ہفتہ، 4 فروری، 2012

مستقبل

ایک وقت تھا کہ میں یہ سوچا کرتا تھا کہ
اس دنیا کو بناے والا کوئی ہے ضرور
لیکن اس کے بعد اس بنانے والے نے دنیا کو بڑے ہی باریک ضابطوں میں باندھ کر اس دنیا کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہو ا ہے
میرے خیال میں وہ خود جہاں ہے اس کو لامکاں کا نام دیں تو
وہاں وقت نامی چیز نہیں ہے
لیکن ہم ہیں کہ وقت نامی چیز میں ہیں
جہاں سے ہمیں گزارے جانے یا گزرنے کا احساس ہے
ہم ہیں کہ صدیوں کا سفر کر رہے ہں کہ زمانوں کی بات کر رہپے ہیں
لیکن
اس کے لیے یہ لمحوں کا بھی معاملہ نہیں ہے کہ اس کے لیے وقت ہے ہی نہیں
کائینات
جو که ایک بہت هی بڑی چیز هے همارے لیے،
وقت سے وراء هستی کے لیے کیا حثیت رکھتی هے ؟ کیا اس کا تصور کر سکتے هیں هیں آپ؟؟
میرا تصور هے که ایک لاٹو
صرف ایک لاٹو جتنی چیز
جو که وقت سے وراء والی هستی کے سامنے چل رها هے یا اسے چلنے کا حکم هے
کن فیکون
میں تو وهاں تھا نهیں که کب کی بات ہے
یه کب کبھی کیا هے ؟
یه کب بھی تب هے جب وقت هے
لیکن اُس کے لیے ناں کب هے ناں تب هے
ناں جب هے، ناں یهاں وهاں
چیزیں اور ان کی وجوه
کی بحث جو که میرے اندر چھڑی تو
میں اس نتیجے پر پہنچا که
ایک دن اُس کو خیال ایا هو گا
لیکن یه ایک دن کی اصطلاح بھی میری هے که میں ایک مجبور محض وقت میں پیدا وقت سے وراء سوچ سوچ هی نهیں سکتا
تو جی ایک دن اس نے
کها
کن فیکون
ایک چھناکا(بگ بین) هوا یا پھر نهیں پھر هوا هو گا
چلو جی روشنی کا جھماکا هوا هو گا یا پھر نهیں هوا هو گا
ایک خاموشی چھا گئی هو گی
هو سکتا ہو که نان هی چھائی هو
کچھ هوا ضرور تھا
که میں وهاں تھا هی نهیں
چیزوں کے هونے اور ان کی وجوه کے هونے اور ناں هونے کی بات تو انسانی علم بس اتنا هی هے نان جی که پنجاب کے لوگ سمجھتے تھے که زمین ایک بیل کے سینگوں پر ٹکی هے
تو کسی نے بابے نانک سے پوچھا که وھ ٹگا (بیل) کهاں کھڑا ہے تو انہوں نے کها که
ٹگے تے ٹگا تے فیر ٹگا
تو جی هو سکتا ہے که میرا یه خیال بھی ٹگے پر ٹگے کے خیال جیسا هو اور انے والے زمانوں کے لوگ کهیں که یه خاور بھی کیا معصوم خیالات کا مالک تھا
تو جی ایک پہیه ، ایک لاٹو یا کسی اور شکل میں کہـ لیں چالو هو گیا
اب جی بنانے والے نے اس میں جو کوڈ ڈالے هیں
کوئی بھی نفس اس کوڈ سے زیادھ کا کام تو نهیں کرسکتا ناں جی

تو
کیا کریں جی
لیکن جی بعد میں احساس ہوا کہ
اس رب کا جو بھی نام ہو
لیکن میں اس کو اللہ کے نام سے پکارتا ہوں
وہ سدا اس کائینات کو سنبھالتا ہے

باریک ضابطوں میں سے کچھ بڑے بڑے ضابطے هیں
وزن ، وقت میں قید چیزیں وزن رکھتی هیں
اور اس وزن ، وقت اور دیگر کے اصول ساری کائینات میں مقرر هیں

1 تبصرہ:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

"زمين بيل کے سينگ پر ہے اور جب بيل ايک سينگ سے اسے دوسرے سينگ پر منتقل کرتا ہے تو زلزلہ آتا ہے" ۔ يہ اختراع ہندوؤں نے بنائی ہوئی تھی ۔ پنجاب کے لوگوں کی ميراث نہيں ہے ۔
وزن ۔ وقت وغيرہ واقعی اس مادے کے ساتھ منسلک ہيں جسے انسان نے مادہ کا نام ديا ہے ۔
آپ تو کمپيوٹر کے ماہر ہيں ۔ کمپيوٹر کيا کچھ کرتا ہے مگر وہ سب کچھ وہی ہوتا ہے جو اس کو بنانے والے نے اس کے اندر رکھ ديا ہے بطور پروگرام کے ۔ کمپيوٹر نہ تو اپنے خالق کو جانتا ہے اور نہ حاکم کو ۔ يہی حالت انسان کی ہے ۔ سچ تو يہ ہے کہ انسان نے کمپيوٹر اُسی عقل سے بنايا ہے جو اس کے خالق [اللہ] نے اس کے اندر بطور آپريٹنگ لينگوئيج کے رکھ دی تھی اور کمپيوٹر کو اُن حرکات پر استوار کرنے کی کوشش کی ہے جو اللہ نے انسان کو وديعت کی ہوئی ہيں