ہفتہ، 20 ستمبر، 2014

کچھ کہانیاں

ایک دفعہ کا ذکر ہے
کہ کہیں کسی گاؤں کے دو جوان دوست سفر پر نکلے تو انہوں نے زندگی میں پہلی بار کیلا دیکھا، نام تو سنا ہوا تھا  پہلی بار اس کو خرید کر بڑے چاؤ سے سنبھال کر لے کر چلے ، اس کے بعد انہوں نے زنگی میں پہلی بار ٹرین کے سفر کے لئے ٹکٹ لی اور ٹرین میں سوار ہوئے ،۔
سنبھال کر پکڑے ہوئے کیلے کو ٹرین کے چلنے کے کچھ دیر بعد ایک جوان نے  بلکل ننگا ( چھلکا اتار کر ) کر کے منہ میں ڈالا ہی تھا کہ ٹرین سرنگ میں داخل ہو گئی ، یک دم اندہیرا سا چھا گیا  ، اس جوان نے فوراً اپنے ساتھی سے سوال کیا ، تم نے ابھی کیلا تو نہیں کھایا؟
جواب ملا، نہیں ! ۔
کھانا بھی نہیں ، میں تو کھاتے ہی اندھا ہو گیا ہوں ، تم بچ جانا ۔
بچپن سے ہی پڑہایا جاتا ہے
ایک تھا بادشاہ ، جو کہ بہت غریب تھا ، پھٹے پرانے کپڑے پہنتا تھا ، ٹوٹی جوتی پہنتا تھا گھر میں فاقے ہوتے تھے ، لیکن اس کے دور میں دریا کے کنارے ایک بکری بھی پیاسی نہیں رہتی تھی ۔
اب بے چاری بکری دریا کے کنارے بھی پیاسی رہ گئی تو ؟ وہ بکری  پاکستانی ہی ہو سکتی ہے کہ اس کی ٹانگ کو کسی نے رسی باندہی ہو گی ۔
پھٹے کپڑوں والے بادشاھ کے پاس اگر سمجھ بوجھ ہوتی تو ، اپنے جولاہوں اور موچیوں کو “کام” کرنے کا ماحول ہی میسر کر دیتا کہ  بادشاھ ے لئے بھی اور عام لوگوں کے لئے بھی جوتیاں اور کپڑے بنا کر کاروبار ہی کر لیتے ۔
اب پتہ نہیں کہ بادشاھ جولاہوں اور موچیوں کے خلاف تھا یا کہ ان کو “ کمی “ سمجھ کر ٹریٹ کرتا تھا ۔
ملک میں دولت اور مال کی بہتات تھی  کیونکہ دوسرے ممالک سے مال غنیمت آ جاتا تھا ۔
کبھی کبھی کپڑے کی تقسیم پر منہ ماری بھی ہو جاتی تھی  ، لیکن اپنے جولاہوں کی کارگردگی کا کوئی ثبوت نہیں  ملتا ۔

ایک اور دفعہ کا ذکر ،ایک اور بادشاہ تھا ، وہ بہت امیر تھا ، حتٰی کہ اس کا غلام بھی امیر ہو چکا تھا ، اس بادشاھ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا ، تبلیغ کے لئے اس نے کوئی سترہ دفعہ دارالکفر پر حملے کئے ۔
دارلکفر کی عورتوں اور مردوں کو غلام بنا کر منڈیوں میں اس لئے بیچتا تھا تاکہ  مذہبی آقاؤں کے مذہب کی خدمت کرئیں ۔
یہ بادشاھ بڑا علم دوست تھا کتاب لکھنے کا معاوضہ سونے میں طے کر کے چاندی میں بھی ادا کر دیا کرتا تھا،۔
۔
دوسری دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شہر میں کوئی لڑکا رہتا تھا جس نے پہلے والے بادشاھ کی کہانیاں پڑھی ہوئی تھیں ،اس کو بادشاھ سے اتنی عقیدت اور محبت تھی کہ اس نے جوان ہو کر جب کمائی شروع کی تو اس نے اپنے ابا جی کو بھی مجبور کر کے اس بادشاھ کی طرح کا لباس اور جوتے پہننے پر مجبور کردیا تھا ۔
کیلا کھا کر اندھے ہوئے لوگوں کو اس کی یہ ادا بڑی پسند آئی تھی اور اس واہ واہ کیا کرتے تھے ۔
جس سے یہ جوان اور بھی بڑھ چڑھ کر اپنے اباجی کی خدمت میں  گندے سے گندے اور  کپڑے اور ٹوٹے جوتوں نہ صرف پیش کیا کرتا تھا بلکہ اباجی کے درجات بلند کرنے کے لئے اباجی کو استعمال کرنے پر مجبور کیا کرتا تھا ۔
کیلا کھانے سے بچے ہوئے لوگ اس جوان کا ابا جی کے ساتھ سلوک دیکھ جو کہا کرتے تھے وہ ناقابل تحریر ہے ۔
تاریخ کی کتابیں پڑھ پڑھ کر یہی ہوتا ہے کہ
کسی کو کیلا کھانے سے اندھیرا چھا جاتا ہے اور کوئی بچ جاتا ہے ۔
کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ زیادہ پڑہی گئی کتابوں کا علم شارٹ سرکٹ کر جاتا ہے ۔

جمعہ، 19 ستمبر، 2014

گندے اور ملامتی لوگ

داتا گنج بخش  کی کتاب کشف المجوب میں  ایک فرقے کا ذکر آتا ہے، درویشوں کے ایک فرقے کا جس کو مصنف نے “فرقہ ملامتیہ “ لکھا ہے ۔
وہ والا پرانا لطیفہ ! خادم حیسن اور گنڈا سنکھ  والا ۔
اس لطیفے سے اپ گنڈا سنگھ کے روئے سے  ملامتی فرقے کا  اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
ضود کو ملامت زدہ بنا کر  حلئے سے  باتوں سے حرکات سے خود کر ملامتی بنا رہے ہوتے ہیں ۔
عام زندگی میں ایسے لوگ بھی آپ کو ملیں گے جو کہیں گے
جی میں تو گنہگار سا بندہ ہوں ۔
میں تو جی ادنٰی سا محب وطن ہوں ۔
میں تو جی ناقص سا مسلمان ہوں ۔
ملامتی لوگ !!۔
خود کو ملامت کر کے فخر کر رہے ایسے ذہنی مریضوں کو اگر کوئی کہے کہ یہ تو گنہگا لوگ ہیں تو؟
ان کو غصہ آ جائے گا  ۔
لیکن یہ لوگ بھی بیچارے کیا کرئیں کہ جن کو تاریخ ہی ایسی  پڑہائی گئی ہے کہ
شخصیات پرستی اور شخصیات بھی ایسی کہ
ایک تھا بادشاھ  جو ٹوپیاں بنا کر گزارہ کرتا تھا ۔
بندہ پوچھے کہ توپیوں کی کمائی سے تو لال قلعے کی “ ٹیپ “ تک نہیں ہو سکتی  تو یہ بادشاہ باقی کے گزارے کیسے کرتا تھا ؟
مرہٹوں کی  “ بغل “ میں تیر دئیے رکھا  ۔ سکھوں کے قتل کئے ۔ جنگوں میں اس کو ٹوپیاں بنانے کا وقت کب ملتا تھا ۔
ایک تھا بادشاہ ، جس کے کپڑوں کو پوند لگے تھے ،جوتیاں ٹوٹی ہوئی ہوتی تھیں ۔
یہ سب تعلیم دی جا تی رہی ہے ایک خاص ذہن بنانے کے لئے کہ لوگ بھالے اپنی غریبی میں راضی رہیں اور حکومت کرنے والے گلچھڑے اڑاتے پھریں ۔
یہاں اتنی بھی سوچ نہیں ہے کہ ٹوپیاں بنانے والے بادشاہ  نے اپنے بھائیوں کے ساتھ کیا کیا ؟ باپ کے ساتھ کیا کیا ؟ اس بادشاھ کی موت کے بعد اس حکومت کا کیا بنا ؟
پیوند لگے کپڑوں والے وقعے تو سنائے جاتے ہیں
لیکن اس حکومت کے بعد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔؟
چھڈو پراں جی ۔
مٹی پاؤ تے روٹی شوٹی کھاؤ۔
عقل علم کی باتیں ، کافروں  ، گمراھ لوگوں  یا پھر ان کے لئے چھوڑ دو جن کو بقول پاک لوگوں کے ابھی استنجا کرنا بھی نہیں آتا ۔
استنجا پر فخر کرنے والی قوم ، باقی ساری چیزیں گلیاں سڑکیں ، کپڑے ، زبان  لہجے ، روئیے گندے
اور استنجے والئ جگہ کی صفائی پر فخر ، اوئے کون لوگ او تسی ؟؟

اتوار، 14 ستمبر، 2014

فارمی مرغی


پاؤل سے گال !! ایک سائینسدان تھا ، جو کہ جانوروں کی سائینس “ذووالوجی “ کا ماہر تھا ۔ امریکہ کی ریاست ورجینیا کے رہنے والے اس سائینس دان نے 1957ء میں برائلر چکن تیار کیا تھا ۔
اسی نے مالیکیولوں کا ایسا علاماتی چارٹ تیار کیا تھا ، جس نے ایک عام سے پرندے کو فارمی جانور بنا دیا ۔
اسی کی تحقیق سے یہ ممکن ہو سکا کہ پیدا ہونے سے لے کر “گوشت” کی عمر تک پہنچے کے لئے جس پرندے کو چھ ماہ لگتے تھے اب وہی پرندہ چھ ہفتے میں تیار ہوجاتا ہے اور اس کا وزن یعنی کہ گوشت کی مقدار بھی کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
فارمی مرغی کی ہسٹری کوئی زیادہ پرانی نہیں ہے
اس کو دینا میں آئے ہوئے ابھی آدھی صدی ہی ہوئی ہے
پاکستان میں فارمی مرغی کے فارم انیس سو اکیاسی میں پہلی بار اصغر خان کے بیٹے نے متعارف کروائے تھے ۔
تحریک استقلال والے اصغر خان کے بیٹے کے فارمنگ شروع کرنے سے پہلے  پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں بھی لوگ اس حیران کن بات سے واقف ہو چکے تھے کہ
سعودیہ میں مرغی کا گوشت ، چھوٹے بڑے دونوں گوشتوں سے سستا ہوتا ہے

اس فارمی مرغی کو تیار  کرنے میں اس بات کا خیال کار فرما تھا کہ گوشت جلد سے جلد تیار ہو کر مارکیٹ میں پہنچایا جا سکے ۔
اور میں دیکھ رہا ہوں کہ پچھلے پچیس سال میں انسانوں میں بھی گوشت کی بڑہوتی کی سپیڈ کو ایکسیلیٹر لگا ہوا ہے ۔
بڑھے ہوئے پیٹ ، فارمی مرغی کی طرح کے ملائم ملائم مسل !۔
انسانی تاریخ میں فلک نے شائد پہلی بار  دیکھے ہوں گے۔
فارمی سوروں اور فارمی  مرغیوں کی  خوراک میں جو ایکسیلیٹر ان کے گوشت کو بڑہانے کے لئے لگایا گیا ہے ۔
وہ ایکسیلیٹر ! اب اس گوشت کو کھانے والے انسانی جسموں تک پہنچ چکا ہے ۔
ثواب اور عذاب ! بنانے والے رب نے کسی حد تک انسانی جسم ہی رکھ دئے ہوئے ہیں ۔
جن کو بیماریاں بھی کہہ سکتے ہیں ۔
بکٹیریا ، انسانی جسم میں بیماریاں بھی بنتے ہیں اور بیماری کے خلاف مدافعت بھی بنتے ہیں ۔
یہ کھاد لگی فارمی مرغیوں کے گوشت کی خوراک ان بیٹیریا کو بھی مضبوط کرتی ہے ۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کھاد بیماری کے بکٹیریا کو مضبوط کرتی ہے تو مدافعت والے بکٹیریا بھی تو مضبوط ہو رہے ہیں ۔
لیکن اس بات کا جواب یہ ہے کہ کائینات توازن پر قایم ہے کسی بھی چیز کی بہتات بھی خوبی کی بجائے خامی بن جاتی ہے ،۔
جس کی مثال انسانی جسم میں چربی ، شوگر کیشلم کی زیادتی کی دی جا سکتی ہے ۔
بیماریوں کے خلاف مدافعت کرنے والے بیکٹریا بھی اپنی بہتات کے ساتھ عذاب بن جاتے ہیں ، جس عذاب کی سب سے بڑی قسم بلڈ پریشر اور شوگر کی زیادتی بنی ہوئی پے ۔

اتوار، 7 ستمبر، 2014

ایک کہانی ،سُکھا سنگھ کی زبانی

سُکھا سنگھ
ایک دن ،سکھا سنگھ کہنے لگا !۔
پاء خاور ، میرے دل میں ایک کہانی ہے جو میں نے کسی دن لکھنی ہے ۔
میں نے پوچھا کہ کب لکھنی ہے ؟ کہنے لگا کسی دن کبھی نہ کبھی۔
میں پوچھا کہ اگر کہانی کو خفیہ نہیں رکھنا چاہتے تو اسکا پلاٹ مجھے بھی سناؤ!۔
پاء خاور اپ سے کیا خفیہ رکھنا ہے ، فرانس انے کے بعد اپ ہی تو ایک بندے ملے ہو جو اپنے اپنے سے لگتے ہو اور دل کا حال تک کھول سنانے کو جی کرتا ہے ۔
سُکھا سنگھ، انڈیا والے پنجاب کے کسی گاؤں کا تھا، جو کہ انڈیا سے ماسکو تک ہوائی جہاز پر بیٹھ کر پہنچا تھا اور اس کے بعد کا سفر ، ماسکو سے پیرس تک کا، ایجنٹ کے ساتھ پیدل ، کنٹینروں اور ڈنکیاں لگا لگا کر کیا تھا۔
سُکھا  اس سفر کی روداد سناتا رہتا تھا ، یورپ میں انٹر ہونے کے اس سفر میں بیمار ہو کر رہ جانے والے ساتھیوں کا  ذکر ، اور ان کا ذکر بھی جو اس سفر میں جان کی بازی ہار گئے ۔
گوجرانوالہ کے ایک لڑکے کا بھی ذکر کیا کرتا  تھا ، جو کہ مکیش کا  گایا ہوا ایک گیت کنگناتا رہتا تھا ۔
دنیا بنانے والے ، کیا تیرے دل میں سمائی ۔
سُکھا سنکھ کہا کرتا تھا
پاء خاور ، وہ منڈا ایک گریٹ آدمی تھا ، جو کہ ٹولی کے سبھی لوگوں کے دکھ درد تو بٹاتا ہی تھا ، روز مرہ کے کاموں میں بھی بہت مدد کرتا تھا ، کبھی کبھی تو سوچتا ہوں کہ اگر وہ منڈا نہ ہوتا تو شائد میں بھی کہیں حوصلہ ہار چکا ہوتا ۔
اور یہاں فرانس میں آ کر پاء خاور ، اپ کے ساتھ معاملہ پڑا ہے تو اپ بھی گریٹ بندے ہو ، گوجرانوالہ کا نام سنا تھا ایک تو راجہ رنجیت سنکھ کی رجہ سے اور دوسرا امرتا پریتم کی وجہ سے ، اور معاملہ پڑا تو یورپ کے سفر میں جو دو گریٹ بندے ملے وہ بھی گوجرانوالہ کے ہی نکلے ۔
میرا بڑا جی چاہتا ہے کہ جب یورپ کے کسی ملک کے کاغذ مل جائیں تو پاکستان جا کر گوجرانوالہ دیکھوں ۔

اس طرح کی باتیں تو ہوتی ہی رہتی تھیں
کہ کہانی کی بات  کا بھی دو تین دفعہ ذکر ہوا تو
ایک دن لنچ  کے وقفے میں سُکھا سنگھ نے اپنے “ من” میں موجود کہانی کا پلاٹ سنانا شروع کیا ۔
پاء خاور کہانی تو بڑی لمبی کر کے لکھوں گا میں  لیکن اپ کو مختصر کر کے بتاتا ہوں ، کیونکہ اپ کو ماسکو سے  پیرس تک کے دکھوں کی تفصیل تو معلوم ہی ہے ، اس لئے ہم اُن دکھوں کی تکرار کو چھوڑ کر بات کرتے ہیں ۔
ایک لڑکا
انڈیا میں پنجاب  کے کسی گاؤں میں  کسی  عام سے گھر میں پیدا ہو کر جوان ہوتا ہے ۔
جس نے باہر کی کمائی کے جلوے دیکھے ہوتے ہیں ۔
ایجنٹ کو پیسے دے کر یورپ کو روانہ ہوتا ہے ۔
ماسکو سے پیرس تک کے سفر میں کئی دفعہ بیمار ہو کر مرتے مرتے بچتا ہے ۔
بھوک سے اپنی انتڑیوں کے چٹخنے کی آواز سے بھی اسی سفر میں آشناء ہوتا ہے ۔
پاء خاور ! بھوک سے انتڑیوں کے چٹخنے کی آواز تو سنی ہو گی نہ ؟
پاء خاور تم مسلمانوں میں رمضان کے روزے ہوتے ہیں نہ ؟ اس لئے پوچھا ہے !۔
میں سکھے کو یہ نہ بتا سکا کہ  “جس بھوک “ کی تم بات کر رہے ہو ، وہ بھوک روزے سے بہت ہی وراء قسم کی چیز ہوتی ہے ، جس میں افطاری کے ٹائم کا علم نہیں ہوتا اور کبھی کبھی تو ۔ ۔ ۔ !۔
سکھا بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے ۔
پنجاب میں صحرا کی گرمی کی کہانیاں تو سنی تھیں ، اور پوھ ، مانگھ کے مہینوں کی سردی بھی دیکھی ہوئی تو تھی  ، لیکن برف کا جہنم  ، نہ کسی سے  سنا تھا اور نہ اس جہنم کا تصور ہی تھا ۔
برف کے اس جہنم میں پاؤں کی انگلیاں گل کر پیک پڑتی دیکھی اور اس درد سے جوانی میں مر جانے والے ساتھیوں کے چہرے یادوں کی سکرین پر ثبت سے ہی ہو کر رہ گئے ۔
مختصر یہ کہ
ساری مصیبتیں اور دکھ  اپنی جان پر جھیل کر جب  پیرس پہنچتا ہے تو؟
ہمالیہ سے بڑا سوال یہ کھڑا ہو جاتا ہے کہ رہوں گا کہاں ؟
اپنے گاؤں کے لڑکوں کے پاس جاتا ہے تو ، ان کی اپنی پریشانیوں اور مجبوریاں ہوتی ہیں کہ کوئی کسی کے ساتھ رہ رہا ہے اور کسی کے ساتھی اس کے گاؤں کے تعلقات پسند نہیں کرتے ۔
ایک گھر میں جب کچھ ساتھی اس کو اس شرط پر رکھ ہی لیتے ہیں کہ
اج سے تمہارا خرچا شروع ہے ، اور تم پر قرض کی ادائیگی فرض ہو گی کہ جیسے ہی کام ملے یہ رقم ادا کرو گے۔
انہی دوستوں میں سے کسی سے رقم ادھار لے کر جب وہ لڑکا ٹیلی فون کرنے والا کاڑد خرید کر ، انڈیا میں گھر فون کرتا ہے تو ؟
فون اس کا باپ اٹینڈ کرتا ہے ۔
ابا، میں  پیرس پہنچ گیاں !۔
ابا کہتا ہے ، شکر ہے او رب دا ، بس پتر اب تو دل لگا کر کام کرو، تمہیں تو علم ہی ہے کہ کتنا قرضہ ادا کرنا ہے ، تمہاری  بہن کی شادی کرنی ہے ،۔ میری دوا کا بھی خرچا ہے ، بس پتر اب تم نے کوئی کسر نہیں چھوڑنی ہے کام کرنے میں ۔
ابے کے بعد چھوٹا بھائی فون پکڑ لیتا ہے ۔

پاء میں  نے بائک لینی ہے تمہیں تو علم ہی ہے کہ وہ پڑوسیوں نے پچھلے سال نئی بائک نکلوائی تھی اب ہمارے پاس بھی بائک نہ ہو تو عزت نہیں رہتی ۔
چھوٹے بھائی کے بعد بہن فون پکڑ لیتے ہیں ۔
ہائے میریاں تے دعاواں قبول ہو گیاں نئیں ۔ رب نے بڑا کرم کیتا ہے بھائی اپ پیرس پہنچ گئے ہو
اب مجھے سونے کے گہنے بنوا کر دینے ہیں  کالج جانے کے لئے میرے پاس اچھے اچھے سوٹ بھی نہیں ہیں وہ بھی بنوا کر دینے ہیں ۔اور جیب خرچ ہر مہینے مجھے علیحدہ سے ہی بھیج دیا کرنا ۔
ٹیلی  فون کارڈ کے یونٹ ختم ہونے کو تھے
جب ماں کو فون پر بات کرنے کا موقع ملا ۔
ست سری اکال ، کو ماں نے سنا ان سنا کر دیا اور ماں کے منہ سے نکلا
وئے سُکھیا! روٹی بھی کھائی ہے کہ نہیں ؟
کہ لائین کٹ گئی !۔
فون کارڈ کے یونٹ ختم ہو گئے تھے ۔

جمعہ، 8 اگست، 2014

گریس ہوٹل بنکاک

آتش بھی کہیں جوان ہی ہو گا ،
لیکن آتش ضرور جوان تھی ، جذبوں کی امنگوں کی  کچھ کرنے کی  یا کہ کر گزرنے کی  ۔
لیکن پیسے اپنے اپنے گھر کے حلات کے مطابق تھے لیکن تھے سب کے  پاس کم ہی ۔
کچھ لوگ ایجینٹ افورڈ کر سکتے تھے  ، جاپان جانے کے لئے اور کچھ خود کو سیانے سمجھنے والے براستہ تھائی لینڈ  خود ہی جاپان پہنچنے کے لئے یہاں ڈیرے ڈالے بیٹھے تھے ۔
ڈی پورٹ ہو کر ، دوبارہ ٹرائی کرنے اور کروائے جانے کی امید میں یہاں بنکاک کے جنرل پوسٹ آفس ( پسنی کان) کے اردگرد کے مکانوں ہوٹلوں میں بسے ہوئے تھے ۔
ہوٹلوں میں محفلوں میں جاپان کی انٹری کی تکنیکوں پر بحژیں ہوتی تھیں ، اپنے اپنے ایجنٹ کی سیانفوں کی باتیں ، کسی کے لٹے جانے کی کہانیاں لذت لے لے کر اس تسکین کے لئے کہی جاتی تھیں کہ
میں بچ گیا !!!۔
کچھ وہ بھی تھے جو شراب پی کر اپنی کوالٹی بتا رہے ہوتے تھے کہ
مینوں نشہ نئیں ہوندا!۔
اور دلیلیں ساری ایسی کہ نشہ ہر حرکت سے عیاں ۔
اپنی اپنی ریزرو کنجری کو گرل فرینڈ کا نام ہوتا تھا ۔
ایک بٹ صاحب کی گرل فرینڈ جب آتی تھی تو
دروازے کی چوکھٹ پر کونی ٹکا کر  پنجابی کہتی تھی ۔
بٹ صاحب ! آؤ ناں میری ۔ ۔ ۔  مارو!!!۔
اور بٹ صاحب بڑے فخر سے دوستوں کے چہرے دیکھتے اور بتایا کرتے تھے ،۔
اینہوں پنجابی سکھائی ہوئی اے ۔
سوکمیتھ روڈ کے سوئے نانا ( سات نمبر گلی) کے کلبوں سے لڑکی کے مغالطے میں خسرا لے کر کمرے میں پہنچنے والے کی خجالت اگلے دن دیکھنے والی ہو تی تھی ۔
جب دوست پوچھتے تھے ۔
اوئے کردا کی رہیاں ایں ساری رات ؟
ساتھ میں کوئی لقمہ دیتا تھا ۔
اوئے اینے کی کرنا سی “ اوہ” ای کچھ کردا رہا ہوئے گا ۔
شریف گھرانوں میں پلے بڑھے زندگی میں پہلی بار باہر نکلے ہوئے زیادہ تر لوگوں کے لئے عورت ایک اسرار تھا ، جو یہاں عیاں ہونے کے قریب تھا ۔
ہر ہر بندے نے یہاں اس اسرار  کو پانے کی بساط بھر کوشش کی ہے ۔
پاکستان کی ایمبیسی کے قریب گریس ہوٹل ہی وہ ہوٹل تھا جہاں “ڈسکو “ بھی تھا ۔
دوسرے ڈسکو بھی ہون گے لیکن داخلے کی فیس ادا کرنے کی بساط نہ رکھنے والے گلیوں میں پھرنے کی بجائے گریس کو ترجیع دیا کرتے تھے کہ ہوٹل کی لابی میں بیٹھے یا گھومتے دیکھ کر کوئی یہ ہی سمجھے گا کہ یہاں کسی کمرے کا کرایہ دار ہے ۔
بڑی رونقیں ہوتی تھیں ہہاں ، گریس میں ، یہاں لابی کے صوفوں پر بیٹھے ہوئے نوجوان دلوں میں جاپان کی کمائی کے ارمان لئے ، گرسنہ نگاہوں سے کنجریوں کو تاڑ رہے ہوتے تھے،۔
اور بنکاک کی جسم فرشی کی تاریخ میں “ان” لوگوں نے بھی پہلی بار ایسے لوگ دیکھے تھے جو مال کو دیکھتے ہی رہتے تھے ، اگے بڑھ کر بات کرنے کی ہمت   نہیں کرتے تھے ۔
اگر کسی لڑکی نے ہی بڑھ کر بات شروع کر لی تو ، دائیں بائیں دیکھنے لگتے تھے اور چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی تھیں
کہ
ہن کی کرئیے؟
ایجنٹوں کی کوشش ہوتی تھی کہ منڈے کو کسی نہ کسی کے ساتھ کچھ کروا دیں تاکہ اگر منڈا جاپان نہ پہنچا تو یم از کم اس کی رقم تو واپس نہ کنا پڑے ۔
کہ اگر منڈے نے رقم کی واپسی کا تقاضا کیا بھی تو اس کو بتایا گیا کہ
دساں تینوں ؟ پیسے کتھے گئے ؟اوئے گریس وی تے توں ای جاندا ہوندا سیں ناں ؟

جمعہ، 25 جولائی، 2014

مسلمان بنو! انتہا پسند نہیں

ہمارے یہاں ، پرانوں سے ایک تہوار ہوا کرتا تھا ، لوڑی ( لوہی) ! اسلام کے انے کے بعد بھی ہند میں ، ہمارے بڑے بزرگ یہ تہوار مانتے رہے ہیں ، کیونکہ یہ تہوار کسی غیر اللہ کے نام سے نہ تو وابسطہ تھا اور نہ ہی اس میں کوئی مشرکانہ بات تھی ۔ اسی تہوار کو ہالوین کہہ کر امریکیوں نے بھی اپنایا ! ۔
جس میں لڑکے بھالے جانور کا بہروپ بھر کر ناچتے گاتے مختلف گھروں جاتے ہیں اور وہاں سے ان کو میٹھی چیزیں ملتی ہیں  ۔
پاکستان بننے کے بعد بھی یہ تہوار منایا جاتا رہا ہے ۔
پھر؟ وقت بدلا ! بقول شخصے ، چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔
پاکستان میں سرمے والی سرکار نے مودودی کا سلام "نازل" کر دیا ۔
ہر معاشرتی ایکٹویٹی بدعت اور ہندوانہ چیز بن کے رہ گئی ۔
کلاشنکوف مومن کا زیور ہوا ، منافقت مومن کی فراست قرار پائی ۔
ہر طرف اسلام اسلام ہوا ۔
اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ
اسلام کے قلعے میں  بھی اسلام خطرے میں ہے ۔
اللہ بچائے ۔ پاکستان میں تفرقہ کی انتہا ہے ۔
اور ہر تفرقے باز کو اپنی اپنی شرارت  “ عین اسلام “ لگتی ہے اور دلیل اس بھی “اسی رائیٹر کی کتاب “ سے ملتی ہے جس کتاب سے اس کے مخالف تفرقے باز نے لی ہوتی ہے  ۔
ہندو کی مخالفت ۔ “ان” کی لگژری کی ضمانت ہے ۔
اور “ان” کے مذہبی ونگ والے اس مخالفت میں اتنے اگے چلے گئے ہیں کہ
پنجابی کے محاورے
گرو جنہاں دے ٹپنے
چیلے جان شڑپ
ہر علاقائی روایت کو رسم کو  “ ہندوانہ” کہہ کر مخالفت کرنے والے مذہبی لوگوں “فکر” کرنے کا ٹائم ہی نہیں ہے ۔
عربوں کے پیسے سے ہر چیز کو عربی ہی کرتے چلے جا رہے ہیں
میں نے پنجاب میں دیہاتی عورتوں سے سنا ہے
ہائے ہائے ! نی عربی لوک ، ۔
نی او تے اپنیاں دھیاں نو ویچ دے نی ۔
جیہڑا بہتے پیسے دے ، اپنی دھی دا ویاہ اوس نال کردے نی۔
ہند کی شادی بیاھ کی رسموں کے پیچھے صدیوں کا تجربہ ہے کہ
لڑکے لڑکی کو اس بات کا احساس دلایا جاتا ہے کہ تم لوگ ایک بہت ہی اہم رشتے میں بندھنے والے ہو۔
یہ رشتہ تم دو افراد کا نہیں ہو گا ، بلکہ دو خاندانوں کا ہو گا ،۔ یہ ڈھولک پر کئی ہفتے ۔ ماہیے ، ٹپے ، لوگ گیت کانے والی برادری کی خواتین  ، اور شادی بہاھ کے کام کرنے ولاے “ لاگی” لوگوں کے اس کام کو مٹی میں نہیں ملانا ، صلح سلوک سے رہنا ہے ، اس رشتے کو توڑ نہیں دینا ہے ْ
۔

پاکستانیوں  نے اپنا اپنا اسلام پال رکھا ہے
اسلام نہ ہوا بٹیرا ہو گیا
جس طرح شوقین لوگ بٹیرے لڑایا کرتے تھے
پاک لوگ اپنا اپنا سلام لڑاتے ہیں ۔
بٹیرے والے کہا کرتے تھے
میرا بٹیرا پنجا مار کر دھرتی ہلا دیتا ہے  ۔
بٹیرے کا پنجا کیا اور بٹیرے کی اوقات کیا!۔

جمعہ، 11 جولائی، 2014

کمہار

کمہار کو پنجاب میں اکثر گھمیار بهی کہا جاتا هے ـ
 یه کوزه گر اور اینٹیں پکانے والا هے ـ
 حصار اور سرسا میں اس کی کافی تعداد ملی ـ وهاں اوردامن کوه اور وسطی اضلاح میں وه اکثر کاشتکار هے ـ
زیریں دریائے سنده پر ان کی کچھ تعداد نے آپنا اندراج بطور جٹ کرایا ـ
 کمہار رواجی معاوضه لے کرخدمات سر انجام دینے والا حقیقی خدمت گذار ہے جن کے بدلے میں کمہار گھریلو استعمال کے لئیے مٹی کے تمام برتن اور (جہاں رہٹ استعمال هوتا هے)مٹی کی ٹنڈیں بهی فراہم کرتا ہے ـ
پنجاب کي ذاتوں میں صرف کمہارہی گدهے پالتا ہےاور گاؤں کي حدود میں اناج کی نقل حمل کرنا اور اس کے بدلے میں اپنے موّکلوں سےدیگر اشیاء مثلاَ بیج یا کهانا لے کر آنا اس کا کاروبار هے ـ لیکن کمہار اناج گاؤں کے باہربلا معاوضه لے کر نہیں جاتا ـ گاؤں اور قصبات میں کمہار چهوٹا موٹا حمال هے ـ
 بعد میں وه مٹی کهاد کوئله اور اینٹیں بهی لادنے اور لے کر جانے کا کام کرنے لگا ـ
 اس کا مذہب علاقے کاغالب مذہب هی نظر آتا هے ـ کمہار کی سماجی حثیت بہت پست ہےهی ـ کیونکه گدهے جیسے ناپاک جانور کے ساتھ اس کا موروثی تعلق اس کو بهی آلوده کر دیتا هےـ گدها چیچک کی دیوی سیتلا کا مقدس جانور ہے ـ
اس طرح کهاد اور کوڑا کرکٹ لے جانے پر اس کی آمادگی بهی اس کم حثیت بنانے کا سبب ہے ـ
وه پنجاب کا خشت ساز بهی ہے کیونکه صرف وهی بھٹوں کا کام سمجهتا هے ـ
کوزے اور اینٹیں پکانے کے لئے بطور ایندهن جلانے میں کوڑاکرکٹ استعمال هونے کی وجه سے اس کا تعلق غلاظت سے بهی هو گیا هے ـ  مجهے یقین ہے که کمہار سانچے والی اینٹیں بهی بناتا هے لیکن سوکهی مٹی سے گاؤں میں تیار کی جانے والي عام اینٹیں عموماَقلی یا چمار بناتا ہے ـ
 کوزه گر بهی کہا جاتا هے ـ(Kiln burner)کمہار کو پزاواگر اور موخرالذکر اصطلاح کا استعمال عام طور پر صرف ان کے لئیے ہوتا ہےجو نہایت عمده قسم کے برتن بناتے هیں ـ
 سرحد پر کمہار گلگو نظر آتا هے ـ ہندو اور مسلمان کمہار دونوں پائے جاتے هیں ـ ہندو کمہار کو پرجا پتی یعنی خالق دیوتا بهی کہاجاتا ہے ـ کیونکه کمہار مٹی سے چیزیں تخلیق کرتا هے ـ
 نابها میں کمہار برہما کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے هیں ـ
ہندی کی ایک روایت
 رام ذات کا رانگڑ ، کرشن ایک آهیر ،برہما ایک کمہار اور شیو ایک فقیر ـ
 کہانی یوں هے که
 ایک مرتبی برهما نے آپنے بیٹوں میں کچھ گنے تقسیم کئے ـ
 کمہار کے سوا سب نے آپنے آپنے حصے کا گنّا کها لیا ،لیکن کمہار نے اسے ایک مٹی بهرے برتن میں لگا کر پانی دیا جس نے جڑ پکڑ لی ـ
کچھ ریز بعدبرهما نے بیٹوں سے کنّے بارے پوچها تو صرف کمہار هي اسے گنّا دینے کے قابل هو سکا ـ
 تب برهما نے خوش هو کر کمہار کو پرجا پتی یعنی دنیا کی شان کا لقب دیا ـ
 لیکن برهما کے دیگر ٩ بیٹوں کو بهی خطابات ملے ـ ایک روایت بهگت کُبا کو کمہاروں کا جدامجد بتاتی هے ـ دہلی کے کمہار سبهی دیوتاؤں اور اولیاء کی عبادت کرتے هیں ـ وه شادیوں کے موقع پربهی پیروں کو کچھ نذر کرتے هیں ـ
 ڈیره غازی خان کے کمہار ،جوسب کے سب مسلمان هیں ،تونسه پیر کو مانتے هیں ـ لاہور کے کمہار ہولی کا تہوار دیگر ذاتوں هي کي طرح دهوم دهام سے مناتےهیں ـ مسلمان کمہاروں کے دو علاقائی گروپ بهی هیں جنڈ نابها اور ملیر کوٹله میں دیسي اور ملتانی ـ دیسی عورتیں سیتلا کو مانتی هیں لیکن ملتانی عورتیں نہیں ـ
 گورداس پور میں پنجابی اور کشمیری کمہار ، سیالکوٹ اور گجرات میں کشمیری اور دیسی کمہار هیں ـ مسلمان کمہاروں کے کوئی ذیاده اهم پیشه ورانه گروپ نہیں هیں ، ماسوائے گجرات کے کلالوں کے جو پیشے کے اعتبار سے گانے ناچنے والے هیں اور کمہاروں کي شادیوں پر خدمات انجام دیتے هیں ـ
 آگرچه دیگر کمہار انہیں به نظر حقارت دیکهتے هیں ،مگر انہیں آپني بیٹیوں کے رشتے بهی دے دیتے هیں ـ میانوالی کے کمہار برتن سازی کے ساتھ ساتھ کاشت کاری بهی کرتے هیں،اور چند ایک کوّیے اور زمیندار قبیلوں کے مغنی بهی هیں ـ
 لیّه کے کمہار جلال باقری کی نسل سے هونے کا دعوی کرتے هیں ـ گوجرانواله میں کمہار پیغمبر دانی ایل پر یقین اور کام شروع کرنے سے پہلے اسی کا نام لیتے هیں ـ
لباس کے حوالے سے بهی مختلف علاقوں کے کمہاروں میں فرق پایا جاتا ہے ـ
 کانگڑا میں ہندو دیسی کمہار عورتیں سونے کی نتهلی پہنتی هیں ـ مالیر کوٹله میں مسلمان ملتانی کمہار عورتیں آپنے پاجاموں کے اُوپرایک لمبا چولا زیب تن کرتی هیں جو کمر تک آتا هے ـ ملتان میں همدو اترادهی خواتین ناک میں نتھ پہننے کی عادی هیں ـ مسلمان ذیاده تر ملتانی کمہار عورتیں ساری ذندگی پیراہن یا چولا پہنتی هیں ـ میانوالی تحصیل میں لڑکیاں شادی کے بعد چولا پہنتی هیں ـ
موجودہ دور میں کمیار قوم نے بہت ترقی کی ہیں خاص طور پر پنجاب کے ضلع لاہور میں انکی کافی تعداد پائی جاتی ہے اور کاروباری پیشہ سے منسلک ہیں

بدھ، 9 جولائی، 2014

کفر

جاپانی لوگ بڑے خود دار ہوتے ہیں ۔
اس لئے نہیں کہ ان کے ملک کے اقتصادی حالات بہتر ہیں ۔
بلکہ اس لئے کہ ان کی خود اداری نے ان کے حالات بھی بہتر کر دئیے ہیں ۔
اپ کسی جاپانی کو کوئی چیز مفت میں دینے کی کوشش کریں تو ، وہ قبول نہیں کرئے گا
یا پھر اس کی قیمت ادا کر کے چھوڑے گا ،
یا ہھر اگر اپ کا نزدیکی دوست ہے تو چیز لے کر اس کے متبادل اپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچانے کی کوشش کرئے گا ۔
میں خود بھی ایک خود دار انسان ہوں ۔
اگر کوئی سخی بندہ ایسے ہی مجھے کہیں کھڑا کر کے رقم نکال کر کہے کہ “ رکھ لو” ! تو میرے لئے شرم کا مقام ہے کہ اس نے مجھے سمجھا کیا؟ بھکاری !۔
کیوں ؟ میں کیوں رکھ لوں ؟ ایک ایسی رقم یا چیز جو کہ میری نہیں ہے جو میری کوشش سے یا محنت سے حاصل نہیں ہوئی ہے  ۔
یہ نہیں کہ جاپان میں لوگ مجبور نہیں ہو جاتے ۔ مجبوریاں انسان  کے مقدر میں ہیں ، کوئی بھی انسان مجبور ہو سکتا ہے  ۔
لیکن جاپانی بھیک نہیں مانگتے ۔
کاروبار میں نقصان کر کے گھر سے بے گھر ہوجانے والا ایک ہوم لیس ، بھی کہیں کسی پارک میں پڑ کر سو رہتا ہے اور وقت کے وقت اپنے مخصوص کردہ ریسٹورینٹ کے پچھلے دروازے پر دستک دیتا ہے ۔
ریسٹورینٹ سے کوئی بندہ نکلتا ہے جو کہ اس ہوم لیس سے انکھیں بھی نہیں ملاتا کہ کہیں ہوم لیس کو شرمندی نہ ہو ، اور اس کو کھانے کا پیکٹ پکڑا دیتا ہے  ۔
پاکستان میں بھکاری کلچر کچھ اس طرح کا ہماری رگوں تک میں بس چکا ہے کہ جو جتنا بڑا بھکاری ہے وہ اتنا بڑا لیڈر ہے ۔
بھیک اکٹھی کر کے ایک ہسپتال بنا لیتا ہے  ۔
اور پھر اپنے اس ہسپتال کے سامنے چھوٹے بھکاریوں کی لائینیں لگی دیکھ کر اپنی انا کی تسکین کرتا ہے  ۔
بھیک مانگ کر لنگر کھول دیتا ہے
اور پھر جھولیاں پھلائے  کھانے کے لئے دھکم پیل کرتے کیڑے مکوڑوں کو دیکھ  نفس  کا حجم بڑھاتا ہے ۔
پھر کیا ہونا چاہئے؟
ہونا یہ چاہئے کہ قوم میں انا اور خود داری کی خو پیدا کرنی چاہئے ۔
ہر بندہ اپنے پیسے سے کھانا کھائے اور اپنے پیسے سے اپنا علاج کروائے ۔
جس کے لئے بیمے ہوتے ہیں انشورنس ہوتی ہیں ۔
لیکن انشورنس اور بیمے کو فراڈ کے طور پر اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر بندے کی یہ سوچ ہے کہ
پاکستان میں یہ نظام چل ہی نہیں سکتا ۔
خرابی در خرابی ، نقص در نقص ، بیماری در بیماری ۔ مغالطےاور مبالغے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ
یقین کریں
میں پاکستان سے مایوس ہو چکا ہوں ۔
اللہ مجھے اس کفر سے بچائے کہ
مایوسی کفر  ہوتی ہے

جمعہ، 4 جولائی، 2014

پاک بول چال اور پاک ٹیلنٹ


سکول میں ٹیچر نے بچوں سے کہا کہ
کل کلاس کا گروپ فوٹو ہو گا ، اس لئے سب بچے پچاس پچاس روپے لے کر آئیں ۔
اور اچھے سے کپڑے پہن کر انا ہے ۔
چلو اب چھٹی ۔
سکول سے باہر آ کر ، گاما ، اچھو سے کہتا ہے ۔
یار یہ سب مادر چود سکول ٹیچروں کی  چالاکی ہے ۔
ایک فوٹو کے باہر بیس روپے لگتے ہیں ،اور یہ ہم سے پچاس پچاس منگوا رہے ہیں ۔
مطلب یہ کہ ایک بچے سے کوئی تیس تیس روپے بچائیں گے ۔
یعنی کہ ایک کلاس سے کوئی اٹھارہ سو اور پورے سکول سے کوئی دس ہزار روپے !!!۔
ان بہن چودوں نے کھلی لوٹ مچا کر رکھ دی ہے ۔
اچھو نے لقمہ دیا ، ہاں ہاں یہ سارا کمیشن کا چکر ہے ، ہیڈ ماسٹر  بہن چود کی کمیشن کا !۔
گاما ٖغصے سے کہتا ہے
اور بعد میں یہ یہ ماں کے لوڑے سٹاف روم میں بیٹھ کر سموسےکھائیں گے ، اور ہمیں لن ملے گا ۔
اچھو گامے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے کہتا ہے
چل چھڈ یار ماں کو چود ، ہیڈ ماسٹر کی ، گھر چل کر ماں سے پیسے مانگتے ہیں ۔
ہر دو ، گامے اور اچھو نے گھر جا کر اپنی اپنی ماں سے کہا
کل سکول میں گروپ فوٹو ہے !۔
ماسٹر نے سو سو روپے لانے کو کہا ہے !!!۔

.
.
گامے کی ماں ، اسی دن سعودیہ فون کر کے اپنے خاوند کو بتاتی ہے ۔
یہاں مہنگائی بہت ہو گئی ہے ۔
ماسٹر حرام زادے نے گروپ فوٹو کے دو دو سو روپے منگوائے ہیں ۔
تمہاری کمائی میں جس تنگی ترشی سے میں گزارا کر رہی ہوں یہ میں ہی جانتی ہوں یا میرا رب ۔

منگل، 1 جولائی، 2014

یادیں اور کمہار گھیری


بھٹی بھنگو روڈ سے ہمارے گھر کی طرف مڑیں تو ، سیدہے (دائیں ) ہاتھ پر خراس ہوا کرتا تھا ، بلکل ہمارے گھر کے سامنے ۔
خراس آٹا پیسنے کی اس چکی کو کہتے تھے جو بیلوں کی جوڑی کے ساتھ چلتا ہے ۔
پانچ دہائیاں پہلے عام گھروں میں ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکیاں ہوا کرتی تھیں  ۔
لیکن بڑے قصبوں کے مستری لوگ خراس بھی لگا کر دیتے تھے   ، آٹا پیسنے کے خواہشمند اپنی گندم اور اپنے بیل لے کر آ جاتے تھے ۔ اور خراس والے کو بھاڑے کی  مد میں اناج یا آٹا دیا جاتا تھا ۔
ہماری معاشرت کے اچھے دن تھے ، کہ جب کوئی زمنیدار اپنے بیل خراس میں جوتتا تھا تو
عام گھروں کے لوگ بھی اپنی گندم لے کر آ جاتے تھے کہ ساتھ ہی پس جائے گی ۔
ہمارے ہوش سنبھالنے تک خراس کے ساتھ ہی مستری شفیع  جن کو میاں جی کہتے تھے انہوں نے بجلی سے چلنے والی چکی لگا لی تھی ۔ اور خراس پر ہم بچے لوگ کھلا کرتے تھے ۔ یا کہ جہاں تک میری یادیں ساتھ دیتی ہیں کوئی ایک دو بار ، بھرو والئے  جاٹوں کو اپنے  بیلوں کے ساتھ آٹا پیستے ہوا دیکھا ہے ۔
یہاں خراس پر کھیلتے ہوئے مجھے ایک دفعہ بھڑوں نے کاٹا تھا ، کاٹتی کیوں ناں کہ میں نے بھی تو اندھیرے میں بھڑوں کی کھکھر کو کوئی لاٹو نما سوئچ سمجھ کر مٹھی میں بھینچ ہی لیا تھا !۔
میاں شفیع کی کی مشین جو کہ بعد میں میرے دادا نے خرید لی تھی اس کے سامنے ہی  اور میرے گھر سے جڑی ہوئی  احمدیوں کی مسیت ہے ۔
احمدیوں کی مسیت اور قصبے کے ہائی سکول کے درمیاں لوہاروں کے تین گھر ہیں ۔
سکول کے ساتھ جڑے ہوئے گھر کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اردو کے مشہور اور محمور شاعر
عبدالحمید  عدؔم  اس گھر کے رہائیشی تھے ۔
لوہاروں کے گھروں کے سامنے روڑی ہوا کرتی تھی 
جس کو باجوہ صاحب سے خرید کر میرے دادا محمد اسماعیل صاحب کے  میرے چاچاؤں کے لئے گھر بنائے ، ۔
روڑی کے اگے اور سکول کے سامنے کی جگہ کو ہم کھتے کہا کرتے تھے
کھتے بمعنی چھوٹے کھیت !۔
کھتوں کے جنوب اور مشرق میں ڈسپنسری ہوا کرتی تھی ۔
ڈسپنسری سے جڑے ہوئے دو کھتے  یوسی ( محمد یوسف لوہار) کے ابا جی کے تھے اور سکول کے سامنے وال کھتا  چوہدری رحمت کا تھا
چوہدری رحمت اور یوسی کے خاندان کے کھتوں کے درمیان درختوں کی ایک دیوار بنی ہوئی تھی جو کہ انگریزی کے لفظ ایل کی طرح کی تھی ۔
یوسی میرا وہ دوست ہے کہ جب میں نے ہوش سنبھالا تو اس کو اپنے ساتھ پایا ۔
میری یادیں جہان تک میرا ساتھ دیتی ہیں ۔
میں سکول میں ٹاٹ پر یا کہ گھر سے لائی ہو بوری پر اس کو ہمیشہ اپنے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھتا ہوں ۔
ڈسپنسری کی عمارت کی جنوبی طرف والی چاردیواری ، جو کہ پسرور روڈ کے ساتھ ملتی تھی اور جہاں ڈسپنسری کا مین گیٹ تھا ۔
یہاں ایک پیلو کا درخت ہوا کرتا تھا ۔
سرخ رنگ کی پیلو جب پک کر تیات ہو جاتی تھی تو میٹھی لگتی تھیں ۔
لیکن مجھے کبھی بھی لذیذ نہیں لگیں ، بس میٹھی لگتی تھیں ۔
اس پیلو کے درخت کے نیچے میں نے پہلی بار “کمہار گھیری” ( کمہار کی شکار گاہ ) دیکھی تھی ۔


لمبڑو ،  جو کہ ہم سے بڑی عمر کا تھا اور مھؒے کے لڑکوں کا رنگ لیڈر سا تھا  اس کے ساتھ یہاں کھیلتے ہوئے اس نے زمین پر بنے ہوئے “ کھتھی “ نما ان سوراخوں کے متعلق بتایا کہ  ان کو کمہار گھیری کہتے ہیں ۔ اس  سوراخ کی تہہ میں ایک کیڑا چھپا بیٹھا ہوتا ہے ، جس کو کمہار کہتے ہیں ۔
اگر اس سوراخ میں  چیونٹی کو ڈالیں تو مٹی کے نیچے سے نکل کر کمہار اس کیڑی کو کھا جاتا ہے ۔
اسی وقت لمبڑو نے ایک کیڑی کو پکڑ کر اس سوراخ میں ڈالا اور گانے لگا “ کمہارا ، کمہارا ، کیڑی تیرے پانڈے پن گئی آ “
کمہار او کمہار چیونٹی تمہارے برتن توڑ رہے ہے ۔
لمبڑو کا گانا سنتے ہیں زمین سے ایک کیڑے کی ٹانگیں نکلیں اور چیونٹی کو لے کر زمین میں چھپ گئیں ۔
لمبڑو نے ریت میں اس سوراخ کے نیچے سے ہاتھ ڈال کر سوراخ کو الٹ دیا
اور ہم نے دیکھا کہ ایک پیلے سے رنگ کا مکڑی نما کیڑا ۔ وہاں پڑا تھا ۔
لمبڑو نے کہا دیکھنا دیکھنا یہ کیڑا جس کو کمہار کہتے ہیں ، جب چلے کا تو الٹی طرف چلے گا ۔
اس کیڑے کی ساخت ہی ایسی ہے کہ لگتا ہے کہ  منہ کی سیدھ کی بجائے پیٹھ کی سیدھ میں چل رہا ہے ۔
وقت گزرنے پر علم ہوا کہ یہ کیڑا اپنے گھر بناتا ہی وہاں ہے جہاں چیونٹیوں کی بہتات ہوتی ہے ۔

جاپانی میں اس کیڑے کے گھر کو “آری نو جی کوک” کہتے ہیں ۔
جس کے معنی ہیں ،۔ چیونٹی کا جہنم ۔
اس سوراخ کی ریتلی ساخت ہی اس طرح کی ہوتی ہے کہ اگر کوئی  چیونٹی اس سوراخ میں گر جائے تو  نکل نہیں سکتی ۔ ریت ، پھسل پھسل کر چیونٹی کو باہر نہیں نکلنے دیتی اور اس دوران وہ کیڑا نکل کر چیونٹی کو دبوچ لیتا ہے ۔
چند دن پہلے میں نے یہاں  جاپان میں اپنے یارڈ  میں ایک درخت کے نیچے کمہار کے کگر والے سوراخ دیکھے  تو ان کی تصاویر بناے لگا۔
تنزانیہ سے آئے ہوئے سلیم نامی کالے نے دیکھا تو کہنے لگا کہ سواحلی میں اس کو کیا کہتے ہیں یاد نہیں لیکن ، اگر اس سوراخ کو پلٹ دیں تو ایک کیڑا نکلتا ہے جو کہ پیٹھ کی سیدھ میں چلتا ہے ۔
مں نے اس کو بتایا کہ ہاں مجھے بھی اس بات کا علم ہے
اور یہ چیزیں میری بچپن کی یادوں میں در آتی ہیں ۔
اسی لئے میں اس سوراخ کی فوٹو لے کر اور ویڈیو بنا کر اپنے بلاگ پر لگانا چاہتا ہوں
تاکہ میرے وطن کی نئی نسل کو بھی علم ہو کہ ایسی چیزیں بھی گاؤں دیہات میں پائی جاتی ہیں  ۔

اس ویڈیو میں اپ ایک چیونٹی کو کمہار گھیری میں گرتے اور کیڑے کا شکار ہوتے دیکھ سکتے ہیں ۔