16/11/2009

اوباما کا رکوع

جھکنے والے رفعتوں کو پا گئے
ہم خودی تلاش کر رهے هیں
امریکی صدر بارک اوباما کا شہنشاھ جاپان کو رکوع
یہاں رفعت سے مراد وھ والی رفعت نهیں هے جو سارے پنڈ کی پسندیدھ تھی اور چنگی وی سی ـ
شہنشاھ جھکا نهیں کرتا لیکن صدر اوباما کے جھکنے سے بھی اوباما کی شان میں کوئی فرق نهیں پڑا ہے
که خاندانی لوگ پنجاب میں بھی بزرگوں کے سامنے جھکتے هیں ـ
جاپان جس کو امریکه نے شکست دی تھی جی هاں شکست اور فتح ان کو هی ملا کرتی هے جو کسی معرکےمیں پڑیں ـ
گرتے هیں شہسوار هی میدان جنگ میں
وھ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
ایک جاپانی سیانے نے کها تھا
هم جنگ هارے هیں لڑائی نهیں
جی هاں جاپانی اتحادی افواج کو مار رهے تھے دوسری جنگ عظیم میں
اور پرل ہاربر والے حملے میں استعمال هونے والے هوائی جہاز جاپان کے اپنے تیار کردھ تھے
امریکه ایک عظیم ملک هے ، جس کے صدر کو جھکنا آتا ہے
اس لیے لوگ اس کے سامنے جھکتے هیں
پاکستان کی اشرافیه کو صرف اکڑنا اتا ہے اس لیے جب یه اشرافیه امریکه جاتی هے تو ان کو ائیر پورٹ کے عملے کی اکڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
بس تو ایک کلچر ہے
ہتھی پے جاؤ ( هاتھا پائی) کمزورں کے اور
پیری بے جاؤ ( پاؤں پڑ جاؤ ) طاقتوروں کے
وھ ہمارے محلے ميں ایک مولوی صاحب کا گھر تھا ان کے بیٹے میرے لوگوں کو بیوقوف سمجھا کرتے تھے
بے دھڑک منه پر کہـ دیا کرتے تھے جی هم تو گدھوں میں گھرے پڑے هیں ـ
اور کمہاروں کا رویه ان کے ساتھ یه تھا که جی مولوی کے بچوں کا ذہنی توازن ٹھیک نهیں هے
اس لیے ان کی باتوں کو ہنسی میں اڑا دیا کرتے تھے
لیکن یارو مولوی کے بچوں سے کمہار هر طرح سے طاقتور تھے اس لیے ان کی باتوں کو ہنسی میں اڑا سکتے تھے لیکن جب پاکستان کی عوام کی طرح لوگ کمزور هوں اور مولوی کے بچوں کی ذہنیت والے لوگ حکمران تو ؟؟ تو دل بڑا دکھتا ہے

11/11/2009

کہیں یه بغاوت تو نهیں

دل تو چاہتا ہے که کچھ لطیفے لکھیں کچھ مذاق هو لیکن بندھ اپنے ماحول سے بیگانا نهیں ره سکتا
پاکستان کے حالات میں حکومتی اداروں پر حملے هونا سمجھ میں انے والی بات ہے
که حکومت اور عوام دو مختلف چیزیں بن چکے هیں
پولیس کو لوگ اپنے میں سےسمجھتے هی نہیں هیں جن کے رشتے دار پولیس میں هیں وھ بھی اپنے رشتے دار کی حد تک جب دیکھتے هیں تو سپاہی لوگ بھی لوگ هی لگتے هیں لیکن جب پولیس کا نام آتا ہے تو ایک دہشت کی علامت ، پریشانی کی علامت ، تنگ کرنے کی علامت بن چکی ہے
جس اس طرح کے حالات جیسے که پاکستان کے هیں دنیا کے کسی بھی ملک میں معاشرے میں بن جائیں ، جسے که بے روزگاری ، بے امنی ، مہنگائی ، بے انصافی ، اپنی چاردیواری میں بھی غیر محفوظ،
اور حکومت لوگ عیاشیوں میں لگے هوئے هوں بڑے بڑے محلوں میں رہائیش رکھیں ، آپس میں دعوتیں هوں اور عام لوگ آٹے کی لائینوں میں لگے هوں
تو لوگ بغاوت کر هی دیا کرتے هیں
جو پہلے غیر منظم هوتی هے اور آہسته آہسته منظم بھی هوتی چلی جاتی ہے اور بھیڑ بھی ملتی جاتی ہے
اور حکومتی لوگ اس کو چند شر پسندوں کا انتشار پھلانا کہتے هیں
ماضی نزدیک میں اس کی مثال مشرقی پاکستانیوں کی مکتی باہنی کی بغاوت اور اس کی جیت کی هے
ایران میں شاھ کے مخلفوں کی اور ان کی جیت کی هے
ان دونوں مثالوں میں حکومت آخر تک ان باغیوں کو تسلیم نہیں کرتی رہیں هیں
اور جب پلیٹن میدان والا واقعه هوا تو زمانے بھر نے حکومت کی شکست دیکھی
شاھ کو خبر کے لیے جگه بھی نہیں مل رهی تھی

تو اج اگر پاکستان میں عام لوگ حکومتی اداروں پر حملے کرنے لگے هیں تو اس میں اچھنبے والی بات کوئی نهیں هونی چاهیے
لیکن کیوں که طاقت اور حکومت اور میڈیا جن کے ہاتھ میں ہے وھ حملے کرنے والوں سے اپنے سیٹ اپ کو اپنی عیاشیوں کو بچانے کی کوشش میں لگے هیں اور حملے کرنے والوں کو طرح طرح کے نام دے رهے هیں
لیکن عام بندے کو سوچنے کی ضرورت ہے که گوریلا اپنی زمین کے عام لوگوں کی حمایت کے بغیر چل هی نهیں سکتا
اور جس کو اپنے لوگون کی حمایت حاصل هو وهی تو اصلی عوامی نمائندھ هوتا ہے
ناں که
اتخابات میں جھرلو پھیر کر الیکشن جیتنے والا!!ـ

اب جی کسی نے یه کام شروع کردیا ہےکه حکومتی اهلکاروں پر حلے کرنے والوں کو ظالم مشہور کرنے کے لیے
عام مقامات پر بم دھماکے کرواکے معصوم لوگوں کو مارا جائے تاکه حکومتی اداروں کو معصوم بنا کر پیش کیا جائے
کیوں که باغی لوگ بم دھماکے کرکے حکومتی لوگوں کو مارتے هیں اس لیے بم دھماکے کروا کے عام لوگوں کو ماروتاکه عوام میں یه تاثر پیدا کیا جائے که بم دھماکے تو کرهی باغی رهے هیں یه بھی ان باغیوں کا هی کام ہے
کسی بھی واردات کے مجرم کا تعین اس بات سے کیا جاتا ہے که فائدھ کس کو هوا
تو جی هر دھماکه اپنی جگه ایک واردات ہے
اور ایک ایک واردات میں کسی کو نقصان اور کسی کو فائدھ هوا ہے اس کا سوچ لیں تو آپ کو معلوم هو جائے گا
یه کوئی گہری سازش چل رهی هے
جس طرح کے حالات پاکستان میں چل رهے هیں یه کیا افسروں کو فرص شناسی کی تبلیغ سے ٹھیک هو جائیں گے ؟؟
نہیں جی اب اداروں کو دوبارھ ڈگر پر لانے کے لیے ٹوٹل سرجری کی ضرورت ہے
جی ٹوٹل سرجری !!!ـ

09/11/2009

پیسے کتھوں آؤن گے

پچھلی پوسٹ میں میں نے حساس ادارے کے ایات لکھنے اور ان کے آگے ڈالر کا نشان بنانے کی طرف اشارھ کیا تھا
که ان کو ڈالر کے هی خواب آتے هیں
آپ پاکستان کے کسی بھی اربار اختیار سے پوچھ لیں که ترقی کے کام کیوں نهیں کرتے
تو ان کا سوال نما ترت جواب هوتا هے
پیسے کتھوں آؤن دے ؟؟
میں تو جی چپ هی هو جاتا هوں که هم دونوں میں سے ایک ضرور جاہل ہے
میں اس لیے جاہل هوں که مجھے کار حکمرانی کے رموز معلوم نهیں هیں
یا پھر سامنے والا صاحب اختیار که اس کو ایک ایک گاؤں چلانے کا بھی معلوم نهیں هے اور ملک چلانے کے کام پر لگا دیا گیا هے
مثال کے طور پر ایک گاؤں ہے جس کا نام رکھ لیتے هیں جاٹوں کا پنڈ
اس میں جاٹوں نے فیصله گیا که هم اپنے اپنے لڑکوں کے ساتھ کھیتوں میں کام کریں گے اور بیبیاں گھر سے کھانا وغیرھ بنا کر لائیں گی اور کھیتوں میں بھی اگر هو سکے تو ہاتھ بٹائیں گی
اور گاؤں کے ہنر مند لوگوں کو هماری مدد کرنی هو گی اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق
لوہار لوہے کے سارے کام کرے گا
تیلی سرسوں اور دوسرے بیجوں سے تیل نکالے گا
کمہار باربرداری کا کام کرے گا
اسی طرح سے سب لوگ کام کریں گے
که جو جس کا کام هے وہی کرے گا
جس کے لیے جاٹ اس کو اپنے اناج سے اتنا حصه دیں گے که اس کو کھانے کی پریشانی ناں هو
کھیتوں سے اٹھنے والی کپاس سے حصه که کٹروں ميں خود کفیل هو
گنے میں سے حصه که میٹھے ميں خود کفیل هو
سبزیوں میں حصه که ہانڈی چلتی رهے
لیکن اس کی عوض میں سب کو اپنے اپنے کام ناں صرف جاٹوں کے لیے بلکه دوسرے ہنرمندوں کے لیے بھی کرنے هوں گے
اس گاؤں کو سوائے نمک اور لوہے کے باہر سے کوئی چیز نهیں خریدنی هو گی
که گھر کے چاول ، گندم ، جو ، باجرھ ، مکئی ، سرسوں ، آلو ، هو گی
انڈوں اور کوشت کے لیے مرغیاں پالی جائیں گی جو که ہر گھر کی آپنی اپنی بھی هو سکتی هیں یا پھر ایک گھر کی ڈیوٹی اس پر لگا دی جائے گی که سب کی مرغیاں پالے اور اس کو بھی سب کی طرح سے بانٹ کر سب چیزیں ملیں گی جو اس کےروٹی کپڑے اور مکان کے لیے کافی هوں گی
کچھ اس طرح سے که بغیر پیسوں کے باٹر سسٹم په ایک گاؤں چل جائے گا
اور یه کوئی بڑی عقل کی بات نهیں هے
ہمارے سارے هی گاؤں آج سے کچھ دەایاں پہلے اسی طرح چلا کرتے تھے
بس جی پھر یه هو گا که ابادی کے بڑھنے سے کاموں کو کنٹرول رکھنےکے لیے دفتری نظام بنانا پڑے گا جس کے لیے اپنے هی پڑھے لکھے لڑکے کام کر لیں گے
جو آہسته آہسته اپنی تعلیم کی وجه سے نفیس کپڑے نفیس کھانے اور نفیس کاموں کی وجه سے "بڑے " لوگ بن جائیں گے
اور کھیتوں میں کام کرنے والے ورکشاپوں میں کام کرنے والے گندے کپڑے پہنے لوگ " عوام " بن جائیں گے
اب عوام سے تعلق سے کتراتے هوئے یه لوگ اپنا ایک علیحدھ سٹیٹس بنا لیں گے جن میں اپس کی رشته داری اور میل ملاپ سے نفاست کا گند(غریبوں کے ٹیسٹیکل آرتھ کرکے) پھلاتے پھریں گے اور کام دھندے پر کنٹرول کم هو کر پیداوار میں کمی هو گی
جس کے لیے امریکه سے مدد مانگ لی جائے گی اور پھر
ان بڑے لوگےں کو یه بھی بھول جائے گا که ان کو کسی کام کے لیے کن لوگوں نے رکھا تھا
اور نظریں امریکه پر هی لگی رہیں گی که کب مدد آئے اور نفیس لوگوں کے نفیس کام چلیں
اس لیے جب عوام میں سے کوئی خاور اگر پوچھ هی بیٹھے گا که ترقیاتی کام کیوں نهیں کرتے تو
ان کا جواب نما سوال هو گا
پیسے کتھوں آؤن گے

03/11/2009

ڈالر کا تصور

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جن کو تو نے بخشا ہے ذوق کمائی
کل ایک دوست بتا رها تھا که پاک فوج کے ترجمان نے مخیر حضرات کو توجه دلائی هے
بقول شخصے دے جاسخیا راھ خدا
اور انہوں نے یه بھی کہا هے که کسی بھی علاقے کے لوگ اپنے نزدیکی کور کمانڈر کو دو سکتے هیں ـ
بقول شخصے عوام کی سہولت کے لیے
میں بھی لکھنا چاھتا تھا لیکن جی وھ بی بی سی والے حسن مرتضی نمبر لے گئے
که
اچھو کے باز گھر کی مرغیوں پر هی لپک لپک کر خون گرم رکھتے هیں
کیری لوگر بل ؟ جب تک پاک فوج کو ملتی رهی تو امداد !!ـ اور جب کسی اور کو ملے گی تو غیرت کا سوال بن گیا هے
یه دیکھیں که ان کو ڈالر کے کتنے خواب آتے هیں ـ


یه اللّه عالی شان صاحب کے نام کے بعد ڈالر کا نشان
یه ڈالر کا نشان ہی ہے ناں جی؟؟
بلی کو چھچھڑیاں دیان خواباں
اورعربی بھی کسی نے کیا لکھی ہے ، یه کونسا خط هے ؟
اور یه نعرھ تو حج پر کعبے میں لگایا جاتا ہے ناں جی ؟
بی بی سی نے لکھا ہے که فوج کا کہنا هے آیات لکھنے کا مقصد عام لوگوں کی حمایت حاصل کرنا ہے
یعنی که عام لوگ فوج کو پسند نهیں کرتے هیں
تو جی پھر فوج کس قوم کی فوج هے ؟؟

25/10/2009

دہشت گرد پکڑا گیا

پنجابی کا ایک محاورھ ہے که پڑوسیوں کے منه پر اگر لالی ہے تو اپنا منه پیٹ کر لال کرلو

پاکستان کا ماحول کچھ اس طرح کا بن گيا هے که بچوں کی طرح ایک ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا ، اپنے نمبر بنانے کے لیے اسے ایسے احمقانه کام کیے جارهےهیں که جی ہاسا هی نکل جاتا هے

یه جی اسلام کی آبادی کے دعوے دار شہر جس میں اسلام کو نماز بھی بندوقوں کی چھاؤں میں پڑھنی پڑتی ہے

اسلام اباد کی پولیس نے ایک دہشت گرد کو پکڑ لیا هے بمع بارود بھری جیکٹ کے

اور جی تصویر میں دیکھں که پولیس والے اس کو کیسے ٹریٹ کررهے هیں جیسے ان تھیلوں میں آٹا هو

باباجی کی عمر دیکھو

آٹے کی مقدار دیکھو جی اتنا وزن اٹھا سکتے هیں بابا جی

اور پھر پولیس کی پھرتیاں دہشت گرد پکڑ لیا ؟

دہشت گرد اگر اصلی هوتا تو پھٹ ناں جاتا ؟

کیا کیا ڈرامے هو رهے هیں جی ؟



اور ایک بل پر شور مچایا هوا هے جی

که

سخی لوگ پروگریس رپورٹ مانگتے هیں

او جی دنیا بھر میں ایک هی تو ادارھ ہے جس کا آڈٹ هی نہیں هوتا

جی هاں دنیا بھر میں واحد اور اپنی مثال اپ

اب سکول بھی بند ، تعلیم کا سلسله بند

قوم کی " وھ" هی بند کردو جی

جس تعلیم نے رحمان ملک ولد فیروز نائی کو وزیر داخله بنایا

قوم کے تیس مار خان

تیس مکھیاں مار کر شیخی بکھارنے والے یه کون سا دہشت گرد ہے جو تصویر میں خود دهشت زدھ نظر آرها ہے

شکر هے جی پاکستان کی فوج بڑی چنگی هے ورنه پته نهیں ملک کا کیا بنتا


18/10/2009

بہن پہلوان

وھ کسی کے ساتھ پنگا لیتا هی نهیں هے ، بس لشکے پشکے کپڑے پہنے منه میں پان دبائے گلائیوں میں موتیے کے کجرے پہنے "اس بازار" میں اکڑ اکڑ کر چل رها هوتا ہے

اور اگر کوئی بندھ اس سے پنگا لے لے تو پھر پنگا لینے والے کو پته چل جاتا هے که اس نے پاکستان کے سب سے طاقتوربندے سے پنگا لے لیا لے

آپ سمجھ چکے هوں کے میں مامے مودے کی بات کر رها هوں ـ

ماما مودا بہنوں کی کمائی کھاتا ہو بھانجیوں کو چلاتا هے اور اس کی بہنوں کے گلائنٹ اگر کوئی مسئله هوجائے تو مامے مودے کی اتنی حمایت کرتے هیں که جی بس کچھ ناں پوچھیے

پہنوں کو بيچنا اور ان کو چلانا مودے کا خاندان پیشه ہے اس لیے اس کو کنجر کہلوانے میں کوئی شرم نهیں هے

لیکن که مامے مودے کا یه اصول هے که اپنی بہنوں کو یا بھانجیوں کو خود استعمال نهیں کرتا ہے جیسا که اچھو پہن بہلوان عرف اچھو پيہنا والا کرتا ہے ـ

اچھو کو فتوحات کا بڑا شوق هے لیکن هے بزدل اس لیے آگر کسی پڑوسی کو چھیڑے تو جی پڑوسی سے مار پڑنے کا پکا امکان ہے

اور آپنی هوا بھی اکھڑ جائے گی که اچھو کو مار پڑی ، اس لیے اچھو گھر میں هی کام چلا لیتا ہے

جس طرح کچھ ملکوں کی فوجیں کرتی هیں که دشمن کی ایک انچ جگه فتح نهیں کی هوتی لیکن اپنے ملک کو روز فتح کرتی هیں

بس بندھ کنجر هو تو هو لیکن بہن پہلوان ناں هو جی اچھو کی طرح ، اور خدا کسی ملک کو اچھو جیسی فوج بھی ناں دے دے

که گھر میں هی فتوحات کا شوق پورا کرتی رهیں ، سارے رقبے میرے لیے سارے پلاٹ میرے لیے سارے لوگ شر پسند میں صرف پاک ، احساس

لاطینی امریکه کےکچھ ممالک کی افواج اور افریقی کچھ ممالک کی افواج ایسی هیں که ان کا پڑھ کر ان ممالک پر ترس آتا ہے

اچھی بات ہے که جی ہمارے پیارے ملک پاکستان کی فوج ایسی نهیں هے ، ورنه جی ہندو اور سکھ همارے عزتیں خراب کردیتے ـ

بے اعتدالی بری عادت ہے

بات شروع کی هے بڑے سنجیدھ صاحب اپنے افضل صاحب نے میرا پاکستان (پاکستان میرا بھی ہے) والوں نے
لیکن جی میں اپنی اس کمزوری کو خود سے بھی چھپاتا رہتا هوں
هر وقت جب بھو وقت ملے انٹرنیٹ پر ہوتے هیں
صبح فجر سے پہلے اٹھ کر جی ایم خاور پر کچھ لکھنا هوتا ہے اس کے لیے کچھ انگریزی اخباروں کا مطالعه بھی ضروری هے
ہلکا سا احساس تو تھا لیکن اج اس بات " پک " هو گیا ہے که جی یه ایک بری عادت هے
اس سے کاروبار بھی متاثر هوتا هے
اور بیوی کی جھڑکیاں بھی سننی پڑتی هیں

انٹرنیٹ پر آپ روزانہ کتنا وقت صرف کرتے ہیں؟
تین سے چار گھنٹے!!-
انٹرنیٹ آپ کے رہن سہن میں کیا تبدیلی لایا ہے؟
یاروں دوستوں سے گیا ، ورزش سے گیا ، کاروبار کی دلچسپی کم هوئی جس کی که اس وقت مجھے سب سے زیادھ ضرورت ہے
کیا انٹرنیٹ نے آپ کی سوشل یا فیملی لائف کو متاثر کیا ہے اور کس طرح؟
میں جو عورت کو کچھ وقعت هی نهیں دیا کرتا تھا اب اس کی باتیں سننی پڑتی هیں که وقت بے وقت کمپیوٹر نے مجھے بے اصول سا بنا دیا هے
اس علت سے جان چھڑانے کی کبھی کوشش کی اور کیسے؟
اب سے کوشش کرتا هوں که احساس هی اب زیادھ هوا ہے اوقات مقرر کرتا هوں اس سے زیادھ وقت نہیں دیا جائے گا جی انٹر نیٹ کو ہان کام کے لیے کمپیوٹر اگر استعمال کیا بھی جائے تو نیٹ نهیں صرف وہی اپلیکیشن جس سے کوئی ڈاکومنٹ بنانا هو
کیا انٹرنیٹ آپ کی آؤٹ ڈور کھیلوں میں رکاوٹ بن چکا ہے؟
بہت زیادھ میں نے صبح کی سیر جھوڑ دی ہے کراٹے کی ورزش کا وقت نهیں هے پیٹ بڑھ گيا هے بابا سا لگنے لگا هوں