیں ۔
میرا اندازہ  تھا کہ اس سلیکشن میں  ن لیگ کو مرکزی حکومت اور عمران کو علاقائی حکومت دے کر مضبوط اپوزیشن بنا کر دی جائے گی۔
لیکن اپ الیکشن کے بعد کے میرے اس اندازے کو بونگی بھی کہ سکتے ہیں لیکن یہاں اوکشن میں کئی لوگوں سے میں نے یہ بات کی تھی
اور ایک میرا اندزہ جو تھا
ابھی پورا ہونا ہے
کہ
اگلی باری بھی
صدر زرداری
ہی ہوگا ۔
بڑا مزہ ائے گا کہ اگر ایسا ہو جائے کہ
لوگ شریف زرداروں کو اکھٹی گالیاں دیں گے ۔

Monday, May 13, 2013

نادان کی فریاد ۔ فوج

ہر بندہ کراچی میں فوج لانے کا ہی مطالبہ کئے جا رہا ہے
اس بات کے نتائج سے بے خبر
یہ ایک انتہائی  جہالت پر مبنی مطالبہ ہے!!!َ
مطالبہ یہ ہونا چاہئے
کہ
کراچی  کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے حکومت کے متعلقہ ادارے اگے آئیں اور اپنا فرض نباہیں۔
کراچی کو غنڈہ گردی سے پاک کرنے اور اسلحے پر قدغن لگانے کا یہ ایک اچھا موقع ہے
اس موقع  کو استعمال کرنے میں ساری قوم  کو کراچی کا ساتھ دینا چاہئے۔
اور شفاف الیکشن کروانے کے لئے متعلقہ اداروں کو پوری طاقت سے شر پسندوں کو کچل دینا چاہئے۔
متعلقہ اداروں کو !!۔
جو کام ان کی ذمہ داری ہیں ان کو پورا کریں ۔
پولیس مجرمان کو گرفتار کر کے بغیر رشوت لئے ایمان داری سے ملزمان کو عدالتوں میں  پیش کرئے
عدالتیں مجرموں کی سرکوبی کے لئے طاقت کا جو بھی استعمال کریں
وہ جائیز ہو گا۔
مدعیان کو عدالت کا  دروازہ کھٹکٹانا  چاہئے
اور عدالت کو معاملے پر فیصلہ کرکے حکم جاری کرنے چاہئے۔
اور اگر
پاکستان میں یہ کام نہیں ہو سکتا تو؟
اس کی وجہ بار بار فوج کا معاملات کو اپنی طرز پر حل کرنے کی کوشش میں بگاڑ دئنے کی وجہ سے ہوا ہے۔
اس لئے
فوج کو بلانے والے لوگ دانستگی میں یا نادانستگی میں
غلط کر رہے ہیں ۔
فوج نہیں حکومت کو اگے انا چاہے
جی ہاں حکومت کو
اور اگر حکومت بہتر جانے تو طاقت کا جو بھی استعمال کرئے
اگر فوج ہی کراچی کے مسئلے کو حل کر سکتی ہے
تو بھی
فوج کو حکومت اگے لائے
ناں کہ فوج کو نادان لوگ بلانے لگیں
اور پھر ہو جائے
میرے عزیر ہم وطنو!!!۔
اور اگر جو باتیں میں کہ رہا ہوں
پاکستان میں ناممکن ہیں
تو
اسی لئے اس پاکستان کی تلاش میں ہوں جس میں قانون کی حکم برداری ہو
جی
ہان گم کردہ پاکستان کی تلاش۔

Wednesday, May 08, 2013

زنجبار کے دروازے


میرے ذہن میں دھندلے سے نقش ہیں کچھ دروازوں کے ، جو کہ میں نے اپنے بچپن میں دیکھے۔
ان میں سے جو سب سے پرشکوہ دروازہ مجھے لگتا تھا وہ بھی کسی عمارت میں نہیں لگا تھا بلکہ اکھاڑ کر رکھا ہواتھا۔
فیروزوالہ نام کا ایک قصبہ جو کہ گوجرانوالہ سے مشرق کی طرف کوئی پانچ کلو میڑ  کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ قصبہ جاٹ بٹر لوگوں کا ہے۔
یہاں کے بٹر لوگوں کی سیاسی بصیرت پر میرا جو ذاتی خیال ہے 
کہ 
یہ لوگ ہمیشہ پاکستان کی حمایت اور بہتری کے لئے ہی کچھ کرئیں گے ورنہ سیاست میں خاموش رہیں گے۔
اروپ کے بھنڈروں سے بلکل مختلف، کہ بھنڈر ہمیشہ گورنمنٹ میں رہنے کی کوشش کریں گے۔
اس قصبے فیروزوالہ میں انیس سو چوہتر میں سکول کی گرمیوں کی چھٹیوں میں میں نے کوئی تین مہینے گزارے تھے۔
یہاں ایک ڈیرہ ہوتا تھا جو کہ ابادی کے درمیان میں ہونے کی وجہ سے مجھے عجیب سا لگتا تھا۔
ایک بڑے برگد کے درخت کے نیچے بہت سی بھینسیں بندہی ہیں ۔
اور ساتھ ہی ڈیرے کے مالک جاٹوں کا بڑا سا حویلی نما گھر ہوا کرتا تھا۔
اس  گھر کے دروازے کے اندر ، میری یادوں کا وہ دروازہ اکھڑا پڑا ہوتا تھا۔
لکڑی پر ابھرے نقش نگار تویاد نہیں لیکن ان دنوں بڑا متاثر کرتے تھے۔
چوکھٹ کے اوپر کواڑ اور کواڑوں کے اوپر بڑی سی چوبی محراب،  کچھ تو دروازہ تھا بھی بھاری بھرکم اور کچھ پر کھدائی کاکم اس کو اور بھی پرشکوہ بنا دیتا تھا۔
اس کے علاوہ کے دروازے مجھے یاد نہیں ۔
لیکن اج جب یہاں مشرقی افریقہ کے ملک تنزانیہ کے جزیرے زنجبار سے گزر ہوا تو یہاں اس قسم کے دروازے دیکھ کر میں اس کی تصاویر لینے سے خود کو باز ناں رکھ سکا۔
زنجبار جو کہ صدیوں سے ایک فری پورٹ ہوا کرتا تھا
اگر انیس سو چونسٹھ کا خونی انقلاب ناں ہوتا تو 
شائد دبئی یا عرب امارات کی بجائے یہ جزیرہ ایشیا افریقہ اور یورپ کی منڈیوں کا ٹرانزٹ ہوتا۔
انیس سو چونسٹھ کے انقلاب سے پہلے یہان عرب بادشاہ تھا 
کالے لوگوں کے حملے میں عربوں کو قتل کردیا گیا۔
اس جزیرے کی تاریخ کوشش کرتا ہوں کہ اگلی پوسٹ میں لکھوں ۔
یہ دروازے دیکھیں کہ 
کتنی محنت کی گئی ہے ان کی تیاری میں ۔
















Tuesday, May 07, 2013

دبئی سے


دبئی سے گزر  ہوا، دبئی !۔ جو کہ میری عمر کے لوگوں کے لئے ایک زمانے میں خوابوں کی سرزمین ہوا کتی تھی۔
پلاسٹک کی شوخ رنگ دار، خوبصورت نظر انے والی ناپائیدار اور سستی چیزوں سے بھرے سوٹ کیس لے کر پلٹنے والے میرے طبقے کے مزدور لوگ، پاکستان میں رہنے والوں کے دل گرماتے تھے کہ 
چلو چلو دبئی چلو۔
لیکن جس طرح کمہاروں کے بنائے ہوئے چینی کے برتن ،سمندروں سے نکالے ہوئے غوطہ خوروں کے موتی اور جولاہوں کے بنے ہوئے اعلی سوتی کپڑے پہننے والے جانتے ہیں کہ
پلاسٹک کی چزیں " چیپ" ہوتی ہیں ۔
اسی طرح جب میں نے دنیا گھوم کر دیکھی تو احساس ہوا کہ دبئی کا حال بھی وہی ہے جو 
اصلی چیزوں کے سامنے پلاسٹک کی بنی ہوئی سستی چیزوں کاہوتا ہے۔
عربیوں کے اخلاق کی داستانیں ، عربوں کے اصولوں کی لالچ کی وہ سچی باتیں سنی کہ
ان دنوں کے پاکستان میں بھی جھوٹ لگتی تھیں۔
کفالت کےنام پر پاکستانیوں کو غلام بنا کر رکھنے کی کہانیاں کوئی دوسری دنیا کی باتیں نہیں ہیں ۔
کسی کے بھائی کے ساتھ تو کسی کے مامون کے ساتھ . "ہینڈ کر گئےکفیل صاحب تو 
کوئی خود اجڑ کر آ گیا تو کسی کے باپ یا چاچے کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔
لیکن پاکستان کے حالات تھے کہ خراب ہوتے چلے گئے کہ شریف لوگوں کے لئے رہنا مشکلل ہو گیا
اتنا مشکل کہ
کہ
ایک زمانہ وہ بھی 
ایا کہ نام کے شریف، میاں شریف کی اولاد بمع ابا جی نکال باہر کی گئی ۔
حالانکہ پاکستان میں خالص سعودی اسلام لانے کی کوشش میں یہ "شریف " لوگ ہی جرنل ضیاع کے دست ہائے راستگان تھے۔
باہر نکل کر جس قوم کے ساتھ مجھے رہنا  ، میرا مقدر بنا، یعنی جاپانی قوم! تو جی میں اپنی خود قسمتی پر اللہ سائیں کا بہت شکر گزار ہوں کہ
اگر جلاوطنی ہی مقدر تھی تو مجھے یہ جلاوطنی دنیا کی بہترین قوم کی پناھ میں ملی۔
اج جب اپنے رب کی مہربانی سے  میں بہت سے عربوں سے بہتر مالی حالات کے ساتھ دبئی سے گزرتا ہوں تو
احساس ہوتا پے کہ
پاکستانی لوگ عربی قوم کا نفسیاتی مسئلہ بن کر رہ گئے ہیں ۔
ہر عربی پاکستانیوں کے سامنے ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر اپنا قد اونچا کر کر کے اپنے رویئے سے لگ رہا ہوتا ہے کہ 
پوچھ رہا ہو
کہ
میں ہوں ناں تم سے بڑا؟؟؟؟
میرا ایک عمارتی مزدور بھائی ، یا کسی بحری جہاز یا کسی ٹرک پر وزن لادھنے والا میرا بھائی !۔
اس عربی کو کیا جواب دے سکتا ہے؟

فلائیٹ کی تبدیلی میں کوئی سولہ  گھنٹے کا وقت تھا تو یہان دبئی میں گزارنا تھا،
ائیر پورٹ کے اندر اب اس عمر میں کرسیوں پر بیٹھ بیٹھ کر جسم تھک جاتا ہے۔
اس لئے ایمگریشن سے ٹرانزٹ کا پوچھا!!!۔
ٹرانزٹ ، جو کہ بقول شخصے "کافر" ملکوں میں ایمگریشن افسر کی صوابدید پر دے دیا جاتا ہے
دبئی میں یہی ٹرانزٹ رقم بٹورنے کا بہانہ ہے۔
رویوں کے فرق کی بات ہے کہ
جاپانی قوم بھی بڑی مغرور قوم ہے۔
اور عربی بھی  اور میری قوم بھی۔
لیکن 
جاپانی کا رویہ کیا ہوتا ہے
جس کسی کو خود سے کمزور یا دست نگر پاتا ہے؟
جاپانی کا رویہ  ہوتا ہے 
کہ 
کیونکہ میں تم سے بڑا ہوں 
اس لئے میں تم کو سہارا دوں  گا ، تمہاری دکھ بھال کر کے تم کو کھڑا کروں گا
کہ
تم 
میرا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاؤ۔
لیکن عربی اور میری قوم کے مغرور کا رویہ ہوتا ہے کہ
کیونکہ 
میں ایک اعلی نسلی ، گریٹ بندہ ہوں اس لئے تم سارے کمی(کام کرنے والے) لوگ  میری دیکھ بھال کرو!!!!!۔
اور پھر میرے مشکور بھی ہو کہ 
تم کو ایک نسلی چیز کو بھیک دینے کا موقع ملا ہے۔
بس اسی طرح دبئی میں دوسو پندرہ ڈالر میں ٹرانزٹ ویزہ لیا۔
سات سو سے اوپر درہم بنتے ہیں ، جو کہ دبئی میں ایک مزدور کی دو ہفتے کی کمائی بنتی ہے۔
لیکن 
میں اپنے رب کا شکر گزار ہوں کہ
مجھے اس قابل بنایا کہ 
اپنی ضرورتوں کے مطابق " ان" کو خرید سکوں۔
بس جی ثابت ہوا کہ
 عربوں میں  جس بندے کی کفالت پاکستانی کرتا ہے 
وہ کفیل کہلواتا ہے۔

جو ہوٹل ملا۔ اس کا نام تھا سینٹ جارج ہوٹل!!۔ دیرا کے علاقے کا بد نام ہوٹل کہ اس میں ڈسکو وغیرہ بھی ہے 
اور مزدوری کرنے کے لئے دبئی ائے لوگوں کی اکثریت یہاں داخلہ افورڈ نہیں کر سکتی۔
اس خیال سے کہ اگر مجھے جاپان جانا نصیب ناں ہوتا تو 
شائید میں بھی یہیں کہیں دیرا کے علاقے میں میں اپنا بڑھاپا "رول" رہا ہوتا۔
یہاں پھرنے والے لوگوں میں مجھے اپنا اپ نظر آ رہا تھا
چمکتی زندگی کا تصور رکھنے والے دبئی میں ایک جگہ جہاں عمارتی کچرے کا ڈھیر لگا تھا
ایک دروازے کی تصویر!!۔
ہمارے یہاں ایسے دروازے ہمارے انحطاط کے شروع دنوں میں ہوا کرتے تھے۔
اگر اپ کا سوال ہے کہ
پھر جب ہمارا معاشرہ منظم تھا تو کیسے ہوا کرتے تھے؟؟
تو اس کا جواب ہے کہ
ان دروازں کی تصاویر میں اگلی پوسٹوں میں لگاؤں گا
جب کالے غلاموں کی تجارت کے ٹرانزٹ "زنجبار" کی باتیں لکھوں گا۔


اب یہان سے نیچے جو تصاویر ہیں یہ دیرہ کے علاقے کے ساتھ سمندر کی کھاڑی میں کھڑے ایرانی بیڑوں کی ہیں
لکڑی کے بنے ان بیڑوں کے پس منظر میں دبئی کی عمارتیں ہیں 
جن کو بناے میں میری قوم کے مزدوروں کا خون اور پسینہ شامل ہے۔
یہاں سے ایران جانے والے مال میں کھانے کے سامان کی بڑی مقدار پاکستان کے مال کی ہے۔
لیکن 
مال پہلے دبئی جاتا ہے ،پھر ایران !!۔
کیوں ؟
کیونکہ
مالکوں کا حکم ہے کہ ایران کو مال نہیں دو۔
یہان ان جہازوں میں ، جہان مزدور مال لادھ رہے ہیں ۔
اپ یہ سمجھ لیں کہ خاور یہ مال لادہ رہا ہے۔
اپنی مجبویوں کی وجہ سے کہ
خاور کے ملک کے حالات صرف پاک فوج کے لئے ، اور پاک فوج کے ہی منظم ہیں ۔
باقی سب تو جی 
بقول ظہیر کیانی صاحب کے
تھرڈ پرسن ہیں !!!۔


















Thursday, May 02, 2013

دارالسلام (تنزانیہ) اور تصاویر

تنزانیہ میں ایمگریشن اور کسٹم والوں کا رویہ پچھلی پوسٹ میں لکھا تھا۔
لیکن ان لوگوں کا پیسہ لینے کا اپنا ہی طریقہ ہے جس میں سے غلط کام کرنے کا خوف جھلکتا ہے۔
پاک افسروں کا تو "چاکا" اتنا کھل چکا ہے کہ
رشوت کے متعلق انگریزی کا لفظ "انڈر دی ٹیبل" اتنا جرآت مند ہو چکا ہے کہ
"اون دی ٹیبل "بن چکا ہے۔
کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہو گا
جہاں رشوت دینے کے باوجود کام ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے

مجھے دوسو ڈالر وصول کرنے کی رسید دی گئی تھی اور اس بات کا بتایا گیا تھا کہ تمہارا ویزہ سٹیٹس بڑھایا گیا ہے ۔
تاکہ تمہاری ایکٹویٹیز پر کوئی اعتراض ناں کر سکے۔
کل تیسرے دن کستم افیسر کا فون وصول ہوا کہ اس کی طبیعت بہت خراب ہے اور اس کو دوائی کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے۔
پیسے بھیجنے کا طریقہ کار یہان تنزانیہ میں بہت اسان ہے۔
جس طرح پاکستان میں فون کا بیلنس بھئجتے ہیں اسی طرح یہان تنزانیہ میں فون بیلنس اور رقم بھی بھیجی جا سکتی ہے۔
اس رقم کو کرنسی میں تبدیل کرنے والی جگہیں ہیں ۔
جہاں سے اسانی کے ساتھ رقم کو کرنسی میں وصول کر لیا جاتا ہے۔

اب کچھ تصاویر اور ان کے متعلق ذکر( یہاں ذکر سے مراد "وہ " والا ذکر نہیں ہے، جس سے مذہبی لوگ محلے والوں کی نیندیں حرام کرتے ہیں)۔

یہاں اس ملک تنزانیہ میں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن یہان عیسائی لوگ تعلیم یافتہ ہیں ۔
ہندو کاروباری ہیں ،اور اسی طرح دوسرے مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔
یہ تصویر ایک ہندو عورت کی دوکان کے سامنے جلتے ہوئے دئے کی ہے۔


گندے نالے کے قریب کی ابادی جہان بچے کھیل رہے ہیں ۔
اس طرح کی ابادیان چار دہایاں پہلے پاکستان میں بھی نظر اتی تھی ، علیحدہ علیحدہ گھر اور کھلی گزرگاہیں۔
پھر بڑھتی ہوئی شرح پیدائش نے بے ہنگم ابادیاں اور تنگ دل اور تنگ گزرگاہوں کی  بہتات کر دی۔





دارالاسلام کی ایلالا نام کہ ابادی  جس کو بسانے میں ایک ترتیب نظر اتی ہے کہ کھلی گزرگائیں اور پکے مکانات،
لیکن اس گلی کا منظر کچھ اس طرح کا نظر آ رہا ہے کہ جس طرح کسی دریا میں کھڑے ہوں جہاں سے پانی گزر چکا ہو۔
مجھے بتایا گیا کہ اس ریت کے نیچے پکی سڑک ہے کوئی تیس چالیس سنٹی میٹر نیچے،
بارشوں میں بہ کر انے والی ریت کو ہٹانے کا کوئی نظام ناں ہونے کی وجہ سے ابادی کا یہ حال ہے۔






سندھ طاس معاہدے کے بعد دریائے راوی والا منظر بناتی ان گلیوں میں ایک مسجد اور اس کی اوپری منزلوں پر مدرسے بنے ہیں ۔
کارنر کی دوکانیں اور لوگوں کی چہل پہل ۔





پاکستان میں جو پلاٹ کلچر ، غازی مردوں نے دیا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی کوالٹی ہی یہ ہے کہ کئی منزلہ عمارتیں بناے کا رواج ہی ناں ہو 
تاکہ جس صحافی یا غازی بندے کو یا کسی بھی "اپنے "کو جب کارنر پلاٹ دیا جائے یا رقبہ عطا کیا جائے تو اس کو اس فخر کا احساس ہو کہ مجھے کوئی زمین ملی ہے
اگر کئی منزلہ عماتیں کھڑی کر کے "تھرڈپرسن" لوگوں کو مکانات ملنے لگے تو پھر؟
تھرڈ پرسن اور غازی مردوں کی عظمت میں کیا فرق رہے گا؟؟
یہاں تنزانیہ میں  میں نے اس قوم کو پاکستان کی اس تکنیک میں  بلکل بھی کورا پایا  ہے
اور کئی منزلہ رہائیشی عمارتیں بنی ہوئی ہیں 
اور بن رہی ہیں ۔
جس کے ساتھ ساتھ گنجان ابادیان بھی ہیں ۔
یہ تصاویر ایک کثیر منزلہ عمارت کے ایک گھر سے لی ہیں ۔








بائیں سے دائیں 
شریفے ، ایوکاٹ، زیتون اور پاپائے پڑے ہیں ۔
شریفے ایوکاٹ اور پاپایا تو کھایا ہوا ہے 
لیکن یہ درمیان میں پڑےہوئے پھل کو یہان مقامی لوگ زیتون کہتے ہیں ۔
مجھے ناصر سے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ پھر زیتون (اولیو) کو کیا کہتے ہیں ۔
زیتون نامی یہ پھل بڑا لذیز ہے ۔
انتہائی پتلے چھلکے کے ساتھ اس میں ایک ہی بیچ ہوتا ہے۔
پنجابی میں اس قسم کے بیج کے لئے لفظ " گٹک" استعمال ہوتا ہے۔
زیتون کا ذائقہ بس زیتون جیسا ہی ہے۔
چھوٹےآم کے سائز کے اس پھل میں  آم کی طرح ریشہ نہیں ہوتا، بس ایک کریم سی ہی ہے ۔
مختصر کہ اس پھل کے زائقے کے لئے انگریزی کا لفظ " ویری رچ ٹیسٹ" استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس پھل کو اگر چھوٹی چمچی کے ساتھ تھوڑا تھوڑا کر کے کھایا جائے تو لطف زیادہ آئے گا۔



یہ کچھ تصاویر داراسلام کے سمندر کے کنارے کی۔
پہلی تصویر میں ایک مسائی قبلیلے کا بندہ نظر آرہا ہے
مسائی لوگ اپنے مخصوص لباس میں کمر سے برچھی لگائے عام چلتی پھرتے نظر اتے ہیں ۔مسائی لوگ ہمارے پٹھانوں کی طرح گھروں کی چوکیداری کا کام کرتے ہوئے نظر اتے ہیں ۔






ایک گلی کی عام سی تصویر 
یہان تنزانیہ میں غریبوں کی بستیوں میں بھی 
پاکستان کی طرح پلاسٹک کے لفافے اور دیگر کچرا کہیں نظر نہیں ایا۔
اپ بھی دیکھیں کہ گڑھوں میں کھڑا پانی اور دیگر چزیں ادھر ادھر نطر اتی ہیں لیکن "وہ" والا گند کم ہی نظر آ رہا ہے ۔