ہفتہ، 29 اکتوبر، 2011

بنکاک ڈوب رها هے


تھائی لینڈ کا دارلحکومت بنکاک ، پانی میں ڈوبا هوا هے
دو هزار دس کی مردم شماری کے مطابق
اس شهر کی ابادی کوئی ساڑهے بیاسی لاکھ هے
اپریل ستره سو بیاسی میں تھائی لینڈ کا کیپیٹل بننے والے اس شهر میں هر مہینے
کوئی باون هزار نئی کاروں کا اضافه هوتا هے
سات سو چار سڑکوں اور کوئی چار هزار تین سو پانچ گلیوں پر مشتمل یه شهر هر روز
کوئی آٹھ هزار نوسو ٹن کوڑا کرکٹ پیدا کرتا هے
بنکاک کے پرانے ائر پورٹ تک میں پانی کھڑا هے
جهاز اڑ نهیں سکتے


پانی هے که پشتو محاورے کے گل محمد کی طرح بس کھڑا هی هو چکا هے

گرم مرطوب موسم والے اس شهر میں جانے کو دل چاہتا هے
لیکن چار یا پانج دن کے بعد نکل بھاگنے کو مچلنے لگتا هے
میں نے اس شهر میں ٹریفک کی کھنٹوں جام بھی دیکھی هے اور
ٹرین کے پل بنتے اور ان پر ٹرین کے چالو هونے کو بھی دیکھا هے
پچھله دفعه میں بنکاک گیا تھا
دو هزار ایک کے اگست میں
پاکستان سے میرا چھوٹا بھائی غلام مرتضی (ننھا) اور ایک کزن عمر فاروق بھی آئے تھے
چار که پانچ دن سیر وغیره کی تھی
اس کے بعد بنکاک جانے کا موقع هی نهیں ملا
جاپان کی کئی بڑی بڑی کمپنیان اس شهر میں اپنی فیکٹریاں رکھتی هیں
که مزدوری سستی هے
اور
ماحول محفوظ



سونی ، توشیبا، اور کئی دوسری کمپنیوں کی فیکٹریاں پانی میں ڈوب چکی هیں
ایک میٹر سے زیاد پانی گوداموں اور فیکٹریوں میں داخل هو چاک ہے
یهاں جاپان مين ٹی وی پر دیکھا رهے تھے که
جن سڑکوں پر گاڑی چلا کر فیکھری جاتے تھے
اس پر کشتی میں فیکٹری تک گئے هیں
اور سڑک پر پانی ميں ڈوبے هوئے ٹرک جن کے صرف چھت نظر آرهے هیں
جا بجا پڑے هیں
فکٹری کا جو ملازم تھا اس کے منه سے بار بار
مشینوں کے بارے فکر مندی کے الفاظ نکل رهے تھے
مشینیں جو که مال کی ماں هوتی هیں
ایجادات کو جنم دیتی هیں
ان کی فکر کرنے والے بندے کے احساسات کوئی
تکنیکی ذہن رکھنے والا بنده هی جان سکتا هے
یا میرے جیسا
مکینک ٹائیپ بنده که
مجھے اوزاروں سے بڑے محبت هے
توشیبا اور سونی کے علاوه بھی کئی جاپانی کمپنیوں نے
جن چیزوں کو اگلے مهینوں میں مارکیٹ میں لانے کا وعده کیا تھا
ان وعدوں کو کینسل کر رهی هیں
بنکاک میں پانی کھڑا هے
لاشیں
کوڑا کرکٹ
ٹوائیلٹوں کا پانی
اور کئی عوامل مل کر بیماریوں کی جو فضا بنائیں گے
ان کے متعلق ایک فکر مندی کی فضا چھائی هوئی هے
آزاد لوگوں کی سرزمین کو ویت نام کی جنگ کے دوران جو کلچر امریکی سپاهیوں نے دیا تھا
صرف اسی سے واقف
بہت سے پاکستانی تھائی لینڈ کا ایک علیحده هی ایمیج رکھتے هیں
تھائی کی اس مصیبت کا پاکستان میڈیا ،
کیا ذکر کررها هے؟؟
کچھ ذکر هے بھی که نهیں ؟؟

2 تبصرے:

افتخار اجمل بھوپال کہا...

بنکاک کے سيلاب سے متعلق خبر تو اخبار ميں آئی تھی ليکن يہاں کی اپنی مصيبتوں سے فرصت کم ہے ۔ يہ پانی بارشوں کا ہے يا سمندر سے آيا ہے اور اس کی وجہ کيا ہے ؟ يہ لوگ آٹھ نو ہزار ٹن کوڑا روزانہ کہاں پھينکتے تھے ؟ کيا سمندر ميں ؟

خالد حمید کہا...

کوئی خبر نہیں جناب