09/07/2009

بابے آدم کی دوسری بیوی

چوھدری صاحب نے میراثی سے پوچھا
اوے میراثیا
تم میراثی لوگ کس نسل سے هوتے هو ؟
میراثی نے کہا که جی
بابے آدم کی نسل سے
تو چوھدری نے دوبارھ پوچھا
اوے !ـ باب آدم میراثی تھا ؟؟
تو پھر آپ هی بتا دیں که بابا آدم کیا تھا ؟
چوھدری افضل عرف اپھو ٹنڈا ، آج کل ویلڈنگ کا کام کرتا ہے رات کو دارے میں بیٹھ گپیں ھانکتا ہے
اپنے نسل هونے کی اتنی بحت کرتا ہے که خدا کی پناھ اور اس کو ساتھ شاھ جی بھی شامل هو جاتا ہے
باقی هوتے هیں جی کمی لوگ اب ان کو باتیں سن سن کر ان کو کملے سمجھتے هیں
شاھ جی نے کها که اور تم ڈنگروں کو پته هی نهیں همارے بڑے بزرگ کہا کرتے تھے که یار بنانے سے پہلے اس کی ذات پوچھ لیا کروـ
اچھو نے کہا اسی لیے تم هم سب لوگوں کے پاس بیٹھتے هو سارے کے سارے کمی !ـ
اسی لیے تم لوگوں کو اپنی اوقات بھول گئی هے
اپھو نے لقمه دیا ـ
مالو کمیار نے بڑے پتے کی بات کی ـ
اوئے هم سارے بابے آدم کی اولاد هیں ـ
ڈاڈو میراثی نے کہا
هاں !ـ لیکن یه چوھدری اور شاھ لوگ بابےآدم کی دوسری بیوی سے هیں ـ
خادم کملے کا منه هی کھلا رھ گیا
دوسری بیوی اور وه بھی بابے آدم کی ؟؟
اوئے تھی ایک اپنے ابلیس کی چھوٹی بہن جو بابے کو پچھلے کھیتوں میں ٹیوب ویل والے کمرے میں ملنے آتی تھی ـ
ڈاڈو نے بتایا ـ
بھولے سنیارے نے اطمنان بھر لمبی سانس کھینچ کر کہا
آچھا !!!!!!!!ـ اسی لیے بابے لوگ کچھ لوگوں کو بھوتنی کا کہا کرترے تھے

9 comments تبصرے:

DuFFeR - ڈفر said...

بس جی اب انتظاریں
اس دفعہ تع فتوٰی آیا کہ آیا

مسٹر کنفیوز said...

نئی چھڈ نا ۔۔۔۔نئی چھڈ نا ۔۔۔۔اوئے تینوں مولویاں نئی چھڈ ناں

محمد وارث said...

آپ کی تحریر داد سے بالاتر ہے خاور صاحب، کیا خوبصورت اور گہری بات ہے، یہ چودھری اور انکی نسل کے دیگر واقعی سب بابے آدم کی دوسری بیوی سے ہیں، یہ انکا بابا آدم ہی ابلیس ہے۔

راشد کامران said...

نا معلوم یہ نیا خیال ہے یا آپ نے اب تک چھپا کر رکھا تھا لیکن جو کچھ بھی ہے قبلہ کیا غضب کی بات کردی ہے۔

Billu Billa said...

Tehreer hamesha ki tarha buhat zabardast hai kam kam likhtye hian lekin kya kheeb likhtey hain. Muhammad Waris sb ki baat mian bhi dam hai ke in ka baba adam iblees hai shayad.

japaki said...

Chuderayu ki maa ki pudy

japaki said...

Chuderayu ki maa ki pudy

Jafar said...

ہندو سکھ تھے ہمارے آباواجداد
کلمہ تو پڑھ لیا تھا لیکن ہزاروں سال سے جو ذہن میں بیٹھا ہوا ہے
اسے بدلتے بدلتے بھی ہزاروں سال ہی لگیں گے میرے خیال میں
مغرب میں درزی، نائی ، موچی پڑھے لکھوں سے زیادہ کماتے ہیں
ہنر مند کہلاتے ہیں
ہمارے یہ ہنر مند کہیں سے پیسہ کما ہی لیں تو اپنی ذات ہی بدل لیتے ہیں
جیسے کوئی اپنا باپ بدل لے
لیکن قصور ان کا بھی نہیں
موچی کروڑ پتی بھی ہوجائے تو اس کی مل میں‌کام کرنے والا چیمہ اسے موچی کا منڈا ہی کہے گا۔۔۔
ہاں اگر راجپوت بن جائے تو پھر ایک نسل کے بعد سب اس کے بیٹے کو چھوٹے رانا صاحب کہنا شروع کردیں گے

wajid ali said...

Q maar khani aa

meray kolon

mai Molvi heghan